کورونا وائرس کے ذریعہ عذاب الہی تو نہیں؟

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
ہر مشکل گھڑی میں بھی مسلمان شریعت مطہرہ ﷺ کے مطابق زندگی گزاریں۰۰۰

 احتیاطی تدابیراپنی جگہ مسلمہ ہونگی لیکن جب قدرت الٰہی کا جو فیصلہ ہونا ہے وہ ہوکر ہی رہتا ہے چاہے اس میں کتنی ہی احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جائیں۔کورونا وائرس آج عالمی سطح پر پھیلتا دکھائی دے رہا ہے ،ذرائع ابلاغ کے مطابق کم و بیش ڈھائی لاکھ افراد کورونا وائرس سے متاثر بتائے جارہے ہیں جن میں لگ بھگ دس ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے نام پر انسان کو یکہ و تنہا کردیا جارہا ہے ۔ ایک دوسرے سے دوری برتنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ جس طرح سماجی بائیکاٹ کیا جاتا ہے تو انسان اپنے آپ میں گھٹ گھٹ کر مرنے کے قریب ہوجاتا ہے ایسے ہی کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے انسانوں کو ایک دوسرے سے دوری اختیار کرنے کیلئے کہا جارہا ہے اور کئی ممالک میں نقل و حرکت کرنے ہوائی سفر کے ساتھ ساتھ اب ٹرینوں، بسوں اور ٹیکسیوں سمیت ڈومیسٹک پروازوں پر بھی پابندی عائد کردی جارہی ہے۔ اس طرح انسان کو اپنے ہی گھر میں نظر بند کردیا جارہاہے اور یہ عذاب الٰہی کی ایک شکل نہیں تو اور کیا ہوسکتی ہے۔اسلام نے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کیلئے کہا ہے لیکن ایسی بھی نہیں کہ اسلامی نظام درہم برہم ہوجائے ، مساجد میں پانچ باجماعت نمازوں اور جمعہ کا خطبہ اور نماز جمعہ کی ادائیگی عارضی طور پر معطل کردی جائے، وضو خانوں کو بند کردیا جائے ، میت کی نماز جنازہ میں کم سے کم تعداد میں لوگ شریک ہونے کی ہدایت دی جائے، لوگ احرام کی حالت میں مسجد الحرام نہ آئیں ۔ یہ کیسی پابندیاں ہیں جس سے مذہب اسلام کا تشخص پامال ہورہا ہے۔ اسلام ہی وہ واحد اور عظیم مذہب ہے جس میں انسان کی بقاء و سلامتی کیلئے تعلیم و تربیت فرمائی گئی ہے ۔ پاک و صاف رہنے کیلئے طہارت، وضو، غسل یہ ایسی عبادات ہیں جس کے ذریعہ انسان جسمانی اور روحانی اعتبار سے پاک و صاف ہوجاتا ہے۔ سنت رسول ﷺ ہے کہ کوئی مسلمان جب دوسرے مسلمان سے ملاقات کرتا ہے تو سب سے پہلے ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں اور پھر سنت ِ رسول ﷺ کے مطابق ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں ۔ لیکن کورونا وائرس نے بعض کمزور عقیدہ مسلم حکمرانوں کے ایمان کو اتنا کمزور کردیا ہے کہ وہ شریعت مطہرہ ﷺکے مطابق زندگی گزارنے پر پابندی عائد کردیئے ہیں۔ ان حالات میں جبکہ وہ فرائض و واجبات اور سنتوں سے دوری اختیار کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اپنارہے ہیں اور ان ہی حالات میں اگر اس کی موت واقع ہوجائے تو پھر اسکی زندگی کا مقصد ہی ناکام ہوجائے گا۔کاش مسلمان کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے اسلامی طریقوں کو عالمی سطح پر عام کرنے کے لئے طہارت، وضو، غسل ، مصافحہ، نمازاور اجتماعی دعا وغیرہ کے فائدے بتاتے اور اس پر عمل کرنے کی صورت میں جو فوائد حاصل ہوتے ہیں اس سے باخبر کرتے۔ قارئین کرام کی توجہ کیلئے ان چند ممالک میں جہاں کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کئے جارہے ہیں اس کی مختصراً تصویر پیش کی جاتی ہے جس کے بعد ہم مسلمانوں کو اپنا محاسبہ کرنے کی اشد ضرورت ہوگی۔کورونا وائرس کی وجہ سے کئی ممالک میں غذائی و دیگر اشیائے ضروریہ کو وافر مقدار میں جمع کرلیا جارہا ہے ۔ حکومتی سطح پر بھی بعض ممالک میں یہ تدابیر اختیار کئے جارہے ہیں۔

گذشتہ دنوں سعودی وزارت تجارت نے بتایا کہ دنیابھر میں درپیش مسائل کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں خوراک کا سب سے بڑا ذخیرہ سعودی عرب کے پاس ہے۔ وزارت تجارت کے افسران غلہ جات کے اعلیٰ ادارے کے گوداموں کا دورہ کرکے اس بات کا اطمینان حاصل کررہے ہیں کہ ملک میں کھانے پینے کی چیزیں اور اشیائے صرف وافر مقدار میں موجود ہیں یا نہیں۔واضح رہے کہ سعودی غلہ جات کا اعلیٰ ادارہ 3.3ملین ٹن سے زیادہ گندم سے انواع و اقسام کی روٹیاں اور بیکری مصنوعات تیار کراتا ہے۔ وزارت تجارت کے مطابق غلہ جات کے اعلیٰ ادارے کے پاس آٹے کی چار لاکھ پچاس ہزار بوریاں تقسیم کے لئے موجود ہیں۔ اشیائے خوردو نوش کا اعلی ادارہ ہر روز دو لاکھ 80ہزار آٹے کی بوریاں گھریلو ضروریات کیلئے تیار کرارہا ہے جبکہ دو لاکھ ستر ہزار آٹے کی بوریاں یومیہ تجارتی بنیادوں پر فراہم کی جارہی ہیں۔ بتایا جاتا ہیکہ ادارہ روزانہ پندرہ ہزار ٹن گندم سے آٹا تیار کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ وزارت تجارت کے ترجمان عبدالرحمن الحسین نے بتایاکہ دنیا کو درپیش مشکل حالات کے باوجود سعودی عرب خوشحالی اور کھانے پینے کی اشیا وافر مقدار میں ذخیرہ رکھنے والا ملک تھا، ہے اور رہے گا۔

سعودی وزیر اسلامی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے مساجد میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے احکامات صادر کرتے ہوئے کہا ہیکہ مساجد کے وضو خانوں کو عارضی طور پر بند کردیا جائے ۔مساجد میں تازہ ہوا کی آمد و رفت کے لئے نماز کے اوقات میں کھڑکیاں اور دروازے کھلی رکھنے کی ہدایات کی گئیں۔ وزیر اسلامی امور کی جانب سے مملکت کی تمام مساجد میں جمعہ کی نماز چھوٹی مساجد میں بھی پڑھائی جانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں جہاں عام حالات میں نماز جمعہ ادا نہیں کی جاتی ۔ چھوٹی مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کا مقصد جامع مساجد سے ازدھام کو کم کرنا بتایا جاتا ہے۔اسی طرح مساجد میں صفوں کے درمیان ایک صف کو خالی چھوڑنے کا بھی حکم صادر کیا گیاتھا جس پر مملکت کی تمام مساجد میں عمل کیاگیا، اس طرح صفوں کے درمیان فاصلہ رکھا جارہا ہے۔سعودی وزیر اسلامی امور و دعوت و رہنمائی شیخ عبداللطیف آل الشیخ نے کہا ہے کہ میتوں کو غسل دینے والے مراکز جامع مساجد میں کھلے رہیں گے ، نماز جنازہ صرف قبرستانوں میں ہوگی، جہاں اس مقصد کیلئے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے، اس کے علاوہ نماز جنازہ میں کم سے کم تعداد میں لوگ شامل ہونے کیلئے کہا گیا ہے۔ اب سعودی عرب کے حالات مزید بدل چکے ہیں اورجو ہدایات یا فیصلہ اوپر دیئے گئے تھے اس میں بھی کورونا وائرس سے احتیاطی تدابیر کیلئے مزید سخت پابندیاں عائد کردی گئیں ۔ بتایا جاتا ہیکہ 17؍ مارچ کو سعودی عرب کے ممتاز علماء بورڈ نے فتویٰ جاری کیا کہ مساجد میں فرض نمازیں جماعت سے پڑھنے اور جمعہ کی نماز عارضی طور پر معطل کی جاسکتی ہے تاکہ عوام کو نئے کورونا وائرس سے بچایا جاسکے۔اس فتویٰ کے جاری ہونے کے بعد سعودی وزیر اسلامی امور نے سعودی عرب کی تمام مساجد میں باجماعت نماز پر عارضی پابندی عائد کردی ہے ۔البتہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی شریف ﷺ اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔20؍ مارچ سے 14دن کیلئے سعودی عرب نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے مزید احتیاطی تدبیر کے طور پر ملک میں ٹرینوں، بسوں، اور ٹیکسیوں سمیت ڈومیسٹک پروازوں کو بھی بند کردیا ہے۔

خالق کائنات جس کی جانب سے بیماری کا آنا اور اسی کی جانب سے بیماری کو ختم کرکے شفایاب بنانا مسلمانوں کا عقیدہ رہا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اﷲ رب العزت کی جانب سے جس کسی کو بھی بیماری آنی ہے آکر رہے گی ، چاہے وہ جتنے احتیاطی تدابیر اختیار کرلیں۔ کیونکہ انسان کمزور دل کا مالک ہے ، کمزور عقیدہ رکھتا ہے ایسے لوگوں کیلئے احتیاطی تدابیر ضروری سمجھے جاتے ہیں لیکن جس کا ایمان مضبوط ہو اور جو اپنے خالق و مالک کی دی ہوئی نعمتوں کو جس طرح حاصل کرکے صدقِ دل سے شکر بجا لاتا ہے وہ اسی طرح اسکی دی ہوئی بیماری پر مایوں نہیں ہوتابلکہ اس کے لئے بھی اﷲ کا شکر ادا کرتا ہیکہ شاید اس بیماری کے ذریعہ اسکے گناہیں معاف ہوجائیں اور درجات میں بلندی ہوگی۔

متحدہ عرب امارات میں۰۰۰
متحدہ عرب امارات میں قدرتی آفات، بحرانوں اورہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے قائم قومی ادارے اور اسلامی امور و اوقاف کے محکمے نے تمام متعلقہ اداروں کے تعاون و اشتراک سے پورے ملک میں مساجد اور عبادت گھر عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 16؍ مارچ کو رات 9بجے سے اس پر عمل شروع ہوگیا ہے ۔ یہ پابندی چار ہفتے کیلئے لگائی گئی ہے۔ الامارات الیوم کے مطابق قدرتی آفات کے ادارے نے گھروں میں شادی سمیت تمام تقریبات پر بھی پابندی عائد کردی ہے اور یہ پابندی مارچ کے آخر تک رہے گی۔متحدہ عرب امارات نے دونوں فیصلے نئے کورونا وائرس سے نمٹنے ، قومی و انسانی ذمہ داری کے احساس سے وزارت صحت ، دارالافتا، دینی اور صحت اداروں کی ہدایات پر کیا ہے۔ عرب امارات نے اطمینان دلایا ہے کہ چار ہفتے بعد مساجد اور عبادت گھروں پر پابندی کے فیصلے پر نظرثانی ہوگی۔ بندش ختم کرنے یا اس میں توسیع کا فیصلہ نئے حالات کے تناظر میں کیا جائے گا۔ وزارت صحت اور بحرانوں کے قومی ادارے نے متحدہ عرب امارات کے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں سے درخواست کی ہیکہ وہ چار ہفتے کیلئے شادی بیاہ سمیت تمام سماجی تقریبات ملتوی کردیں۔ وزارت کے مطابق یہ فیصلہ قوم کی سلامتی اور ہم وطنوں کی صحت کے تحفظ کیلئے کیا گیا ہے۔

مصر میں کورونا وائرس کیلئے اہم احتیاطی تدابیر
مصر میں کورونا وائرس کے باعث دو مریض ہلاک بتائے جارہے ہیں جبکہ پیر کو 40نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ مصری وزارت صحت نے کہا ہے کہ نئے مریضوں میں 35مصری ہیں جبکہ 5غیر ملکی سیاح ہیں۔ بتایا جاتا ہیکہ وائرس سے ہلاک ہونے والوں میں ایک 72سالہ جرمن سیاح ہے جبکہ دوسرا 50سالہ مصری شہری ہے۔ مصری وزارت صحت کے ترجمان خالد مجاہد نے کہا کہ’وفات پانے والے شہری سے میل جول رکھنے والے تین افراد کا معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ انہیں بھی کورونا وائرس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا کے تمام مریض قرنطینہ میں ہیں جن میں سے دو کی حالت نازک ہے جبکہ باقی کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق کورونا سے شفایات ہونے والوں کی تعداد 26ہوگئی ہے۔مصر کے وزیر اعظم ڈاکٹر مصطفی مدبولی نے مصر کے تمام ایئرپورٹس کو19؍ سے 31؍ مارچ تک بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔مصری وزیر اعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ فیصلہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔واضح رہے کہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے 14؍ مارچ کو صدارتی فرمان جاری کرکے اسکولوں ، کالجوں، اور یونیورسٹیوں میں تعلیم معطل کردی تھی جس پر عمل آوری 15؍ مارچ سے شروع ہوچکی ہے۔مصری صدر نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے 100ارب مصری پونڈ مختص کئے ہیں۔مصری وزیر اعظم نے اطمینان دلایا ہے کہ ملک میں کھانے پینے کی اشیا وافر مقدار میں موجود ہے اور یہ کئی مہینے کیلئے کافی ہونگی۔ عوام پریشان نہ ہوں اور حد سے زیادہ سامان خریدنے سے گریز کریں۔انہوں نے تاجروں کو متنبہ کیا کہ وہ نئی صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کریں۔اور بحران کے بہانے اشیاء کے نرخ بڑھانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا انتباہ دیا ہے۔

مسجد اقصیٰ بھی بند کردی گئی۰۰۰
بیت المقدس میں محکمہ اسلامی اوقاف نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے قبلہ اول مسجد اقصیٰ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ مسجد کے بند حصوں میں نماز نہیں ہوگی تاہم صحنوں میں نماز کا سلسلہ برقرار رکھا جائے گا۔ الشرق الاوسط کے مطابق اسلامی اوقاف کے ڈائرکٹر شیخ عمر کسوانی کے مطابق نمازیوں کی سلامتی کی خاطر مسجد اقصیٰ کے اندر نماز پر پابندی لگادی گئی ہے تاہم حفاظتی تدابیر کے ساتھ کھلے صحنوں میں نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ فلسطینی وزارت اوقاف و مذہبی امور نے فیصلے کیا تھا کہ تمام فلسطینی شہری فلسطین کے جملہ علاقوں میں مساجد اور گرجا گھر جانا بند کردیں۔ تااطلاع ثانی مسلمان اور عیسائی اپنے اپنے گھروں میں عبادت کریں۔واضح رہے کہ مشرقی القدس یا غزہ پٹی میں ابھی تک کورونا وائرس سے متاثر کوئی مریض منظرعام پر نہیں آیا ہے جبکہ اسرائیل میں دو سو سے زائد کورونا وائرس کے مریض ریکارڈ پر آچکے ہیں۔

کویت میں اذان کے کلمات عارضی طور پر بدل دیئے گئے
حکومت کویت نے کورونا کے خدشے کے پیشِ نظر تمام مساجد پر نماز باجماعت عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔ 13؍ مارچ کو جمعہ کی نماز کویت کی کسی بھی مسجد میں ادا نہیں کی گئی۔ کویتی خبررساں ادارے کونا کے مطابق کویتی وزارت اوقاف نے کہا ہے کہ کویت کے متعلقہ صحت حکام کی ہدایات اور دارالافتا کے فتوے کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت اوقاف کے مطابق مساجد میں پانچوں فرض نمازوں کے لئے مقررہ وقف پر اذان دی جائے گی، موذن لاؤڈاسپیکر سے یہ اعلان بھی کررہے ہیں کہ سب لوگ نماز وہیں ادا کرلیں جہاں وہ اس وقت موجود ہیں۔کویتی وزیر انصاف ڈاکٹر فہد العفاسی نے مساجد میں جماعت کے ساتھ نماز پر پابندی کے فتوے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں فی الوقت کورونا وائرس پھیلا ہوا ہے ، عوام کو اس کی گرفت میں آنے سے بچانے کیلئے احتیاطی اقدام کے طور پر یہ اقدام کئے گئے ہیں۔حکومت نے مزید سخت احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے تمام شاپنگ مالز، بازار اور دکانیں بند کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ یہ فیصلہ کویتی کابینہ نے ملک بھر میں کورونا کے پیش نظر حالات کا جائزہ لینے کے بعد کیا ہے۔البتہ گورنمنٹ کمیونیکیشن سنٹر کے ترجمان طارق المزوم کے مطابق اس فیصلے سے استثی صرف اشیائے ضروریہ فروخت کرنے والی دکانوں کو ہوگا، صرف غذائی اشیاء فروخت کرنے والی دکانیں اور سپر مارکیٹ کھلی رہیں گی۔حکومت نے ملک کے تمام باربر شاپس اور بیوٹی پارلرس بھی تا ہدایت ثانی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ریستورانوں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ بیک وقت صرف پانچ گاہکوں کودکان کے اندر آنے کی اجازت دیں گے۔ باقی گاہک دکان کے باہر اپنی باری کا انتظار کریں گے۔مزید یہ کہ ریتوران یا سپر مارکیٹ کے کیشیئر پر قطار لگانے کی ضرورت پیش آجائے تو دو افراد کے درمیان ایک میٹر فاصلے کا خیال رکھا جائے ۔

سلطنت عمان میں بھی احتیاطی تدبیر
سلطنت عمان کی وزارت ٹرانسپورٹ نے بھی 19؍ مارچ سے پبلک بس سروس معطل کرنے کا اعلان کیا ۔ بتایا جاتا ہیکہ سلطنت عمان نے تمام شہروں میں داخلی بس سروس معطل کی ہے مختلف شہروں کو جوڑنے والی بس سروس پر بھی پابندی لگادی ہے ۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے حفاظتی تدبیر کے طور پر اب تک سات عرب ممالک اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کا مصافحہ کرنے سے گریز
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بھی ملک بھر میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے لئے ہر سطح پر اہم اقدامات کئے ہیں یہاں تک کہ 17؍ مارچ کو انہوں نے مذہبی رہنما و ممتاز عالمِ دین مولانا طارق جمیل جو وزیر اعظم سے ملاقات کیلئے پہنچے تھے انکا وزیر اعظم نے کھڑے ہوکر استقبال کیا اور کورونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر کے طور پر مصافحہ کرنے سے گریز کیا۔ عمران خان نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ’’ترک روایت‘‘ کے مطابق مولانا طارق جمیل کو سلام کیا اور خوش آمدید کہا جبکہ مولانا طارق جمیل عمران خان سے مصافحہ کرنے کیلئے ہاتھ آگے بڑھائے تھے۔ اس موقع پر سیاسی و مذہبی رہنما ؤں کے درمیان مناسب فاصلہ رہا البتہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسرت کا اظہار کئے۔اس موقع پر عمران خان نے مولانا امن وسلامتی کیلئے خصوصی دعاؤں کی درخواست کی ۔وزیر اعظم نے مولانا طارق جمیل سے درخواست کی کہ وہ مذہبی اجتماعات محدود کرنے کیلئے کردار ادا کریں۔اس طرح عالمی سطح پر خصوصاً مسلم ممالک میں کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ایسے اقدامات کئے جارہے ہیں جس سے کورونا وائرس واقعی ختم ہوجائے گا یا نہیں اس کا علم نہیں البتہ اگر مساجد میں باجماعت نمازیں ادا ہوتی اور اس کے بعد خصوصی دعاؤں کا اہتمام ہوتا اور اﷲ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگے جاتے تو کورونا وائرس کیا کوئی دوسری مہلک بیماری بھی مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی تاوقتیکہ اس بیماری سے نجات حاصل کرنے یا اسے اپنے قریب آنے سے روکا جاسکتا تھا۔کاش مسلمان اپنے ایمان کو مضبوط و مستحکم والا سمجھتے ہوئے فیصلہ کرپاتے۰۰۰

الحمد ﷲ شہر حیدرآباد کی مساجد میں جمعہ کی نماز کا ہمیشہ کی طرح ہی اہتمام ہوا۔ لوگ بچوں کو تعطیلات ہونے کی وجہ سے نماز جمعہ پڑھنے کیلئے ساتھ لے آئے۔ البتہ بعض مساجد میں حکومت کی جانب سے احتیاطی تدابیر اپنانے کی جو اپیل کی گئی تھی اس پر عمل کرتے ہوئے مختصر خطبہ جمعہ اور نماز کی ادائیگی عمل میں آئی۔ ائمہ کرام نے جمعہ کی اجتماعی دعاؤں میں اﷲ رب العزت سے دعا کی کہ عالمی سطح پر پھیلنے والے اس کورونا وائرس اور دیگر بیماریوں سے لوگوں کو محفوظ رکھے اور خصوصی طور پر ہم مسلمانوں کودشمنانِ اسلام اور مہلک بیماریوں محفوظ رکھتے ہوئے حفاظت فرمائے۔
***

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 673 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 223 Articles with 74494 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: