کرونا اور سرمایہ داری نظام

(Sami Ullah Malik, )

دنیابھرمیں کوروناکے مصدقہ مریضوں کی تعداد33 لاکھ 86ہزارسے تجاوزکرگئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداددولاکھ 41 ہزارسے زیادہ ہے۔ امریکامیں کورونامتاثرین کی تعداد11لاکھ سے زائدہے جبکہ روس میں ایک دن میں متاثرین کی تعداد میں ریکارڈاضافہ دیکھنے میں آیاہے۔امریکامیں کوروناوائرس سے اب تک 65000ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں لیکن کچھ ماہرین کاخیال ہے کہ اصل تعداداس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔بیماریوں سے بچاؤاوراحتیاط سے متعلق ادارے کی جانب سے جاری اعداد و شمارکے مطابق سات سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں میں آٹھ مارچ سے 11اپریل کے دوران ہونے والی ہلاکتیں عام حالات میں ہونے والی ہلاکتوں سے50فیصدزیادہ ہیں۔محققین کے مطابق کم ازکم 9000مزیدہلاکتیں ایسی ہیں جوممکنہ طورپراس وائرس کے باعث ہوئی ہیں۔امریکامیں اس وقت دنیامیں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن آبادی کے تناسب سے کچھ یورپی ممالک سے کم ہیں۔

فرانس میں ہلاکتوں کی تعدادبتدریج کم ہورہی ہے۔پچھلے دودنوں سے ہسپتالوں اورکیئرسنٹرزمیں مزید166افرادجان کی بازی ہار گئے۔فرانس میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد24760ہوگئی ہےتاہم دودنوں کی نسبت 218ہلاکتوں کے مقابلے میں آج تعداد کم ہے۔ اب بھی26000لوگ کورونا کے باعث ہسپتالوں میں ہیں تاہم دوہفتوں سے فرانس میں یہ تعدادکم ہورہی ہے۔دودن قبل فرانس نے طبی ہنگامی حالت میں مزیددوماہ کااضافہ کیاتھا تاہم ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں 11مئی سے نرمی کااعلان کردیاگیاہے۔
کوروناوائرس کے ہاتھوں جہاں دنیابھرکی معیشتوں کیلئےالجھنیں پیداہوئی ہیں وہیں یورپ کیلئےاچھاخاصابڑاخطرناک بحران کھڑا ہوچکاہے۔اٹلی اوراسپین کی معیشت کوروناوائرس سے شدیدمتاثرہوئی ہے۔یورپ کی معاشی سرگرمیوں اورمالیات کی سطح پر پہلے ہی اچھی خاصی پیچیدگیاں پائی جاتی تھیں، کورونا کے بحران نے معاملات کومزیدالجھادیاہے۔یورپی سربراہانِ مملکت و حکومت نے اس وباکے دوران کئی بارملاقاتیں کی ہیں تاکہ معاملات کودرست کرنے کی سمت بڑھاجاسکے۔کوئی بڑاپیکیج تیار کرنااب تک ممکن نہیں ہوسکا۔یہ وقت سوچنے سے کہیں زیادہ عمل کاہے۔ دیگریورپی ریاستیں بھی خرابی کی زَدمیں آئی ہیں تاہم وہاں معاشی ڈھانچاکسی نہ کسی طورکام کرنے کی حالت میں ہے۔اٹلی اوراسپین کامعاملہ یہ ہے کہ لوگوں کاریاستی نظام پراعتماد خطرناک حد تک گرچکاہے۔ان ممالک سمیت کمزوریورپی ریاستوں کیلئےمعاشی اقدامات سے متعلق جوتجاویزاب تک سامنے آئی ہیں مضبوط ترین یورپی ریاستوں (جرمنی،آسٹریا،نیدرلینڈاورفِن لینڈ)نے اُن کی مخالفت کی ہے۔ بات سیدھی سی ہے، کوئی بھی ریاست کسی کوبہت زیادہ رعایت دینے کیلئےتیارنہیں۔ اٹلی،اسپین اوردیگرمتاثرہ ریاستوں کیلئےکوئی قابلِ عمل منصوبہ تیارکرنے کیلئے10اپریل کی حتمی تاریخ مقررکی گئی جس میں ایک ایساحل تجویزکرناتھا جو کمزورریاستوں کی ضرورتوں کوپورااور مضبوط ریاستوں کے خدشات دورکرسکے تاہم ابھی تک اس میں کامیابی نہیں ہو سکی

یورپی سربراہ اجلاسوں میں سربراہانِ مملکت وحکومت نے جن امورپربحث کی،اُن میں کمزورممالک کے مفادات کاتحفظ یقینی بنانے پرزیادہ زوردیاگیا۔ چندکمزورممالک نے یوروبونڈجاری کرنے کی بات کی تاکہ بین الریاستی قرضوں کابھگتان آسان ہوجائے۔ یوروبونڈکے آپشن پرکئی سال سے بحث وتمحیص ہوتی آئی ہے۔یوروبونڈکے اجراکی تجویزکی یورپ کے کمزور ممالک نے ہمیشہ مخالفت کی ہے۔

جرمنی نے یوروپین اسٹیبلٹی میکینزم(ای ایس ایم)کی حمایت کی ہے،تاہم اس حوالے سے چندایک تحفظات بھی ظاہرکیے ہیں ۔ غیرمعمولی قرضوں کا بوجھ کم کرنے کیلئےلایاجانے والایہ میکینزم کمزورممالک نے موجودہ شرائط کے ساتھ مستردکردیاہے۔ اس میکینزم کی ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ جن ممالک کوقرضے دیے جائیں گے،اُنہیں میکرواکنامک اوراسٹرکچرل سطح پر چند ایک اصلاحات متعارف کراناپڑیں گی۔

کوروناکے ہاتھوں پیداہونے والی صورتِ حال کاسامناکرنے اورکمزورریاستوں کوتھوڑی بہت تقویت بہم پہنچانے کی غرض سے یوروپین سینٹرل بینک (ای سی بی)نے سیالیت میں تھوڑااضافہ کیاہے۔اب گیند یورپی سربراہانِ مملکت وحکومت کے کورٹ میں ہے۔انہیں ایسامنصوبہ تیارکرناہے،جوای سی بی کیلئےقابلِ قبول ہو۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیاکوئی ایسا منصوبہ تیارکیاجاسکتاہے جوطاقتور اور کمزور ریاستوں کیلئےیکساں طور پر قابل قبول ہو؟

یورپ کی تمام طاقتورریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ اٹلی اوراسپین سمیت تمام کمزورریاستوں کی مددکیلئےآگے آئیں۔لازم ہے کہ آسان شرائط پرایسے قرضے جاری کیے جائیں جوطویل المیعادہوں یعنی فوری طورپراداکرنے کابوجھ بھی متعلقہ ریاستوں پرنہ ہو۔کوروناوباکاسامناکرنے میں مشکلات جھیلنے والی ریاستوں کودیکھناہوگاکہ زیادہ سے زیادہ قرضے کس طوردیے جاسکتے ہیں۔دوسرے یہ کہ کمزورریاستوں کوتمام قرضے صفرشرحِ سودپریاپھربہت ہی کم شرحِ سودپردیے جائیں اورتیسرے یہ کہ ای ایس ایم کی فنڈنگ میں(جواس وقت410/ارب ڈالرہے)اضافہ کیاجائے تاکہ زیادہ سے زیادہ کمزور ممالک کوبڑے پیکیج دیے جا سکیں۔قرضے دینے کی صلاحیت میں فوری اضافہ ناگزیر ہے۔ای سی بی کواس حوالے سے کلیدی کرداراداکرناہے۔اگرای ایس ایم اورای سی بی میں ہم آہنگی پیداہوگئی تودرمیانی مدت کے قرضے قابلِ برداشت ہوں گے۔ شدیدمتاثرہ ممالک کواُن کی جی ڈی پی(خام قومی پیداوار) کے8فیصدکے مساوی بلاسودیابہت کم شرحِ سودوالاقرضہ دیاجائے توبہتری کی امیدکی جا سکتی ہے۔ایسے تمام قرضوں کی واپسی کی میعاد15سال تک ہونی چاہیے۔اٹلی اوراسپین پرخاص توجہ مرکوزکرناہوگی۔

مارکیٹس میں بھرپوراعتمادبحال کرنے کی ضرورت ہے۔اگریہ عمل اپنے طورپرہونے دیا گیاتوبہت وقت لگے گا۔ لازم ہے کہ ای ایس ایم اورای سی بی مل کرکوئی میکینزم تیارکریں تاکہ کوروناکے ہاتھوں لاغر ہوجانے والی معیشتوں کودوبارہ اپنے پیروں پر کھڑاہونے کے قابل بنایاجاسکے۔ای سی بی آؤٹ رائٹ مانیٹری ٹرانزیکشنز(اوایم ٹی) قرضوں کے نظام کوآسان بناسکتے ہیں

یورپ کوغیرمعمولی معاشی بحران سے نکالنے کیلئےجرأت مندانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ برائے نام شرحِ سود کے ساتھ بڑے قرضوں کااجراآسان بنانے کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے ای سی بی کی عمل پسندی مطلوبہ نتائج کاحصول یقینی بنانے میں کلیدی کرداراداکرے گی۔یہ سب کچھ تیزی سے اورکسی بڑی غلطی کے بغیرہوناچاہیے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 455 Articles with 139870 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 May, 2020 Views: 192

Comments

آپ کی رائے