کمل ناتھ : کمل کے ترشول سے اناتھ

(Dr. Salim Khan, India)

مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ نے آخر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ۔ کمل ناتھ کو اناتھ کرنے کے بعد بی جے پی کی سرکار کا راستہ صاف ہوگیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پھر سے شیوراج سنگھ وزیراعلیٰ بنتے ہیں یا نروتم مشر کی تقدیر کھلتی ہے۔ویسے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح دو بلیوں کے جھگڑے میں بندر کا فائدہ ہوجاتا ہے اس طرح چوہان اور مشر کی مہابھارت کا فائدہ نریندر سنگھ تومر کو مل جائے اور ان کی تاجپوشی ہوجائے۔خیر اس خانہ جنگی کا نتیجہ جو بھی نکلے لیکن اقتدار کی اس کشمکش نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کرسی حاصل کرنے کی حرص و ہوس کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔کورونا وائرس نے فی الحال ملک کے بے حس سیاستدانوں کے بھی ہوش اڑا دیئے ہیں ۔ اس کی سب سے بڑی مثال اتر پردیش کی یوگی سرکار ہے جس پر الہ باد ہائی کورٹ سے لے کر سپریم کو رٹ کی بھی زبان ِ نرم نازک بے اثر ہوگئی ہے۔ لاتوں کے بھوت چونکہ باتوں سے نہیں مانتے اس لیے یوگی جیسے لوگوں کا دماغ درست کرنے کے لیے کرونا وائرس کی ضرورت پڑتی ہے ۔

کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے سبب سرکاری دفاتر میں بھیڑ ختم کرنے کے لیے کابینہ نے سرکاری ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے علاوہ اترپردیش کے تمام اسکولی اور مقابلہ جاتی امتحانات کو ملتوی کردیا گیا۔ نیز اسکول، کالج اور سنیما گھروں کو 2 اپریل تک بند کر دیا گیا۔اسی کے ساتھ ریاست بھر میں نہ صرف دھرنا و مظاہروں پر بھی پابندی عائد کی گئی بلکہ سیاحتی مقامات بشمول تاج محل کو 31 مارچ تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔مہاراشٹر کی حالت کرونا وائرس کے معاملے میں سب سے زیادہ خراب ہے کیونکہ یہیں سب سے زیادہ 52 متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس لیے سب سے پہلے احتیاط کے طور پراسمبلی کا اجلاس قبل از وقت ختم کردیا گیا ۔ اس کے بعد خبر آئی کہ سارے سرکاری دفاتر ایک ہفتے کے لیے بند کرنے اورعوامی مواصلاتی کے نظام مثلاً صوبائی بس سروس (ایس ٹی) ، ممبئی کی بی ایس ٹی اور لوکل ٹرین تک کو بند کرنے پر غور کیا جاررہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے پریس کانفرنس میں اس کی تصدیق کی کہ یہ فیصلے ابھی ہوے تو نہیں لیکن اگر عوام نے بھیڑ بھاڑ میں رضاکارانہ کمی نہیں کی تو کابینہ کو اس پر مجبور ہونا پڑے گا ویسےسینٹرل ریلوے نے ممبئی ،پونہ اور ناگپور جیسے اہم شہروں کے درمیان چلنے والی طویل فاصلے کی کئی گاڑیوں کو منسوخ کرنے کے بعد ممبئی اور پونہ سمیت کئی بڑے شہروں کو لاک ڈاون کرنے اعلان کردیا گیا ہے

ہندوستان کے نقشے میں مدھیہ پردیش اسم بالمسیٰ کے طرح مہاراشٹر اور اترپردیش کے بھی درمیان میں ہےجہاں فی الحال اقتدار کی رسہ کشی جاری ہے۔ کرونا وائرس کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس لیے کمل ناتھ کی گرتی پڑتی سرکار نے بھی احتیاطی تدابیر کا اعلان کرکے بیس سے زیادہ لوگوں کے کسی ایک مقام پر جمع ہونے پر پابندی لگا دی ۔ اس فیصلے کا بہانہ بناکر اسمبلی اسپیکر این پی پرجاپتی نے 26مارچ تک فلور ٹیسٹ کو ٹال دیا ۔ اس بابت مدھیہ پردیش کے گورنرلال جی ٹنڈن نےفلورٹیسٹ کاحکم جار ی کیاتھا۔اس حکم نامہ کے جواب میں وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے کہاتھا کہ بی جے پی کے ذریعہ سارےیرغمال بنائےگئےا رکان اسمبلی کورہاکیے جانے سے قبل فلورٹیسٹ نہیں ہوگا ۔ اب تو ان کا کہنا ہے کہ واپس آنے کے بعد ان ارکان اسمبلی کو ایک آدھ ہفتہ آزادی کے ساتھ گزارنے کا موقع ملے یعنی ان کو سمجھا بجھا کر واپس پارٹی میں لایا جاسکے ، اس کے بعد بھی فلور ٹسٹ ہونا چاہیے۔کمل ناتھ کی یہ کوشش کسی چراغ کے بجھنے سے قبل آخری بار پھڑ پھڑانے جیسی تھی ۔

ایک طرف جہاں مہاراشٹر ، اترپردیش اور دیگر صوبوں کے اندر کام کاج بند کرکے ارکان اسمبلی کو گھر بھیجا جارہا ہے اس کے برخلاف مدھیہ پردیش میں کورونا سے بے خوف ہوکر اقتدار کی ہوس میں بی جےپی نے اپنے ارکان اسمبلی کو گروگرام سے واپس بلا لیا ہے اور جے پور میں قیام پذیرکانگریس کے ارکان بھی بھوپال لوٹ آئے ہیں ۔ ان لوگوں کو فلور ٹسٹ سے قبل کورونا کے ٹسٹ سے گذرنا پڑ رہا ہے کیونکہ کرسی تو ملتی بچھڑتی رہتی ہے لیکن اگر کورونا نےپکڑ لیا تو وہ ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے کر بھی جاسکتا ہے۔ اس معاملے میں فتنے کی جڑ سندھیاکےحامی اور کانگریس کے باغی ارکان ہنوز بنگلورو میں عیش کررہے ہیں ۔ وہ جان کے خطرے کی بات کررہے ہیں ۔ یہ بالکل درست اندیشہ ہے کیونکہ اگر انہوں نے پھر سے اپنا ارادہ بدلا تو بی جے پی کا ترشول ان کو نہیں چھوڑے گا اور عوام سے غداری کی تو رائے دہندگان انہیں سبق سکھا کر رہیں گے ۔ اس لیے فی الحال جہاں جیوتردیتیہ کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں وہیں ان کے بھکتوں کا سر کڑھائی میں ہے۔

اس دوران مدھیہ پردیش کے گورنر لال جی ٹنڈن نے ایک نہایت دلچسپ انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی کمل ناتھ کو ایک خط لکھ کر اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے ’ہاتھ اٹھا کر‘ گنتی کروانے کی ہدایت کی ہے۔ وہ شاید بھول گئے کہ ہاتھ کا پنجہ کانگریس کا نشان ہے اور بی جے پی کے ارکان کو اس پر اعتراض ہوسکتا ہے۔ گورنر کے مطابق فی الحال اسمبلی میں بٹن دبانے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ملک بھر کے کروڈوں لوگ ای وی ایم کا بٹن دبا کر اپنا ووٹ دینے پر قدرت رکھتے ہیں لیکن پندرہ سال حکومت کرنے کے باوجود بی جے پی اسمبلی ہال میں ووٹنگ مشین نصب نہیں کرسکی ،۔یہ ڈیجیٹل انڈیا کے کھوکھلے دعویٰ کی زندہ مثال ہے۔

صوبے کےگورنر لال جی ٹنڈن نے حق نمک ادا کرتے ہوئے کمل ناتھ کو لکھا تھا کہ ، ’میں اس بات کا قائل ہوں کہ بادی النظر میں آپ کی حکومت ایوان کا اعتماد کھو چکی ہے اور آپ اقلیت میں ہے۔ یہ صورتحال بہت سنگین ہے ، لہذا آئینی طور پر لازمی اور جمہوری اقدار کا تحفظ ضروری ہے ۔آپ 16 مارچ کو میرے خطاب کے فورا ًبعد ہی قانون ساز اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کریں‘‘۔ کاش کہ لال جی ٹنڈن کی طرح اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل بھی یوگی ادیتیہ ناتھ کو اس طرح کا خط لکھتیں کیونکہ وہ آئے دن آئین کے ساتھ عدلیہ کے احکامات کو بھی پامال کررہے ہیں لیکن ہمارے سیاسی نظام کو لگا ہوا تفریق و امتیاز کا کورونا وائرس آنندی بین کو اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ایوان ِ اسمبلی میں سرکار کو گراکر اقتدار پر فائز ہونے کی ہوس نے مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ شیوراج چوہان کو عدالت عظمیٰ کے دروزے پر دستک دینے کے لیے مجبور کردیا ہے۔

سپریم کورٹ نے چوہان کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مدھیہ پردیش اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کو 26مارچ تک کےلئے ٹالنے کے معاملے میں اسمبلی کے اسپیکر اور ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرکے ایک دن کے اندر جواب دینے کی تلقین کردی۔عرضی داخل کرنے والوں میں شیو راج چوہان کے علاوہ نو ارکان اسمبلی شامل تھے ۔ چوہان کے وکیل مکل روہتگی کے مطابق اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کی ضرورت ہے،لیکن حکومت اس سے بچ رہی ہے۔ 16باغی ارکان اسمبلی نے بھی عدالت سے اس معاملے میں انہیں فریق بنانے کی درخواست کی ہے۔ شیوراج سنگھ ان 16 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کرنے پر اصرار کیا ۔ عدالت کا موقف پہلے تو باغی ارکان اسمبلی کی آزادی کے حق میں تھا لیکن پھر اس نے اگلے دن شام ۵ بجے تک کمل ناتھ کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا حکم دے دیا۔ اس طرح کمل ناتھ پوری طرح اناتھ ہوگئے اور انہوں نے دوسرے دن بارہ بجے گورنر کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔ کانگریس کواس شکست پر ہر چہار جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اس سیاسی ناکامی کے ذریعہ اس نے اپنے کارکنا ن کو یہ پیغام دیا ہے کہ جیوتردتیہ جیسے ابن الوقتوں کی بلیک میلنگ کو پارٹی برداشت نہیں کرے گی ۔ وپ اقتدار سے محروم ہوناتو گوارہ کیا کرلے گی مگر اصول ونظریات کو پامال کرنے والے موقع پرست کے آگے نہیں جھکے گی۔کچھ لوگوں کے نزدیک یہ اس کی اخلاقی فتح اور سیاسی شکست ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1241 Articles with 457624 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Mar, 2020 Views: 243

Comments

آپ کی رائے