ایک تنازع جس نے نریندر مودی کو سرینڈر مودی بنا دیا

(Dr Salim Khan, India)

15جون ،2020 کی شب وادیٔ گلوان میں جو کچھ ہوا وہ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا۔ اگلے دن 16 جون کی صبح پہلے تو یہ اندوہناک خبر آئی کہ ہندوستان اور چینی سرحد پر دونوں طرف کے فوجی آپس میں بھڑ گئے اور اس میں ہندوستانی فوج کے تین جوانوں نے اپنی جان گنوائی ان میں ایک افسر بھی شامل تھا ۔ اس طرح کا واقعہ چونکہ 45سال بعد وقوع پذیر ہوا تھا اس لیے اس پر سخت ردعمل کی توقع تھی لیکن سرکار دربار میں ایسا زبردست سناٹا ّ چھایا رہا کہ شعلے کے مرحوم اے کے ہنگل کا مکالمہ ’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی ‘ بے ساختہ یاد آگیا ۔ شعلے کا رحیم چاچا یہ مکالمہ اس وقت ادا کرتے ہیں جب رام گڑھ کے باشندوں کو ڈرانے کی خاطر ڈاکو گبر ّ سنگھ ان کے بے قصور بیٹے کا بہیمانہ قتل کردیتا ہے۔ چین نے گلوان وادی میں اپنا دبدبہ قائم رکھنے اور ہندوستانی حکمرانوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے وہی حرکت کردی جو فلم شعلے میں گبرّ سنگھ نے کی تھی۔ شعلے کے رحیم چاچا کے لازوال کردار کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے بیٹے احمد کی موت سے بھی نہیں ڈرے لیکن افسوس کہ مودی جی ہیبت زدہ ہوگئے ۔ ورنہ سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی پر3گھنٹے کے اندر تعزیت کرنے والے حساس وزیر اعظم پر36 گھنٹے کی طویل خاموشی نہیں چھائی رہتی ۔

شعلے فلم کا ٹرننگ پوائنٹ دراصل وہی رحیم چاچا والا منظر ہے۔ رام گڑھ کے خوفزدہ لوگوں کو اگر رحیم چاچا یہ کہہ کر ’’ میں تو اتنا جانتا ہوں عزت کی موت ذلت کی زندگی سے کہیں اچھی ہے‘‘،ویرو اور جئے کو گاوں میں ہی رہنے دینے کی تلقین نہ کرتے تو کہانی وہیں ختم ہوجاتی ۔ سچ تو یہ ہے اپنے عزم و حوصلہ سے رحیم چاچا نے جس طرح شعلے کی کہانی کو آگے بڑھا کر اس میں جان ڈالنے کا کام کیاویسا کچھ کرنے میں وزیر اعظم ناکام رہے ۔ فلمی پردے پر مودی جی کی ناکامی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ انہوں نے پچھلا انتخاب جیتنے کے لیے اپنی سوانح حیات پر مبنی فلم بنوائی ۔ اس کاجو پوسٹرجنوری میں نکلااس پر لکھاتھا ’’آرہے ہیں دوبارہ پی ایم نریندرمودی ، اب انہیں کوئی روک نہیں سکتا ‘۔ بدقسمتی سےوہ فلم انتخاب سے قبل ریلیز ہی نہیں ہوسکی لیکن اس کے باوجود ائیر اسٹرائیک کا شور مچا کر مودی جی نے پھر سے الیکشن جیت لیا۔ ان کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد فلم آئی اور کل 23کروڈ کما کر فلاپ ہوگئی ۔ وہاں سے ناکامیوں کا جو سلسلہ شروع ہوا تو حقیقی زندگی میں آگیا اور اب کی بارمودی سرکارچین کی سرحد پر بری طرح پٹ گئی جس سے سناٹا چھا گیاہے۔

فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پہلے تو یہ خبر آئی کہ چینی اپنے ساتھ کچھ مزدوروں کو لے گئے ہیں اور پھر بتایا گیا کہ ہمارے 15تا 20 فوجی لاپتہ ہیں ۔ ان میں سے کچھ ندی میں گر گئے ہیں اور کچھ چین کے قبضے میں ہیں۔ اس کے بعد مزید لاشوں کے ملنےکا سلسلہ شروع ہوگیا اور اگلے 24 گھنٹوں میں یہ تعداد بڑھتے بڑھتے 20 تک پہنچ گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ تین فوجیوں کو گولی بھی لگی تھی۔ جن 45 لوگوں کو یرغمال بنایا گیا تھا ان میں سے 25 کی رہائی ہوگئی ۔ اس مڈبھیڑ میں 135 جوانوں کے زخمی ہونے کی خبر بھی موصول ہوئی۔ اس دوران غیر مصدقہ خبروں پر اعتبار کیا جاتا رہا کیونکہ سرکار دربار میں خاموشی کا دور دورہ تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے انٹر نیٹ کے اس دور میں پیر کی رات ہونے والے حادثے کی تفصیل کئی گھنٹوں تک ذرائع ابلاغ سے پوشیدہ رہی ۔ اس دوران حکومت کا رویہ اس طرح تھا کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں ہے ۔ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا ۔ اس بات کا اندازہ منگل کے دن سرکاری گلیارے کی مندرجہ ذیل سرگرمیوں سے بہ آسانی لگایا جاسکتا ہے۔

منگل کی دوپہر کو 12بجکر.45منٹ پر تین فوجیوں کے فوت ہونے کی خبر آجانے کے بعد ایک بجے فوجی ذرائع نے اس کی تصدیق کردی ۔ اس کے دوگھنٹے بعد یعنی تین بجے وزیر اعظم 20 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ نشست میں کورونا سے متعلق بات چیت کی ۔ اس پانچ گھنٹوں کی گفت شنید کا خاتمہ رات ۸ بجے ہوا لیکن فوجیوں کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا۔ ہاں ماسک لگانے نکلنے کی تلقین ضرور کی گئی اس لیے یہ سوال پیدا ہوگیا کہ کہیں ماسک چڑھانے کا مطلب زبان پر قفل لگانا تو نہیں ہوتا۔ رات ۹ بجے وزیر اعظم کے گھر پر وزیر دفاع، وزیر داخلہ اور قومی تحفظ کے مشیر کی نشست ہوئی۔ اس نشست کے خاتمہ سے قبل جان گنوانے والے فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 20ہوگئی مگر اس کے باوجود کوئی بیان جاری کرنا ضروری نہیں سمجھاگیا۔ اس کے بعد دوسرے یعنی بدھ کے معمولات پر ایک غائر نظر ڈال لینا چاہیے ۔ پہلی خبر یہ آئی کہ وزیرداخلہ نے لداخ کے پرتشدد واقعات کی معلوماتوزیر اعظم کو فراہم کیں۔ اصولاً وزیر دفاع کو یہ معلومات دینا چاہیے تھا لیکن نہ جانے کیوں دیگر وزراء کی مانند راجناتھ سنگھ بھی کنارے کر دیئے گئے ہیں ۔ اس کے بعد انٹلی جینس اور قومی تحفظ کی دو نشستیں ہوئیں لیکن عوام کو اس بابت اندھیرے میں رکھا گیا۔ اس دوران بیجنگ میں ہندوستانی سفیر وکرم مستری نے چینی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کی لیکن اس کا مقصد اور حاصل بھی صیغۂ راز میں رکھا گیا۔

آرمی چیف جنرل ایم اے نرونے اپنا پٹھانکوٹ فوجی اسٹیشن کا دورہ ٹال کر چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کے ساتھ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سے ملاقات کرنے کے لیے گئے ۔ اس نشست میں بری ، بحری اور ہوائی فوج کے سربراہوں کے علاوہ وزیر خارجہ بھی شریک ہوگئے ۔ ایک طویل گفتگو کے بعد راجناتھ سنگھ وزیر اعظم کو اس بحث کا خلاصہ بتانے کے لیے چلے گئے ۔ اس عرصہ میں اقوام متحدہ کے ترجمان تک کا بیان آگیا۔ انہوں نے ہندوستان اور چین کے درمیان پرتشدد جھڑپ کو تشویشناک بتایا اور دونوں ممالک کو امن بحال رکھنے کی اپیل کی ۔ حکومت کی خاموشی کے درمیان کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے ہندوستان کے فوجی جوانوں کی دلیری اور شہادت پر اظہار عقیدت کردیا ۔ انہوں نے قومی تحفظ اور علاقائی سالمیت کی حفاظت کرنے کے لیے سب ایک ساتھ کھڑے ہونے کی یقین دہانی کی ۔ اس دوران پہلے 5اور پھر 43 چینی فوجیوں کے مارے جانے کی خوش کن خبر بھی آئی لیکن حکومت نے اس کی بھی توثیق نہیں کی ۔

36 گھنٹوں کےطویل انتظار کے بعد بھی اپنے بیان میں وزیر اعظم نہایت محتاط نظر آئے۔لوگ تو یہ امید کررہے تھے کہ مودی جی حسبِ عادت ٹیلی ویژن کے پردے پر نمودار ہوں گے اور اپنے من کی بات بتائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ کورونا وائرس پر جو نشست پہلے دن سے جاری تھی اس کے اگلے مرحلے میں جب سب لوگ جمع ہوگئے تو ابتداء میں وزیر اعظم مودی نے چین سرحد پر شہید ہوئے جوانوں کو رسمی خراج عقیدت پیش کردیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا : وہ ملک کو یقین دلاتے ہیں کہ جوانوں کی قربائی رائیگاں نہیں جائے گی۔ خلاف توقع وہ ایک دبنگ سپہ سالار کے بجائے سنیاسی کے لب و لہجے میں وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’ہم نے ہمیشہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ ہمیشہ ان کی ترقی اور فلاح و بہبود کی تمنا کی ہے۔ اگر کہیں اختلاف رائے بھی رہا، ہم نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ اختلاف رائے کبھی تنازعہ میں تبدیل نہ ہو۔ ہم کبھی کسی کو اشتعال نہیں دلاتے‘‘۔ یہ الفاظ پڑھتے ہوئے بار بار پاکستان اور نیپال وغیرہ پر دیئے جانے والے بیانات یاد آرہے تھے اور یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اگر ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اتنا اچھا سلوک کرتے ہیں تو وہ ہم سے نالاں کیوں ہیں ؟

وزیر اعظم کے بیان کا سب سے اہم عزم یہ تھا کہ ’’ لیکن ہم اپنے ملک کی سالمیت اور خود مختاری کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔جب بھی وقت آیا ہے ہم نے ملک کی سالمیت اور خود مختاری کے لئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے، اپنی صلاحیتوں کو ثابت کیا ہے۔‘‘ان دلیرانہ الفاظ کے بعد پھر ایک بار ان کے اندر کا فلسفی نمودار ہوگیا اور انہوں نے کہنا شروع کیا ، ’’تیاگ (قربانی) اور تپسیا (کفایت شعاری) ہمارے کردار کا حصہ ہیں۔ طاقت اور بہادری بھی ہمارے کردار کا حصہ ہیں۔ ملک کی خود مختاری اور سالمیت کا دفاع کرنے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ اس میں کسی کو بھی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہندوستان امن چاہتا ہے لیکن اشتعال دلانے پر ہر حال میں معقول جواب دینے کے اہل ہے۔ ہمارے آنجہانی شہید بہادر جوانوں کے حوالہ سے ملک کو اس بات پر فخر ہوگا کہ وہ مارتے مارتے مرے ہیں‘‘۔ یہ ساری باتیں درست ہیں لیکن اس کا موقع نہیں تھا۔ انہیں تو چین کا نام لے کر اسے للکارنا چاہیے تھا کہ دھمکی دینی چاہیے تھی کہ ہمارا علاقہ فوراً خالی کرے ورنہ اس مہم جوئی کی اسے بڑی قیمت چکا نی ہوگی لیکن اس کے برعکس 56 انچ کے سینے والے نریندر مودی جن کا نیا لقب سرینڈر مودی ہے نے کل جماعتی اجلاس میں جس سردمہری کا مظاہرہ کیا ہے اسےسن کر شرکائے مجلس کے ساتھ پوری قوم کو وزیر علی صبا لکھنوی کا یہ شعر یاد آگیا ہوگا؎
کلیجہ کانپتا ہے دیکھ کر اس سرد مہری کو
تمہارے گھر میں کیا آئے کہ ہم کشمیر میں آئے
(۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰جاری)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 242 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1019 Articles with 342742 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: