مقنّنہ،انتظامیہ اور عدلیہ کو اوور ہالنگ کی ضرورت

(Roshan Khattak, Peshawar)

 اگر ہم پاکستانی سیاست، طرزِ حکمرانی اور تمام سابقہ حکمرانوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو ہمیں مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں ملتا انہی حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور ہوسِ زر نے ملک کے تمام اداروں کو مفلوج کیا ہوا ہے۔ کسی بھی ملک کی عمارت تین ستونوں پر ایستادہ ہوتی ہے، مقنّنہ ، انتظامیہ اور عدلیہ ۔ ان تینوں ستونوں کی کارکردگی پر نظر دوڑائیں تو نتیجہ صفر ہی نظر آتا ہے،یہ دیمک زدہ ہو چکے ہیں ،اب یہ ملکی خزانہ پر بوجھ کے علاوہ کچھ نہیں ۔ہماری پارلیمنٹ دو ایوانوں پر مشتمل ہے، ایوانِ زیریں (قومی اسمبلی) اور ایونِ بالا (سینیٹ ) قومی اسمبلی میں کل 342ارکان ہیں جبکہ سینیٹ میں 100 سینیٹرز ہیں ۔ان 442ارکانِ پارلیمینٹ پر سالانہ خرچہ اربوں روپے آتا ہے۔ ان دونوں معزّز اداروں کا کام قانون سازی ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ ان دونوں اداروں کا نشت و برخواست کے علاوہ کوئی کارآمدکاروائی نظر نہیں آتی بلکہ اکثر بوقتِ قومی اسمبلی اجلاس ان کے نعرے بازی اور تقریریں سن کر گھن آنے لگتی ہے۔

دوسرا بڑا ادارہ یا ملکی ستون انتظامیہ ہے ۔ ہماری انتظامیہ کہاں تک کامیاب ہے ؟ کہاں تک عوام کے مسائل کو حل کرنے میں وہ سنجیدہ ہے ؟

دفاتر میں عوام کا کام کیسے سر انجام دیا جاتا ہے ؟ ان تمام باتوں کے جوابات عوام خوب جانتے ہیں۔ انتظامیہ کا عمومی روّیہ عوام کے کاموں میں روڑے اٹکانا بن گیا ہے روڑے ہٹانا نہیں ۔ ‘‘ تیسرا ستون عدلیہ ہے، جس کا کام عوام کو انصاف فراہم کرنا ہے مگر سب جانتے ہیں کہ انصاف نام کی کوئی چیز کم از کم غریب شخص کے لئے تو بالکل ہی ناپید ہے ۔دنیا میں کسی بھی قوم کی مہذب ہونے یا نہ ہونے کی کسوٹی یہ ہے کہ اس میں قانون کی حکمرانی اور قانونی مساوات کے تصورات کا عملی طور پر کس حد تک اطلاق ہوتا ہے ۔سردارِ دو جہاں سرورِ انبیاءﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے امتیں اس لئے ہلاک ہو ئیں کہ وہ کمزور کو تو سزا دیتی تھیں لیکن ان کے طاقتور لوگ قانون کے سامنے جواب دہ نہیں تھے۔ ‘‘ آج پاکستان میں یہ کچھ ہو رہاہے، عدالتی نظام تقریبا مفلوج ہو چکا ہے ۔بے شمار ایسی مثالیں ہیں ،جس میں عدلیہ نے بڑے بڑے مجر موں کو باعزت بری کیا ، اور غریب عوام ان کے فیصلوں کو دیکھ کر انگشت بدانداں ہوجاتی ہے۔جبکہ ججوں کے تنخواہیں اور بعد از ریٹائرمنٹ پنشن اور دیگر مراعات پر قومی خزانے سے اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں ۔

ان تینوں بڑے اداروں کے کارکردگی پر تبصرے کا مقصد کا یہ ہر گز مقصد نہیں کہ یہ ادارے بالکل ہی ختم کئے جائیں ۔یقینا کوئی بھی ملک متذکرہ تین اداروں کے بغیر چل ہی نہیں سکتا مگر دنیا میں کو ئی بھی اچھی چیز گل سڑ جائے ،تو وہ بیکار ہو جاتی ہے اور اس کا کو ئی فائدہ نہیں ہو تا ۔ با ایں وجہ راقم الحروف سمجھتا ہے کہ اب ان اداروں کی مکمل اوور ہالنگ کی ضرورت ہے۔ جب تک ان کی مکمل اوور ہالنگ نہیں کی جاتی تب تک عوام بقولِ فیض احمد فیض یہی کچھ سوچے گی کہ ،
’’ یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر ۔۔ وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں ‘‘

ہم جیسے پاکستان کے تقریبا ہم عمر لوگوں نے پاکستان کے بارے میں بڑے بڑے خواب دیکھے تھے ، اس وقت پاکستا کی عمر 73سال ہو چکی ہے ، اس دوران ہم آرزوئں اور خواہشوں کے بَل بوتے پر جیتے رہے۔ خواب دیکھتے رہے ، ایک الیکشن کے بعد دوسرے الیکشن سے امیدیں باندھتے رہے۔مکڑی کے جالے کے تار سے خواب بنتے رہے ۔یہ ضروری بھی تھا کیونکہ مایوسی کی کالی گھٹائیں انسان کے خیالی وجود کو بھسم کر دیتی ہے۔ مگر اب جب ایک طویل عرصہ گزرا تو محسوس ہوا کہ خواب میں کیکر کے درخت پر آم لگ سکتے ہیں مگر حقیقی دنیا میں ایسا ممکن نہیں۔ پاکستان کے سابقہ تمام حکمران کیکر کے درخت ہی رہے۔

پاکستان بن گیا ،یہ نشانِ منزل تھا، منزل نہیں ۔افسوس کہ منزل پر پہنچنے کے لئے جس راہبر کی ضرورت ہو تی ہے ،جس زادِ راہ کی ضرورت ہو تی ہے ، وہ ہمارے پاس نہیں تھا ،سحر طلوع ہوئی لیکن شب گزیدہ۔۔ ملک کے تینوں بڑے ستون ’’ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ ‘‘ ملکی خزانہ پر بوجھ تو ضرور ہیں مگر ان کی کارکردگی اب اس قابل نہیں رہی کہ وہ عوام کی خوابوں کی تعبیر بن سکے ۔ موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے الیکشن سے قبل پاکستا ن کو نیا پاکستان میں بدلنے کے بڑے بڑے دعوے کئے تھے ،وزیر اعظم بنتے ہی ان کے لئے ایک سنہری موقعہ تھا کہ وہ ان تینوں اداروں میں انقلابی تبدیلی لاتے ،مگر افسوس کہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ،سٹیٹس کو کو برقرار رکھا مگر اب بھی ان کے پاس تین سال باقی ہیں اگر انہوں نے واقعی پاکستان کو بدلنا ہے تو ملک کے ان تینوں متذکرہ دیمک زدہ ستونوں کو دیمکوں سے نجات دلا دیں،تطہیر کا عمل شروع کریں ،عوام کو ہیجانی کیفّیت سے باہر نکالیں ۔ورنہ ہمارے قلم کے نوک پر تو یہی اشعار رقص کرتے نظر آئینگے کہ
’’ ابھی چراغِ سر راہ کو کچھ خبر ہی نہیں ۔۔ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی۔۔چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی ‘‘

قارئین کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ ان تینوں اداروں کی اوور ہالنگ کیسے کی جاسکتی ہے ؟ ان کے خدمت میں یہی عرض کرونگا کہ بڑے اور مشکل کاموں کا حل نکالنا لیڈرز اور مقتدر حلقوں کا کا م ہے، اب یہ ان کا کام ہے کہ وہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور سوچیں کہ کس طرح ان تنیوں اداروں کی اوور ہالنگ کرکے پاکستان کو سیدھے ٹریک پر لگایا جا سکتا ہے ۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: roshan khattak

Read More Articles by roshan khattak: 271 Articles with 159466 views »
I was born in distt Karak KPk village Deli Mela on 05 Apr 1949.Passed Matric from GHS Sabirabad Karak.then passed M A (Urdu) and B.Ed from University.. View More
17 Jul, 2020 Views: 230

Comments

آپ کی رائے