کراچی کا سفر پہلا حصہ

(Noorinshafa, gilgit)

اپنی اب تک کی زندگی میں پہلی بار کراچی جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ سفر تو تھا خا لمبا مگرچاہے سفرجتنا بھی طویل کیوں نہ ہو،میں تو تھی ہی شروع سے سفر کی شوقین۔ جب بھی کبھی ابو عید یا کسی اور خاص موقع پہ گاوں لیجانے کا فیصلہ سناتے ،تب بھی گاؤں پہنچنے سے زیادہ رستے کے بارے میں سوچکے خوشی ہوتی۔ خیر کیونکہ کراچی رہا پاکستان کے اس کونے میں اور گلگت رہا اس کونے میں تو سفر تو تھا دو دنوں پہ مشتمل خاصا لمبا لیکن سفر کی شوقین ہونے کی وجہ سے اس دو دنوں کی طویل اور مسلسل طے کرنے والی مسافت اوراس سے جڑی سختیوں کو زیادہ سر پہ سوار ہونے نہیں دیا مگر جب ابو نے چھٹیوں پہ اچانک کراچی بھیجنے کی نوید سنادی توسب سے پہلا مسلۂ ہی یہی پیدا ہوا کہ جاؤں کن کے ساتھ ۔ گھر پہ ابؤ یا بھائی اتنے فارغ تو تھے نہیں کہ مجھے کراچی پہنچا کر میرے ساتھ دو مہینے پھوپھی کے گھرشغل کرنے ٹھہرتے مگر خیر ابؤ نے کہی نہ کہی سے قریبی جاننے والے رشتہ دار نکال ہی لیئے جو کہ اتفاق سے انہی دنوں کراچی جانے کے لیۓ اپنا رختے سفر باندھ چکے تھے ۔ ان رشتہ داروں میں ایک مرد جو کہ رشتے میں میرے چچا بنتے تھے،ساتھ ان کی زوجا اوران دونوں کے ساتھ چچاحضرت کی ساس بھی شریکۓ سفر تھی اور اب ان تینوں کے ساتھ میرا بھی اضافہ ہو گیا تھا ۔ جن دنوں کراچی جانے کا فیصلہ کیا سردیوں کے طعطیلات چل رہے تھے ۔ گلگت کے دسمبر کی یخ سردی سے بچنے کا یہ ویسے بھی اچھا راستہ تھا کہ میں اپنا بوریا بستر باندھ کر کراچی کی طرف روانہ ہوجاتی ۔ابؤ نے ہمسفر کے طور پر جب رشتہ داروں کا انتظام کر ہی لیا تو یہ سب سے اہم مسلہ بھی ہل ہو گیا تھا۔ یہ رشتہ دارتھے تو ہمارے قریب کے مگرکبھی ملنے کا اور تھوڑا بہت بھی جاننے کا اتفاق نہیں رہا تھا ۔

خیر جب یہ اہم مسلۂ ہل ہوا توچٹ ٹکٹ کٹایا اور پٹ سے روانگی کی تاریخ بھی آگئ ۔ موسم تو تھا سردیوں کا اور مہینہ بھی کڑکتی ٹھنڈ پہ مبنی دسمبر کا مگر اس کے باوجود کراچی کی گرمی جو اس مہینے میں بھی ہم جیسے برفانی علاقے سے تعلق رکھنے والوں کو جون جلائی کی گرمی کی یاد دلاتی تھی ،اپنے سارے کاٹن اور لون کے سوٹ سمیٹکر ابؤ اوربھائی کے ہمراہ اڑّے کی طرف روانہ ہوئی ۔ اڑےّ پہنچنے تک پورا رستہ اپنے انجان رشتہ داروں جو کہ میرے اتنے لمبے سفر کے ساتھی تھے جاننے کے لیئے تجسس میں اضافہ ہوتا رہا ۔ نجانے کیسے لوگ ہونگے ، کیسے مزاج ہونگے ۔ چلواگر کچھ گنٹوں کے سفر کی بات ہوتی تو جیسے تیسے گزارہ کر لیتی چاہے جس قسم کے بھی مزاج سے تعلق رکھتے ہو مگر سفر وہ بھی مسلسل دو دنوں کا ، پریشانی تو حق بجا تھی ۔سفر چاہے جتنا بھی طویل کیوں نہ ہو اگر ہم سفر ہم خیال اور ہم مزاج ہو تو سفر کی سختیوں میں کافی حد تک کمی محسوس ہونے لگتی ہے اوراگر سفر کی تلخیاں اپنا اثر دکھا بھی دے تب بھی اپنے ہم خیال شریک سفر کے ساتھ ان تلخیوں کو بانٹ کر بدلے میں کچھ زیادہ نہ سہی تو تھوڑے بہت بھی زبانی کلامی تسلیوں پر مبنی جملے حاصل کرکے اپنے سفر کی تکلیفوں پہ مرہم کا کام کر لیتے ہیں ۔بلآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئی اور وہ لمحہ آگیا جب میں نے اپنے رشتہ داروں کا دیدار کر لیا ۔ اب پہلی ہی نظر میں فیصلہ کرنے سے رہی کہ ان کے ساتھ اس طویل مسافت کا کیسا تجربہ حاصل ہوگامگر اس کے باوجود شروع کی سرسری ملاقات سے کوئی مثبت خیال زہن میں نہ آیا مگر جو بھی تھا کوئی دوسرا اختیار تو پاس تھا نہیں چاہے مثبت خیال آتے یا پھر منفی سفر تو انہی کے ساتھ ہی طے کرنا پایا تھا۔

اڈّے پہنچنے تک بس کی روانگی کا وقت آن پہنچا تھا تو زیادہ انتظار کرنے کی نوبت نہ آئی۔ رشتہ داروں سے توڑی بہت تعارف کے بعد بسم اللہ پڑھ کر اس امید کے ساتھ کے دو دنوں کا سفر خیر و عافیت اور اچھے تجربے کے ساتھ اختتام پزیر ہو دایاں قدم بس ميں رکھ کر اپنے سفر کا آغاز کر دیا۔ لیکن یہ کیا؟؟؟
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noorinshafa

Read More Articles by Noorinshafa: 19 Articles with 7577 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 May, 2020 Views: 524

Comments

آپ کی رائے