بحران ہی بحران

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

جب بھی وطن ِ عزیز کے حالات سے متعلق قلم کشائی کی جاتی ہے تویہ جملہ ضرور لکھا جاتا ہے کہ اس وقت ملک تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے۔بدقسمتی سے ہم بھی اپنی تحریر کا آغاز انہی الفاظ سے کررہے ہیں۔ اس وقت وطن ِ عزیز بحرانوں کی زد میں ہے۔ حکومت کے پاس سو دن کا پلان تھا لیکن شاعر کی پتلی کمر جیسی معیشت انہیں ورثے میں ملی اور ان کا ماہر معیشت دان اوپننگ بلّے باز جلد ہی آؤٹ ہوگیا اور بی آر ٹی کے منصوبے کی طرح معیشت کی بحالی کے لئے مزید چھ ماہ کا وقت لیا گیا جو ہوتے ہوتے ایک سال تک پہنچ گیا۔ ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد یعنی سال ٹی ٹوئنٹی کو خوش حالی اور معیشت کی بحالی کا سال قرار دیا جانے لگا لیکن نئے سال کے آغاز سے قبل چینی اور آٹے کا مصنوعی بحران پیدا ہوا۔ یہ ایک نہایت خوش آئند بات تھی کہ حکومت نے تحقیقات کے لئے کمیشن بنایا اور اُس کی ابتدائی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی گئی حالاں کہ اس میں حکومت کے اپنے منجھے ہوئے کھلاڑی بھی شامل تھے۔ فرانزک آڈٹ کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آجائے گا۔ رپورٹ سے یاد آیا کہ رمضان المبارک کے آخری ایام میں پی آئی اے کے جہاز کو پیش آنے والے حادثے کی رپورٹ بائیس جون کو پیش کی جائے گی۔ اس حادثے میں ستانوے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ سول ایوی ایشن کی ابتدائی تحقیقات میں سارا ملبہ شہید پائلٹ پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس کے مطابق پائلٹ نے ائیر ٹریفک کنٹرولر کی بات نہیں مانی ۔راقم الحروف کوئی ٹیکنیکل بندہ نہیں ہے لیکن جس بنیاد پر پائلٹ کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے وہ پہلی ناکام لینڈنگ کے بعد ہونے والی گفتگو ہے ۔ پائلٹ کے مے ڈے مے ڈے کے الفاظ سے قبل یہ جملہ زیادہ معنی خیز تھا کہ جہاز دونوں انجن کھو چکا ہے۔ اَب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ائیر ٹریفک کنٹرولر نے پہلی ناکام لینڈنگ کے بارے میں کیوں نہیں پوچھا اور جہاز کے لینڈنگ گیئر نہ کھلنے کی وجہ سے رن وے پر رگڑ کی وجہ سے انجن کو نقصان پہنچنے کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا۔ بہر کیف بائیس جون تک انتظار کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ رپورٹس تو آتی رہیں گی لیکن بجٹ 2020-2021 پیش کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ حکومت کو آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کی کڑوی گولی بطور ِ علاج لینی پڑے گی۔ یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے سے قبل عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے لیکن بد قسمتی سے آئی ایم ایف سے قرضہ لینا پڑا تھا اور اَب بھی اُن کی شرائط ماننی پڑیں گی۔ غریب سے بجٹ کا پوچھا جائے تو اسے کمر توڑ مہنگائی کے نام سے جانتے ہیں۔ یہی جواب اَن پڑھ طبقے کا بھی ہوتا ہے۔ جب کہ پڑھا لکھا طبقہ اور سرکاری ملازمین اسے الفاظ کی ہیرا پھیری قرار دیتے ہیں جب کہ حکومت اسے عوام دوست اور حزب اختلاف عوام دشمن کے ناموں سے پکارتی ہے۔ شاعر فرماتے ہیں۔
اعداد کی ہیراپھیری کا نام ہے بجٹ
ٹیکسوں کے وبال کا نام ہے بجٹ
عوام دوست ہویا عوام دشمن جو کہنا
کمر توڑ مہنگائی کا نام ہے بجٹ

جیسا کہ اوپری سطور میں بیان کیا جا چکا ہے کہ سال ٹی ٹوئنٹی معیشت کی بحالی کا سال قرار پایا تھا لیکن چینی اور آٹے کے بحرانوں کے ساتھ کورونا کی وباء نے معیشت کی ایسی حالت بنائی کہ اُسے حقیقتاً آئی سی یو میں داخل کروانا پڑا اور اب کورونا کے تشویش ناک مریضوں کی طرح وینٹی لیٹر پر موجود ہے۔مارچ کے وسط تککورونا قابو میں تھا لیکن جب لاک ڈاؤن شروع ہوا اور تمام سیاسی ، عوامی ، مذہبی ، تعلیمی ، تفریحی اور معاشرتی اداروں کو تالے پڑ گئے تو پھر کورونا کی وباء تیزی سے پھیل گئی۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں مصدقہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ اور اموات دو ہزار ہو گئی ہیں۔ شاید حکومت کی غلطیوں اور عوام کی لاپرواہیوں سے ـ’ چائینہ ماڈل ‘ کامیاب نہ ہو سکا اور حالات خطرناک حد تک تشویش ناک ہو گئے ہیں۔ بالآخر لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ ہوا اور اب تو وزیر اعظم نے بھی کہہ دیا ہے کہ اس وائرس کے ساتھ رہنا پڑے گا۔ ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ( سوائے وزیراعظم کے)۔ ماسک بھی ایک عجیب چیز ہے، پہلے کورونا کی وجہ سے عزیز و اقارب اور دوست حضرات دور ہوگئے اور اَب ماسک پہنو تو موبائل فون چہرے کی شناخت نہیں کرتا اور اَن لاک نہیں ہوتا ہے۔ بقول شاعر۔
ہواجب چہرہ موبائل کے سامنے
انکار میں جواب کون ہے سامنے
سوچا اتاردوں چہرے کا حجاب لیکن
لکھا تھا نو ماسک نو انٹری سامنے

عوام کو وہ دن یاد ہے کہ جب فیس ماسک اسکینڈل سامنے آیا تھا تو ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ماسک صرف اُن افراد کے لئے ضروری ہے جو نزلہ ، زکام اور کھانسی کی شکایات رکھتے ہوں تاکہ دوسرے افراد متاثر نہ ہوں۔ اُن کی بات کو ردّ نہیں کیا جاسکتا تھا اسی لئے ہم نے بھی اپنے ایک کالم میں یہی بات لکھی تھی۔ خیر، اب ملک میں فیس ماسک بحران نہیں ہے البتہ پانچ روپے کا ماسک تیس سے چالیس روپے میں مل جاتا ہے۔ پٹرول غائب، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا آسمانوں سے باتیں کرنا ، خیبر پختون خوا میں گندم کی قیمت میں اضافہ اور ٹڈی دل کی آفت جیسے کئی بحران وطن ِ عزیز میں موجود ہیں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 439 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 106211 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: