ایک سروے اور سہی ۔۔۔

(Roqiya Ghazal, Lahore)

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے تمام ممالک سے کرونا کے خلاف جنگ تیز کرنے اور ہنگامی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کرونا کا پھیلاؤ زیادہ مگر اس کے خلاف اقدامات کم ہیں مزید وائرس کے باعث عالمی سطح پر نفسیاتی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے ا س لیے تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی جسمانی صحت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ذہنی تناؤ سے بچنے کے لیے بھی اقدامات کریں یعنی اگر وبا پر قابوبھی پا لیا گیا تو بھی لوگ غم ، اضطراب اور ڈپریشن جیسے امراض کا شکار ہو جائیں گے بلاشبہ یہ پریشان کن صورتحال ہے خاص طور پر ان ممالک کے لیے جن کی اولین ترجیح جسمانی صحت نہیں ہے حالانکہ جان ہے تو جہان ہے اور صحت مند افراد ہی معاشرے کا خوشحال چہرہ ہوا کرتے ہیں لیکن صابن کا بلبلہ ہوا میں اڑانے والے کہاں سمجھتے ہیں ۔ایسے میں سوال ہے کہ ذہنی تناؤ کو معاشرے میں پھیلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے تو عرض ہے کہ جب معاشی حالات انسانی بس میں نہ ہوں اور معاشرتی بے حسی بھی شامل حال ہو جائے تو اچھا بھلا انسان اپنے حواس کھو دیتا ہے اور یقین مانیں کہ لاک ڈاؤن پالیسی کیوجہ سے بیروزگاری اور فاقہ کشی نے بیشتر گھرانوں میں اندھیرا کر دیا ہے ایسا ہی گھرانہ نذیر نامی مزدورکا ہے جس نے پانچ روز سے بھوکے بچوں کو پانی سے روزہ کھولتے دیکھا تو اس قدر دلبرداشتہ ہوا کہ احتجاجاً زہریلی گولیاں کھا لیں تاکہ وہ بچیوں کو بھوک سے بلکتا نہ دیکھے ۔یہ بزدلانہ اور برخلاف اسلام فعل سہی مگر اس کا ذمہ دار کون ہے ؟حضرت عمرؓ نے کہا تھا کہ ’’اگر فرات دریا کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو اس کے لیے بھی میں جوابدہ ہوں ‘‘ چوبیس لاکھ مربع میل کے حاکم کو انسان تو انسان ایک جانور کے پیاس سے مرنے کا خوف سونے نہیں دیتا تھا اسی لیے آپ ؓ راتوں کو اٹھ اٹھ کر پہرادیتے اور لوگوں کی ضرورتوں کا خیال رکھتے تھے حتی کہ اپنی ضرورتوں کو بھلا دیا ۔۔ہمیں تو رحمت دوجہاںؐ اور خلفائے راشدین کی پیروی کرنا تھی اور ہم مغربی فلاسفروں کی مثالیں دیتے رہتے ہیں ۔۔؟

مجھے عام آدمی کی المناک اموات پر کبھی کسی ٹویٹ میں اظہار افسوس نہیں ملتا اور نہ کوئی مثالی ایکشن نظر آتا ہے جسے میں بیان کر سکوں البتہ موبائیل پر امداد ی فنڈ میں رقم جمع کروانے کا پیغام ضرور ملا ۔امدادی فنڈ کی بپتا بھی حیران کن ہے۔ انٹرنیشنل سروے کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے دی جانے والی امداد میں اضافہ ہورہا ہے مگر غربت میں کسی طور کمی نہیں ہورہی بلکہ امیر کی دولت اور غریب کی تنگدستی بڑھ رہی ہے۔۔اس کی وجہ ماہرین یہ بتا تے ہیں کہ افلاس زدہ والدین بچوں کے دماغ میں یہ بات ڈال دیتے ہیں کہ ’’فقیر کو کھلی ہی دو شالہ ہے ‘‘کہ غریب کو جومیسر ہے وہی غنیمت ہے یہی وجہ ہے وہ حق تلفی کو بھی مقدر کا لکھا سمجھتاہے اسی لیے امداد حق دار تک پہنچنے سے پہلے ہی تقسیم ہو جاتی ہے مگر کوئی ماننے کو تیار نہیں کیونکہ طبقاتی فرق غلامانہ ذہنیت کی آبیاری کرتا ہے اور غریب کے مفادات انھی امیروں سے جڑے ہیں جو غریب کا حق کھانا حق سمجھتے ہیں اور غریب ان کا محتاج ہے کیونکہ اس کی داد رسی کہیں نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی اس کی بات سنتا ہے جب تک تگڑی سفارش ساتھ نہ ہو یہی وجہ ہے کہ خان صاحب باوجودیکہ عوامی خدمت کے جذبہ سے سرشار تھے مگر تبدیلی کا وعدہ ایفا نہ کر سکے حتی کہ حالات اور بعض افراد ان کے بس سے باہر ہیں کہ اکثریت کی کارکردگی جملے اچھالنا اور بیانیوں کے تیر چلانے میں سمٹ چکی ہے ۔گذشتہ روز فواد چوہدری نے فرمایا کہ فردوس عاشق اعوان وزارت کے قابل ہی نہیں تھیں اور لابنگ کے ذریعے وزارت حاصل کی تھی جیسے موصوف خود میرٹ اور کارکردگی پر وزارتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں وزارتوں کا تو یہ حال ہے کہ شہباز گل جو کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی معاونین میں شامل تھے ان سے اختلافی بیان کے سبب استعفی لے لیا گیا تھا اور اب انھیں وزیراعظم پاکستان کا اعزازی معاون مقرر کر دیا گیا ہے ایسا ہوگا تو سوال تو اٹھیں گے۔ جیسے تقریباً دس سے بیس کروڑ کی لاگت سے ایکسپو سنٹر میں تیار کردہ قرنطینہ سوالیہ نشان بن رہاہے مریض سراپا احتجاج ہیں کہ صفائی والے اسے چلا رہے ہیں یہی حال احساس پروگرام کا ہو رہا ہے مگر ہمیں فرصت ہی کہاں کہ عوام کا سسکنا دیکھیں ہمیں تو سروے بتاتے ہیں کہ لیڈر شپ اور انتظامی پالیسیوں کو دنیا فالو کر رہی ہے ایسی پذیرائی دیکھ کر ہی تو جناب وزیراعلیٰ نے ڈی جی خان میں اپنے والد کے نام سے ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے اور عوام پوچھ رہے ہیں کہ ان کی پاکستان کے لیے ایسی کیا خدمات تھیں باالفرض اگراتنے پیسے ہیں تو پہلے سے موجود ہسپتالوں میں سہولیات فراہمی کا کیوں نہیں سوچا گیا حالانکہ اسی حالت زارپر تو سیاست کی جاتی رہی ہے لیکن اب للو چپو کر کے قائل معقول کرنے والے جوہر دکھاتے ہیں مگر اب لفظوں کا گورکھ دھندا بھی ٹائیں ٹائیں فش ہو چکا ہے اور عوام اس یوٹرن سیاست سے بیزار دکھائی دے رہے ہیں

جہاں تک بات ہے سروے رپورٹس کی تو ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں ہزاروں سروے کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن کا سروے کرنے اور رپورٹس مرتب کرنے کا منظم کاروبار ہے اور اچھا کماتی ہیں اس لیے ایسی کمپنیوں کا بھی سروے کروانے کی ضرورت ہے جو ماہرین کے مطابق بعض اوقات ڈالرز کے بدلے میں من چاہی رپورٹس مرتب کر دیتی ہیں بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ لگے ہاتھوں چمچہ گیری اور نفسا نفسی کا سروے بھی کروا ڈالیں کیونکہ وطن عزیز کو کسی چیز نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا للّو چپّوکرنے والوں کی چکنی چپڑی اور سب اچھا ہے کہ نعروں نے پہنچایا ہے ہماری بدنصیبی ہے کہ حکمرانوں کوہمیشہ چمچے گھیر لیتے ہیں اور چمچہ جس برتن میں ہو اسے خالی کر کے رہتا ہے اسی طرح ہمارے حکمرانوں کے پاس بھی ایسا کچھ نہیں ہوتاکہ جسے تاریخ ان کے درخشاں کارناموں کے طور پر نمایاں لکھے اسی وجہ سے ہماری روایت ہے کہ اپنے اپنے ادوار میں معروف لکھاریوں میں سے کسی نہ کسی نا عاقبت اندیش معروف لکھاری کو چمچہ بنا کر اُسی سے خاطر خواہ تعریفی ریکارڈ مرتب کروا لیتے ہیں حالانکہ ان تحریروں سے دانشور نفرت کرتے مر جاتے ہیں مگر تقلید شخصی کے قائل عوام پر ستش شروع کر دیتے ہیں جو کہ ہماری سیاست ۔مذہب اور معیشیت کے ساتھ بہت بڑا المیہ ہے ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 383 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Roqiya Ghazal

Read More Articles by Roqiya Ghazal: 112 Articles with 44555 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: