کرن بیدی کے بعد منوج تیواری کی سیاسی موت

(Dr Salim Khan, India)

ہندوستان کی کرکٹ ٹیم اگر پاکستان سے سیزیز ہار جائے تو بغیر کسی غلطی کے بھی کپتان کو بدل دیا جاتا ہے ۔ یہی حال دہلی بی جے پی کا ہے کہ جب وہ انتخاب میں ناکام ہوتی کپتان کو موردِ الزام ٹھہرا کر اسے ہٹا دیتی ہے ۔ اس کی تازہ ترین مثال منوج تیواری ہے ۔ ان کی پیش رو کرن بیدی کو بلی کا بکرا بنا کر پدو چیری برآمد کردیا گیا۔ سچ تو یہ ہے یہ دونوں ناکامیاں امیت شاہ کی وضع کردہ حکمت عملی کا نتیجہ تھیں ۔ مودی جی کے سحر کا بے اثر ہوجانا اس کا بنیادی سبب تھا ۔ مودی اور شاہ کی جوڑی کوانگشت نمائی سے بچانے کے لیے بیدی اور تیواری کو بلی کا بکرا بنایا گیا۔ سیاست کی بساط پرچال تو کوئی اور چل رہا تھا۔ ان بیچاروں کی اہمیت مہروں سے زیادہ نہیں تھی لیکن شطرنج کی بازی اور سیاست کے کھیل میں یہی فرق ہے کہ ایک میں کھلاڑی ہارتا ہے اور دوسرے میں مہروں کو توڑ کر کوڑے دان میں ڈال دیا جاتا ہے۔ منوج تیواری کو اگر کھیل کے اس ضابطے کا علم ہوتا تو وہ خود استعفیٰ دے کر اپنی راہ لیتے کم از کم عزت تو بچ جاتی ۔آج کل کے سیاستداں عزت و وقار پر دولت و عہدے کو ترجیح دیتے ہیں اس لیے ذلیل و خوار ہو کراس شعر کی مصداق راستہ ناپتے ہیں ؎
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

منوج تیواری بھلائی اس میں تھی کہ کرن بیدی سے عبرت پکڑتے جو ایک زمانے میں دہلی کے وزارت اعلیٰ کی امیدوار تھیں ۔ ان کو ناکامی کے بعد جنوبی ہند میں سب سے دور کے یونین ٹریٹری کا گورنر بنایا گیا۔ پڈو چیری کے آگے بھی اگر کوئی صوبہ ہوتا تو بیدی کو وہاں کالاپانی کے لیے بھیج دیا جاتا۔ دہلی کے انتخابی نتائج سے قبل منوج تیواری نے بڑے طمطراق کے ساتھ یہ اعلان کیا تھا کہ سارے ایکزٹ پول غلط نکلیں گے ۔ میرا یہ ٹویٹ سنبھال کر رکھنا بیجے پی کو 48 نشستوں پر کامیابی ملے گی لیکن جب نتیجے آئے تو وہاں 8نشستیں تھیں ۔ منوج تیواری کے چالیس چور الیکشن ہار چکے تھے جن میں سے ایک کپل مشرا بھی تھا ۔ منوج تیواری سےنتائج کے بعد پوچھا گیا کہ کرنٹ لگا ؟ تو انہوں نے بڑی صفائی سے اعتراف کیا کہ کرنٹ تو لگا مگر ہماری پارٹی کو لگ گیا۔ یہ کرنٹ دراصل پارٹی کو نہیں خود ان کو لگا تھا لیکن کورونا کی طرح ابتدامیں علامات ظاہر نہیں ہوئیں ۔ بجلی کا جھٹکا لگنے کے بعدضروری نہیں کہ فوراً وصال ہوجائے کئی مریض اسپتال کے اندر زندگی اور موت کی جنگ میں مبتلاہوجاتے ہیں ۔ منوج تیواری بھی سیاسی آئی سی یو میں تھے اور بالآخر وقت مقررہ پردم ٹوٹ گیا ۔ انسان کی طبعی موت کی طرح سیاستداں کی سیاسی موت کا بھی وقت طے ہوتا ہے ۔ غالب نے ان کے لیے بھی کہا تھا ؎
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

انتخابی مہم کے دوران منوج تیواری کے دستِ راست کپل مشرا نے ’گولی مارو سالوں کو ‘ کا نعرہ بلند کیا ۔ منوج تیواری کو اگر پتہ ہوتا کہ بھکتوں کا نشانہ کچا ہے تو ان کو روک دیتے لیکن نیتا لوگ اپنے لوگوں سے متعلق بے شمار خوش فہمیوں کا شکار رہتے ہیں۔ تیواری جی نے مشرا جی کے نعرے پر تالیاں بجائیں اور بھکتوں نے جوش میں آکر گولی چلادی لیکن نشانہ چوک گیا۔ انتخابی نتائج ظاہر ہوئے تو پتہ چلا کہ کپل مشرا خود لہو لہان ہوگیاہے ۔ اس نے انتقام لینے کی خاطر دہلی میں فرقہ وارانہ فساد کی سازش رچی لیکن پنڈت جی کا وہ مہورت بھی غلط نکلا ۔ وہ بھکتوں کو قبل از وقت کھلانے پلانے کے لیے لے آئے لیکن بھکت اس قدر اتاولے ہوئے کہ ٹرمپ کی واپسی کا انتظار بھی نہیں کیا اورفساد برپا کردیا ۔ ان بیچاروں کا کوئی قصور نہیں کیونکہ انہیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ امریکہ کا صدر اس وقت دارالخلافہ میں موجود ہے اور اس کے طفیل عالمی ذرائع ابلاغ نے شہر میں ڈیرہ ڈال رکھا ہے ورنہ پردھان سیوک کو آج کل کوئی پوچھتا تک نہیں ۔ منوج تیواری کے بعد اب پڑوس کے آئی سی یو داخل کپل مشرا کا نمبر ہے۔ اس کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ بھی تیواری کی راہ لے ورنہ تہاڑ جیل کا کمرہ انتظار کرہی رہا ہے۔ آج نہیں تو کل اس کو اپنے کیے کی سزا ضرور ملے گی بقول شاعر؎
انصاف کا در ہوتا ہے تاخیر سے روشن
اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ہے

اس معاملے کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بٹن دبانے کی تلقین امیت شاہ نے کی اور کرنٹ منوج تیواری کو لگا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امیت شاہ تو گاندھی نگر کے ووٹر ہیں اس لیے گاندھی سمادی کی دہلی میں زور سے بٹن دبا نہیں سکتے ۔ ویسےبھی آج کل کےجملہ باز سیاستدانوں کی کتھنی اور کرنی میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ منوج تیواری نے سوچا کوئی اور اس ہدایت پر عمل کرے یا نہ کرے وہ خود اپنے صدر کی بات ضرور مانیں گے ۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ اب دونوں گرو اور چیلا کے ساتھ سابق کا لاحقہ لگاہوا ہے۔ دہلی انتخاب کے بعد پہلے تو کل یگ کے چانکیہ کی چھٹی ہوئی اور اب چیلا بھی سابق ہوگیا ۔ منوج تیواری نے دہلی کی شکست کے لیے بی جے پی منشور کی تاخیر اور وزیر اعلیٰ کے چہرے کی عدم موجودگی کو ذمہ دار ٹھہرا کرہائی کمان کو آئینہ دکھایا تھا۔ ہائی کمان نے موقع غنیمت جان کردہلی کے دفتر سے تیواری کی تصویر غائب کردی ۔ اگلی مرتبہ جب وزراتوں کی تشکیل نو ہوگی تو بعید نہیں کہ تیواری جی کا قلمدان بھی چھن جائے ۔ اس وقت یہ سابق سماجوادی ہاتھ ملتے ہوئےممکن ہے مصطفیٰ زیدی یہ شعر کہتا نظر آئے گا (ترمیم کی معذرت) ؎

میری قُربت سےتجھ کو پُھول مِلے،زندگی کے نئے اصُول مِلے
تیری اُلفت سے کیا مِلا مجھ کو، زحمتیں ، اضطراب ، بدنامی
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1061 Articles with 363974 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2020 Views: 161

Comments

آپ کی رائے