اب تو کچھ کریں !!

(Muddasir Ahmed, INdia)

ملک بھر میں کورونا وائرس کا سایہ ہر خاص و عام کو متاثر کرچکا ہے اوراس وائرس کی روک تھام کے لئے مرکزی حکومت نے لاک ڈائون کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں ، ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس کی آبادی 130 کروڑ ہے اور اس آبادی میں سے زیادہ تر طبقہ مزدور پیشہ ہے ، اچانک لاک ڈائون کی وجہ سے ملک میں جہاں کورونا وائر س کو مات دینے کے لئے غور و فکر کیا جارہاہے وہیں مڈل کلاس اور لوئر کلا س طبقہ آنے والے 20 دنوں کو کیسے گزاریں اس پر فکر مند ہے ، حالانکہ مرکزی حکومت کی جانب سے لاک ڈائو ن پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے لیکن یہ پیکیج عام لوگوں کے لئے غیر ضروری ہی کہا جارہاہے ۔ حکومت نے اناج دینے کی بات کہی ہے اور گیس کے سلنڈر بی پی یل کارڈ کے اجول یوجنا والوں کو مفت دینے کی بات کہی ہے لیکن یہ تمام اسکیمیں ہر غریب اور متوسط گھرانے کے لوگوں کے لئے بالکل بھی دستیاب نہیں ہوسکتے کیونکہ ملک میں اب بھی کئی ایسے لوگ ہیں جو ان اسکیموں سے استفاد ہ حاصل نہیں کرسکتے۔ ایک طرف یہ بحران ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کا سب سے بڑامسئلہ ہے ، اکثر مسلمانوں کے پاس دستاویزات ہی نہیں ہیں اور دستاویزات وغیرہ ہوں بھی تو مسلمان تعصب کا شکار ہیں جنہیں راحت و اشیائے خورد ملنا مشکل ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ سارے مسلمان پورے طورپر غریب ہیں بلکہ مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ ایسا بھی ہے جو بہت اچھی استطاعت رکھتا ہے اور انکے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے ، کچھ سال قبل ایک ین جی او نے مسلمانوں کے سالانہ زکوٰۃ کا حساب لگایا تھا کہ 7500 سے 40 ہزار کروڑ روپئے ادا کئے جاتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر زکوٰۃ اکھٹا کیے جانے کے باوجود یہ رقم کہا جارہی ہے ؟۔ اسکے علاوہ ہندوستان میں وقف کی آمدنی ریلوے ، شراب کے بعد تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ مانی جاتی ہے جبکہ اوقاف کی زمین ریلوے اور ڈیفینس کے بعد سب سے زیادہ بتائی جاتی ہیں ۔ اتنا سب ہونے کے باوجود بھارت کے مسلمان ایمرجنسی حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ فرقہ وارانہ فسادات ہوں یا پھر قدرتی آفات ، ہر موقع پر مسلمانوں کی بڑی تعداد متاثرین اور مظلومین کی ہوتی ہے اور ان مسلمانوں کی باز آباد کا ری کے لئے وقتی طورپر تو اقدامات اٹھائے جاتے ہیں لیکن مستقل طورپر کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ بعض تنظیمیں و ادارے ایسے ہیں جو ہر سال مسلمانوں کے زکوٰۃ کا بڑاحصہ تو اپنے لئے لیتے ہیں لیکن جب بھی بازآبادکاری یا ریلیف کا موقع آتاہے تو وہ دوبارہ چندہ کلکلشن پر اتر آتی ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اس چندے میں بھی کمیشن کا دھندہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے بیشتر لوگوں کو مایوس ہونا پڑتاہے ۔ دراصل زکوۃٰ ، صدقہ ، ہدیہ اور تعاون جیسی چیزیں اسلام میں اسلئے رائج کی گئی ہیں کہ مسلمان مشکل اوقات میں بے بس و بے سہارا نہ بن جائیں بلکہ مسلمان اپنے مال کو اپنوں میں بھی تقسیم کریں ساتھ میں دوسری قوموں کو بھی مدد کریں مگر شاید ہی ایسا ہورہاہو۔ پچھلے سال ہم نے اپنےایک مضمون میں ایسی ہی بات کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مسلما ن اپنے مالی و اقتصادی مسائل کو حل کرنے کے لئے بیت المال کے نظام کو مضبوط کریں، جب تک مسلمان اللہ کے نبی ﷺ کے بتائے ہوئے بیت المال کو مضبوط نہیں کرتے اس وقت تک مسلمانوں کے مسائل حل نہیں ہوسکتے ۔ ہم نے بیت المال کو مضبوط کرنے کے لئے جو تجویز دی تھی اس میں ہم نے کہا تھاکہ اگر ہر مسجدکے ماتحت ایک بیت المال قائم کیاجائے اسمیں مسجد کے امام کی صدارت اور محلے کے تعلیم یافتہ افراد کی شرکت ہو۔ ہر جمعہ کے دن ایک ڈبہ بیت المال کے کلکشن کے لئے رکھا جائے اور اس ڈبے میں ایک ہزار روپئے بھی نکل آئیں تو مہینے میں یہ چار ہزار روپئے ہوجائینگے ۔ اس طرح سے اس شہر میں 50 مساجد ہوں تو ان پچاس مساجد سے ماہانہ 2لاکھ روپئے بیت المال جمع ہوگا اور سالانہ 24 لاکھ روپئےاکھٹا ہوجائینگے ۔ ان 24 لاکھ روپئوں میں مسلمان اپنے کئی بڑے مسائل کو لمحوں میں حل کرسکتے ہیں ۔ یہ کلکشن اوسطاََ ہی بتایا گیا ہے اسکے علاوہ اس کلکشن کو رمضان اور بقر عید میں بھی بڑایا جاسکتاہے جس سے مزید آمدنی ہوسکتی ہے ۔ اگر کسی شہر میں سالانہ بیت المال کی آمدنی 24 لاکھ روپئے ہو اور لاک ڈائون جیسے حالات میں مدد کرنے کی بات آتی ہو تو مسلمان فوراََمد د کے لئے میدان میں اتر سکتے ہیں اور مستحق افراد کی مدد کرسکتے ہیں ۔ آج ہمارے معاشرے میں کئی ایسے مزدور ہیں ، آٹو ڈرائیور اور ٹھیلہ گاڑی پر کاروبار کرنے والے لوگ ہیں جو دن بھر کمانے کے بعد اپنا اور اپنے اہل وعیال کا پیٹ بھرسکتے ہیں اگر وہ کمائینگے نہیں تو ایک دو دن بعد انکے گھر میں فاقہ کشی کے حالات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ایسے لوگوں کی مدد کرنا بھی تو اسلام ہے لیکن ہم اس اسلام سے کافی دور چلے گئے ہیں ۔ ہم اس اسلام میں جی رہے ہیں جو اپنی سہولت کے مطابق ہو ، اپنی سہولت کے مطابق ہم حدیثوں پر عمل کرتے ہیں ۔ آج ہی سوشیل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھی کہ حجاموں کی دکانیں بند ہیں لوگ داڑھی چھوڑ کر سنت پر عمل کریں ۔ یہ میسیج اس قدر تیزی کے ساتھ گردش کررہا تھا کہ لوگ واہ واہ کررہے تھے لیکن میسیج فارورڈ کرنے والے اس بات کے علاوہ ان حدیثوں اور قرآنی احکامات کو کیوں نظرانداز کررہے ہیں جس میں یتیموں ، غریبوں ، مسکینوں ، قرضداروں اور ضرورتمندوں کی مدد کرنے کے لئے حکم دیا گیا ہے ۔ قرآن میں یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے اور انکے ساتھ رحمدلی سے پیش آنے کی تلقین دی ہے مگر افسوس ہماراایمان اب بھی جبہ اور داڑھی پر ہی اٹکا ہواہے اور اس سے آگے جانے میں ناکام ہورہاہے ۔ کچھ تنظیمیں انسانی خدمت کا جذبہ لے کر جب نکلتے ہیں تو انکے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے دوسرا گروہ تیار کھڑا ہوجاتاہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو کام ایک گروہ کررہاہو اس کام کی تائید کی جائے یا اس سے بہتر کام کیا جائے یا کم ازکم خاموش رہا جائے ۔ ہم نے جس طرح سے بیت المال کا ذ کر کیا ہے اگر اس کام کو اگر مسلمانوں آنے والے دنوں میں فوری طورپر شروع نہیں کیا جاتاہے تو آنے والے دنوں میں جو فائنانشیل ایمرجنسی ، معاشی بحران شروع ہونگے اس میں کچھ نہ کچھ مدد مل سکتی ہے ۔ اس لئے مسلمان کم ازکم اب تو ہوش کے ناخن کھائیں ۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 171 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muddasir Ahmed

Read More Articles by Muddasir Ahmed: 106 Articles with 27724 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: