ارے ماٹی کے پتلے ۔۔۔!!!

(Prof Khursheed Akhtar, Islamabad)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ" میں اللہ سے بہت ڈرتا ہوں اور ان لوگوں سے بھی ڈرتا ہوں جو اللہ سے نہیں ڈرتے" میں سوچتا تھا کہ یہ دوسری بات میں کیا راز پوشیدہ ہے، غور کیا تو خطرہ و ہی انسانیت کے لیے تھا کہ وہ لوگ جن کے اندر اللہ کی سرکشی اور مقابلے کی خو اتر آئی ھے ان سے بھی ڈرنا چاہیے، اس وقت دنیا کورونا وائرس کے شدید حملوں کا شکار ہے اور تین لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، صرف امریکہ میں ایک لاکھ سے اوپر ھلاکتیں ھو چکی ھیں اور بھارت جیسے ملک کو بھی خطے میں خطرناک ترین ملکوں میں شامل کر لیا گیا ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں سوچ ، عمل اور ذمہ داری میں واضح تقسیم موجود ہے، اسی وجہ سے ذمہ دار لوگ، غیر ذمہ دار افراد سے انتہائی پریشان اور کورونا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔ابھی تک پاکستان میں زہر دے کر کورونا کے لیے مارنے کی جہالت ختم نہیں ھوئی جہاں درجنوں مشہور ڈاکٹرز، نرسیس، سیکورٹی کے اداروں کے نوجوان، اور معروف لوگ اپنی جانیں اندرون اور بیرون ملک قربان کر چکے ہیں، انہوں نے کوئی الزام نہیں لگایا کہ ڈالرز کے لیے زہر کا ٹیکا لگایا جاتا ہے۔اپنی آنکھوں کے سامنے اٹھنے والے لاشے دیکھ کر بھی کورونا شرونا کچھ نہیں کی جہالت پالنے والے مذاق اڑاتے پھر رہے ہیں، دوسری طرف طب کے شعبے سے وابستہ کمپنیاں، ملاوٹ سے اشیاء بنانے والے، ذخیرہ اندوزی کر کے منافع کمانے والے، جعلی ماسک، اور ضروری ساز سامان بنانے والے دھڑا دھڑ کمانے میں جتے ہوئے ہیں ، کیا یہ لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں؟ ھر گز نہیں تو پھر ان سے ڈر ھی لگتا ہے، دوسرے طبقے میں یہ بھی آواز آئی ھے کہ مکمل لاک ڈاؤن ھونا چاھیے جس ملک میں تقریباً 15 کروڑ افراد روز کما کر کھاتے ہیں وہاں کیسے لاک ڈاؤن کیا جائے جبکہ ایک کروڑ اسی لاکھ بے روزگار ھو چکے ھوں اور سب سے زیادہ لاک ڈاؤن کرنے والے ممالک سعودی عرب، امریکہ، بھارت اور کئی ممالک ھمارے سامنے ھیں ، کیا وہاں کورونا میں کمی آئی؟ بلکہ کیس زیادہ ھوئے، بلکہ بھارت تو خطرناک ترین ملکوں میں شامل ھو گیا، سویڈن ایک ایسا ملک ہے جہاں لاک ڈاؤن بالکل نہیں کیا گیا لیکن کیس سب سے کم ھیں پتا ھے کیوں؟ صرف شعور اور ذمہ دار معاشرے کی وجہ سے، کوئی بندہ ماسک کے بغیر نہیں ھے اور مکمل قانون و ضابطے کی پیروی کرتا ہے، یہاں اوپر سے نیچے تک جہالت نے عید منائی، شادیاں کیں، پارٹیاں کیں، یہاں تک کہ شہباز شریف صاحب اپوزیشن لیڈر ھو کر جلوس لے کر ھائی کورٹ اور نیب میں پیش ھوئے جس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کے بہت سارے رہنما اور کارکنان کورونا وائرس کا شکار ہو گئے، کیا یہاں بھی بتانے کی ضرورت تھی؟ ھسپتالوں، مارکیٹوں میں ھجوم کرنے والے سب بھول گئے، دکاندار پیسے میں مگن تو جناب نتیجہ لاکھوں افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئے، اور ذمہ دار لوگ بھی کورونا کے باعث آخری سانس لے رہے ہیں، بچپن میں ایک قوالی سنتے تھے، ارے ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ھے" جس میں انسان کی تخلیق سے حشر تک ایک طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے یہ مٹی کا پتلا کبھی مطمئن ھوا نا بےصبری اور قوم موسیٰ کی طرح جاہلانہ تصورات، سوالات اور رسومات سے باز آیا، فخر اور تکبر والے بھی اللہ کی اس تنبیہ سے نصیحت حاصل نہ کر سکے، سب لوٹ کھسوٹ، پٹرول تک بند کرنے والے اسی طرح مصروف، ناجائز منافع ھیں ،کیا اس سے انسان کی عظمت اجاگر نہیں ھوتی بلکہ مٹی کے اس بت میں روح تک اور اس کے جانے تک معمولی سفر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

کورونا اب پاکستان میں مزید پھیل رہا ہے، ھر گھر میں دستک دے رہا ہے، ایک نیا سروے اور سٹڈی سامنے آئی ہے کہ یہ سارس 2 کی طرح تیزی سے اوپر جائے گا اور تیزی سے نیچے آئے گا، زیادہ لوگ اس کا شکار بنیں گے، لیکن احتیاط، امیونٹی سسٹم ھی آپ اور ھم سب کو اس اجتماعی خود کشی سے بچا سکتا ہے، خدارا دل کی آنکھ بھی کھولیں اور ظاہری آنکھ بھی جہالت، لوٹ مار، ناپ تول میں کمی، سرکشی اور اللہ سے بغاوت چھوڑ دیں، آپ اور آپ کے پیاروں کی زندگی آپ کے ھاتھ میں ھے۔ڈرنے، جعلی خبروں، اور غیر ذمہ داری سے دور رہیں! کل ھم اور آپ بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں، اپنی خوراک، صفائی اور اللہ سے معافی کے عمل کو نہیں بھولنا، آپ بھی بچ جائیں گے اور دوسرے بھی ورنہ وصیت نامے لکھ لیں وقت اور نقارہ دوبارہ آواز نہیں دے گا، ھر رات کے بعد صبح ضرور ہے لیکن کیا اس صبح ھم اور آپ ھوں گے اس مٹی کے پتلے کو کچھ نہیں پتا، بے خبر ھے تو بھی اور ھم بھی مگر جستجو، امید، اور جدوجہد ھی تو انسان کا فرض ہے جو ادا کرنا ھے, لوگ کہتے ہیں زندگی رہی تو پھر ملیں گے، ھم کہتے ہیں ملتے رہے تو زندگی رہے گی، مگر فاصلہ اور فیصلہ آپ کے ھاتھ میں ھے۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 114 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Khursheed Akhtar

Read More Articles by Prof Khursheed Akhtar: 86 Articles with 21372 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: