عمران خان کو استعفیٰ دینا چاہئے یا کچھ اور ؟

(Roshan Khattak, Peshawar)

 یہ ایک حقیقت ہے کہ عمران خان پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد کے امیدوں کے مرکز اور دلوں کے دھڑکن تھے ۔ان کی تقاریر اور باڈی لینگویج محروم طبقے کے لئے روشنی کا مینار تھی۔راقم الحروف اگر چہ کسی سیاسی پارٹی کا حصہ نہیں مگر پاکستان سے محبت مجھے کسی ایسے شخص سے محبت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جو پاکستانی عوام کو بڑے بڑے مگر مچھوں سے نجات کا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہو، بایں وجہ مجھے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ عمران خان کی صورت میں مجھے پاکستانی لٹیروں سے نجات دہندہ کی خوشبو محسوس ہوتی تھی۔ مگر دو سال حکومت کرنے کے بعد میں یا میری طرح بے شمار عوام جو کچھ محسوس کر رہی ہے،وہ ‘وہ کچھ نہیں ہے جو دوسال پہلے کی تھیں ۔ عمران خان کی نیّت پر تو آج بھی کوئی شک نہیں، وہ پاکستان کو بد لنا چا ہتے ہیں لیکن اب اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں مختلف مافیاز نے جس طرح اپنے خونیں پنجے گا ڑے ہیں ،ان سے پاکستانی عوام کو نجات دلانا عمران خان کی بس کی بات نہیں ہے۔ اس لئے اب ان کے چاہنے والے یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا عمران خان کو مسلسل ناکا میوں کا سامنا کرتے ہوئے پانچ سال پورے کرنے چا ہیئں اور اپنا نام پاکستانی تاریخ میں ایک ناکام حکمران کی حیثیت لِسٹ میں درج کرنا چا یئے یا ایک غیرتمند شخص کی طرح استعفیٰ دے کر نئے انتخابات کروانے چاہیئں تاکہ قوم خود اپنے لئے آبیل مجھے مار کے مصداق اپنے لئے پرانے حکمرانوں میں سے ہی کسی کا انتخاب کرے ۔اور عمران خان کو بھی پھر اسی طرح ذلیل و خوار کرے جیسے سابقہ صدر پرویز مشرف کو ذلیل و خوار کیا ہے۔

عمران خان کو اپوزیشن والے سلیکٹیڈ وزیرا عظم کا طعنہ دیتے رہتے ہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر ایسی بات ہے بھی تو سلیکٹ کرنے والوں نے پرانے حکمرانوں کے کرتوت دیکھ کر عمران خان کو ملک کے مستقبل کے لئے اچھا سمجھا ہو گا یعنی سب کچھ in good faitکیاہوگا۔ مجھے اس میں کوئی بد نیتی نظر نہیں آتی۔مگر عمران خان کے دو سال کی حکمرانی نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا ،عوام کے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ۔ مہنگائی کا تناسب زیادہ، ڈالر کی قیمت بڑھنے اور روپے کی قدر میں کمی نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ سالانہ بجٹ میں ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ ڈاکٹرز، انجینیئرز، تاجر، مزدور ،سرکاری ملازمین الغرض ہر کوئی اپنی جگہ پریشان و بے چین ہے۔ اگر ہم غیر جانبداری سے عمران خان کے ناکامی کا جائزہ لیں تو یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ اس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کے مختلف اداروں اور اشخاص میں بد دیانتی اور کرپشن کا وہ بیج ہے جو پرانے حکمرانوں کا بویا ہوا ہے اور وہ بیج اب بے شمار تناور درختوں کی صورت میں موجود ہے۔ان تناور درختوں کو جب تک جڑوں سے کا ٹا نہیں جاتا تب تک عمران خان ہو یا اس کی جگہ کوئی اور آئے، کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ نظام میں کوئی ایسی تبدیلی لائی جائے ،کوئی ایسا سیلاب لایا جائے جو ان درختوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے ورنہ تبدیلی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ مگر یہ سیلاب پاکستان میں انتخابات کے ذریعے نہیں آسکتا۔ کیونکہ ان خونیں پنجوں نے،ان سرمایہ داروں نے پہلے سے ایسا بندبست کر رکھا ہے کہ الیکشن میں انہی کی جیت ہو اور ان ہی کا پسندیدہ نظام چلے۔ میرے نزدیک اس کا ایک ہی حل ہے ۔عمران خان کو استعفیٰ دینے کے بجائے ایک ایسا قدم اٹھانا چاہیے جو اسے ہیرو بنا دے ۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ بھی ملکی مفاد کی خاطر ان کا ساتھ دے رہی ہے،مجھے یقین ہے کہ ان کو بھی ملکی حالات پر تشویش ضرور ہو گی ۔اگر عمران خان ان کو بھی بطورِ بیساکھی استعمال کرتے ہوئے اسمبلیاں توڑے اور ملک میں اسلامی صدارتی نظام لے آئے اور پھر قرآنِ کریم کے ہدایت اور اﷲ کے حکم کے مطابق سزائیں نافذ کر دے تو یقینا مافیا کی سیاست ختم ہو جائے گی ۔ قرآن مجید کی سورت المائدہ آیت نمبر ۳۳ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے (ترجمہ ) ’’ ان کی یہی سزا ہے جو اﷲ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اورملک میں فساد کو دوڑتے ہیں یہ کہ انہیں قتل کیا جائے یا وہ سولی پر چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹے جائیں یا وہ جلا وطن کئے جائیں یہ ذلّت ان کے لئے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے ‘‘‘

بِلا شبہ وطنِ عزیز میں فساد ( کرپشن ،ملکی خزانہ کا لوٹ مار،بے انصافی وغیرہ فساد کے زمرے میں آتا ہے ) پھیلانے والے اسی سزا کے مستحق ہیں جن کا ذکر درج بالا آیت میں درج ہے اگر عمران خان نے ہیرو بننا ہے تو وہ استعفیٰ کے بجائے اسلامی صدارتی نظام میں بدلنے کے لئے ساری کشتیاں جلا دے، اس سلسلہ میں وہ ترکی، سعودی عرب اور دیگر ایسے ہی ہم خیال دوستوں سے صلاح و مشورہ اور مدد لے سکتا ہے ۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر اس کے لئے یہی دو راستے ہیں کہ یا تو وہ با عزّت مستعفی ہو جائیں یا پھر اپنا نام ایک ناکام حکمران کے طور پر تاریخ میں درج کرنے کو تیار رہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 278 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: roshan khattak

Read More Articles by roshan khattak: 260 Articles with 141804 views »
I was born in distt Karak KPk village Deli Mela on 05 Apr 1949.Passed Matric from GHS Sabirabad Karak.then passed M A (Urdu) and B.Ed from University.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: