قدرتی آفات کا شاندار ادارہ دنداں شکن

(Iftikhar Chohdury, )

ڈاکٹر نبیل چودھری
قومیں افراد سے بنتی ہیں یہ مصیبت کے دن بھی گزر جائیں گے لیکن ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے میں قوم سے اپیل کروں گا کہ کرونا سے ڈریں ۔یاد رکھئے یہ وباء نہ گورنر دیکھتی ہے نا سپیکر بلکہ یہ برطانیہ کے وزیر اعظم کو بھی لپیٹ میں لے لیتی ہے اگر دنیا کا امیر ترین بادشاہ کسی جزیرے میں چلا گیا ہے اور اس نے اپنے آپ کو الگ کر لیا ہے تو آپ اور ہم کیا ہیں۔ہمارے ادارے ہمارا وزیر اعظم ہمارا فخر ہے لیکن خدا را ہر ایک کو اپنی جان آپ بچانی ہے این ڈی ایم اے قومی ادارہ برائے قدرتی آفات آپ کے ہاتھ نہیں دھلا سکتا وہ آپ نے خود دھونے ہیں اور اندر رہنا ہیمرکزی سیکرٹری اطلاعات احمد جواد کی اس بات میں بڑا وزن ہے کہ کرونا سے ڈرو شائد وہ کہنا چاہتے ہیں کہ قدرتی آفت سے تو اﷲ سے توبہ کر کے بچا جا سکاتا ہے اس لئے کہ وہ بندے کو آزمائیش میں ڈالتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے لیکن انسان کے اندر بیٹھے شیطان کے اس کرتوت کو سنبھالنا بڑا مشکل ہو رہا ہے خاص طور پر ہم پاکستانی جو کسی بھی مصیبت اور قدرتی آفات کو رضائے الہی سمجھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں کرونا سے ڈرنا نہیں کا چورن بیچنا بند کریں ۔کتوں کے پیر کے پاس کچھ لوگ چلے گئے اور کہا کہ یہ ہمیں کاٹتے ہیں ڈراتے ہیں پیر جی نے کتوں کے نام خط لکھا کہ آئیندہ اھتیاط کریں یہ اپنے بندے ہیں اگلے دن زخمی مرید ان کے پاس پہنچے اور شکوہ کیا کہ ہم نے ان کو آپ کا سفارشی لیٹر بھی دکھایا ہے لیکن دیکھئے پیر جی ہمیں پھر بھی کاٹ لیا گیا ہے پیر نے زخم کا معائینہ کیا اور کہا بے وقوفو یہ ان پڑھ کتے تھے جنہوں نے کاٹا ہے میرا خط پڑھے لکھوں کے لئے ہے۔جس کسی نے یہ وائرس ایجاد کیا یقینا شیطانی سوچ کا عالم ہے لیکن ہمیں طے کر لینا ہے کہ موذی ہے اور اس سے ڈرنا بھی ہے اور بچنا بھی ۔کل ہی راولپنڈی میڈیکل کالج کی نوجوان ڈاکٹر جس نے ابھی ہاؤس جاب کرنا تھا اور کل اس کا پہلا دن ہونا تھا کہ وہ سفیدکوٹ پہن کر مریض کو دیکھنے جاتی اسے کرونا وائرس نے شکنجے میں لے لیا اور صرف دو دن ہسپتال میں رہ کر وہ جان کی بازی ہار گئی ۔دنیا کے بیشتر ممالک میں کرونا نے لوگوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے ۔حکومت اپنے تئیں کوشش میں لگی ہوئی ہے ڈاکٹر پیرا میڈیکل سٹاف اس لڑائی می صف اول کے مجاہد ہیں اس منحوس وائرس کو دنداں شکن جواب دینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ہمیں تو اﷲ کا خاص شکر ادا کرنا چاہئے کہ ہمارے عسکری لوگ اس لڑائی میں قوم کو رہنمائی میسر کر رہے ہیں این ڈی ایم اے ایک ایسا ادارہ ہے جس کی سربراہی جنرل افضل کر رہے ہیں میں سمجھتا ہوں قومی آفات اور اس وائرس کے خلاف فوج کا کردار عظیم ہے ۔یہ لوگ ہمارا حوصلہ ہیں انہی کی وجہ سے پاکستان قائم ہے اور این ڈی ایم اے نے تو کمال کے کام کئے ہیں ۔میں اس اہم اور با کمال ادارے کے بارے میں کالم کے اگلے حصے میں بات کروں گا اس سے پہلے میں چاہوں گا کہ خبریں کے معزز قارئین کو کرونا کے بارے میں آگاہ کر وں ۔ویسے ان سطروں میں خبریں کے کردار کو بھی سراہوں گا کہ پہلے جہاں ظلم وہاں خبریں کا نعرہ تھا اور اب جہاں بھوک وہاں خبریں کے نئے نعرے کے ساتھ یہ ادارہ کام کر رہا ہے۔اس کے لئے جناب ضیاء شاہد امتننان شاہد اچھا کام کر رہے ہیں -

قارئین اس وقت پوری دنیا میں 3204705کیسیز ہیں 227847لوگ اس وباء سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں982818کی جان بخشی ہو گئی ہے اور وہ ٹھیک ہو گئے ہیں آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ یو کے میں دنیا میں سب سے زیادہ اموات والے ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے ۔یاد رکھئے یہ وہ ملک ہے جہاں پورے عالم میں سب سے زیادہ اچھی طبی سہولتیں موجود ہیں اور یہ ملک جمہوریت کی ماں کہلاتا ہے فلاحی اسٹیٹ ہے ۔یہاں کی طبی سہولیات پاکستان کی اشرافیہ کو بہت پسند ہیں اور یہیں ہمارے ملک کے سابق حکمران علاج کی غرض سے ضمانت پر موجود ہیں-

قارئین یہاں یہ بھی بتا دوں کہ جنوبی کوریا دنیا کا واھد ملک ہے جہاں فروری کے بعد سے کوئی کیس رجسٹرڈ نہیں ہوا ۔دنیا کو جنوبی کوریا سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔اصل بات یہ ہے کہ کورین قوم کی معیشت مضبوط تھی اس کی کوٹھی میں دانے تھے اس کے سارے کملے سیانے ہو گئے مکمل لاک ڈاؤں ہوا اور وہ ملک اس وباء کے چنگل سے نکل گیا ہماری صورت حال مختلف ہے ہمیں بھوک ننگ اور افلاس کا سامنا ہے چالیس فی صد کے قریب لوگ خط غربت کے قریب ہیں ۔اگر آپ مکمل لاک ڈاؤن کرتے ہیں تو لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔بائیس کروڑ آبادی جس میں نو کروڑ انتہائی غریب ہیں انہیں کون برداشت کر سکتا ہے چند کلو راشن اور وہ بھی فوٹو کھنچواؤ اور لے جاؤ یہ راشن تو ہفتے کا بھی نہیں اور کون سا سب کو مل رہا ہے۔میں اس ملک کے وزیر اعظم کو سلام پیش کرتا ہوں کہ جس نے اس پورے خطے میں سب سے زیادہ فلاحی اقدامات کئے احساس پروگرام نے اقوام عالم میں وزیر اعظم کی عوام دوستی کے چر چے کر دئے ہیں۔میں پاکستان میں کرونا زدگی کے بارے میں بتاتا چلوں 16817کنفرم کیس ہیں 12117ایکٹو ہیں385افراد موت کے منہ میں چلے گئے ہیں4315لوگ صحتیاب ہو گئے ہیں اب میں بات کروں گا پنجاب کی یہاں کنفرم کیس 6340ہیں4313ایکٹو106لوگ موت کے منہ میں چلے گئے ہیں1921ٹھیک ہو گئے ہیں باقی افسوس ناک بات یہ ہے کہ کے پی کے میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں جہاں146لوگ جان کی بازی ہار گئے ہیں-

افسوس ناک خبر یہ ہے کہ کے پی کے سے تعلق رکھنے والے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ان کے دو بچے اور سندھ سے گورنر سندھ عمران اسمعیل بھی اس وائرس کا شکار ہو گئے ہیں ۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ سندھ میں عمران اسمعیل کی بیماری کو پیپلز پارٹی نے سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔لوک لوکواں نال بوری کندھاں نال یعنی لوگ لوگوں سے معاملات کرتے ہیں اور چھپکلی دیواروں کے گلے ملتی ہے
پہلے کرونا شیعہ تھا تبلیغی تھا کھوڑو نے اسے سندھی مہاجر بنا دیا ہے

ہمیں ایک کرونا نہیں کئی اس قسم کے کرونوں کا سامنا ہے عمران خان کرے کیا ۔پنجاب میں اﷲ کا کرم ہے خاموش وزیر اعلی نے اس بیماری اور اس وباء کے دوران ایک ہفتے میں پنجاب کے سترہ اضلاع کا دورہ کیا ادھر ان کی ٹیم میں سینٹر فارورڈ علیم خان آئے ہیں انہیں ہاکی کا کلیم اﷲ سمجھئے اب یہ دونوں مل کر گیند اپنے پاس ہی رکھیں گے اور گول کر دیں گے ان کی ٹیم کی رننگ کمنٹری فیاض چوہان کے ہاتھ ہے اور ان کی ٹیم میں انجینئر افتخار مسرت جمشید چیمہ عضمی کاردار سعدیہ سہی سیمابیہ ستی محمد مدنی چودھری کامران حمید گل اور دیگر ترجمان شامل ہیں جو الیکٹرانک پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں

میں نے این ڈی ایم اے کے بارے میں کہا تھا کہ مصیبت کے ان دنوں میں جنرل افضل کی ٹیم نے لاجواب کردار ادا کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ اب اﷲ کے کرم سے پاکستان خود حفاظتی کٹیں بنا رہا ہے ادھر فواد چودھری کی وزارت نے کام دکھانے شروع کئے ہیں انجینئرز نے اور ٹیکنالوجسٹ نے ایک اچھا کام یہ کیا کہ ایک ہزار سے زائد وینٹی لیٹرز ٹھیک کر دئے ہیں

این ڈی ایم اے کی قیادت سول انجینئر جنرل افضل کر رہے ہیں جنہوں نے پینتیس سال فوج کو دئے اور اس دوران اہم ذمہ داریاں نبھائیں ادارہ قدرتی آفات موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاری کا ریسکیو 1122ہے پاکستان کو جن اداروں پر فخر ہے اس میں این ڈی ایم اے بھی شامل ہے جنرل افضل ستارہ امتیاز کے زیر نگرانی اس ادارے جہاں سیلاب زلزلے میں لاجواب کام کیا کرونا آفت کے دوران 21اپریل2020کو ملک بھر کے ہسپتالوں کو حفاظتی سامان روانہ کیا ۔وباء کے دنوں میں آپ کے فرنٹ لائین سپاہی ڈاکٹر اور پیرا میدڈیکل سٹاف ہے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ سیاچین پر لڑنے والا فوجی ملیشیئے کی شلوار قمیض میں زندہ رہ لے گا وہ نا ممکن ہے اس کو وہاں کے موسم کے لحاظ سے وردی مہیا کی جاتی ہے آکسیجن سے لے کر منفی پچاس سینٹی گریڈ پر سانس لینے سے لے کر مناسب لباس تک مہیا کیا جاتا ہے یہ کام جنرل افضل اور ان کی ٹیم نے ہنگامی بنیادوں پر کیا وہ وزیر اعظم عمران خان کے بہترین معاون ثابت ہوئے چائینہ کی مدد بھی کی اور چائینہ سے مدد بھی لی وہ لوگ جو عمران خان پر تنقید کرتے نہیں تھکتے تھے انہیں جنرل افضل کی پریس کانفرنس میں درست جواب مل جاتے ہیں۔ہماری فوج ہمارا فخر یہ سلوگن تو ہے ہی مگر آفت کے ان دنوں میں اینڈڈی ایم اے فوج کو فخر بن کے سامنے آیا ہے ۔صوبہ سندھ کے لئے پ تین لاکھ ماسک
نو ہزار این فائیو ماسک اور مناسب تعداد میں حفاظتی کٹیں دی گئیں
پنجاب کے پی کے آزاد کشمیر گلگت بلتستان میں پہلے ہی سامان بھیج دیا گیا تھا ۔( پی ٹی آئی کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات اور مشہور ٹویٹریسٹ ہیں)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 408 Articles with 167294 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
02 May, 2020 Views: 264

Comments

آپ کی رائے