پاکستان مخالف ایجنڈہ بے نقاب۔۔۔

(Umer Farooq, )

ہمارے پیارے وطن پاکستان کی چار ہمسایہ ممالک انڈیا، چین، ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں پاکستان کوہمیشہ سے تین سرحدوں سے خطرات کاسامنارہاہے ،صرف چین کی سرحدسے ہمیں امن
اوراطمینان ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان 2,912 کلومیٹر اورچین کے ساتھ 523 کلومیٹر کی سرحدملتی ہے ۔ پاکستان اور ایران کے درمیان 909 کلومیڑسرحدہے اور صوبہ بلوچستان میں واقع ہے۔ اس سرحد پر حد بندی کے لیے کنکریٹ کی ایک دیوار تعمیر کی جارہی ہے جو کہ باڑ کی جگہ لے لے گی۔ یہ دیوار 3 فٹ موٹی اور دس فٹ اونچی ہے،عجیب بات یہ ہے کہ کرونا چین کی بجائے ایران سے پاکستان منتقل ہواہے ۔

اسی طرح سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع سرحد ڈیورنڈ لائن کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ سرحد 2450 کلومیٹر طویل ہے اور ہندوکش اور پامیر کے پہاڑوں میں واقع ہے۔ پاک افغان بارڈر دنیا کا خطرناک ترین بارڈر مانا جاتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس سرحد کی حد بندی کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے،پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ایک طویل باڑلگائی ہے جوپاکستان کی جانب سے 11 فٹ اور افغانستان کی طرف سے 13 فٹ بلند ہے اس کے ساتھ ساتھ 377 سرحدی چوکیاں بھی تعمیرکرلی ہیں ،
لیکن کچھ لوگوں کوشش ہے کہ ڈیورنڈلائن کوہمیشہ کے لیے ختم کردیاجائے اس کے لیے وہ مذموم ایجنڈے ترتیب دیتے رہتے ہیں پشتوزبان کاایک شعرہے کہ
خدایا ڈیورنڈ پہ سیلاب لاہو کے
چہ روجہ ماتے د کابل پہ آذان شینہ
پشتو کے اس ٹپے میں کہا جا رہا ہے کہ اﷲ کرے ڈیورنڈ لائن کو سیلاب بہا کر لے جائے، تاکہ افطاری کابل کی اذان پر ہو

یہ وہ خواب ہے جوپی ٹی ایم کے رہنماء ایک عرصے سے دیکھ رہے ہیں ا ن کی کوشش ہے کہ کسی ناکسی طرح اس ڈیورنڈلائن کوختم کردیاجائے تاکہ ان کامذموم ایجنڈہ پوراہو ،اسی طرح کاایک خواب 1965کی جنگ میں انڈین فوج نے بھی دیکھا تھا جنھوں نے چھ ستمبرکولاہورمیں ناشتہ کرنے کااعلان کیاتھا لیکن پاکستان کی بہادر افواج نے ایسا ناشتہ پیش کیا کہ بھارتی فوج آج تک اس کا ذائقہ نہیں بھول پائی ۔پی ٹی ایم والے بھی اسی قسم کے ناشتہ چاہارہے ہیں ، اسی نعرے کانتیجہ ہے کہ افغانستان کی صدارت کے ایک دعویدار اشرف غنی کی تقریب حلف وفاداری میں شرکت کیلئے محسن داوڑ اورعلی وزیرکو مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا ، پاک افغان بارڈر سے انہیں افغان نیشنل آرمی کے خصوصی ہیلی کاپٹر میں کابل لے جایاگیا،ان کے وہاں پہنچنے تک صدارتی حلف برداری کی تقریب کوملتوی کیا گیادونوں رہنماء اس موقع پراین ڈی ایس کے سابق چیف امراﷲ صالح سے اپنی ملاقات کی خود ہی ویڈیو شیئر کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ این ڈی ایس کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ وزیرستان کو افغانستان کا حصہ قراردیکر کابل حکومت سے اس علاقہ کے افغانوں کو اپنے ملک کا پاسپورٹ جاری کرنیکی بھی درخواست کردی ، اورپھران دونوں رہنماؤں کوپختون یادآئے توانہوں نے کابل کے محل میں کھڑے کر،،لروبر،،کانعرہ لگایا،

پاکستان کے پشتون علاقے اور بر افغانستان کو کہا جاتا ہے اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں جدا ہونے کے بعد بھی ایک ہیں یعنی ڈیورنڈ لائن کا کردار وہی ،،کیدو ،،والا ہے، امتِ مسلمہ کے دلکش اور پرفریب تصور کے باوجود بغیر ویزے کے مسلمان ممالک میں قدم رنجا فرمانے کا سوچا بھی نہیں جاسکتانیشن سٹیٹ کا جبر دیکھئے کہ یہی نام نہاد پشتون لیڈرشپ بشمول قوم نما ہجوم بغیر ویزے کے افغانستان میں قدم تک نہیں رکھ سکتے۔ بالکل اسی طرح لروبر،، ایک غیر فطری نعرہ ہے قوم پرستی کے نام پرملک نہیں بناکرتے اورنہ ہی قوم پرستی کے نام پردیگرممالک سے تعلقات قائم ہوتے ہیں البتہ اس کی آڑمیں غیرملکی ایجنڈے ضرورپروان چڑھتے ہیں ۔

