بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی

(Dr Salim Khan, India)

مثل مشہور ہے’’بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی ، آخر ایک نہ ایک دن چھری کے نیچے آئے گی ‘‘۔ اس محاورے میں ’بلی کے بکرے ‘ کا نہیں بلکہ اس کی ماں کا ذکر ہے۔ آپ ایسی بکری کا تصور کریں جس کے باڑے میں بہت ساری کالی بھیڑیں شامل ہو گئی ہوں بلکہ کچھ بھیڑیوں نے بھی بھیڑ کی کھال اوڑھ رکھی ہو۔ اس باڑے کے آس پاس بے دھڑک قصائی نوٹوں کی ننگی تلوار لے کر منڈلا رہا ہو۔ ایسے میں جب وہ بکروں کی اماں چھری کے نیچے آئے گی تو یہ کالی بھیڑیں کس کے ساتھ ہوں گی؟ بکری کے یا قصائی کے ؟ بلکہ وہ قصائی کو ذبح کرنے کی ترکیب سکھائیں گی ۔ بکری کو دھوکہ دے کر قصائی کے نرغے میں لے آئیں گی۔ باڑے میں موجود بھیڑ کی کھال میں چھپے بھیڑئیے رال ٹپکا ٹپکا کر بکری کے ذبح ہونے کا انتظار کریں گے بلکہ موقع ملتے ہی اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر قصائی کو زحمت دینے کے بجائے خود ہی بکری کو دھر دبوچیں گے ۔ گرم گرم تازہ خون پینے کے بعد نرم گوشت سے اپنی بھوک مٹائیں گے اور قصائی سے اپنا محنتانہ بھی وصول کرلیں گے ۔ یہ تو ایک عمومی تمثیل ہے لیکن اگر اس میں کسی مدھیہ پردیش، راجستھان، کرناٹک ، گوا اور بہار کی سیاست نظر آجائے تو یہ ہمارے قلم کا نہیں اس کی نظر کا قصور ہے ۔

بکرے کی مستی ویسے بھی بہت مشہور ہے لیکن کانگریسی بکروں میں چربی کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے۔ کانگریس پارٹی کو جب مرکز میں اقتدار حاصل ہوتا ہے تو یہ بکرے کسی قدر قابو میں رہتے ہیں ۔ اس لیے کہ صوبوں کے اندر جب ان میں سے دو سینگ لڑاتے ہیں تو ہائی کمان ایک کو مرکز میں بلا کر گلے میں مرکزی وزارت کا پٹہّ ڈال دیتا ہے۔ اس کے بعد بھی نہیں مانتے تو ان کے پیچھے سی بی آئی کو لگا کر سینگ کو کٹوا دیتاہے۔ وہ اگر مخالف جماعتوں سے پینگیں بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو خصی کردیا جاتا ہے لیکن مرکز میں اقتدار نہیں ہونے کی صورت میں یہ حربے دستیاب نہیں ہوتے ۔ اس کے سبب یہ بکرے بگڑے ہوئے سانڈ کی مانند بے قابو ہوکر ازخود مذبح خانے میں جاکر لیٹ جاتے ہیں ۔ اس کے بعد کمل چھاپ قصائی ان کی گردن پر چھری پھیرنے کے بجائے اپنی آغوش میں لے کر پارٹی میں شامل کرلیتاہے۔ ایک نئے اوتار میں انہیں نندی بیل بناکر سرکار میں شامل کرلیا جاتا ہے۔اس نندی بیل کا فرض منصبی دن رات سر ہلا ہلا کر ’ ہر ہر مودی ، گھر گھر مودی‘ کی جاپ کرنا ہوجاتا ہے۔

مدھیہ پردیش کی طرح راجستھان میں بھی جب وہی پرانی کھیل دوہرانے کی کوشش کی گئی تو کانگریس کے اعلیٰ ذرائع نے پیر (12جولائی) کو بتایا کہ 102 ارکان اسمبلی نے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کی حمایت میں خط سونپا ہے۔ یہ اطلاع بھی دی گئی کہ نائب وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے ابھی تک پارٹی کے خلاف کچھ بھی نہیں کہا ہے۔ اس بیان کو پڑھ کر وزیر اعظم کا گلوان وادی والا بیان یاد آگیا کہ چین ہماری سرحد میں گھسا ہی نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو نکالنے کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ جس طرح چین کو بزورِ قوت نکالنا مودی جی کےلیے مشکل تھا اسی طرح پائلٹ کو کانگریس سے دھکے دے کر بھگانا کانگریس کے لیے ممکن نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ خود نکل جائیں جیسے کے چینی فوجی ازخود پیچھے ہٹ گئے ہیں تو انہیں کون روکے؟ بلکہ کیوں اور کیسے روکے؟؟ کانگریس کا یہی سنکٹ ہے ۔ جس طرح مودی جی کواپنے خطاب کے بعد اگلے دن دفتر سے وضاحت پیش کروانے کی ضرورت پیش آئی اسی طرح کانگریس کو ایک دن بعد پائلٹ کو صوبائی صدارت اور وزارت سے ہٹانے پر مجبور ہونا پڑا لیکن پارٹی کی رکنیت سے ہنوز نکالا نہیں گیا ۔ وہ چاہتی ہے کہ یہ پائلٹ اپنی مرضی سے اڑ جائے اور عوام میں جاکر ابلہ ناری کی مانند ٹسوے نہ بہائے۔

کانگریس کی سچن پائلٹ کو 72 گھنٹوں تک منانے کی کوشش ہند چینی سرحد پر متحارب فوجی کمانڈروں بات چیت کی مانند ہے کہ کوئی نتیجہ نہ نکلے تب بھی امید کا دیا جلتا رہتا ہے۔ اس سے اجیت ڈوبھال کی چینی حکومت کے نمائندے سے خوشگوار گفتگو کی بھی یاد تازہ ہوجاتی ہے کہ جس کے بعد دونوں فریق بالکل مختلف اور متضاد باتیں بولتے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے وال کا یہ بیان کم دلچسپ نہیں ہے کہ ’’ اگر کوئی اختلاف ہے تو کانگریس اعلیٰ کمان کے دروازے سچن پائلٹ سمیت سبھی کے لئے کھلے ہیں‘‘ ۔ رندیپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ دروازہ اس وقت کھولا جاتا ہے جب کسی کو باہر سے اندر لانا ہو یا کسی کو باہر کا راستہ دکھانا ہو۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پائلٹ کا جہاز پرواز کر چکا ہے اور یہ بہت جلد اڑ کر کمل وہار کے ہوائی اڈے پر اترنے والا ہے۔ ویسے بی جے پی کے صوبائی صدر ستیش پونیہ ’سو سواگتم‘( دلی خیر مقدم) کی تختی لے کر نہ جانے کب سے کھڑے ہوئے ہیں ۔

دنیا بھر میں خام تیل کی قیمت گررہی ہے مگر اپنے ملک میں ایندھن کا بھاو آئے دن بڑھ رہا ہے کیونکہ حکومت کو سچن پائلٹ جیسے ہوا بازوں کے جہاز میں مفت پٹرول بھرنا پڑتا ہے۔ اس کی قیمت اگر ان رائے دہندگان سے وصول کی جاتی ہے کہ جنہوں نے پائلٹ جیسے لوگوں کو ووٹ دے کر جہاز کی کمان تھمائی ہے تو اس میں غلط کیا ہے ؟ اس معاملے میں قیمت و صول کرنے والا اور وصول کروانے والا دونوں عوام کی مرہونِ منت اقتدار پر فائز ہوتے ہیں۔ فطرت کا اصول ’جیسی کرنی ویسی بھرنی ‘ بھی تو ہے ۔ عوام انتخاب کے وقت جو بیج بوتے ہیں اس کی فصل آگے چل کر کاٹتے ہیں اس لیے شکایت کا موقع بھی نہیں رہتا ۔ ذرائع ابلاغ میں اڑنے والی خبروں کے مطابق سچن پائلٹ کے جہاز میں فی الحال ۲۳ ارکان اسمبلی براجمان ہیں ان میں تین آزاد اور بیس پابند یعنی کا نگریسی ہیں ۔ یہ لوگ کانگریس کے پنجے سے نکل کر کمل کی مانند کھلنا چاہتے ہیں۔

مدھیہ پردیش میں کانگریس پارٹی پر جس وقت دھن کے کالے بادل چھائے تھے تو کانگریس اپنے ارکان اسمبلی کو بس میں بٹھا کر راجستھان لےگئی تھی اس لیے کہ اب اس کے پاس ہوا میں اڑنے کا پیسہ نہیں ہے لیکن جب راجستھان کا راج پاٹ خطرے میں ہے تو سوال یہ ہے کہ ’جائیں تو جائیں کہاں؟ سمجھے گا کون یہاں ، درد بھرے دل کی زباں ‘ ۔ وہ لوگ پنجاب کی جانب جاتے ہیں تو بی جے پی کا آئی ٹی سیل تھوڑا سا آگے ڈھکیل کر پاکستان بھیج دے گی ۔ چھتیس گڑھ جانے کے لیے اتر پردیش سے گزرنا پڑے گا ۔ بعید نہیں کہ وہاں یوگی جی پلوامہ کی طرح’ ہاتھ ‘ صاف کردیں ۔اشوک گہلوت کا تو خیر چل چلاو ہے اس لیے وہ کہیں بھی جائیں کوئی خاص فرق نہیں پڑتالیکن پائلٹ کو چاہیے کہ وہ اپنا جہاز مدھیہ پردیش میں چمبل کی وادی کے اندر اتار کر اعلان کر دیں کہ اسے جیوتر دیتیہ نے اغوا کرلیا ہے۔

یہ دراصل سندھیا سلطنت کا علاقہ ہے اور جیوتردیتیہ سے سچن کی پرانی شناسائی ہے ۔ سچن کے سامنے سب سے آسان متبادل تو جیوتردیتیہ کی مانند کمل تھام لینا ہے۔ ایسا کرنے پر انہیں اپنے دوست کی خالہ وسوندھرا راجے سندھیا کا نائب بننا پڑے گا ۔ویسے وہ اب بھی نائب تو ہیں ہی اس لیے وزیر اعلیٰ بننے کا خواب تو پھر بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوگا لیکن ایک فرق ضرورہے ۔ اب کھاتے کماتے وقت مرکزی حکومت کا کھٹکھٹا لگا رہتا ہے ۔ ایک مرتبہ ’’نہ کھاوں کا اور نہ کھانے دوں گا ‘‘ کی پناہ مل جائے تو جتنا چاہے کھاو ۔ کون روکنے والاہے؟ پردھان سیوک بہت بڑے سادھو سنت ہیں ۔ وہ اپنے چمتکار سے سب سنبھال لیں گے ۔ مگر نازک سوال یہ ہے کہ اگر بی جے پی نے وسندھرا راجے سندھیا کے بجائے کسی اور کو وزیر اعلیٰ بنانے کا ارادہ کیا تو کیا ہوگا؟ وہ سچن پائلٹ سے زیادہ ناراض ہوجائیں گی۔ اس کی دو وجوہات ہیں ۔ اول تو رانی صاحبہ کسی اور کی نیابت کو اپنی توہین سمجھیں گی اور دوسرے کوئی ان کو اپنا نائب بنانے کی جرأت بھی نہیں کرسکے گا ۔ اس لیے غالب کے مشہور شعر والی کیفیت بن جائے گی؎
قیس چمبل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو

اس نئی سیاسی صورتحال میں وسوندھرا رانی کے نرغے میں مو جود ۴۵ غلام (ارکان اسمبلی) پالا بدلنے کےلیے پر تولنے لگیں گے ۔ جیوتردیتیہ کو اپنی پھوپی کی مددکے لیے کمل پھینک کے میدان آنا پڑے گا اور وہ سچن پائلٹ کے جہاز میں موجود ۲۳ مسافروں کے ساتھ وسندھرا راجے کی خدمت میں پہنچ جائیں گے ۔اس طرح جملہ 68 ارکان پر مشتمل ایک نئی علاقائی ’راجستھان ناراض پارٹی ‘وجود میں آجائے گی جس کا نشان جہاز ہوگا ۔ سارے آزاد ارکان اسمبلی پہلی فرصت میں اس جہاز کے اندر سوار ہوکر وزارت کی کرسیوں پر براجمان ہوجائیں گے۔ بعید نہیں کہوزیر اعلیٰ بننے کے بعدوسوندھرا راجے یوپی کے طرز پر دو نائب وزرائے اعلیٰ نامزد کردے ایک سچن پائلٹ اور دوسرا ان کا اپنا پیارا بھتیجا جیوتردیتیہ سندھیا ۔ اس طرح جیوتردتیہ کا دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوجائے گا ۔ وسندھر کے جہاز کو ایک پائلٹ چلائے گا اورمہاراج ناشتہ کرائے گا ۔ مہارانی کی اس ’ راجستھان ناراض پارٹی‘ کی سرکار میں چونکہ سبھی جماعتوں کے ناراض ارکان شامل ہوں گے اس لیے ساری جماعتیں ان سے ناراض ہوں گی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سب جماعتوں سے ناراض رائے دہندگان اس سے راضی ہوجائیں گے اور اس کے اقتدار کو دوام حاصل ہوجائے گا۔ یہ شیخ چلی کا خواب ہوسکتا ہے لیکن ’اچھے دن‘ بھی تو ایک خواب ہی تھا۔ ہندوستانی سیاست سے ناممکن کا لفظ حذف کردیا گیا ہےاب تو بھائی ’مودی ہے تو ممکن ہے‘کا دور دورہ ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1199 Articles with 434641 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jul, 2020 Views: 685

Comments

آپ کی رائے