پی ٹی ایم میں اختلافات ۔؟

(Umer Farooq, )

وہی ہواجواس کام میں ہمیشہ ہوتارہاہے ،نفرت اورتعصب کی بنیادپربننے والی جماعت مفادات کے حصول کے لیے لڑپڑی ،پشتونوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بننے والی جماعت کسی نظریے پرنہیں بنی تھی بلکہ پشتون قوم اورملک کے خلاف ایک بین الاقوامی ایجنڈے کاحصہ تھی ،اس ایجنڈے کے ساتھ آنے والے سرمائے پریہ دست وگریباں ہوگئی ،سوشل میڈیاپردیکھا جاسکتاہے کہ پی ٹی ایم دودھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے ایک دھڑے کی قیادت ممبرقومی اسمبلی محسن داوڑجبکہ دوسرے دھڑے کی قیادت منظورپشتین کررہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ محسن داوڑنے منظورپشتین کوسائڈلائن کردیاہے ،

دونوں گروپ ایک دوسرے پرالزامات عائدکررہے ہیں جس سے حقیقت کھل کرسامنے آرہی ہے کہ کس طرح معصوم پشتونوں کوگمراہ کیاجاتارہا؟کس طرح اس جماعت کی بنیادرکھی گئی اورمختلف واقعات کوعسکری اداروں کے خلاف استعمال کرکے قوم کے جذبات سے کھیلاگیا کس اندازمیں شدت پسندوں کے خلاف پاک فوج کی کاروائیوں کوایک مخصوص قوم کے خلاف قراردے کرزہرپھیلایاگیا ؟معصوم ذہنوں کونفرت آمیزسوالات اٹھاکرورغلایاگیا نوجوانوں کوقوم پرستی کے نام پرگمراہ کیا گیا اوراب یہ واضح ہوگیاہے کہ یہ سب مفادات کی جنگ تھی قوم کی ترقی کاکوئی ایجنڈہ نہیں تھا ۔

قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں عوام کابھی نقصان ہواجس کے ازالے کے لیے شمالی وزیرستان میں "یوتھ آف وزیرستان" کے نام سے مجید داوڑ اور جنوبی وزیرستان میں حیات پریغال کی "محسود تحفظ موومنٹ" سوشل میڈیااورقبائلی کلچرکے مطابق جدوجہدکررہی تھیں مگرنقیب اﷲ محسود کی شہادت کے بعدجب محسود تحفظ موومنت اسلام آبادمیں دھرنادے رہی تھی تومنظورپشتین کے ساتھ مل کر محسن داوڑنے پی ٹی ایم کی بنیادرکھی ،اورایک نیاایجنڈہ تشکیل دیا اس ایجنڈے میں یہ جودہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے کانعرہ سامنے لایا اورریاستی اداروں کے خلاف نفرت آمیزمہم شروع کردی، پورے ملک میں ریاستی اداروں کے خلاف پشتونوں کے حقوق کے نام پرریلیاں جلسے ،جلوس نکالے گئے ،اس نفرت آمیزکی مہم کی وجہ سے وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن متاثرہواجس کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں کہ آئے روزوزیرستان میں شدت پسندوں اورپاک فوج کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں ،
شمالی وزیرستان میں اتوار کے روز ہونے والے سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں9دہشت گردمارے گئے، ایک گرفتارہوا جبکہ پاک فوج کے دو جوانوں کی شہادت ہوئی۔ تلاشی کے دوران جائے وقوعہ سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد ہوا۔ رواں ماہ میں دہشت گردوں کے ساتھ پاک فوج کی جھڑپ کا یہ ساتواں واقعہ ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مشترکہ دشمن کو افغانستان میں ہونے والا مفاہمتی عمل برداشت نہیں ہو رہا۔ 15اپریل کو سوات کے علاقے بانڈی کبل میں سی ٹی ڈی اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مارے گئے تھے جو دیر کے راستے سوات میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ 13اپریل کو شمالی وزیرستان کی تحصیل اسپن وام میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایف سی نائیک ارشد شہید اور سپاہی مسعود زخمی ہوا۔ 10اپریل کو تحصیل میر علی کے علاقہ ذکر خیل میں فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے ہاتھوں سات دہشت گرد مارے گئے جبکہ دو سپاہی نائیک ساجد اور مومن شاہ شہید ہوئے۔ اسی روز ایک اور واقعہ میں میر علی کے علاقے عید میں قائم سیکورٹی فورسز کی چوکی کو رات کے وقت دہشت گردوں نے بارودی مواد سے اڑا دیا جبکہ 7اپریل کو شمالی وزیرستان اور مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران سات دہشت گرد مارے گئے، اسی روز ایک اور واقعہ میں تین دہشت گرد ہلاک ہونے کے ساتھ ان کی پناہ گاہ سے آئی ای ڈیز، انتہا پسند لٹریچر اور بھارتی تیار کردہ ادویات برآمد ہوئیں۔ شواہد بتاتے ہیں کہ ان تمام واقعات کے تانے بانے افغانستان میں سرگرم بھارتی ایجنسیوں سے جا کر ملتے ہیں جہاں سے پی ٹی ایم کوبھی فنڈزملتے ہیں ۔

پی ٹی ایم کے مشران نے ذاتی معیشت کوبہتربنانے کے لیے اینٹی پاکستان اورقوم پرستوں کے پرانے نعروں کوعروج بخشاجس میں لروبرکامقبول نعرہ بھی شامل تھا اورپھر علی وزیر اور محسن داوڑ پی ٹی ایم کے مقبول گھوڑے پر سوار ہوکر اسمبلی جا پہنچے،یہاں بھی ان کی دال نہ گلی توآج سے ٹھیک ایک سال قبل خڑکمرکاواقعہ کروادیا پشتین گروپ اب کھل کریہ کہہ رہاہے کہ علی وزیر اور محسن داوڑ نے خڑ کمر جیسے سنگین جرم کا ارتکاب کیا، لوگوں کو فوج کے آمنے سامنے کروا کر مروایا آج ایک سال بعد دونوں گروپ ایک دوسرے پراس واقعہ کی ذمے داری ڈال رہے ہیں حالانکہ کچھ عرصہ پہلے تک پی ٹی ایم اس واقعہ پرپاک فوج پرالزا م عائدکرتی رہی ہے ،مگرحقیقت کھل کرسامنے آگئی ہے کہ یہ دراصل سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ایک چال تھی جس میں معصوم نوجوانوں کواستعمال کیا گیا ۔

اب محسن داوڑگروپ پی ٹی ایم کومکمل سیاسی پلیٹ فارم بناناچاہتاہے تاکہ وہ سیاسی جماعت کے طورپربیرونی اداروں سے فنڈزاکیلے ہی بٹورسکے جبکہ پشتین گروپ اس کامخالف ہے پشتین کاالزام ہے کہ "محسن داوڑ گروپ" افراسیاب خٹک، بشری گوہر اور لطیف آفریدی جیسے چہروں کو نئی پارلیمانی پی ٹی ایم میں اہم عہدے دینے کی زبان کرچکا ہے۔ محسن داوڑاورعلی وزیراب پشتین سے بالابالامعاملات طے کررہے ہیں افغان صدرکی حلف برداری کی تقریب میں محسن اورعلی وزیرنے شرکت کی جبکہ پشتین کوگھاس نہیں ڈالی گئی ،جس کی وجہ سے پشتین گروپ یہ سمجھ رہاہے کہ منظورکوایک طے شدہ ایجنڈے کے تحت سائڈپرکردیاگیاہے یہی وجہ ہے کہ دونوں گروپوں کے کارکن ایک دوسرے پرشدیدقسم کے الزامات عائدکررہے ہیں یہ محسوس کیاجارہاہے کہ اب یہ ٹوپی ڈرامہ ختم ہونے والاہے ۔

ہم پہلے دن سے یہ کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی ایم کی ریاست مخالف سرگرمیاں اس بات کا عندیہ دے رہی ہیں کہ پی ٹی ایم کے پیچھے ضرور کچھ نادیدہ قوتیں موجود ہیں۔ یہ وہ قوتیں ہیں جو پاکستان کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتیں۔ سی پیک انہیں کھٹکتا ہے اور ریاست پاکستان کی دنیا میں ہر حال میں نفی چاہتی ہیں۔ یہ ہمارا شک نہیں، یقین ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را پی ٹی ایم کی فنڈنگ کر رہی ہے تاکہ پی ٹی ایم ریاست پاکستان اور اس کے دفاع کے سب سے مضبوط ستون فوج کے خلاف کام کر سکے۔ یہ اب حکومت پاکستان اور اسکے متعلقہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھے پی ٹی ایم کن مقاصد کے تحت وجود میں آئی تھی اور اس سے وابستہ افراد کے رابطے کن سے تھے اورہیں اور کہاں کہاں جڑے ہوئے ہیں۔ مقامی سطح پر کون لوگ انکی مدد کرتے ہیں؟

پی ٹی ایم جو کرتی رہی ، اب وہ سب واضح ہورہاہے ریاست اور پاک فوج کیخلاف نفرت کے جو بیج بوئے ، وہ حقیقت سب کے سامنے آچکی ہے۔ منظور پشین، محسن داوڑ، علی وزیر اور گلالئی اسماعیل جیسے لوگ ایک خاص شیطانی سوچ کے ساتھ ہمارے دشمنوں کے آلہ کار بن کر ہماری سلامتی اور یک جہتی کے خلاف جو منظم سازشیں کرتے رہے اور نفرتوں کا بیج بو کر لسانیت کو ہوا دیتے رہے ہیں اس پر ایک بڑے آپریشن کی ضرورت ہے۔دونوں گروپوں نے حقیقت کھول دی ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی دقیقہ فروگزاشت کئے بغیر ان کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے اوربھرپورکاروائی عمل میں لائی جائے ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 104 Articles with 26200 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Apr, 2020 Views: 468

Comments

آپ کی رائے