کراچی کا سفر دوسری قسط

(NoorinShafa, Gilgit)

سفر کےابتداء میں ہی میرے نزدیک کافی اہم اور بری خبر میرے تاک میں بیٹھی تھی اور وہ خبر یہ کہ میرے حصے میں کھڑکی کے ساتھ والی کرسی نہیں بلکہ باہر کی طرف موجودہ کرسی آئی تھی کیونکہ اندر کی طرف چچا حضرت کی ساس نے براجمان ہونا تھا باقی کے میاں بیوی اپنے الگ کرسیوں پہ تشریف فرماں تھے ۔ چچا صاحب کے مزاج کے بارے میں جو اندازہ لگایہ اس کے مطابق وہ کافی خاموش طبیعت کے معلوم ہوئے مگر چچا کے برعکس چاچی صاحبہ کے چہرے پہ ہر سو پھیلی سنجیدگی سے یہ بھی اندازہ لگا لیاں کہ چچا کے اس خاموشی کے پیچھے یقینن ان کی سمجھداری اور دور اندیشی شامل ہوگی ۔باقی بچی دادی یعنی کہ چچا حضرت کی ساس تو اڑّے کی طرف روانگی سے چند منٹ پہلے امّی نے میری بزرگ شریک سفر سے متعلق اپنے مثبت رائے کا اظہار کرکے میری کافی حوصلہ افزائی کی تھی ۔ بقول امی کے میری بزرگ ہمسفر کافی خوش اخلاق،مجھ سے زیادہ پھرتیلی اور کافی شوقین مزاج خاتون ہے لہازہ وہ مجھے سفر کے دوران بوریت اور اجنبیت کا احساس ہونے نہیں دیگی اور حقیقت میں امّی نے اپنے باتوں کے زریعے میرے زہن میں دادی کی جو تصویر کھینچی تھی ،دادی اس تصویر پہ پورا اترتی تھی اور اس بات کا اندازہ مجھے کراچی پہنچنے کے بعد ہوا ۔

کراچی پہنچنے کے بعد میں نے اصل دادی کو دیکھا جب ان کےبدن سے تھکن اور سفر سے حاصل کردہ سختیوں کے تمام آثار ختم ہو چکے تھے ۔ سفر کے اختتام کے ایک دن بعد ہی خوش اخلاقی ، پھرتیلا پن اور شوقین مزاجی نے ان کے اندر اپنے اہدے دوبارہ سے سمبھال لیئے تھے ۔دادی عائے دن پھپّھو کے گھر حاضری دیتی اور اپنے دلچسپ انداز اور مزاہیہ باتوں سے ایسا ماحول گرم کرتی کہ سب کے قہقہے چوٹ جاتے ۔ کہی ساتھ جانے کا اتفاق ہوتا تو ہم آج کے دور کے نازک مزاج نوجوانوں کو کئ قدم پیچھے چھوڑ جاتی ۔ باقی اگر سفر کے دوران ان کے روّیے کی بات کروں تو سفر اور وہ بھی خاصا لمبا اور دشوار گزار سفر تو اچھے سے اچھے نوجوان کے خوش اخلاقی اور پھرتیلے پن کے غبارے میں سے ہوا نکال لیتی ہے ۔یہ تو ٹھری عمر رسیدہ خاتون ۔ بچاری دادی کا سر ان سے بے قابوں ہو کر کچی نیند میں لڑکتے ہوئے بار بار میرے کندھے پہ آن گرتا اور میں اخلاقیات کے ہاتھوں چاہتے ہوئے بھی اپنے کندھے کو ہلکا سا بھی جنبش دینے سے قاصر رہتی ۔ دو دنوں کے مسلسل بائي روڑ سفر نے بیچاری دادی کے خوش مزاجی اور پھرتیلے پن پہ سفر کے اختتام تک مہر لگا کر دادی کو اس مریضہ کے روپ میں بدل دیا تھا جسے کئی اہم بیماریاں لاحق ہو اور جو دو تین جملے بھی سہی سے ادا کرنے سے قاصر ہو ۔ بائی روڑ مسلسل دو دنوں کی مسافت اچھے خاصے نوجوان کی حالت پتلی کردیتی ہے جیسے میری ہوگئی تھی ۔ کرسیاں آپس میں ایسی تنگ تھی کہ پیروں کو زرا سا پھیلاکر سکون حاصل کرنے کی گنجاۂش نہ تھی ۔ گو کہ بس دو دو تین تین گھنٹے بعد روک لی جاتی تھی اور مسافروں کو چند منٹوں کے لئے بس کے قید سے رہائی مل ہی جاتی مگر اس کے باوجود دو تین گھنٹوں تک گھٹنوں کو ایک ہی حالت میں رکھنے کی وجہ سے درد شروع ہوتا اور بڑھتے بڑھتے اس حد تک بڑھ جاتا کہ پھر دو تین گھنٹے گزر جاتے اور بس دوبارہ روک لی جاتی ۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: NoorinShafa

Read More Articles by NoorinShafa: 19 Articles with 6270 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jun, 2020 Views: 305

Comments

آپ کی رائے