بھارت ! اب بھی کچھ دیکھنا باقی رہ گیا ہے؟۔

(Syed Noor Ul Hassan, )

پچھلے دنوں چین اور بھارت کی فوجوں میں ایک اور چھوٹی جھڑپ ہوئی ہے جس میں ایک مرتبہ پھر چین نے بھارتی فوج کی درگت بنائی ہے، 1962 ء کے بعد لداخ میں بھارت چین سرحد پر کئی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ 1962ء میں جب بھارت نے لداخ میں سرحدی تنازعہ کھڑا کیا اور اس نے تبت میں مداخلت شروع کی تو چین نے اس پر ردعمل ظاہر کیا، چین کا الزام تھا کہ بھارت تبت میں چین کے خلاف بغاوت کو ہوا دے رہا ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ تھا کہ تبت میں بغاوت کو کچلنے کیلئے جب چین نے ایکشن لیا تو باغیوں کا سرخیل دلائی لامہ فرار ہو کر بھارت پہنچ گیا اور بھارت نے اسے اپنے ہاں پناہ دی۔ 1962کی چین بھارت جنگ میں چین کی پیپلزلبریشن آرمی نے بھارتی فوج کی خوب ٹھکائی کی اور بھارتی فوج کو سخت ہزیمت اٹھانی پڑی اور اسے سخت جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔بھارت کے سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اکتوبر 1962 ء میں نیفا میں بھارت اور چین کے درمیان جو جنگ ہوئی تھی، اس میں بھارت کو جو شکست ہوئی، اس نے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کا دل توڑ دیا اور وہ دل کے مریض بن گئے۔ ان کی صحت اس فوجی ہزیمت کے بعد بحال نہ ہوسکی اور نتیجتاًوہ 1964ء میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔اس کے بعد 1965ء میں پاک بھارت جنگ ہوئی جس میں بھارت کو ایک بار پھر پاکستان سے ہزیمت اٹھانی پڑی ۔1965ء کی پاک بھارت جنگ میں پاک افواج نے دشمن کو چھٹی کا دودھ یاد کرا یا۔ دشمن کو ایسی شکست فاش سے دوچار کیا کہ جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس جنگ کا پس منظر کیا تھا اور پاک افواج نے کس بہادری اور بہترین جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔اس جنگ میں پاک افواج نے جواں مردی، بہادری اور جنگی مہارت کا وہ شاندار نمونہ پیش کیا جس کی مثال دنیا کی جنگی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس جنگ کی وجہ بنیں رن آف کچھ پر ہونے والی سرحدی جھڑپیں۔ پاکستان رن آف کچھ پر لڑی جانے والی محدود جنگ کا فاتح بن کر ابھرا۔ ہندوستان سے اپنی شرمناک ہار ہضم نہ ہو پا رہی تھی۔ بھارتی فوج نے 5اور 6ستمبر کی درمیانی شب روایتی مکاری، عیاری اور بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔ رات کی تاریکی کا سہارا لیتے ہوئے لاہور پر حملہ کر دیا۔بھارتی فوج تعداد و استعداد میں پاک فوج سے کہیں زیادہ تھی مگر قوتِ ایمانی سے یکسر محروم اور جذبہء جہاد سے بالکل بے بہرہ ۔ یہ جنگ 17روز جاری رہی۔ بھارت کی خوش نصیبی کہ عالمی برادری نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور جنگ بندی ہو گئی۔ یوں بھارت مزید پسپائی اورسوائی سے بچ گیا۔اس جنگ کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی جنگیں ہوئی جس میں بھارت کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ۔ 14فروری 2019ء کو سری نگرجموں شاہراہ پر عادل احمد ڈار نامی کشمیری مجاہد نے بارود سے لدی گاڑی بھارتی فوجیوں سے بھری بس کے ساتھ ٹکرائی۔ اس طاقتور خود کش حملہ کی وجہ سے نہ صرف کشمیر بلکہ پوری دنیا گونج اُٹھی۔اس کے بعد دہلی کی جانب سے حسب روایت پاکستان کو موردالزام ٹھہرا کر کہا کہ پاکستان بھارت کو بدحال اور تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے۔ میڈیا سمیت بھارتی حکمران پاکستان دشنامی کا پہاڑہ پڑھناشروع ہوگئے۔ بھارتی میڈیا سینٹرز بڑی تیزی کے ساتھ واررومز میں ڈھلنے لگے۔ جس کے بعد 24فروری صبح کو گیدڑوں کی طرح رات کے اندھیرے میں بھارتی ائیر فورس پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی مہم جوئی پر مجبور ہوئی۔ بھارتی فضائیہ نے تین منٹوں میں بالاکوٹ میں کون سی کاروائی انجام دی،دنیا کی کوئی انٹیلی جنس سراغ لگا سکی نہ ہی بھارت سمیت دنیا کا کوئی سیٹلائیٹ نظام کسی قسم کا تصویری ثبوث فراہم کرکے بھارتی دعوے کی حقانیت ثابت کرتا۔البتہ اتنا ضرور پتا چلا کہ بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ نے کچھ ٹہنیوں اور درختوں کو شہید کیا ۔پھر 27فروری کو کچھ ایسا ہوا کہ بھارت ہکا بکا رہ گیا ہے ۔ اُسے ایک بار پھر پوری دنیا میں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت بھارت کی بے بسی کا اندازہ مودی کے ان الفاظ سے بخوبی لگایا جاسکتا تھا ’’ آج اگر ہمارے پاس رافیل ہوتے تو نتیجہ کچھ اور ہوتا‘‘۔اگر بھارت کے پاس رافیل بھی ہوتے تو وہ پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ بھارت کے پاس ناتجربہ کار پائلٹس ہیں ، اُن کے فوجیوں کے اندر اتحاد کا فقدان ہے ، بھارتی فوجی بزدل ہیں جو صرف نہتے کشمیریوں کے ساتھ ہی لڑنے کی طاقت رکھ سکتے ہیں ۔بھارتی فوجیوں کی بزدلی کا اندازہ اُن کی شرخ خودکشی سے لگایا جاسکتا ہے جو دن بدن بڑھتی جارہی ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ بھارتی فوج میں نہتے لوگوں سے لڑنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے، خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طور استعمال کرنا جانتی ہے۔ بھارتی فوج کا مسئلہ صرف وسائل کی کمی،زائد المعیاد ہتھیار، معیار سے گری ہوئی تربیت،کرپشن اور آ پسی تامیل کا فقدان ہی نہیں بلکہ اس سے سنگین تر مسئلہ یہ ہے کہ بھارتی سینا میں جذبے کی شدید کمی ہے، وہ لڑنے سے جی چراتے ہیں۔ وہ موت کا تعاقب کرنے کی آرزو ہی نہیں رکھتے۔اس کے برعکس اگر پاک فوج پر نظر دوڑائی جائے تو پاک فوج دنیا کی وہ واحد فوج ہے جو جذبہ ایمانی سے سرشار ہے ، پاک فوج کا جوان چلتا ہے تو وہ موت کو ساتھ لئے چلتا ہے ، اُس کی آرزو صرف اور صرف شہادت ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت بھی پاک فوج کے ساتھ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھ سکتی چاہے وہ امریکہ جیسا نام نہاد سپرپاور ہو ، یا پھر بھارت جیسا بزدل ۔ بھارت چاہے لاکھ کوشش کرلے لیکن وہ پاک فوج کے رہتے ہوئے پاکستان کی مقدس سرزمین کو کبھی نقصان نہیں پہنچاسکتا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 288 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Noor Ul Hassan

Read More Articles by Syed Noor Ul Hassan: 44 Articles with 10374 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: