کشمیر کے ننھے مظلوم کی کہانی

(Mir Afsar Aman, Islamabad)

کشمیر کا ننھا مظلوم بچہ بھی اُن بچوں کی صف میں شامل ہو گیا، جن کے پیارے والدین کو اُن کے سامنے سفاک دشمنوں نے اُن کو شہید کیا۔ اس محصوم بچے کی تصویر شائع ہوئی ۔وہ اپنے نانا کی الٹی پڑی لاش کے اُوپر بیٹھا ہے۔ رو رو کے ظلم کی داستاں سنا رہا ہے۔ ویڈیو میں کہتا ہے کہ میرے نانا کو ٹھا ٹھا ٹھا گولیوں مار کر بھارتی فوج نے شہید کر دیا۔ اس مظلوم کی یہ باتیں سن کر انصاف پسند لوگوں کے کلیجے منہ کو آ گئے۔ تین سالہ نواسے کے سامنے مظلوم کشمیری کو سپرد خا کر دیا گیا۔اس شہید کے جنازے میں بڑی تعدا د میں کشمیریوں نے شرکت کی۔ کشمیریوں نے پہلے کی طرح بھارت کے خلاف نعرے لگائے۔ دشمنوں ہمارے وطن کشمیر سے نکل جاؤ۔ہمیں پاکستان میں شامل ہونا ہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے قبل اسرائیل نے ۱۹۴۸ ء سے جنگیز اور ہلاکوکاانسانیت کش کھیل فلسطین میں مسلمان بچوں کے ساتھ جاری تھی۔ فلسطین کے محصوم بچوں کی لاشیں اس کے والدین ہاتھوں میں اُٹھائے اسرائیلی فوجیوں کے لیے بددعائیں کرتے اور فلسطینی بچوں کے سینوں پر بندوق تانی اسرائیل فوجی کی تصویری وائرل ہوتی رہیں ہیں۔ شیطان کبیر امریکا نے عراق پر حملہ کر کے لاکھوں بچوں کو شہید کیا ۔ محصوم بچے دودھ نہ ملنے کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں شہید ہو گئے۔اس سے پہلے افغانستان میں بھی یہی ابلیسی کھیل کھیلا گیا۔ دنیا نے مسلمان بچے کی لاش سمندر نے اپنے ساحل پر پھینکی کہ شاید دنیا کو اس بچے پر ترس آئے۔ شام کا بچہ اپنے ماں کی لاش سامنے رکھ کر کہہ رہا ہے میں اﷲ سے قیامت کے دن تمھارے ظلم کی شکایت کروں گا،کی بھی تصویر وائرل ہوئی تھی۔ لیبیا، بوسنیا، شام، چیچنیا، برما اور ساری دنیا میں مسلمان بچوں کو بے دردی سے تہ تیغ کیا گیا۔ مسلمان بچوں کی تو دنیا میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔یہ کیوں ہے کہ مسلمانوں نے اپنی اصل چھوڑ دی ہے۔ مسلمانوں کی اصل جہاد فی سبیل اﷲ ہے۔ جب تک مسلمانوں جہاد شروع نہیں کرتے ایسے ہی قتل ہوتے رہیں گے۔

اقوام متحدہ نے بھارتی درندگی کا نوٹس لیا۔ سیکرٹیری جرنل نے اپنے بیان میں کہا کہ بشیر احمد کو قتل کرنے والوں کو گرفتار کے کے سخت سزا دی جائے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس کی مذمت کی اور کہا کہ بھارتی اقدام بچوں کے قانون کی بھی خلاف وردی ہے۔ ساری دنیا نے اس کشمیری بچے کی فریاد سنی۔ اس بچے نے اپنے اقبالی بیان میں کہا کہ بھارتی فوج نے ٹھا ٹھا ٹھا گولی چلا کر میرے نانا کو شہید کیا۔ سفاک بھارتی فوجیوں نے بشیر احمد کی لاش کو پیروں تلے روندا۔ پاکستان کی طرف سے بیان آیا کہ دل ہلا دینے والی تصویر دنیا کو ہمیشہ یاد رہے گی۔ آزادکشمیر وزیر اطلاہات نے کہا کہ مودی اب کشمیری کے بچوں کا بھی قصاب بن چکا ہے۔ دنیا اس کشمیری بچے کو انصاف دلائے۔ کشمیراسمبلی کے اسپیکر نے کہا کہ انتہائی دلخراش ویڈو دہشت گرد اسٹیٹ بھارت کی واضع تصویر دکھا رہے ہے۔

کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک مشترکہ مسئلہ ہے۔ تقسیم ہند کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معاہدے کے مطابق کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا تھا۔ تقسیم کے معاہدے میں کہا گیا تھا کہ برعظیم میں جہاں ہندو اکثریت میں وہ علاقے بھارت اورجن علاقوں میں مسلمان زیادہ ہیں وہ پاکستان میں شامل ہوں گے۔ کشمیر میں مسلمان نوے فی صد سے زیادہ تھے۔ اس لیے کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا تھا۔ ویسے بھی کشمیری مسلمانوں کی نمایدہ جماعت آل جموں کشمیر کانفرنس نے اپنے ایک قراراداد میں پاکستان میں شامل ہونا کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران کشمیر میں راجہ کی فوجوں کو کشمیری مجائدین نے گلگت بلتستان سے نکال دیا۔وادی کشمیر میں راجہ کے خلاف بغاوت ہوئی۔ راجہ کشمیر کے دا رالحکومت سری نگر بھاگ گیا تھا۔ وہ ہندو ہونے کے ناتے کشمیر کا قانونی طور پر حکمران بھی نہیں رہا تھا۔راجہ نے بھارت کے ساتھ ایک جعلی الحاق کی دستاویزتیار کی۔ بھارتی نمایندہ اسے ملنے جموں آیا کہ اس پر دستخط کرے۔ راجہ باگ دورڑ میں بھارت کے نمایدہ سے مل بھی نہ سکا۔مگر بھارت نے راجہ کی جعلی دستاویز کے تحت کشمیر کو ساتھ ملانے کا اعلان کر کے سری نگر میں اپنے فوجیں اُتار دیں۔ پونچھ کے سابق کشمیری فوجیوں، پاکستان کی فوج اور پاکستان کے قبائلی عوام نے اﷲ اکبر کا نعرہ لگا کر جہاد شروع کیا اور کشمیر کی طرف بڑھتے گئے۔تین سو میل لمبا اور تین میل چوڑا موجودہ آزاد کشمیر کا علاقہ آزاد کر لیا۔ یہ جہادی فوج سری نگر کی طرف بڑھ رہی تھی۔ چنددنوں میں جہادی پورے کشمیر کوجہاد کے ذریعے آزاد کرا لیتے۔

بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اقوام متحدہ گئے اور جنگ بندی کی درخواست کی۔اپنی درخواست میں کشمیریوں ،پاکستان اور دنیا سے وعدہ کیا کہ کشمیر میں امن قائم ہونے پر کشمیریوں کو اپنی رائے استعمال کرنے کاحق دیا جائے گا۔ اپنی آزاد رائے سے وہ بھارت میں یا پھر پاکستان میں شامل ہونا چایتے ہیں ہم اس کا احترام کریں گے۔ اتنے بڑے نام نہاد جمہوری ملک بھارت کے وزیر اعظم اپنے سیاسی رہنما کوٹلیا چانکیہ کے مکر والی سیاست ،کہ جس کو قتل کرنا ہو اُس سے پہلے دوستی کرو۔ پھر مکر سے اس کو قتل کرو۔ اس کے لاش پر آنسو بہاؤ والی چال پر عمل کرتے ہوئے کشمیریوں، پاکستان اور دنیا سے اپنے وعدے سے مکر گیا۔ اگر پاکستان بھارت کی مکررانہ چال میں نہ پھنستا تو کشمیر پاکستان کا حصہ بن چکا ہوتا۔

بھارت نے تقسیم ہند کے بعد سے پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈ بھارت میں شامل کرنے کے ڈاکٹرائین پر عمل کر رہا ہے۔ اس ڈاکٹرائین پر پہلے پاکستان کے دوٹکڑے کر چکا۔ دس مذید ٹکڑے کرنے کے لیے پاکستان پر دھائر بڑھاتا رہتا ہے ۔ کئی دفعہ پاکستان پر حملے بھی کر چکا ہے۔ یہ کہاں کی دانشمندی یہ جانتے ہوئے بھی پاکستان بھارت کو آسان ٹارگٹ مہیا کر رہا ہے۔اس کا ایک ہی علاج ہے جہاد فی سبیل اﷲ ۔ جہاد سے ہی کشمیر کو آزاد ہو کر پاکستان میں شامل کیا جا سکتا ہے۔اگر اس پر پاکستان نے عمل نہیں کیا تو تاریخی غلطی کرے گا۔ ارباب اقتدار مل بیٹھ کر بیٹھیں اور پاکستان کو بچانے کی تدبیر کریں۔ دنیاوی پیمانوں پر حسا ب کتاب نہ کریں ۔ صرف اﷲ پر بروسہ کریں۔ کیا جب موجود آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان آزاد کرایا گیا تھا تو پاکستان بہت طاقت ور تھا۔ نہیں اس سے بھی کمزور تھا۔ اب تو پاکستان ایٹمی اورمیزائل قوت ہے۔پاکستان جہاد شروع کرے اورفیصلہ اﷲ پر چھو ڑ دے۔

بھارت۱۹۴۷ء سے کشمیریوں کے ساتھ ظلم روا کر رکھا ہے۔ آٹھ لاکھ سفاک بھارت فوج کشمیریوں پر مسلط کی ہوئی ہے۔ دنیا کے کسی جنگی محاذ پر اتنے تعداد میں کبھی بھی فوج نہیں لگائی گئی۔لاکھوں کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے۔ظلم کا کوئی بھی حربہ نہیں چھوڑا۔ بھارت میں بی جے بی کی حکومت آئی ۔ جو دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس ( راشرٹیہ سویم سیوک سنگھ) کی مدد سے اقتدار میں آئی ہے۔ دہشت گرد مودی اس دہشت گرد تنظیم کا بنیادی رکن ہے۔ اس نے اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے بھارت کے آئین میں کشمیربارے خصوصی دفعہ۳۷۰؍ اور ۳۵؍اے کوگذشتہ سال اگست ۲۰۱۹ء کو غیر آئینی طور پر ختم کے کشمیر کا بھارت کا حصہ بنا لیا۔اس دن سے کشمیر مذاہمت کر رہے ہیں بھارت نے اُسی وقت سے کشمیر میں کرفیو لگا یا ہوا ہے۔ بچوں، بزرگوں، عورتوں اور نوجوانوں کے بے دردی سے شہید کر رہا ہے۔ بھارت کی جیلیں کشمیریوں سے بھر دیں گئی ہیں۔ آر ایس ایس نے کشمیریوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے ایک ترانہ وائرل کیا ہے ۔اس میں ایک لڑکی مودی والی پگڑی پہنے بھارتی جھنڈے کے سامنے کھڑی گا نا گا رہی ہے۔’’غداروں تم بیٹھے رہنا پہن کے چوڑی ہاتھ میں۔ بنے گا مودی راج میں مندر اسلام آباد میں۔ پاکستان پرستوں ،تم رہو ذرا اوقات میں۔مودی راج میں بنے گا مندر اسلام آباد میں۔پاکستان کے چمچوں ،تم رہو ذرا اوقات میں۔مودی راج میں بنے گا مندر اسلام آباد میں‘‘ ایک طرف آر ایس ایس کا یہ پاکستان دشمن ترانہ۔ اور دوسرے طرف عمران خان حکومت کا اسلام آباد میں مندر بنانا شروع کیا۔ اسلام آباد میں بنی بیسوں سال پرانے مسجد کو اس نازک وقت میں مسمار کر دیا گیا۔ کوئی معمولی ذہن کا حکمران بھی بھی ایسے موقعہ پر ایسی عوام دشمن حرکت نہیں کر سکتا۔ ذرائع کہہ رہے ہیں کہ اب عمران خان کے دن گنے چنے رہ گئے ہیں ۔ہم اور محبت وطن دانشور اپنے درجنوں کالموں میں کشمیر کی آزادی کے لیے کئی ممکنہ اقدامات کی سفارش کرتے رہے ہیں۔ عمران حکومت اِن اقدامات کی طرف دھیان نہیں دی رہی۔ اے کاش ! ہم کشمیر کے ننھے مظلو م کی کے زخموں پر مریم رکھنے والے بنیں، نہ کہ ہماری بے وقوفیوں کی وجہ سے دکھیا کشمیریوں بچوں کے دل زیادہ دکھ میں مبتلا ہوں۔ اﷲ کشمیریوں کی مدد فرمائے آمین۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 359 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mir Afsar Aman

Read More Articles by Mir Afsar Aman: 877 Articles with 402717 views »
born in hazro distt attoch punjab pakistan.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: