کورونا کے آئینے میں زعفرانی وزرائے اعلیٰ کی نااہلی و بدعنوانی

(Dr Salim Khan, India)

کورونا کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی نے مہابھارت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہم یہ جنگ 21 دنوں کے لاک ڈاون میں جیت لیں گے ۔ اس اعلان کے وقت ملک میں کورونا سے تصدیق شدہ متاثرین کی تعداد تقریباً 500اور ہلاک ہونے والے صرف 10 تھے ۔ فی الحال اس جنگ کو چھڑے ہوئے 66دن گزر چکے ہیں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 66 ہزار اور مرنے والے ۴ ہزار 7 سو سے زیادہ ہوچکے ہیں ۔ ان اعدادو شمار کی روشنی میں وزیر اعظم کے بلند بانگ دعووں کو جانچا اور پرکھا جاسکتا ہے لیکن گرگئے تب بھی ٹانگ اونچی کی مصداق بی جے پی والے اب یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر وزیر اعظم دیش بندی نافذ نہیں کرتے تو یہ تعداد ۵۵ لاکھ ہوتی ۔اگر یہ سوال کیا جائے کہ ۵۵لاکھ کا عدد کہاں سے ملا؟ تو جواب ہوگا یہ ہمارے آستھا کا پرشن ہے اور ہمارا سپریم کورٹ کے منصف بھی آستھا کا احترام کرکے دکشنا لینے کا فن جانتے ہیں ۔ پہلے تو ایسے سانحات شاذو نادر رونما ہوجایا کرتے تھے لیکن مہاجر مزدوروں کے معاملے میں سپریم کورٹ تمام حدود و قیود کو نہایت بے رحمی سے پامال کرتی رہی ۔ اب جبکہ کہ وہ لوگ ساری مصیبتیں جھیل چکے تو سپریم کورٹ کو بعد از بسیار ان کا خیال آیا ہے۔

کوویڈ کے معاملے میں گوناگوں وجوہات کی بناء پر مہاراشٹر پہلے نمبر پر ہے اس لیے کچھ سیاست کے پٹے ہوئے مہرے یہاں صدر راج نافذ کرنے کا بھی مشورہ دے رہے ہیں ۔ متاثرین کی تعداد کو دیکھا جائے تو تادمِ تحریر (29مئی (تک تمل ناڈو میں 18545ہزاراور گجرات میں صرف 15195 ہے مگر ہلاک ہونے والوں کی تعداد چونکانے والی ہے ۔ تمل ناڈو میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد صرف 133 اور گجرات میں 936ہے۔ اموات کے فیصد کا موازنہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ مہاراشٹر جملہ 1897ہلاکتوں کے باوجود یہ شرح صرف 3.33% ہے جبکہ گجرات میں دوگنا یعنی 6.17% ہے اور یہ تمل ناڈو سے تو 9 گنا زیادہ ہے ۔گجرات میں کورونا متاثرین کی کم تعداد کا راز خود حکومت کی جانب سےکورٹ میں پیش کیے ہوئے احوال میں پوشیدہ ہے۔سرکاری ایڈوکیٹ جنرل نے ٹیسٹنگ نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے اعتراف کرلیا کہ اگرجانچ کی جائے تو صرف احمدآباد میں 70فیصد کورونا کے مریض پائے جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق اگر55.7 لاکھ آبادی بھی لی جائے تو 70 فیصد 40 لاکھ ہوتے جبکہ احمدآباد کی موجودہ آبادی کا تخمینہ اگر 78 لاکھ ہے اس لحاظ سے یہ تعداد 55لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔

گجرات کے اسپتالوں میں ایک طرف تو وینٹیلیٹر ، پی پی ای کٹ اور بیڈ جیسی سہولیات کی شدید کمی ہے اور دوسری جانب بدعنوانی کی چونکانے والی خبریں آنے لگی ہیں ۔ وزیراعلیٰ وجئے روپانی نے اپنے دوستپارکرام سنگھ جڈیجہ کی کمپنی جو وینٹیلیٹرز خریدے ہیں انہیں جعلی یعنی آکسیجن فراہم کرنے والا ایک میکانائزڈ ایمبو بیگ بتایا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ گجرات کے اندر N-95 ماسک کو 49 روپے کے بجائے 65 روپے میں بیچ کر منافع خوری کی جارہی ہے۔ اس طرح کے الزامات نئے نہیں ہیں ۔ وباء کی ابتداء میں رندیپ سنگھ سورجے والا نے ٹویٹ کرکے الزام لگایا تھاکہ کورونا ٹسٹ کی درآمدی قیمت 225 روپئے ہے مگر سرکاری ادارے اس کوڈیڑھ گنا سے بھی زیادہ قیمت 600 میں خرید رہے ہیں۔آزمائش کے وقت میں اس طرح کی منافع خوری رشوت کے سبب سے نہ ہو تب بھی جرم ہے ۔ اس وقت لوگوں نے موازنہ کرکے بتایا تھا کہ سعودی عرب ، عراق، ایران اور لیبیا جیسے ممالک میں یہ جانچ بالکل مفت ہے۔ بنگلادیش میں 300 اور پاکستان میں 500 ٹسٹ کیا جاتاہے لیکن ہندوستان کے نجی اسپتال میں نرخ 4500 کیا لوٹ مار نہیں ہے ؟

بی جے پی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اپنے خلاف لگنے والے بدعنوانی کے الزامات کی تردید کرنے میں ماہر ہوگئی ہے لیکن ہماچل پردیش میں جو کچھ ہوا اس کا انکار بھی سہل نہیں ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی ایک زمانے میں ہماچل پردیش کے نگراں ہوا کرتے تھے ۔ گزشتہ سال رائے دہندگی کے آخری دن انہوں اسی صوبے کے کیدار ناتھ مندر میں راہب کا بھیس بدل کر دھنی رمائی تھی۔ بی جے پی کے حالیہ صدر جگت پرشاد نڈا وہیں سے آتے ہیں۔ اس کے باوجود ہماچل پردیش میں بی جے پی کے صوبائی صدر ڈاکٹر راجیو بندل پر کو رونا وائرس کی روک تھام کے لیے خریدے گئے طبی آلات میں بدعنوانی کا الزام لگ چکا ہے۔ اسی بدنامی سے بچنے کے لیےانہوں استعفیٰ دے کراخلاقیات کا ڈھونگ رچایا ہے ۔ یہ کہنے کی باتیں ہیں ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ ویجیلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو نے 43 سیکنڈ کا ایک آڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعدمحکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر اے کے گپتا کو 20 مئی کے دن گرفتار کرلیا ۔اس آ ڈیو کلپ میں گپتا پرتھوی نامی ایک شخص سے پانچ لاکھ روپے کی رشوت کا مطالبہ کر تے ہوئے سنائی دیتا ہے ۔

دونوں ملزمین ڈاکٹر بندل کے گاوں ناہن کے رہنے والے ہیں اور انہوں نے اسی قربت کا فائدہ اٹھا کر ٹینڈر حاصل کیا تھا ۔ بندل5 بارایم ایل اے اور وزیر صحت رہچکے ہیں ۔ بعید نہیں کہ اس گرفتاری اور استعفیٰ میں بدعنوانی کے علاوہ آپسی رنجش شامل ہو ورنہ بی جے پی اتنی آسانی سے اپنے رہنماوں کو بلی کا بکرا نہیں بناتی ۔ گجرات اور ہماچل پردیش کی طرح مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان بھی کورونا کی وبا کے دوران نت نئی حماقتیں کررہے ہیں۔ اس دوران انہوںنے بابا رام دیو سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ رابطہ کیا اور دونوں نے ایک دوسرے کی خوب جیبھرکے تعریف کی۔ اسی کے ساتھ وزیراعلیٰ نے اعلان کردیا کہ بیماری کے خلاف مزاحمت میں اضافہ کی خاطر صوبے کے ۲ کروڈ لوگوں کو پتانجلی کاڑھا تقسیم کیا جاچکا ہے۔ ایک بوتل کی قیمت اگر پچاس روپئے بھی لگائیں تو یہ سو کروڈ کا خرچ بنتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ خطیر رقم وزیر اعلیٰ نے کس بنیاد پر خرچ کردی ۔ وزیراعلیٰ نے تقسیم کے اگلے اس سے فائدے کی کرشماتی تصدیق بھی کردی ۔ ہندوستان کے اندر ڈرگ کنٹرول اتھارٹی کی اجازت کے بغیر دوائی کا استعمال مموع ہے ۔ پتانجلی کے سربراہ بال کرشن اعتراف کرتے ہیں کہ انہیں ہنوز تصدیق نامہ کاانتظار ہے لیکن چوہان سےیہ نہیں ہوسکا ۔ انہیں تو وباء کے دوران ہی اس سرمایہ کاری کو منافع سمیت وصول کرنے کی جلدی ہے جو انہوں کانگریسی ارکان اسمبلی کو خرید کر اقتدار حاصل کرنے میں صرف کی تھی۔

ان بے اعتدالیوں پر لگام کسنے کے بجائے وزیر داخلہ امیت شاہ نےدہلی کے اندر سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی گرفتاری کا لامتناہی سلسلہ جاریکر رکھا ہے اوران کے شاگردِ رشید وجئے روپانی گجرات پولس کی مدد سے پیروی کررہے ہیں ۔ وہاں پر ایک گجراتی نیوز ویب سائٹفیس آف نیشن کے ایڈیٹر دھول پٹیل کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے بغاوت کا الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ اس بیچارے نے صرف یہ لکھنے کا قصور کیا تھا کہ بی جے پی اعلی کمان کورونا وائرس بحران میں وجے روپانی کی کارکردگی سے نالاں ہے۔ مرکزی قیادت وجے روپانی کی جگہ منسوک مانڈاویا کو وزیر اعلیٰ بنانے پر غور کررہی ہے۔ گجرات کے ہائی کورٹ سے قوی امید ہے کہ وہ دھول پٹیل کو رہا کردے گا لیکن کیا اس طرح کی قیاس آرائی کوئی اعلان بغاوت ہے؟ ایک وزیر اعلیٰ کے رہنے یا ہٹ جانے سے ملک کی سالمیت کو کون سا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے؟ لیکن جہاں لوگوں نے اپنی ذات کو قوم زیادہ اہم سمجھ لیا ہو اور اپنے مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینے لگے ہوں تو یہی ہوتا ہے۔ یہ کم فہم لوگ اندھیرا دور کرنے کے لیے ڈنڈے کا استعمال کرتے ہیں اورکورونا کو بھگانے کی خاطر دئیے جلاتے ہیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1061 Articles with 363585 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jun, 2020 Views: 213

Comments

آپ کی رائے