محسن داوڑ اور علی وزیر دونوں ہی پشتون عوام کے جذبات بھڑکا کر انہیں اپنے مخصوص ایجنڈے کیلئے استعمال کرتے چلے آرہے ہیں مگرافغان صدر کی تقریب حلف وفاداری کے موقع پرپشتون عوام کے حقوق کا نعرہ لگانے والوں محسن داوڑ اور علی وزیر کی افغانستان کی خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی کیساتھ گہرے خفیہ مراسم طشت ازبام ہوگئے ہیں اور غیرت مند پختونوں کویہ جان کردلی دکھ ہوا ہے کہ پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے پختونوں کے حقوق کا نعرہ بلند کرنیوالے یہ دونوں لیڈر پختون عوام کو افغان ایجنڈے کیلئے استعمال کرکے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

پی ٹی ایم اگرچہ پختونوں کی نمائندہ نہیں ہے مگرپشتون نیشنلزم کی بنیاد پر سیاست کرنے والی ایلیٹ کلاس کی اپنی حالت تو دن بدن بہتر ہوتی جارہی ہے لیکن ایک عام پشتون غیر شعوری طور پر نسلی اور لسانی تعصبات، منافرت اور باہمی بداعتمادی کی فضا میں جی رہا ہے اور دوسری قومیتوں کے حوالے سے
نامعلوم منافرت اور خوف کا شکار ہے۔ اسی تعصب ،منافرت ،بداعتمادی اورخوف کوپی ٹی ایم کے رہنماء اپنے مذموم مقاصدکے لیے استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں ،مگرقوم کوزیادہ دیرتک اندھیرے میں نہیں رکھاجاسکتا پشتون قوم بیدارہے اوروہ ان چالوں سے باخبرہے سوشل میڈیا پرشیئر ہونیوالے ایک ویڈیو میں شمالی وزیرستان میں پختون عوام پی ٹی ایم کی ٹوپیاں جلاتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کررہے ہیں کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کی ملک دشمنی ثابت ہوچکی ہے، اس لیے ان دونوں کیخلاف غداری کے مقدمات قائم کرکے انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ محسن داوڑ اورعلی وزیر کیخلاف پشتون عوام میں شدت سے ظاہر ہونیوالے غم و غصہ سے یہ حقیقت بھی ایک بار پھر عیاں ہوگئی ہے کہ پختون عوام پاکستان کے وفادار ہیں اورمحسن داوڑ اور علی وزیر نے گمراہ کن پراپیگنڈہ کرکے انہیں پختون حقوق کے نام پر اپنی تحریک میں شامل کیا تھا۔

پشتون حقوق کے تحفظ کے نام پر تشکیل پانیوالے پی ٹی ایم گروپ کا پاکستان مخالف ایجنڈہ بے نقاب ہونے کے بعدیہ تحریک جلداپنے انجام کوپہنچنے والی ہے جن لوگوں نے یہ تنظیم بنائی ہے وہ نہ پاکستان اور نہ افغانستان کے دوست ہیں بلکہ وہ دشمن کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ کا نام اختیار کرنا دنیا کو یہ پیغام دینے کے مترادف ہے کہ پاکستان میں پشتونوں کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں حالانکہ اس کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔

ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ منظور پشتین کی ڈور کون ہلا رہا ہے؟ کوئی پاکستانی سرزمین پر کسی کو سبز ہلالی پرچم لہرانے سے کیسے روک سکتا ہے۔ اس سارے عمل سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پشتون تحفظ موومنٹ کا ایجنڈا ملک دشمنی پر مبنی ہے۔مخالف قبائل یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بھارت پاکستان میں انتشار پھیلانے کے لئے بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ملک کو لسانیت نہیں پاکستانیت کی ضرورت ہے۔ پختونوں کے حقوق کے نام پر پاک فوج کے خلاف نعرے لگانے والے بھارتی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ پاک فوج نے قبائلیوں اور پختونوں کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لئے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ بھارت پاک فوج کی کردار کشی کے لئے پیسہ تقسیم کر رہا ہے۔اس سے قبل دشمن اپنی چالوں میں ناکام ہوا اور پھر سے ویسی ہی چالوں کیساتھ اب پی ٹی ایم کے ذریعے پشتون بیلٹ کو تباہ کرنا چاہ رہا ہے۔پی ٹی ایم کی اصطلاح سے ہی پاکستان دشمنی اور شرانگیزی کی بو آتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 105 Articles with 27857 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Mar, 2020 Views: 378

Comments

آپ کی رائے