دوحہ معاہدہ،کس کی جیت؟

(Prof Khursheed Akhtar, Islamabad)

امریکہ اور طالبان کے درمیان طویل مذاکرات اور کشیدگی کے بعد معاہد ے میں طے پایا کہ امریکہ اور اتحادی چودہ ماہ میں مکمل فوجی انخلا کا عمل مکمل کریں گے اور اس کا دارومدار طالبان کی جانب سے جنگ بندی کی پاسداری سے ھو گا ،مذاکرات نے پاکستان نے سہولت کاری کا اھم کردار ادا کیا اور عمران خان حکومت میں آنے سے پہلے ھی کہتے تھے کہ اس مسئلے کا حل مذاکرات میں ھے بلکہ دورہ امریکہ کے دوران وہ پالیسی ساز ادارے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کرنے میں کامیاب رہے کے جنگ مسئلے کا حل نہیں اور اب پاکستان کسی کی جنگ کے لئے اپنے ملک کی سرزمین استعمال نہیں ھونے دے گا،یہی موقف پاک فوج کا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو پہلی مرتبہ بیرون ملک عزت بھی ملی اور بات ماننی بھی پڑی ۔اگرچہ اس کے پیچھے پاک فوج اور عوام کی وہ قربانی بھی شامل تھی جو دھشت گردی کے خلاف لڑ کر دنیا کو کامیاب حکمت عملی کی صورت میں دکھائی گئی۔ہارے ھوئے سے کوئی بات نہیں کرتا سب جیت والے کے پیچھے دوڑتے ہیں اور خوش قسمتی سے پاکستان جیتا ھوا تھا تو اس کی بات طالبان مذاکرات میں اور امریکہ کی کشمیر پالیسی میں تبدیلی کی صورت میں مانی گئی۔دوسرا طالبان کی جیت بھی نمایاں تھی کیونکہ اتنی طویل جنگ کارپٹ بمنگ کے باوجود طالبان کھڑے تھے اور انتخابات کے باوجود عملاً کابل سے باہر طالبان کا قبضہ تھا۔ان حالات میں معاہدہ ھی وہ واحد آپشن تھا جس کی ضرورت تھی۔اس مذاکرات کے سارے عمل میں زلمے خلیل زاد کی پاکستان آمد آرمی چیف اور وزیراعظم سے مشاورت بھی کئی جاتی رہی لیکن افغان حکومت اس سے لاتعلق نظر آج ایک دم اشرف غنی اور مائیک پومیو کے درمیان ملاقات اور پریس کانفرنس معاہدے کو مزید مضبوطی کا عندیہ ھے۔ تاھم طالبان میں اب بھی کچھ تحفظات باقی ھیں کیونکہ وہ افغان حکومت کو حصہ دار نہیں سمجھتے دوسری طرف بھارت کی یہ مسلسل کوشش ھے کہ معاہدہ کامیاب نہ ہو کیونکہ وہ طالبان کی کامیابی کو پاکستان کی کامیابی سمجھتا ہے حالانکہ فیصلے اور فاصلے بڑھ چکے ہیں اسلام آباد،ماسکو،اوع بیجنگ میں بھی معاہدے کی جزویات اور طریقہ کار پر اختلاف پایا جاتا ھے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ معاہدہ ھونا چاھئے اس پر سب متفق ہیں افغان حکومت نے اسے تاریخی قرار دیا ہے لیکن بھارت اور افغان حکومت میں شرارت کی گنجائش بہرحال موجود ہے دیکھنا یہ ہے کہ طالبان کی فکر اور عمل میں کتنا فرق ہے یا القاعدہ داعش اور طالبان کے درمیان کتنے فاصلے ھیں،کیذ طالبان وہی فکر رکھتے ہیں جو بامیان میں بدھا کے مجسمے گرا کر اظہار کیا گیا تھا یا فٹبال میچ پر پابندی اور گراؤنڈ میں سر قلم کرنے کی سزا دے کر اپنے آپ کو دنیا ث لیے متنازع بنایا۔افغان مسئلہ کا دیر پا حل صرف غیر جانبدار انتخابات کے بعد مکمل اصلاحی حکومت کے قیام سے ممکن ہے وگرنہ ایک شدید انتشار کا بھی خطرہ ہے جس کو فی الحال امریکہ پہلے کی طرح پلٹ کر بھی نہیں دیکھے گا۔ایک اور ایجنڈا بھی پس پردہ پل رہا ہے اور وہ ھے سی پیک کو ناکام کرنا جس میں امریکہ اور انڈیا دونوں ایک خفیہ سوچ رکھتے ہیں لیکن داد ھے طالبان کو کہ جس نے اتنی بڑی فوج اور طویل جنگ کو شکت دی آج ملا برادر اور زلمے خلیل زاد نے امن معاہدے پر دستخط کیے یہ وہی ملا برادر تھے جو پاکستان کی قید میں تھے جنہیں مذاکرات کے لیے رہا کروایا گیا ان کو ٹیررسٹ کی فہرست سے نکالا سج 19 سالہ طویل جنگ کا خاتمہ آخر کار مذاکرات سے ھوا کیا بھارت۔ کشمیر میں اس معاہدے سے سبق حاصل نہیں کرے گا۔؟ امریکہ کی واپسی پاکستان کی کوشش سے ھو پا رہی ث اسی لیے تو ٹرمپ انڈیا میں کھڑے ھو کر پاکستان اور عمران خان کو دوست کہتا ہے بات ایک بندے نے سوچی اور بہتر سوچی اس لئے کامیاب معاہدہ ھوا پاکستان کی سفارتی کوششوں کے بدلے کیا ملتا ہے یہ تو بعد کی بات ھو گی لیکن طالبان کی ثابت قدمی اور پاکستان کی کوشش کی جیت ھوئی جسے مکمل فائدے مند بنانے کے لیے بڑی محنت کی ضرورت ھو گی تاکہ سی پیک بھی آگے بڑھے اور 40 سال سے پاکستان میں مقیم ھمارے مہمان بھی واپس وطن جا سکیں کیونکہ کہ افغان باقی کہسار باقی۔الحکم للہ!!!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Khursheed Akhtar

Read More Articles by Prof Khursheed Akhtar: 88 Articles with 27760 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Mar, 2020 Views: 153

Comments

آپ کی رائے