پی ٹی ایم کی پریشانی ۔؟

(Umer Farooq, )

افغانستان میں امن معاہدے سے جہاں امت مسلمہ بالعموم اورپاکستانی عوام بالخصوص خوش ہیں وہاں کچھ چہروں پرہوائیاں اڑرہی ہیں ،ان کے منہ لٹکے ہوئے ہیں ،ان کی آنکھیں سرخ ہوئی ہیں ان کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں وہ پریشان ہیں کہ یہ کیاہوگیاہے ؟ان کے مذموم منصوبے ان کاایجنڈہ سب خاک میں مل گیاہے ،وہ افغانستان میں بیٹھ کرپاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے ،اس سے پہلے افغانستان میں بھارتی ایجنٹوں سے ملاقاتیں آسان تھیں جواب ختم ہوجائیں گی بھارتی سرمایہ بآسانی مل جاتاتھا جواب ناپیدہوجائے گا اس لیے وہ بے چین ہیں ان کی زبان دودوگزنکل آئی ہے اوروہ کھل کرپاکستان دشمنی میں سامنے آگئے ہیں اوراس دشمنی میں وہ تمام حدیں پھلانک گئے ہیں ۔

دودن قبل چارسدہ جلسے میں پی ٹی ایم کے رہنماء علی وزیر نے پشتوزبان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم(امریکہ)نے افغانستان کو تو تہس نہس کر دیا، پختونوں کو تباہ کر دیا، اب جب تک تم(امریکہ)دہشت گردی کے اڈے جی ایچ کیو،اسلام آباد، لاہور، پنڈی تباہ نہ کر دو، واﷲ میں(علی وزیر)تمہیں آئندہ یہاں آنے نہیں دونگا۔علی وزیرکایہ بیانیہ بتارہاہے کہ وہ کس کی نمائندگی کررہے ہیں وہ پختونوں کے حقوق کی آڑمیں پاکستان دشمنی کی تمام حدیں پھلانک گئے ہیں ،امریکہ جب افغانستان کوتباہ کررہاتھا توعلی وزیرکواس وقت افغانستان کی فکرنہیں تھی امریکہ اوراس کے اتحادی جب افغانستان کے معصوم عوام کاقتل عام کررہے تھے پشتون تحفظ موومنت کواس وقت پختونوں کی تباہی نظرنہیں آرہی تھی اب امریکہ جب افغانستان جارہاہے توپی ٹی ایم کوافغانستان یادآگیا دراصل ان کوتکلیف ہے کہ امریکہ یہاں سے کیوں جارہاہے ؟ان کے پیٹ میں مروڑاٹھ رہاہے کہ امریکہ پاکستان کے خلاف مذموم عزائم کی تکمیل کے بغیرکیوں رخت سفرباندھ رہاہے ؟انہیں پریشانی ہے کہ وہ اب افغانستان میں بیٹھ کرپاکستان کے خلاف سازشیں اور مذموم منصوبے نہیں بناسکیں گے ۔

اسی ملک دشمنی پرمبنی سوچ کانتیجہ ہے کہ چارسدہ جلسے میں ہی پی ٹی ایم کے کارکنوں نے قومی پرچم کی بے حرمتی کی ہے جلسے میں قومی پر چم تھامے پاکستان زندہ باد کا نعر ہ لگا تے نوجوان پر کارکنوں نے تشددکیا اور پرچم پھاڑ دیا ۔پولیس کے مطابق محلہ سہ پاو چارسدہ کے رہائشی نوجوان نثار محمد ولد یار محمد نے شکایت درج کرائی کہ وہ قومی پرچم اٹھائے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگارہا تھا کہ پی ٹی ایم کے کارکنوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور پرچم چھین کر پرچم پھاڑ دیا ۔اس واقعہ کے خلاف عوام سڑکوں پرنکل آئے اورپی ٹی ایم کے خلاف کاروائی کامطالبہ کیاجس کے بعد پولیس نے خان زمان اورنظام الدین نامی ملزما ن کوگرفتارکرلیا ۔

چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے قومی پرچم کی بے حرمتی کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ و آئی جی خیبرپختونخوا ہ کو واقعہ کی تفتیش کرکے تین دن میں کمیٹی کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے ہوم سیکرٹری و آئی جی خیبر پختونخوا کو آئندہ اجلاس میں قومی پرچم کی بے حرمتی کے واقعے پر کمیٹی کو بریفنگ دینے کی بھی ہدایت کی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قومی پرچم کی توہین کرنے والوں کا سراغ لگا کر قانونی کاروائی کی جائے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو میں پاکستان کے قومی پرچم کی توہین کرنا دکھایا گیاہے جس پر سینیٹر رحمان ملک نے یہ نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ قومی پرچم کی بے حرمتی اپنی ہی سرزمین پر ہورہی ہے، اس واقعہ سے ہر محب وطن پاکستانی کی دل آزاری ہوئی ہے۔

یہ کوئی پہلی بارنہیں ہواہے اس سے قبل 2018میں پی ٹی ایم نے ایک نوجوان کو سوات جلسے میں پاکستانی پرچم لے جانے سے روک دیاتھاجس کی ویڈیوسوشل میڈیاپروائرل ہوئی تھی ہمیں یہ دیکھناہوگا کہ یہ کون لوگ ہیں کہ جواپنے جلسے میں پاکستانی جھنڈالہرانے پرسیخ پاہوجاتے ہیں ،کسی بھی آزاد قوم کی حیات جاوداں میں قومی پرچم ، ترانہ ، دستور اور زبان کا جو مقام ہے وہ ایک مقدس قومی سرمائے کے مترادف ہے ۔ آزاد قوم کی عظمت و سربلندی کی یہی چار علامتیں ہیں ۔ مصر کے قدیم دور سے لے کر اب تک پرچم قوموں کے نشاں رہے ہیں اور آج بھی پرچم کو وہی اہمیت حاصل ہے جو پہلے تھی ۔ بر صغیر کے مسلمانوں نے جدوجہد اور ہزاروں قربانیوں کے بعد اپنے ملک کے قیام پر سبز ہلالی پرچم کو لہراتے دیکھ کر آزاد ملک میں سکھ کا سانس لیا اس طرح فرنگی سامراج کے تسلط کا خاتمہ ہوا اور پاکستان معرض وجود میں آیا ۔مگرپی ٹی ایم کے رہنماء پاکستانی پرچم سے الرجک ہیں ۔

ایک طرف یہ چندگماشتے ہیں جوپاکستانی جھنڈے کی بے حرمتی کررہے ہیں تودوسری طرف مقبوضہ کشمیرکے وہ بھائی ہیں جو پاکستانی پرچم لپیٹ کراپنی جانوں کانذرانہ پیش کررہے ہیں ،میں جب بھی کشمیریوں سے بات کرتاہوں تووہ کہتے ہیں کہ کشمیری پاکستان سے زیادہ پاکستانی ہیں وہ پاکستان زندہ بادکانعرہ ایسے مقام اورحالات میں لگاتے ہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ اس نعرے کے جواب میں بھارتی سورمااپنی گنوں کی گولیاں ان کے حلق سے اتاردیں گے مگروہ پھربھی بازنہیں آتے ۔اورایک یہ بھارتی ایجنٹ ہیں جواپنے ملک میں کھڑے ہوکراپنے ہی ملک کی تباہی کی باتیں کررہے ہوتے ہیں انہیں بھی یہ معلوم ہے کہ اس کے بدلے میں رااوراین ڈی ایس کالقمہ حرام ان کے حلق سے اترے گا ان میں اورٹی ٹی پی میں کوئی فرق نہیں ر ہایہ مکتی باہنی کاروپ دھارتے جارہے ہیں ان کی ڈوریں بھی بھارت سے ہلائی جارہی ہیں انہیں یہ فکرکھائے جارہی ہے کہ افغان امن معاہد ہ سے انڈیاکی سرمایہ کاری ڈوب گئی ہے ،ان کامورچہ ختم ہوگیاہے ۔

پی ٹی ایم کی اس ملک دشمنی کے خلاف میں سیاسی قیادت کاردعمل دیکھ رہاتھا تومجھے شدیدمایوسی ہوئی کہ اس قوم کے لیڈربے حس ہوگئے ہیں کہ قومی پرچم کی بے حرمتی پربھی آوازکیوں نہیں اٹھاتے ، ان کی زبانیں کیوں گنگ ہوگئی ہیں ؟حالانکہ یہ وہی رہنماء ہیں کہ جوآج تک یہ پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ مذہبی جماعتیں قیام پاکستان کی مخالف تھیں ،میراان سے سوال ہے کہ اپنے جلسوں میں قومی پرچم لہرانے پرپابندی لگانااورپاکستان کی تباہی کی باتیں کرنا ملک دوستی کی کون سی مثال ہے ؟

مجھے اخبارکے اندرونی صفحے پرایک سنگل کالم بیان پڑھنے کوملاجولاہورسے تحریک انصاف کے رہنما ایم شاہ زیدخان کاتھا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ ملک دشمن جماعت ہے اس پر فوری پابندی لگائی جائے ، پی ٹی ایم پاک فوج کے خلاف پاکستان دشمن قوتیں کی آلہ کار بنی ہوئی ہے، پوری قوم افواج پاکستان کی پشت پر کھڑی ہے ، پاک فوج کے خلاف زہر اگلنے والے ملک وقوم کے دشمن ہیں، پی ٹی ایم کے سازشی عناصر کے خلاف پاکستان کے مقتدر اداروں کو قانون کے مطابق سخت کاروائی کی جائے ۔

پوری قوم اگریہ بیانیہ اپنالے تو کسی ملک دشمن کویہ ہمت نہیں ہوگی کہ وہ مذموم منصوبوں کوپایہ تکمیل تک پہنچاسکے ،پی ٹی ایم کاایجنڈہ واضح ہے کہ وہ قومیت پرستی پر تفریق نفرت اور انتشار چاہتے ہیں اس انتشارکوروکنے کے لیے قومی قیادت کواب فیصلہ کرناہوگا،علی وزیر،محسن داوڑایک طرف جمہوریت کی بات کرتے ہیں دوسری طرف اپنے عمل سے فسطائیت کامظاہرہ کررہے ہیں مگرکسی جمہوری دورمیں بھی ایسے اقدام کی اجازت نہیں کہ اپنے ملک کے پرچم کی توہین کی جائے اوراپنے ہی ملک پرحملے کاجوازبنایاجائے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 104 Articles with 26140 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Mar, 2020 Views: 418

Comments

آپ کی رائے