کرونا وائرس اور حکومت کی بے حسی

(Rameez Ahmad Taquee, Karachi)
تبلیغی مرکز میں قیام کرکے مولانا سعد اور دیگر مسلمان اگر مجرم ہیں، تو یوگی لاک ڈاؤن کے فرمان کی حکم عدولی کرکے مجرم کیوں نہیں ہوسکتا؟ اگر مان بھی لیا جائے کہ مولانا سعد نے غلطی کی ہے، تو وہ انجانے میں کی جانے والی محض ایک غلطی ہوسکتی ہے، کوئی جرم نہیں، اس کے علی الرغم یوگی کا جرم صاف واضح ہے، پھر بھی وہ مجرم کیوں نہیں؟ اسی طرح اس خطرناک وبا کے زمانے میں اگر صرف کسی پروگرام میں شرکت کرنے سے مسلمان دیش دروہ ہوسکتے ہیں، تو نمستے پروگرام میں شریک ہونے والے ہزاروں لوگ، اور خود وزیر آعظم دیش دروہ کیوں نہیں ہوسکتے؟ اگر صرف پروگرام کا انعقاد مجرمانہ عمل ہے، تو متھورا کا مشہور ہولی پروگرام مجرمانہ عمل کیوں نہیں؟ اگر کسی پروگرام میں کسی کرونا مریض کا شریک ہونا جرم ہے، تو کرونا متاثرہ مشہور گیت کار کنیکا کپور کا اپنے پروگرام میں شریک ہونا جرم کیوں نہیں؟ نیز 23 مارچ کو مدھ پردیش میں پرتھوی راج چوہان کی حلف برداری والے پروگرام میں شریک ہونے والے بی جے پی کے سارے نیتا مجرم اور دیش دروہ کیوں نہیں؟ کنیکا کپور کے پروگرام میں شرکت کرنے والی راجستھان کی سابق وزریر اعلی اور بی جے پی نیتا یسوندھرا راج اور اس کا لڑکا دشیانت سنگھ دیش دروہ کیوں نہیں؟ 23 مارچ تک چلنے والے سنسد میں 20 مارچ کو ٹرانسپورٹ، سیاحت اور ثقافت سے متعلق پارلیمانی پینل کی میٹنگ میں دیگر بیس ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ شرکت کرنے والے بی جے پی نیتا دشیانت سنگھ، اور 18 مارچ کو صدر کووند کی دسترخوان پر ناشتہ کرنے والے دشیانت سنگھ اور دیگر سیاست داں، بلکہ خود بھارتی صدر رام ناتھ کووند دیش دروہ کیوں نہیں ہوسکتے؟

ہمارے ملک بھارت میں گذشتہ چند دہائیوں سے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازشںیں مسلسل زوروں پر ہیں، اور جب سے بی جے پی نے اقتدار پر اپنا قبضہ جمایا ہے، اس طوفانِ بدتمیزی میں یکلخت اضافہ ہوگیا ہے۔ ملک میں جب بھی کوئی حادثہ پیش آتا ہے، یا کوئی حملہ ہوتا ہے، بلکہ کوئی مارا جاتا ہے، یا کسی کے گھر چوری ہوتی ہے، حتی کہ اگر کوئی زمینی یا آسمانی آفت بھی آن پڑتی ہے، تو ہمیشہ شک کی سوئی بے چارے مسلمانوں ہی کی طرف گھومتی ہے، اور جو برق گرتی ہے، وہ بے قصور مسلمانوں پر ہی گرتی ہے۔ ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت کی ایک عجیب زہر آلود فضا قائم ہوجاتی ہے۔ واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر سوشل سائٹس پر مسلمانوں کو ٹرول کیا جانے لگتا ہے، جہاں مودی بھگت اور منفی ذہنیت کے حامل لوگ مسلمانوں کو دنیا کا بدترین انسان ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، تو دوسری طرف حکومت نواز دلال میڈیا ہر طرح سے مسلمانوں کو ذلیل و رسوا کرنے میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے لگتے ہیں۔

دراصل چند مہینوں سے پوری دنیا ایک عجیب و غریب نئے قسم کے کرونا کووڈ 19 نامی وائرس سے پریشان ہے، جس نے پوری دنیا میں کم و بیش دس لاکھ لوگوں کو متاثر کیا ہے، اور اس میں اب تک ایک اندازےکے مطابق پچاس ہزار سے زاید لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ اس وائرس کی پہلی مرتبہ تشخیص چین کے ایک شہر ووہان میں ہوئی۔ پھر اس نے رفتہ رفتہ پوری دنیا میں اپنا پھن پھلانا شروع کردیا۔ یہ ایک متعدی وبا کی طرح انتہائی خطرناک وائرس ہے، جو بڑی آسانی سے ایک انسان سے دوسرے انسان کے اندر منتقل ہوجاتاہے۔ بظاہر اس کی ابتدا تیز بخار سے ہوتی ہے۔ یہ انسانی پھیپھڑوں کو بڑی تیزی متاثر کرتا ہے، جس کی وجہ سے خشک کھانسی آتی ہے، اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ اگر بروقت اس کی شناخت نہ ہوپائے تو اس سے موت کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

بہر کیف دیگر ممالک کی طرح اپنے ملک ہندوستان میں بھی اس کا اثر ہونا تھا، سو وہ ہوا، اور نوبت “جنتا کرفیو “ سے لے کر مکمل “لاک ڈاؤن” تک پہنچ گئی، اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ حکومتی فرمان کے مطابق یہ لاک ڈاؤن چودہ اپریل تک جاری رہے گا، اور اگر اس وائرس کا اثر یونہی باقی رہا، تو اس میں توسیع بھی ہوسکتی ہے۔ چنانچہ جب پہلی دفعہ اس مرض کا علم ہوا تھا، تو لاریب پوری دنیا نے اس کو بالکل بھی سنجیدگی سے نہیں لیا تھا، اور یہ سمجھا تھا کہ یہ چین تک ہی محدود ہوکر ختم ہوجائے گا، مگر جب دھیرے دھیرے اس کا اثر دنیا کے دوسرے اطراف میں بھی ظاہر ہونے لگا، تو گویا ایک ایمرجینسی کی حالت پیدا ہوگئی اور آناً فاناً پوری دنیا میں ایک لاک ڈاؤن کا سلسلہ چل پڑا۔ ہر ملک کے حکمراں اپنی سطح پر اپنے عوام کو اس کے اثر سے محفوظ رکھنے کی ہر ممکن سعی کرنے میں جٹ گئے، اور ہر طرح کے طبی لائحہ عمل کو اپناتے ہوئے اس کے اثر کو کم سے کم تر کرنے کی کوششیں کرنے لگے۔

یہ وائرس جنوری کے اواخر میں ہندوستان میں بھی دستک دے چکا تھا، مگر حکومت کی بد احتیاطی اور مکمل بے حسی کی وجہ سے یہ بری طرح پورے ملک میں پھیلنے میں کامیاب ہوگیا۔ لوگ اپنی جان و مال کی حفاظت کی غرض سے غیر محفوظ جگہوں سے کوچ کرنے لگے۔ انجام کار پورے ملک میں ایک عجیب سی بھگدڑ کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ مودی نے اس کے اثر کو کم کرنے کے لیے غیر طبی اور جاہلانہ رسم کی بجا آوری کا فرمان صادر کرتے ہوئے لوگوں سے تالیاں بجوائی اور تھالیاں پٹوائی، مگر یہ موٹی چربی کا وائرس تالیوں کی گڑگڑاہٹ اور تھالیوں کی کھنکھناہٹ سے کہاں بھاگنا تھا، اس کے برعکس مزید شدت سے لوگوں کو اپنا شکار بنانے لگا۔ لوگ بڑی تیزی سے بھوک مری اور اس جان لیوا وائرس سے مرنے لگے۔ مودی جی نے لوگوں سے امداد کی گوہار لگائی، اور لوگ آتے گئے، مودی جی کا اکاؤنٹ بھرتا گیا، مگر اس وائرس سے کہیں زیادہ موٹی چمڑی کے انسان کو کب اپنے عوام کی فکر ہوسکتی تھی۔ لوگ بھوک سے مریں یا کرونا وائرس سے، اس سے حکومت کو کیا؟ مگر جب انھوں نے یہ محسوس کرلیا کہ پوری دنیا اس کی ایک دم لاک ڈاؤن والی بیوقوفی کی وجہ سے بھوکوں مرنے والے مزدوروں، اور در بدر پھرنے والے کامگاروں کی تباہ حالیوں کو دیکھ دیکھ ان کو لعنت و ملامت کر رہی ہے۔ اُدھر لوگ بھی پریشان حال قید وبند کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اور غریب دانہ دانہ کو ترسنے لگے ہیں، نیز اپنے پی ایم فنڈ میں لوگوں سے جو چندہ بٹورا تھا، اس پر بھی گفتگو ہونے لگی ہے، تو دوسری طرف حکومت کی چپی سے یہ صاف ظاہر ہورہا تھا کہ مودی حکومت اب اپنے مشن میں پوری طرح فلاپ ہوچکی ہے۔ گودی میڈیا کے خیمہ میں بھی بالکل خاموشی چھائی ہوئی تھی، البتہ انھوں نے ٹی وی اسکرینوں پر انتاکشری کا پروگرام نشر کر کے عام لوگوں کے لیے سامان دل لگی ضرور مہیا کردیا تھا، لیکن انھیں بھی کسی نمکیں مواد کی سخت ضرورت تھی۔ایسے میں دہلی کے نظام الدین میں واقع عالمی تبلیغی مرکز بنگلہ والی مسجد میں 13-15 مارچ کو سہ روزہ اجتماع کی خبر ملتی ہے، جس میں ملک اور بیرون ملک سے ہزاروں لوگ شرکت کرتے ہیں۔ اس طرح کے اجتماعات کے بعد عام طور پر لوگ اپنے طے کردہ مقامات کی طرف رواں دواں ہوجاتے ہیں، اور جو جماعتیں اپنی میعاد پوری کرچکی ہوتی ہیں، وہ وہیں مرکز میں رُک کر اپنی اپنی کارگزاریاں بیان کرتی ہیں؛ اس وجہ سے مرکز میں ہر روز سیکڑوں لوگوں کا قیام کوئی نایاب امر نہیں، بلکہ ایک عام سی بات ہے۔ نیز اس وقت تک ملک میں کسی بھی مذہبی پروگرام کے انعقاد پر باضابطہ کوئی پابندی عائد نہیں تھی؛ اسی لیے اس تبلیغی مرکز کے علاوہ دیگر مذاہب کی عبادت گاہیں بھی بدستور اپنے زائرین کے لیے کھلی ہوئی تھیں۔ القصہ جماعت کے مذکورہ اجتماع کے بعد سیکڑوں لوگ مرکز میں مقیم تھے، ظاہر ہے ان میں غیر ملکی بھی تھے۔ اسی دوران دہلی حکومت یکے بعد دیگرے دو فرمان صادر کرتی ہے، جن میں سوشل اجتماع پر پابندی عائد کردی جاتی ہے۔اس کے پیش نظر مرکز کے ذمہ داران متعلقہ پولیس افسران کے پاس جاکر اپنا دکھ سناتے ہیں اور ان سے مہمانوں کے واسطے اپنی منزل کی طرف کوچ کر جانے کے لیے کرفیو پاس جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملتا ہے، اور پھر مرکز کے ذمہ داران بھی خاموش ہوجاتے ہیں، مگر جب 28 مارچ کو جماعت کے ایک ساتھی کی ان کے وطن میں کرونا کے اثر سے موت ہوجاتی ہے۔ پھر دہلی پولیس باضابطہ حرکت میں آتی ہے اور آناً فاناً جماعت میں موجود سارے لوگوں کو پکڑ کر کورنٹائین کردیتی ہے۔ اب یہاں سے دوغلی سیاست کی ابتدا ہوتی ہے، گودی میڈیا مودی حکومت کی نا اہلیوں اور عوام کے تعلق سے بے راہ رویوں پر پردہ ڈالنے کے لیے مسلمانوں کے خلاف ایک طوفانِ بد تمیزی کا آغاز کرتی ہے۔ بالآخر اس عالمی حساس معاملہ کو مذہبی رنگ دے کر لوگوں کے ذہنوں میں زہر گھولنے میں آسمان سر پر اٹھا لیتی ہے۔

اب یہاں اس کرونولوجی کو سمجھنے کی ضرورت ہے، کہ جنوری کے اواخر ہی میں اس وائرس کا علم ہوچکا تھا، اور 12 فروری کو حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کانگریسی نیتا راہل گاندھی نے بھی ایک انٹر ویو کے دوران کہا تھا کہ ہندوستان کو کرونا وائرس کے خطرہ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، مگر مودی حکومت نے اس کو بالکل بھی سنجیدگی سے نہیں لیا، بلکہ اس کے برخلاف 13 مارچ کو ملک کی وزارت برائے صحت نے یہ اعلان کیا کہ کرونا صحت کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے، حالانکہ اس سے قبل WHO نے بھی بار بار ہندوستانی حکومت کو اس خطرہ سے متنبہ کرایا تھا، مگر حکومت نے ایک نہ سنی، اور سب کے سب اپنے کام کاج میں مصروف رہے۔ ذرا اور پیچھے جاکر اس معاملہ کو سمجھیے، کہ گیارہ فروری کو دہلی کا رزلٹ آیا۔ اس کے بعد 23 فروری کو دہلی میں حکومت کے اشارہ پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔ 24 فروری کو احمدآباد میں ہزاروں لوگوں نے موترا اسٹڈہیم میں امریکی صدر ڈولانڈ ٹرمپ کا استقبال کیا۔ اس وقت تک بھی حکومت کرونا کو لے کر بالکل بھی فکر مند نہیں تھی۔ دس مارچ کو متھورا میں سیکڑوں لوگ ایک ساتھ مل کر ہولی کھیلتے ہیں، مگر کسی کے پیٹ میں درد نہیں ہوتا، اور جب اس کے تین دن بعد بنگلہ والی مسجد میں سہ روزہ ایک اجتماع ہوتا ہے، تو اس کو کرونا پھیلانے کی مہم سے جوڑا جاتا ہے، حالانکہ اس کے تقریباً چار دن بعد 19 مارچ کو پہلی مرتبہ پی ایم مودی سوشل ڈسٹینسنگ کی بات کرتے ہیں، اور 23 مارچ تک سنسد جاری رہتا ہے۔ اسی 23 تاریخ کو مدھ پردیش میں کانگریس حکومت کا تختہ پلٹ کر بی جے پی کی نئی حکومت کی حلف برداری کا پروگرام منعقد ہوتا ہے۔ اس کے ٹھیک ایک دن بعد 24 مارچ کو شب آٹھ بجے مودی جی اسکرین پر نمودار ہوتے ہیں اور بلا کسی پلان اور انتظام کے ملک کو 21 دن کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیتے ہیں۔ اس صورت حال میں یقیناً جو لوگ ادھر اُدھر سفر میں تھے، ان کے لیے اپنی منزل تک پہنچنا تقریباً ناممکن تھا، اور اس وجہ سے کسی ایسی جگہ جہاں ہر روز سیکڑوں لوگوں کی آمد و رفت ہو، وہاں اس مقدار میں لوگوں کا قید ہوجانا کوئی مجرمانہ عمل نہیں، اور خاص کر اس صورت میں جب متعلقہ ذمہ دار حکومت سے ان کے انخلا کے پاس اور دیگر سہولیات کی پیشگی فرمائش کر چکے ہوں، تو ان کی بے گناہی صاف واضح ہوجاتی ہے؛ ہر چند کہ ان میں کچھ لوگوں پر اس وائرس کا اثر بھی ہو، پھر بھی حکومت کو آگاہ کردینے کے بعد ان کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے با وصف ان کے خلاف کسی قسم کی سزا کی سفارش کرنا، یا ان کے خلاف کیس فائل کرنا، نہ صرف دستور و قانون کے ساتھ کھیلواڑ ہے، بلکہ جان بوجھ کر کسی برادری کو ہراساں کرنا بھی ہے۔ مگر صدافسوس کہ ہندوستان کی نا اہل حکومت اپنی نا ان اہلیوں کی پردہ پوشی کے لیے دوسروں کے سر الزام دھرتی ہے۔ اپنے آوارہ کتوں اور داشتہ میڈیا اینکروں کے ذریعے ان کے خلاف ایک ناسازگار ماحول فراہم کراتی ہے، تاکہ لوگ اس عالمی حساس موضوع کو چھوڑکر حکومت کے تیار کردہ اس جال میں پھنس جائیں۔ “کرونا جہاد سے دیش بچاؤ، تبلیغی جماعت کی ٹیرر کُنڈلی، نظام الدین کا ویلن کون، کرونا سے جنگ میں جماعت کا آگھات، دھرم کے نام پر جان لیوا ادھر م” جیسے میڈیا کے خودساختہ بے بنیاد اور بے ہودہ عنوان کے پس منظر میں ذرا آپ غور فرمائیں کہ آخر ملک میں کس قسم کی گندی اور ایک برادری کے خلاف کیسی زہریلی سیاست کارفرما ہے۔ بجائے اس کے کہ ایسے ٹی وی اینکروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، ان کی زبانوں پر تالہ لٹکایا جائے، اور ان کا احتساب کیا جائے، مگر سرعام ان کو آوارہ کتوں کی طرح آزاد چھوڑ دیا گیا ہے، اور وہ چیخ چیخ کر مولانا سعد اور ان کے معاونین کے خلاف آگ اگل رہے ہیں۔ ان دل سوز عناوین پر ذرا غور کریں کہ ایسے وقت میں جب پوری دنیا اس چیلنج کے خلاف برسرپیکار ہے۔ ہر ملک کی حکومتیں اس وبا سے نبٹنے کے لیے ہر طرح کے طبی لائحہ عمل پر کاربند ہیں، اس کے برعکس ہندوستانی حکمران اس انتہائی عالمی حساس موضوع کو بھی ہندو مسلم کا رنگ دینے میں مصروف ہیں۔ سوشل سائٹس پر مدارس و مساجد اور اسلامی شعائر پر پابندیاں عائد کرنے کی مانگ کی جارہی ہے۔ ایک ہندی نیوز پورٹل کے مطابق ہندوستانی وزارت خارجہ نے غیر ملکی 800 مذہبی مبلغین کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی مانگ کی ہے۔

غور طلب امر یہ ہے کہ جو لوگ برسر عام قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں، وزیراعظم کے فرمان لاک ڈاؤن کی نافرمانی کرتے ہوئے مذہبی پروگرام منعقد کرتے ہیں، تو اس پر کوئی سوال کیوں نہیں کرتا؟ مگر وہیں مسلمان اگر کسی مسجد میں پھنس جاتے ہیں، جب کہ وہ اپنی پریشانیاں حکومت کے سامنے بیان کر چکے ہوتے ہیں، پھر ان کے خلاف اس کے طرح الزام گڑھنا اور ان پر پابندیاں عائد کرنے کی وکالت کرنا یہ کہاں کا انصاف ہے؟ ہر معاملے کو مذہب کا رنگ دے کر اصل ہدف سے لوگوں کی توجہ پھیر دینا، پھر مسلمانوں کے خلاف دشنام طرازیاں کرنا، ایک انسان کو دوسرے انسان کے خون کا پیاسا بنادینا، آخر یہ کب تک؟ تبلیغی مرکز میں قیام کرکے مولانا سعد اور دیگر مسلمان اگر مجرم ہیں، تو یوگی لاک ڈاؤن کے فرمان کی حکم عدولی کرکے مجرم کیوں نہیں ہوسکتا؟ اگر مان بھی لیا جائے کہ مولانا سعد نے غلطی کی ہے، تو وہ انجانے میں کی جانے والی محض ایک غلطی ہوسکتی ہے، کوئی جرم نہیں، اس کے علی الرغم یوگی کا جرم صاف واضح ہے، پھر بھی وہ مجرم کیوں نہیں؟ اسی طرح اس خطرناک وبا کے زمانے میں اگر صرف کسی پروگرام میں شرکت کرنے سے مسلمان دیش دروہ ہوسکتے ہیں، تو نمستے پروگرام میں شریک ہونے والے ہزاروں لوگ، اور خود وزیر آعظم دیش دروہ کیوں نہیں ہوسکتے؟ اگر صرف پروگرام کا انعقاد مجرمانہ عمل ہے، تو متھورا کا مشہور ہولی پروگرام مجرمانہ عمل کیوں نہیں؟ اگر کسی پروگرام میں کسی کرونا مریض کا شریک ہونا جرم ہے، تو کرونا متاثرہ مشہور گیت کار کنیکا کپور کا اپنے پروگرام میں شریک ہونا جرم کیوں نہیں؟ نیز 23 مارچ کو مدھ پردیش میں پرتھوی راج چوہان کی حلف برداری والے پروگرام میں شریک ہونے والے بی جے پی کے سارے نیتا مجرم اور دیش دروہ کیوں نہیں؟ کنیکا کپور کے پروگرام میں شرکت کرنے والی راجستھان کی سابق وزریر اعلی اور بی جے پی نیتا یسوندھرا راج اور اس کا لڑکا دشیانت سنگھ دیش دروہ کیوں نہیں؟ 23 مارچ تک چلنے والے سنسد میں 20 مارچ کو ٹرانسپورٹ، سیاحت اور ثقافت سے متعلق پارلیمانی پینل کی میٹنگ میں دیگر بیس ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ شرکت کرنے والے بی جے پی نیتا دشیانت سنگھ، اور 18 مارچ کو صدر کووند کی دسترخوان پر ناشتہ کرنے والے دشیانت سنگھ اور دیگر سیاست داں، بلکہ خود بھارتی صدر رام ناتھ کووند دیش دروہ کیوں نہیں ہوسکتے؟ ابھی گذشتہ کل کی بات ہے کہ دہلی کے انڈیا گیٹ پر دو لگژری بسوں میں تقریباً دو سو غیر ملکی مسافر گھومتے ہوئے دیکھے گئے، جن کو بعد میں معمولی پوچھ تاچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ اس حوالہ سے جب ایک ریپورٹر نے متعلقہ پولیس افسران سے سوال کیا، تو اس نے یہ کہتے ہوئے وہاں سے اس رپورٹر کو چلتا کردیا، کہ مجھے نہیں پتہ تم ہمارے بڑے آفیسر سے پوچھو۔ سوال یہ ہے کہ ایسے وقت میں ان دو سو لوگوں کے لیے کس نے پاس جاری کیا تھا؟ کیا کیجری وال ان کے خلاف بھی ایف آئی درج کریں گے؟ کیا ہماری وزارت داخلہ ان لوگوں کو بھی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی نوٹس صادر فرمائیں گے؟

درحقیقت ایک زمانے سے ہندوستانی مسلمانوں کی ساخت بگاڑنے کی پوری محنت چل رہی ہے، اب وہی “ میک انڈیا” کا ویژن بن گیا ہے، اور مسلمان ہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ باندھ کر تائید غیبی کے منتظر ہیں۔ اگر دنیا دارالاسباب نہیں ہوتا، تو اللہ ہماری ہدایت کے لیے کبھی لاکھوں انبیاء و رسل مبعثوث نہیں فرماتے، اور اُن پیغمبروں کو کبھی دنیاوی آزمائشوں نہیں گزرنا پڑتا: حضرت نوح کو کشتی نہیں بنانی پڑتی، حضرت ابراہیم کو آگ میں نہیں جھونکا جاتا، حضرت یونس سمندری مچھلی کا لقمہ نہیں بنتے، حضرت یوسف اندھیرے کنوے میں نہیں پھینکے جاتے، حضرت یحیی کا سر آڑیوں سے نہیں کاٹا جاتا، حضرت عیسی کی پھانسی کی سازش نہ رچائی جاتی، اور ہم سب کے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کبھی طائف میں پتھر نہیں کھاتے، اور غزوہ احد میں اپنے دندان شہید نہیں کرواتے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہ دنیاوی نظام ہمیشہ قوموں کی حسنِ تدبیر اور ان کی بقا کی جنگ میں مناسب پیش رفتوں کے اصولوں پر قائم ہوتا ہے۔ ایک بہترین اور مشاق تلوار باز وہی ہوسکتا ہے، جو دفاع کے ساتھ ساتھ اقدام کا بھی ہنر رکھتا ہو۔ جب سے بی جے پی نے اقتدار پر اپنا قبضہ جمایا ہے، مسلسل مسلمانوں کے مسلکی علامات اور شعائر اسلام کی بیخ کنی کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کی ساخت بگاڑنے کی پوری پلانگ ہے، ایسے میں امت کے ہر فرد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ انجام کی پرواہ کیے بغیر ، پوری تدبیر کے ساتھ، اللہ تعالی پر مکمل یقین رکھتے ہوئے اس میدان کی طرف پیش قدمی کریں۔ اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے قانون کو للکاریں، اور بنیادی طور پر وکلا کی ایک ٹیم تشکیل دیں، اور حکومت کی ان ساری رذالتوں کے خلاف کیس فائل کریں۔ ان سارے نیوزچنلز، اور اخبار و رسائل کے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں، جنہوں نے مسلمانوں کی ساخت بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ نیز ان نیوز چنلو ں اور سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرنے والے اینکروں کو بھی عدالت میں گھسیٹیں، اور ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی کئی ہندی اور انگلش نیوز پورٹل والوں نے مولانا سعد کی کہانی کے ساتھ دوسرے مشہور علماؤں کی تصاویر شائع کرکے ان کی کردار کشی کی ہے، اس لیے ان کے خلاف بھی کردار کشی کا معاملہ درج کرائیں، اور یاد رکھیں، اگر آج آپ نے ہمت و جواں مردی نہیں دکھائی، تو آپ مستقبل میں ایک غلام کو جنم دیں گے!!!
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 157 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rameez Ahmad Taquee

Read More Articles by Rameez Ahmad Taquee: 88 Articles with 33042 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: