کوئی ہے جو ان کی فریاد سنے؟

(Sami Ullah Malik, )

کیاموجودہ جنگی جرائم کے ٹرائل آج کے درندہ صفت انسانوں کوایک عبرتناک مثال بنا سکیں گے جیسا کہ چرچل نے کہا تھا انہیں گردن سے پکڑیں۔ اگر نیمبرگ ٹرائلزفاتحین کا انصاف تھے توبھی میں ایسے ہی ٹرائل کوترجیح دیتاہوں،بجائے اس کے کہ استعماری قوتوں کی فورسزجیت جائیں اورعالمی عدالت انصاف ہیگ میں ان مظلوموں کی دادوفریاد سنانے والوں کاٹرائل اورناانصافی کے بعددنیاایک ایسی خانہ جنگی کاشکارہوجائے جس کے جواب میں کوئی رونما قیامت اس دنیاکواپنے انجام تک پہنچا دے۔

اس وقت جنگی جرائم کے ٹرائل کی اشدضرورت ہے۔اگرسوئس جوڈیشل اتھارٹیزکے سامنے رفعت الاسد پرجنگی جرائم کی پاداش میں مقدمہ چلایاجا سکتاہے توپھرسفاک مودی کیوں نہیں؟رفعت الاسد شام کے صدربشارالاسد کے چچااورحافظ الاسد مرحوم کے بھائی ہیں۔ان پر1980میں تدمر جیل اور1982میں حمہ میں قتل عام کاالزام تھا۔یواین کمیشن برائے شام اور ایمنسٹی ان پرجنگی جرائم کی پاداش میں مقدمہ چلانے میں فریق تھے ۔ اگراقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل داعش کے خلاف متفقہ طورپرایک قراردادمنظورکرسکتی ہے جس میں اس پرنسل کشی،جنگی جرائم اورانسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزامات تھا توداعش کی تشکیل کرنے والوں کوعدالت کے کٹہرے میں کیوں نہیں لایاگیا؟جبکہ سابقہ امریکی سیکرٹری خارجہ ہلیری کلنٹن نے میڈیامیں اپنے کئی انٹرویوزاوراپنی کتاب میں “داعش”کی تشکیل کااعتراف کیاہے۔

جس طرح جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والوں نے بوسنیامیں جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے سرب مجرموں کے ساتھ ساتھ بوسنیااورکروشیا کے دیگر مجرموں کوہیگ عدالت کے کٹہر ے میں سزاسنائی گئی اسی طرح دنیا کے دیگرانسانوں کی طرح میں بھی انسانیت کے خلاف مودی کے جرائم کی تحقیقات اوران کاارتکاب کرنے والوں کوٹرائل ہوناضروری ہے۔ مجھے یادہے کہ میڈیامیں برملااس شک کااظہارکیاجاتاتھا کہ میلاسویک کوکبھی بھی عدالت میں نہیں لے جایاجاسکے گا۔ تاہم ایک پولیس افسرپر عزم تھا۔اس کا کہنا تھا:ہم اسے پکڑیں گے،ہم اسے ہیگ عدالت کے سامنے پیش کریں گیاوروہ پولیس افسر درست تھا اورمیڈیا میں الزام لگانے والے غلط نکلے لیکن وہ جیل میں ہی مرگیا(ہیگ عدالت کے بہت سے دیگرملزمان کی طرح، جوفیصلہ سنائے جانے سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہوگئے)تاہم اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔کہاگیا کہ آپ جنگی جرائم کاارتکاب کرکے بچ نہیں سکتے۔صدام بھی نہیں بچ سکااگرچہ ان کاٹرائل ایک مضحکہ خیزڈرامے بازی تھی۔ لبرل یورپ کی طرف سے کوئی احتجاج دیکھنے میں نہ آیا،جب صدام کوتوہین آمیز طریقے سے سزادی گئی جبکہ اس کے سیاسی مخالفین جشن منا رہے تھے۔ ہمیں یادرکھناہوگاکہ صدام کوسنائی جانے والی سزاہیگ کے معیارسے شرمناک حد تک برعکس تھی۔ کردوں کو گیس سے ہلاک کرنے کاذکر تک نہ کیاگیا،کئی سال پہلے اپنے مسلکی حریف شیعوں کوہلاک کرنے کی پاداش میں سزاسنائی گئی۔اس طرح ہیگ نے پوری کوشش کرتے ہوئے اس ٹرائل کومسلکی رنگ دے دیاجس پرکردششدررہ گئے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ سفاک دشمن نے داعش کے اصل لیڈرکوگرفتارکرنے کی بجائے اسے ماردیاکہ اس کواگرکٹہرے میں کھڑا کرکے اگریہ سوال پوچھا کہ اس نے وہ جدید ہتھیار کہاں سے حاصل کیے تھے جن سے اس کے جنگجوں نے شام اورعراق میں خون کی ہولی کھیلی اوربعدازاں افغانستان کس نے منتقل کیا۔جب ڈیوڈ کیمرون نے دہشتگردوں کی فنڈنگ کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن بنایاتوٹریسامے نے اس کی رپورٹ کوخفیہ رکھاتاکہ ان کے ایک دوست اہم ریاست کوشرمندگی کاسامنانہ کرنا پڑے ۔کیافنڈنگ کرنے والے اصل مجرم نہیں جو انتہاپسندوں کوہتھیارخریدنے کیلئے رقم فراہم کرتے تھے؟

مجھے ایک مرتبہ ہیگ کے ایک افسر کی فون کال آئی۔اس افسرنے مجھے کہا کہ ایک سرب کمانڈرجوایک عقوبت خانے کا نگران تھاکے خلاف ثبوت فراہم کروں۔میں نے کہاوہ میری شائع شدہ رپورٹ کومقدمے کی کاروائی کیلئے استعمال کرسکتا ہے لیکن میں بذاتِ خودگواہی کیلئے پیش نہیں ہوں گاکیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ جنگ کے دوران رپورٹراور جنگ کے بعدجاسوس کاکرداراداکرنے لگ جائیں۔مجھے دھمکی دی گئی کہ عدالت کے ساتھ عدم تعاون پرمجھے گرفتارکیاجاسکتاہے۔ میں نے جواب دیا کہ میں ہیگ کااحترام کرتا ہوں اوراس کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیارہوں لیکن شرط یہ ہے کہ عدالت مشرق وسطیٰ کے جنگی مجرموں کاٹرائل بھی کرے۔میں نے سربیا،غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام اور بھارتی گجرات اور کشمیرمیں انسانیت سوزظلم کاذکربھی کیا۔میں نے یہ بھی استفسارکیا لبنانی کرسچین ملیشیا کوبھی گرفتارکیاجائے گاجنہوں نے1982 میں1777 فلسطینی مردوں، عورتوں اوربچوں کوبے دردی سے قتل کیا تھا؟بلکہ اس سے بھی اہم،کیاانہیں قتل عام کی کھلی چھٹی دینے والے اس وقت کے اسرائیلی وزیردفاع ایریل شیرون(جوبعدمیں وزیراعظم بھی بنا)کوبھی گرفتار کرکے عدالت کے کٹہرے میں کھڑاکیاجائے گا؟،ایک لاکھ سے زائدبے گناہ کشمیریوں کوشہید اورسینکڑوں کشمیریوں کوپیلٹ گن سے بصارت سے محروم کرنے والی بھارتی سیکورٹی فورسز اورفوج کے طویل جرائم کاذکرکرتے ہوئے نریندرمودی کو بھی عدالت کے کٹہرے میں لانے کابھی مطالبہ کیا۔قارئین کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مجھے دوبارہ اس افسرکی فون کال وصول نہیں ہوئی۔
دوسری جنگ عظیم سے قبل اگرکچھ افراد یاجماعتیں ایسے کام کرتی تھیں جوتسلیم شدہ بین الاقوامی قانونِ جنگ کے منافی ہوں تووہ جنگی جرائم تصور ہوتے تھے۔ مثلاًمقبوضہ ممالک کے باشندوں یاغیرلڑاکا فوجیوں کاجنگی سرگرمیوں میں ملوث ہونا،عارضی صلح ہوجانے کی صورت میں بھی قتل وغارت گری اورمتشددانہ کارروائیاں جاری رکھنایاصلح کے سفیروں پر گولی چلاناجنگی جرائم کے ذیل میں آتاتھا۔دوسری جنگِ عظیم کے بعد بین الاقوامی جنگی ٹریبونل نے جارحانہ جنگ کے منصوبے باندھنا، شہری آبادی کوقتل کرنا،اس سے بدسلوکی کرنایا غلامانہ مزدوری کرانے کیلئے لوگوں کودوسرے ملک میں لے جانا بھی جنگی جرائم میں شامل کر دیے ۔وہ افراد جوجنگی جرائم کامطالبہ کرتے نہیں تھکتے وہ بھی دراصل من پسند ٹرائل چاہتے ہیں۔وہ ہرگزنہیں چاہتے کہ تمام مجرموں کوبلاتخصیص گرفتار کرکے کٹہرےمیں کھڑاکردیاجائے خواہ ان پرکوئی الزام ہویانہ ہو۔وہ ان طاقتورحلقوں کی تادیب نہیں چاہتے جن سے انہیں فنڈزملتے ہیں یا جوان سے ہتھیارخریدتے ہیں،یایواین کے بل اداکرتے ہیں۔مثال کے طورپریہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ رفعت الاسد کئی عشروں سے یورپ میں رہ رہا تھا ۔ ان پراس وقت سے ہی حمہ میں شہریوں کوہلاک کرنے کاالزام تھاتاہم وہ لندن میں پرتعیش زندگی بسر کرتارہا۔یہی نہیں دنیا کے بیشترملکوں کے حکمران جواپنے اپنے ممالک کے خلاف سنگین جرائم کے مرتکب ہیں لندن میں نہ صرف ان کی عظیم الشان جائیدادیں ہیں بلکہ وہ آج بھی یہاں شاہانہ زندگی ہی گزارتے ہیں۔ان میں غالباً دنیاکے ہر براعظم کے حکمران شامل ہیں۔ میں نے اس وقت بھی یہ سوال اٹھایاتھاکہ اسکاٹ لینڈ یارڈکئی برس سے برطانیہ میں پرسکون زندگی گزارنے والے رفعت الاسد کی طرف کیوں نہیں دیکھتی، آخراس میں کیاچیزحائل ہے؟

ٹرائل انٹرنیشنل کوسوئس سماعت کے تعطل سے کچھ مسائل ہیں۔یونیورسل جسٹس کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کا احتساب کرے تاہم ٹرائل کے الزامات غیرواضح ہیں۔الزام ہے کہ رفعت الاسد نے 10ہزارسے لے کر40ہزار افراد کو ہلاک کیا۔ فرض کریں میں کہتا ہوں کہ ہلاکتوں کی تعداد20ہزارتھی لیکن عین ممکن ہے کہ یہ صرف10ہزارہولیکن40ہزارکے اعداد وشمارکہاں سے آئے ہیں؟بالکل اسی طرح ایمنسٹی نے شامی صدر(جورفعت کابھتیجاہے) پر5ہزارسے13ہزار پھانسیوں کاالزام لگایاتھا،تعدادمیں اتنا فرق کیوں ہے؟ کہیں ایساتونہیں ہیڈلائنزکوسنسنی خیزبنانے کیلئے ہلاکتوں کی تعدادبڑھائی جاتی رہی ہو؟

منافقت کی اس سے بڑی مثال اورکیاہوگی کہ یقیناہم ان افرادکوکسی طورپرجنگی جرائم کی پاداش میں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کریں گے جنہوں نے2003 کی جنگ سے پہلے عراق پرپابندیاں لگاکرکم وبیش پانچ لاکھ بچوں کوموت کے منہ میں دھکیل دیااورشہروں کے شہرکھنڈرات میں تبدیل کردیے جبکہ3اپریل 2004 کوجنرل پاؤل نے اقوام متحدہ میں عراق کے ثبوت کی غلطی کوقبول کرتے ہوئے تسلیم کیاکہ”گزشتہ سال فروری میں انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کوعراق نے حیاتیاتی ہتھیاربنانے کے لئے موبائل لیبارٹریز تیارکرنے کے بارے میں جوبتایاتھاوہ معلومات ٹھوس شواہدکی بنا پرنہیں تھیں جس کی بنا پرعراق پرحملہ کیاگیا”۔اسی طرح20مارچ 2013 کوریٹائرڈامریکی جنرل پال ایٹن نے سی سی ٹی وی گلوبل کے سامنے اور14اکتوبر2014کوایک دوسرے ریٹائرڈامریکی جنرل”بوائے کن”میڈیاکے سامنے اعتراف کرتے ہوئی عراق جنگ کو غلطی قراردیا، یہ تمام معلومات اوردیگرثبوت آج بھی “یوٹیوب”پرمحفوظ ہیں۔

24اکتوبر2015 کومشہوربرطانوی اخبار”انڈی پینڈنٹ”کے مطابق برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئرنے”چلکوٹ انکوائری بورڈ”کے سامنے عراق جنگ پرنہ صرف اعتراف جرم کرکے برملامعافی مانگی بلکہ20مئی2015 کومشہورامریکی اخبار”یو ایس ٹوڈے”میں سابقہ صدربش کے بھائی نے بھی اعتراف کرتے ہوئے اسے تباہ کن غلطی قرار دیااسی طرح 11جون2012 کے مشہورامریکی جریدے ”اٹلانٹک”میں جیفری اسمتھ نے”جنگی دہائی”کے نام سے ملٹری رپورٹ کاایک اقتباس نقل کیاہے جس میں خوداعلی امریکی جنرلوں نے عراق اورافغانستان حملوں کوایک بڑی غلطی قراردیاہے۔مشہورامریکی چینل”فوکس نیوز ” کے مطابق خودامریکی صدرٹرمپ نے14مئی2016 کواپنی انتخابی مہم میں عراق جنگ کوجونئیربش کی فاش غلطی قرار دیا اوراب بھی وہ اپنے اس مؤقف پرقائم ہیں ۔کیاان اعترفی بیانات کے بعدہیگ عدالت ان کے وارنٹ جاری کرکے ان کو طلب کرے گی؟ایسا محض اس لیے بھی نہیں کریں گے کہ اس کا مطلب یو این کو موردِ الزام ٹھہرانا ہوگااوران تمام افرادکوبھی مجرموں کے کٹہرے میں کھڑاہوناپڑے گاجنہوں نے اقوام متحدہ میں کذب بیانی سے کام لیتے ہوئے ان بہیمانہ ظلم کاارتکاب کیا۔

اس سے پہلے بھی ایک شخص کے دامن پرلاکھوں عراقی باشندوں کے خون کے چھینٹے پڑے ہوئے ہیں۔انہیں دنیا سینئربش کے نام سے یادکرتی ہے۔ کیا ہم انہیں بدترین جنگی جرائم کا مرتکب قراردے سکیں گے اورانہیں بھی کٹہر ے میں دیکھیں گے؟ لیکن یہ کیادہرامعیارہے کہ ٹرمپ کے حالیہ بھارتی دورے کے دوران ایک مرتبہ پھرمودی سرکارکے غنڈوں نے پولیس کی سرپرستی میں دلی کے مسلمانوں کاجوبہیمانہ قتل عام کیالیکن اس کے باوجودمودی کواربوں ڈالرکا اسلحہ فراہم کرنے کا معاہدہ بھی کیاگیا۔یقین کریں میں جنگی جرائم کے ٹرائل کے حق میں ہوں۔ ان تمام مجرموں کو سزا ضرورملنی چاہئے،داعش کی سرپرستی کرنے والے بھی مجرموں کے کٹہرے میں بلائے جانے ضروری ہیں۔مودی جیسے بھیڑئیے اور دیگر انتہا پسندوں کے ہاتھوں پربھی دنیا بھرکے لاکھوں افراد کا خون ہے لیکن ان کے سرپرستوں کوبلانے کی کس میں ہمت ہے کیونکہ کئی امریکی صدور،برطانوی وزیر اعظم کٹہرے میں کھڑے ہو جائیں گے اورپھرمودی بھی کہیں چھپ نہ سکے گا۔

آپ کوپتاہے کہ یہی اصل مسئلہ ہے۔استعماری دنیامیں قانون کی نظروں میں سب برابرنہیں ہوتے۔ ان کے دہرے معیارہیں جس کے مطابق ان کے جانوربھی تیسری دنیاکے عوام سے بہترحقوق کے مالک ہیں۔اس وقت کشمیرکے شہری پچھلے 212دوں سے کرفیوکے حصارمیں انصاف کے طلبگار ہیں۔ کوئی ہے جو ان کی فریاد سنے؟ایک لاکھ کے قریب ہلاکتیں وشہادتیں،ان گنت زخمی، کوئی علاج معالجہ نہیں۔ ظلم وتشددسے مرتے ہوئے بچے،انسانیت کے ساتھ روارکھی جانے والی اس سفاکی کی دادرسی کس عدالت میں ہوگی؟ کیا ہیگ کی عدالت انہیں انصاف مہیاکرسکے گی؟ کیاہمارے مقتدرحلقے عالمی عدالت سے رجوع کرنے کیلئے تیارہیں؟یہ ایک بہت بڑاسوالیہ نشان ہے جوان کے ضمیرکا ہمیشہ تعاقب کرکے ان کو کچوکے لگاتارہے گا۔
وہی قاتل،وہی شاہد،وہی منصف ٹھہرے
اقربامیرے کریں،خون کادعوی کس پر

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 466 Articles with 149124 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Mar, 2020 Views: 414

Comments

آپ کی رائے