کورونا: ’کورونا وائرس کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا ‘ (قسط ۔ 17)

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

کورونا: ’کورونا وائرس کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا ‘ (قسط ۔ 17)
ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

گزشتہ تین دنوں میں کوروناوائرس میں جو تیزی آئی ا س کے نتیجے میں پہلے دن68,، دوسرے دن80، اور تیسرے دن یعنی کل 60اموات ہوئیں ۔ پاکستان میں کل مریضوں کی تعداد72460 جب کہ کل اموات کی تعداد1543 ہوچکی ہے ۔ کل یعنی پیر یکم جون 2020 کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں جو فیصلہ ہوا اس کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ ’چند شعبوں کے سوا باقی سب کھول دیں گے، کوروناوائرس کہی نہیں جارہا ، قوم کو اس کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا، عوام احتیاط کریں ورنہ اپنا ہی نقصان ہوگا ۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں یہ بھی فرمایا کہ کم از کم رواں سال ہ میں وائرس کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا ۔ کوروناوائرس سے اموات میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف غربت ، بے روزگاری اور معیشت کمزور ہے، 5کروڑ سے زیادہ لوگ پاکستان میں ایسے ہیں جو دو وقت کا کھانہ نہیں کھا سکتے، ڈھائی کروڑ افراد دہاڑی دار ہیں یعنی12کروڑ کے قریب لوگ اس طبقے سے وابستہ ہیں ، مکمل اور سخت لاک ڈاوَن سے غریب اور دہاڑی دارطبقہ متاثر ہوتا ہے ۔ ملک میں آبادی کا یک بڑا حصہ کچی آبادیوں میں رہتا ہے اور کراچی میں 30فیصد کچی آبادیاں ہیں ، وہاں اس کے اثرات مختلف ہوتے ہیں ۔

وزیراعظم صاحب نے سابقہ وقتوں میں ہونے والے لاک ڈاوَن کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ، ان کا فرمانا تھا کہ وہ اس طرح کا لاک ڈاوَن نہیں چاہتے تھے اور یہ کہ لاک ڈاوَن کے حوالے سے امیر طبقہ کچھ اور ڈاکٹر کچھ کہہ رہے تھے لیکن غریب طبقے کی رائے مختلف ہے مگر وہ اپنی آواز کسی تک پہنچانہیں سکتا تھا، وہ کاروبار اور تعمیرات کبھی بند نہیں کرتے تاہم 18ویں ترمیم کی وجہ سے صوبوں کے پاس اختیارات تھے ۔ جس طرح کا لاک ڈاوَن ہوا اس نے نچلے طبقے کو بہت تکلیف پہنچائی ۔ انہوں نے مختلف ممالک کی مثالیں دیں جن میں بھارت، امریکہ شامل تھے ۔ وزیر اعظم کے خدشات اور احساسات اپنی جگہ درست ہیں کہ لاک ڈاوَن مسئلہ کا وقتی حل تو ہے لیکن مستقل حل نہیں ۔ اب سعودی عرب جہاں کرفیولگا رہا انہوں نے بھی نرمی شروع کردی ہے اور مسجد نبوی اور مسجد حرام میں نمازیں شروع ہوگئیں ہیں ۔ دنیا کے بے شمار ممالک نے بھی لاک ڈاوَن مکمل اٹھانے یا نرمی کرنی شروع کردی ہے ۔ عمران خان صاحب سابقہ دنوں میں سخت لاک ڈاوَن کی وجہ صوبوں کو اختیارات کی وجہ قرار دیتے ہیں ۔ سندھ کے علاوہ تینوں صوبوں میں تو کپتان اور کپتان کے اتحادیوں کی حکومت ہے انہوں نے انہیں لاک ڈاوَن کیوں کرنے دیا، کیا پنجاب کا وزیر اعلیٰ کپتان کی مرضی کے بغیر کوئی کام کرسکتا ہے ۔ اس طرح کی باتوں سے غریب عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کی بو آرہی ہے ۔ لاک ڈاوَن نہ کریں لیکن احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز پر تو سخت عمل کرایا جاسکتا ہے ۔ لاک ڈاوَن میں پولیس غریب عوام کو ہی پکڑ پکڑ کر خواہش پوری ہونے پر چھوڑ رہی تھی ، اب احتیاطی تدابیر پر عمل کرانا کیوں مشکل ہے ۔ سب نے دیکھارمضان کے آخری تین دن کس طرح عوام نے حکومتی احتیاطی تدابیر کی دھجیاں بکھیر دیں ۔ اب بھی بازاروں ، شاپنگ سینٹرز، سڑکوں پر یہی حال ہے، احتیاط نام کی کوئی چیزنظر نہیں آرہی ۔ حکومت مرکز کی ہو یا صوبوں کی ان پر لازم ہے کہ وہ عوام کو مجبور کریں ، ان کے ساتھ سختی کریں ، جرمانے کریں لیکن احتیاطی تدابیر پر عمل ہرصورت میں ہونا چاہیے ۔ اموات اگر بڑھتی گئیں اور صورت حال اٹلی یا امریکہ والی ہوگئی ، تو عوام پر اس کے منفی اور نفسیاتی اثرات بھی بہت ہوں گے ۔ عوام از خود اس کی اہمیت کو، کورانا کی تباہ کاریوں کی خاطر میں نہیں لارہے ۔ بعض بعض بڑی لوگ، بڑے مذہبی لوگ عوام کو اسپتال نہ جانے کی ترغیب دے رہے ہیں ،انہیں خوف زدہ کر رہے ہیں ، کورونا سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ حکومت کو نفع نہیں پہنچارہا، عجیب عجیب قسم کی باتیں سامنے آرہی ہیں ، ان کے بارے میں وضاحت حکومت سطح پر، میڈیا پر ہونی چاہیے ۔ کورونا ایک حقیقت ہے ۔ اس کا ادراک کرانا ضروری ہے ۔

