یہ دنیا جانے والی ہے، ابھی بھی وقت ہے لو گو!

(Imran Mehmood, Rawalpindi)

اسلام کے نام پر قائم ہو نے والے پیارے ملک اسلامی جمہو ریہ پاکستان کو ہم نے کس نہج پر پہنچا دیا۔ہم نے سچا ئی اور دیا نت سے ساری دنیا پر حکمرانی کرنی تھی۔ ہم نے اس ملک کو مضبوط کر نے اور اس کی ترقی کے لیئے اپنی انتھک کوششو ں اور قربا نیو ں کا وعدہ کیا تھا۔ پھر کیا ہو گیا کہ ہم نا کام اور کمزور ہو تے چلے گئے۔ ہم نے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا تھا پھر ہم دور کیو ں ہوتے چلے گئے۔ ہم نے
برابری کے تصور کو لے کر زندگی گزارنی تھی، پھر یہ تفریق کیسے پڑ گئی۔ ہم اس کو اسلام کا قلعہ سمجھ بیٹھے جب کہ کیسے یہ خرابی کا گھر بنتا گیا۔

ہم نے اس کو خوشحال وطن دیکھنے کے خواب دیکھے تھے۔ ہمارے کمزور اور غربا ء کیو ں مزید بے بس اور لا چار ہو گئے۔ ہم سچ کاجھنڈا لے کر چلے ، پھر ہم کیسے سچ کے قاتل بن گئے۔ ہم نے حیا کی مضبوط دیوار بنا نی تھی، ہم بے حیا ئی میں کیسے دھنس گئے۔ ہم نے آقا کریم ﷺ کی زندگی پر عمل کرنے کے عہد کیئے تھے پھر ہم ختم نبوت جیسے بڑے معاملے سے بیزار کیو ں ہو گئے، کیسے اپنے نبی ﷺ کی سیرت سے دور ہو گئے۔ ان کی وجو ہا ت ہیں فرقہ واریت، سچ کا قتل، نا انصافی، جھوٹ، حق تلفی، بے ایمانی، طبقا ت میں کھو کھلا فرق۔ ان سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ سکو ن ہم سے دور چلا گیا، خوشحا لی ہم سے دور ہو گئی، زندگی سے ہم بیزار ہو گئے۔ بیما ریا ں ہم پر حاوی ہو گئیں۔ اﷲ ہم سے ناراض ہو گیا ،جس کا ثبوت، ہمارا ایما ن نا قص ہو گیا۔

جس ملک میں ٹک ٹوک کی فضو ل وڈیوز بنا نے والے بے حیا لوگ ملک کے حساس ادارو ں، دفاتر اور وزراء وغیرہ کے دفاتر تک پہنچ جا ئیں، وہا ں جا کر تصویریں اور وڈیو بنا ئیں اور یہ سب پبلک ہو جانے کے باوجود نہ ٹک ٹو کر (tik toker) کو فرق پڑے نہ ان ادارے کے لو گو ں کو اور نہ ہی عوام کو اصل حقائق کا بتا یا جا ئے جبکہ اس کے برعکس عام عوام کاان جگہو ں پر جا نا نا ممکن ہو اور وزرا ء تو بہت دورکی بات ایک سرکاری دفتر کا چپڑاسی تک بات کرنا گوارا نہ کرے اس ملک میں اچھے نظام کی توقع کیسے کریں؟؟؟ان معاملات کی تحقیق کو ن کرے ، اور ذمہ داران کو کون سزا دے ؟؟؟

جس ملک میں ٹما ٹریا پیاز کی قیمت بڑھنے پر سو مو ٹو ایکشن لیا جائے جبکہ بڑے اربو ں کھربو ں کے کیس سالو ں سے حل نہ ہو ئے ہو ں اور حکو متی خزانو ں میں وصو لی نہ ہو، وہا ں غریب کیسے خوشحا ل ہوجبکہ دولت چند لو گو ں کے ہا تھو ں میں ہو ؟؟؟ ملک خو شحا ل ہو گا، عوام کے پاس پیسہ آئے گا تو غریب خو شحا ل ہو گا تو ہی ٹما ٹر پیاز لے سکے گا۔

جس ملک میں اخبارات اپنے ملک کے وزیراعظم کی یہ خبر سرورق دیں کہ انہو ں نے ایک نطم کے شاعر کا غلط نام لکھا، اور جس ملک کے اخبارات سر ورق یہ خبر دیں کہ ہمارے نیوز چینل کو دلچسپی سے سرکاری دفاتر میں دیکھا جاتا ہے، جبکہ اس خبر کو چھو ٹی سی جگہ دے وہ بھی غیر نما یا ں جگہ پر کہ ایک ما ں نے اپنے تین بچو ں کے ساتھ بھو ک کے ہا تھو ں تنگ آکر پنکھے سے لٹک کر خود کشی کر لی، اس ملک کے میڈیا سے آپ کیسے انصاف کی توقع کریں گے؟؟؟

جس ملک میں بڑے علما ء صرف با اثر لو گو ں سے ملیں اور ہندوستانی youtuberسے خود رابطہ کریں جبکہ اپنے ملک کے لو گ ان سے ملنے کو ترس رہے ہو ں اور ان علما ء سے ملنے کا کو ئی طریقہ بھی نہ ہوئے، ایسے میں ان کے چاہنے والو ں،عقیدت مندو ں کے دل میں میل آنا شروع ہوجا تا ہے، ان علما ء تک یہ با ت کون پہنچا ئے گا؟؟؟

جس ملک کے سیاست دان، ارباب اختیار، وزراء اور بڑے افسران بالا، غریبو ں میں راشن و کھا نا وغیرہ تقسیم کرتے ہو ئے میڈیا پر مشہو ری کریں، تصویریں خبر کے ساتھ چھپیں، وڈیو بنیں، غریب کی بے بسی کا مذاق اڑے اور سارا ملک یہ دیکھے ۔ اعلیٰ ظرفی اور خلوص کی توقع کس سے کریں؟؟؟

جس ملک میں سینیئر صحافی ، نا مو ر علما ء کے ساتھ اپنے ایگریمنٹ کا ذکرکریں اور پھر اصل بات عوام کو نہ پتہ چلے کہ یہ ایگریمنٹ تھا کیاآ خر؟ تواب حق اور سچ کی توقع کس سے کریں؟کیا سینیئر صحافی ٹھیک کہہ رہا ہے؟ یا اگر دو نو ں سچے پھر یہ ایگریمنٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ ہم ایک دوسرے کو خراب نہیں کریں گے؟؟؟

جس ملک میں مارننگ شو کے نام پر طوفان بے حیا ئی ہو، جوان بچیو ں کو نچا یا جائے، اور پھر سینیئر صحافی علما سے یہ liveپروگرام میں پو چھیں کہ آپ نے کیا بے حیائی دیکھی اور کس پروگرام میں دیکھی، کتنے معصو م ہیں یہ سب کہ کسی کو کوئی پتہ ہی نہیں، یا تو واقعی ہو کچھ اور رہا ہے اور نظر کچھ اور آرہا ہے۔ کاش کے ملک کی بیٹیاں بی بی فاطمہ ؑ کی پاک اور با حیا ء زندگی کو اپنے اوپر اوڑھ لیتیں۔کاش میرے علما ء بے حیا ئی کے خاتمے کے لیئے دھرنا دیتے۔ آخر اس کو ٹھیک کرنے کون آئے گا؟؟؟

جس ملک میں پتنگ اڑاتے ہو ئے انسانی جا نو ں کا ضیاع اور حادثات ہو ں اور بے حیا ئی چھتو ں پر ہو رہی ہو، حتیٰ کہ پتنگ بازی پربرائے نا م پابندی ہو، پتنگ اڑانے والو ں کو تو گرفتار کرنے کی کوششیں کی جائیں جبکہ پتنگ اور ڈور بنانے والے آزاد پھر رہے ہو ں۔ اس ملک میں آپ اس بیماری کا جڑ سے کیسے خاتمہ کر سکتے ہیں جبکہ آپ جڑ کا تو خاتمہ ہی نہیں کر رہے؟؟؟

جس ملک میں سیاستدا نو ں کی کمپنیا ں اور ایئر لائنز منافع میں ہو ں، اور ملک کے ادارے نقصا ن میں ، اس ملک میں خو شحا لی کیسے آسکتی ہے، اور یہ معاملات کو ن سدھارے گا، ان حقائق کی بنیا د پر کو ن ملک کے ادارو ں کو منافع بخش ادارے بنائے کے لیئے کردار ادا کرے گا؟؟؟اس ملک کے لیئے کو ن سوچے گا؟؟؟

جس ملک میں بچو ں کو 10سال کی عمر میں ان کے والدین مو ٹر سائیکل لے کر دے دیں، اور نہ بچو ں کو کوئی پوچھنے والا نظا م ہو اور نہ ہی والدین کو،بغیر ہیلمنٹ کے مو ٹر سائیکل چلا ئے جا رہے ہو ں، اس ملک میں لو گو ں کو حادثات سے کو ن بچا سکتا ہے؟؟؟

جس ملک میں عوام توٹریفک کے گندے نظا م کی وجہ سے گھنٹو ں ہجو م میں پھنسے رہیں اور خود کو کوستے رہیں اور ارباب اختیار لو گو ں کو گالیو ں سے نوازتے رہیں، جبکہ وزراء، ارباب اختیار اور وی وی آئی پیز کے لیئے روٹ لگا کر ان کو گزار دیا جائے، اس ملک میں عدل کیسے قائم ہو سکتا ہے؟؟؟

جس ملک میں قابل احترام علما ء کرام گالیاں دیں، فرقہ واریت کو فروغ دیں اور اپنے اصل فرا ئض سے غفلت برتیں، اس ملک میں ہمیں اخلاق ، صبر، پیار، یگانگت اور دوسرو ں کو معاف کرنا اور درگزر کو ن سکھا ئے گا؟؟؟

جس ملک میں باپ کو بری طرح سے گالیا ں دی جا ئیں، ما ں کوبے دردی سے ماراپیٹا جا ئے،اپنی بہنو ں کے جا ئیداد وں میں حصو ں کو ہڑپ کیا جا ئے، اس ملک میں رشتو ں کے حقوق کو ن سکھا ئے گااور والدین کا رتبہ ہمیں کو ن بتا ئے گا؟؟؟

غرض یہ کہ اتنے مسائل ہیں کہ ہم بے بس ہیں صر ف رو ہی سکتے ہیں کیو نکہ یہا ں ان مسائل کا تدارک کرنے والے کو ئی نہیں۔یہا ں اﷲ سے دوری ہے۔ پیارے نبی پاک ﷺ کی پاکیزہ زندگی سے نا آشنا ئی ہے۔اسلام سے دوری ہے۔اخلاص کی کمی ہے ۔ مو ت ہمارے سرو ں پرمنڈلا رہی ہے۔دو نو ں فرشتے ہر پل ہمارے ساتھ ہیں اور ہم سے یہ بھی نہیں سوچا جاتا کہ کرو ڑوں، اربو ں اور کھربو ں روپے کما نے کے باوجو د اور 100سال کی زندگی گزارنے کے باوجو دبھی تو آخر مرنا ہے، آخر اﷲ کے سامنے کھڑے ہو کر جواب دہ ہو ناہے۔ اپنے نبی پاک ﷺ کا سا منا کرنا ہے۔ کاش کہ یہ پیارا ملک، میرے پیارے نبی ﷺ کی حقیقی مدینہ کی ریاست ہوتی ۔ اور کاش کے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ جیسے حاکم ہوتے۔ اور کاش کہ ہم لو گ بھی ذمہ دار اور دین دار ہو تے۔ہم سب اس ملک کی بد حالی میں برابر کے حصہ دار ہیں۔ اور اس کو خوشحال بھی ہم سب ہی مل کر کر سکتے ہیں۔اﷲ پاک ہمارے وطن عزیز کی حفاطت کرے ۔ آمین۔

میرا یہ تحریر لکھنے کا سبب کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ ہم سب کی اصلا ح کرنا ہے۔عاجز کی اس تحریر کا مقصد کسی کو ٹارگٹ کرنا نہیں، یہ میرے دل کے الفاظ ہیں، اور یہ میرے دکھ ہے۔جو قارئین کے گوش گذار کر رہا ہوں۔ کاش کہ ہم لوگ ابھی بھی لو ٹ آئیں، کیو نکہ ابھی بھی دیر نہیں ہو ئی ہے۔ جب تک آنکھ کھلی ہے اور جتنی بھی زندگی باقی ہے اس میں اپنی زندگی کو آقا کریم ﷺ کی غلا می میں گزارنے کا عہد کرتے ہیں کیو نکہ بقول حضرت مو لانا حافظ پیر ذوالفقاراحمد نقشبندی صا حب کے:
ابھی بھی وقت ہے لوگو
خدا سے گڑ گڑا کر تم
ابھی توبہ کرو لو گو
خدا راضی کرو لوگو
وہ جلدی ما ن جا تا ہے
وہ اب بھی تم کو چاہتا ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imran Mehmood

Read More Articles by Imran Mehmood: 4 Articles with 1139 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jul, 2020 Views: 248

Comments

آپ کی رائے