مہاراشٹر کا سیاسی دنگل

(Dr Salim Khan, India)

کورونا کی وباء کے پھیلاو پر نظر رکھنے والے ماہرین کو خدشہ تھا کہ جمعہ (۱۵مئی) کو اس معاملے میں ہندوستان چین سے آگے نکل جائے گا۔ یہ پیشنگوئی سچ ہوئی ۔ملک بھر میں سب سے برا حال مہاراشٹر کا ہے جہاں متاثرین کی تعداد 41,642 ہو چکی ہے اور 1454لوگ لقمہٗ اجل بن چکے ہیں ۔ ہندوستان کی معاشی راجدھانی ممبئی میں مریضوں کی تعداد پچیس ہزار تک پہنچ چکی ہے جبکہ پونے پانچ ہزار کی حد سے آگے جاچکا ہے۔ اسی لیے سرکار نے پورے صوبے میں 31 مئی تک لاک ڈاون کی توسیع کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اعدادو شمار اس لیے پیش کیے گئے تاکہ ملک اور صوبہ مہاراشٹر میں حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکے اور اس صورتحال میں بھی جو لوگ سیاست کھیل رہے ہیں ان کی ناپاک ذہنیت سے بھی واقفیت ہوجائے ۔

اس نازک صورتحال میں بی جے پی حکومت سے تعاون کرنے کے بجائے جمعہ ۲۲مئی کو پورے صوبے میں سیاہ لباس پہن کر تالی اور تھالی پیٹ کر مظاہرے کررہی ہے۔ جمعرات کو سابق وزیر اعلیٰ نے عوام سے کہا تھا کہ وہ کالے لپڑے پہن کر ادھو سرکار کے خلاف اپنے گھر کی گیلری میں احتجاج کریں کیونکہ وہ کورونا کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ ناگپور میں مظاہرین کو اتنا جوش آیا کہ انہوں نے ہنومان چالیسا پڑھنا شروع کردیا ۔ اس احتجاج میں ارکان پارلیمان اور اسمبلی بھی شامل تھے ۔ ممبئی میں تختی لے کر کھڑے ہونے والوں میں صوبائی صدر چندر کانت پاٹل اورونود تاوڑے دیویندر فردنویس کے ساتھ دکھائی دیئے۔ شیوسینا کے ترجمان منیشا پاینڈے نے اس مظاہرے کو مذاق قرار دے کر اس پر تنقید کی۔ کانگریس کے صوبائی صدر بالا صاحب تھورات نے اسے صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔ اس مظاہرے کا ایک سیاسی پس منظر ہے۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے مہا وکاس اگھاڑی کے رہنما کی حیثیت سے 28 نومبر (2019)کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا تھا۔ اس وقت وہ کسی بھی ایوان کے رکن نہیں تھے۔ان کے لیے اقتدار پر بنے رہنے کے لئے 27 مئی تک مجلس قانون ساز کا رکن منتخب ہونا ضروری تھا۔ اس بیچ کورونا کی وباء کے سبب قانون ساز اسمبلی کے ضمنی انتخابابت کا انتخاب ناممکن ہوگیا ورنہ وہ اپنی مقبولیت کے سبب ممبئی کے کسی بھی احلقۂ انتخاب سے بڑی آسانی کے ساتھ الیکشن جیت جاتے۔ اس بیچ ریاست کے ایوان بالا میں 9 خالی نشستیں خالی ہوئیں جن پر قانون ساز اسمبلی کے 288 ممبران پر مشتمل انتخابی کالج کے ذریعے رائے شماریہونی تھی۔ اس پر صرف ۹ امیدواروں کے باقی بچنے کے باعث 59 سالہ شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے پہلی بار قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہو گئے ۔ان نازک حالات میں ان کا بلامقابلہ منتخب ہوجانا ریاست کے لیے اچھا شگون ہے۔

ریاستی الیکشن کمیشن کےمطابق ادھو ٹھاکرے کے علاوہ شیوسیناکی نیلم گورے ، بی جے پی سے رنجیت سنگھ موہتے پاٹل ،گوپی چند پڈلکر، پروین ڈاٹکے اور رمیش کراڈ بھی الیکشن جیت گئے۔ مہا وکاس اگھاڑی میں شامل این سی پی سے ششی کانت شندے اور امول مٹکاری جبکہ کانگریسکے راجیش راٹھوڑ بھی کونسل کے لئے منتخب ہوگئے۔ جمعرات (14مئی) کو کونسل کی امیدواری سے نام واپس لینے کا آخری دن تھا ۔ کونسل کی۹؍ سیٹوں کیلئے۱۴؍ امیدواروں نےدرخواست داخل کی تھی لیکن بی جے پیکے سندیپ لیلے اور اجیت گوپچاڑے کے علاوہ این سی پیکے کرن پاوسکر اور شیواجی رائو گرجے نے بھی اپنا نام واپس لے لیا تھا نیز آزاد امیدوارشہباز راٹھوڑ کے کاغذات کو جانچ کے بعد نا اہل قرار دیا گیا ۔ اس طرح جتنی نشستیں تھیں اتنے ہی امیدوار بھی تھے اس لیے الیکشن کی ضرورت ہی ختم ہوگئی ۔ انتخاب کی حاجت تو اس وقت ہوتی ہے جب ایک انار اور سوبیمار ہوں یا تو سب کے صحتمند لوگ تھے۔

ادھو ٹھاکرے کی کاغذاتِ نامزدگی کے وقت مہا وکاس آگھاڑی میں شامل راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار، ریاستی کانگریس کے صدر اوروزیرِ محصول بالاصاحب تھوراٹ کی موجودگی نے میڈیا میں جاری ساری اختلاف کی افواہوں کا خاتمہ کردیا تھا۔ اس موقع پر کہ شیو سینا کے رکن پارلیمان سنجے راوت نے کہا تھا کہ ایم ایل سی کی 9 نشستوں پر انتخابات بلا مقابلہ ہوں گے کیونکہ کانگریس کی قیادتنے کووڈ- 19 کے پیش نظراپنے امیدوار راج کشور عرف پاپا مودیکا نام واپس لے لیا ہے ۔ اس طرح مہاراشٹرا میں کورونا کی وباء کے دوران ایک جعلی سیاسی بحران پیدا کرنے کی مذموم کوشش کا قلع قمع ہوگیا ۔

مہاراشٹرمیں سیاسی بحران کے ٹل جانے سے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فردنویس کے علاوہ ہر کوئی خوش ہے ۔ وہ بیچارے دن رات شیخ چلی کی مانند محوِخواب رہتے ہیں ۔ بلی کے خواب میں جس طرح چھیچھڑے دکھائی دیتے ہیں اسی طرح ان کے سپنوں میں وزارت اعلیٰ کی کرسی رقص کرتی رہتی ہے۔ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعدوہ ایک طویل سیاسی کوما میں چلے گئے تھے ۔ پالگھر کے سانحہ نے انہیں بیدار کیا تو پتہ چلا کہ جلد ہی ادھو ٹھاکرے کو دستیاب ۶ ماہ کی مدت ختم ہونے والی ہے ۔ کورونا کے سبب قانون ساز کاونسل کے انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے اس لیے انہوں نے سوچا کیوں نہ ماحول خراب کرکے ادھو سرکار گرادی جائے۔ اس کے بعد جوڑ توڑ کرکے شیوراج کی طرح اپنا اقتدار قائم کرلیا جائے ۔ بس پھر کیا تھا باسی کڑھی میں میں ابال آنے لگا اور وہ متحرک ہوگئے ۔
اس دوران حکومتِ مہاراشٹر نے گورنر کے کوٹے میں ادھو ٹھاکرے کو فوٹو گرافر کے طور پر نامزد کرنے کی درخواست کردی لیکن فردنویس نے گورنر پر دباو بنا کر اسے رکوا دیا۔ اس بابت جب ادھو ٹھاکرے نے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کی تو انہوں نے وزیر اعظم سے بات کرنے کے لیے کہا ۔ اس طرح مودی اور ادھو کے درمیان قانون ساز کاونسل کی ایک سیٹ پر سودہ طے ہوگیا اور دیویندر فردنویس کے دل کے ارماں پھر ایک بار آنسووں بہہ گئے۔کونسل کےانتخابی اکھاڑے میں اندر کانگریس کےاضافی امیدوار پاپا مودی کی موجودگی نے فردنویس اور ان کے حواریوں کو پھر سے مونگیری لال کے حسین سپنوں میں پہنچا دیا لیکن وہ خواب بھی بہت جلد ٹوٹ کر بکھر گیا ۔

دیویندر فردنویس اگر انتخاب کے بعد ادیتیہ ٹھاکرے کو نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ سونپ دیتے تو آج مہاراشٹر کا اقتدار ان کے قدموں میں ہوتا لیکن انہوں نے اپنے حلیف شیو سینا کے پیٹھ میں چھرا گھونپ کر اپنے حریف اجیت پوار کو نائب وزیراعلیٰ کا حلف دلایا۔ اجیت پوار بڑی چالاکی سے دیویندر فردنویس کو ڈبل کراس کرکے ادھو سے جاملے اور اب نائب وزیر اعلیٰ ہیں۔ ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا الٹا بدعنوانی کے مقدمات سے نجات مل گئی لیکن فرد نویس کا ایک تو اقتدار گیا اوپر سے رسوائی ہاتھ لگی ۔ اس کے باوجود رسی جل گئی بل نہیں گئے کی مصداق انہوں نے سبق نہیں سیکھا۔ وہ ہنوز خودساختہ تباہی کے راستے پر گامزن ہیں ۔ ویسے دیویندر فردنویس کا طریقۂ کار بھارتیہ جنتا پارٹی کی پرمپرا (روایت) کے عین مطابق ہے۔ اس پارٹی میں ہر رہنما اپنے پیش رو کو دھوکہ دے کر اپنی من مانی کرتا ہے۔ فردنویس کا تعلق چونکہ سنگھ کے گہوارےناگپور سے ہے اوروہیں تربیت پائی ہےاس لیے امید تھی کہ وہ نظم و ضبط کا پاس و لحاظ کریں گے اور اپنے ذاتی مفاد کو نظریہ اور جماعت پرقربان کردیں گے لیکن وہ توایک کانگریسی جیسی اطاعت شعاری کا مظاہرہ بھی نہیں کرسکے اور سنگھ پریوار کے ڈھو ل کا پول بھرے بازار میں کھول دیا ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1242 Articles with 457840 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 May, 2020 Views: 248

Comments

آپ کی رائے