پاکستان کی معیشت کمزور ہے، اس میں کوئی شک نہیں پاکستان کو ہر دور میں لوٹا گیا، کھایا گیا، اللہ کی خاص عنایت کہ پاکستان پھر بھی چل رہا ہے ۔ اللہ پاکستان کو سلامت رکھے ۔ معیشت صرف پاکستان کی ابتر نہیں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کو کورونا نے زمین بوس کردیا ہے ۔ اچھے وقت میں تو سب ہی حکمرانی کرسکتے ہیں ، اصل امتحان ِحکمرانی تو مشکل وقت میں ہوتا ہے کہ حاکم وقت کیسی حکمت عملی اپناتا ہے ۔ ماضی میں بھی مشکل وقت آئے، بھارت سے جنگیں ہوئیں ، سیلاب آئے ، زلزلے ان حالات میں معیشت پر اثر پڑنا لازمی تھا، اب بھی مشکل ہے، یہی کپتان کا امتحان ہے کہ وہ اس قدر گری ہوئی معیشت کو کیسے سہارا دیتا ہے ۔ دنیا میں مشکلات اور تباہ کاریاں تو آتی رہی ہیں ۔ ممالک ان کا مقابلہ بھی کرتے رہے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ وزیر اعظم قوم کو مشکلات سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا حوصلہ بھی بلند کراتے ، تسلی و تشفی کی باتیں کرتے، اموات پر خاص طور پر لوگوں کو پریشان نہ ہونے کی بات کرتے نا کہ یہ کہنا کہ اموات تو زیادہ ہونا چاہیے تھیں یا ہوتیں ۔ عوام کو حوصلہ مند رہنے، گھبراہٹ اور پریشان نہ ہونے کی ترغیب دینے کی ذمہ داری میڈیا کو زور شور سے کرنی چاہیے ۔ ہر چینل ایک دن چھوڑ کر رات کے پروگراموں میں اس لیے کہ لوگ رات کے ٹاک شو زہی اب دیکھتے ہیں ، بیچ میں ٹی وی دیکھنے والے لوگ ہی مختلف ہیں ۔ کوروناوائرس سے آگاہی اور عوام کے حوصلے بلند کرنے کے پروگرام نشر کرنا چاہیں ۔ سیاست دانوں کو بلا کر ملاکھڑا کرانے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ ٹاک شو میں جو سیاست داں آتے ہے وہ اپنی اپنی جماعت اور اپنی جماعت کے لیڈر کو دنیا کا نیک ترین اور مخالفین کو دنیا کا کرپٹ ترین ثابت کرنے میں اپنی پوری توانیاں صرف کردیتے ہیں ، حاصل کچھ نہیں ۔ بعض بعض ٹی وی اینکر ز بھی اسی طرح کی خصوصیات رکھتے ہیں ۔ جو ہی وہ گفتگو شروع کرتے ہیں سننے والوں کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ موصوف آگے کیا فرمائیں گے ۔ تجزیہ کاروں ، تبصرہ نگاروں ، کالم نگاروں کو نیوٹرل ہوکر اپنا تجزیہ دینا چاہیے ۔ سیاست اس وقت دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے اسی طرح ٹی وی تجزیہ کار، اینکرزکی اکثریت بھی دو طبقو ں میں تقسیم ہیں ۔ تجزیہ کار جو بے لاگ اور بے خوف تجزیہ کرتے ہیں ، سچائی اور ایمانداری کے ساتھ تجزیہ کرتے اور لکھتے ہیں انہیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے ۔ سب کچھ دنیا میں دھرا رہ جائے گا، بنگلے، کاریں ، پلاٹ، فیکٹریاں ، مل، کاروباراس لیے سچائی کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں ، قلم کی حرمت اسی طرح زبان کی حرمت کا پاس رکھیں ، سچ بولیں ، سچ لکھیں ، نہیں معلوم کس لمحہ موت کا فرشتہ ساتھ لے جانے آجائے ۔ دیکھئے دودن قبل پروفیسر انوار احمد زئی، کل ڈاکٹر آصف فرخی، اسی طرح کراچی طیارہ حادثہ میں کیسے کیسے لوگ اپنی جان سے گئے ۔ ابھی موبائل پر ایک خاتون ڈاکٹر اپنی درد بھری کہانی سنارہی تھی کہ ان کا شوہر ڈاکٹر گھر میں قرنطینہ ہے، اس کا 21سال کا جوان بیٹا جو ڈاکٹر بننے جارہا تھا، چند دن میں کورونا وائرس میں مبتلا ہوا اور اللہ کو پیارا ہوگیا ۔ یہ ٹی وی اینگر مالک صاحب کے پروگرام تھا ۔ خدا کے واسطے جو لوگ کوروناوائرس کے بارے میں منفی پروپینگڈا کر رہے ہیں ان کی باتوں میں نہ آئی ، کوروناوائرس ایک حقیقت ہے جو انسانی جانوں کو نگل رہا ہے ۔ خدا را اس سے بچیں ، غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ جائیں ، بار بار ہاتھ دھوئیں ، ماسک کا استعمال لازمی کریں اور دیگر احتیاطی تدابیر کا لازمی اختیار کریں ۔ (2جون2020)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Total Views: 207 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 713 Articles with 577852 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: