یومِ استحصال اور کشمیر کی موجودہ صورتحال!

(Malik Shafqat Ullah, Jhang)

پاکستان نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں مکین مسلمان بھائیوں کے حق خود ارادیت کیلئے آواز اٹھائی ہے ، نہ صرف یہ بلکہ سفارتی سطح پر کشمیر کا سفیر بھی بن کر کھڑا رہا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کی منتخب سیاسی جماعتوں اور سابق و موجودہ چئیرمین کشمیر کمیٹی نے کشمیریوں کیلئے حق ادا نہیں کیا ۔ اس کے برعکس کشمیریوں کیلئے آواز اٹھانے والوں کو نظر بند کر دیا۔کچھ بھی ہو! موجودہ حکومت نے جس طرح تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں اٹھایا ہے سابقہ حکومتوں نے نہیں اٹھایا۔ اس وقت بھارت کو عالمی سطح پر دہشتگردی کا گڑھ قرار دیا جا چکا ہے، اور تنازعہ کشمیر پر اس سے سوال کئے جا رہے ہیں۔ مغربی ممالک کی پارلیمنٹوں میں بھی کشمیر میں ہونے والے مظالم پر تقاریر کی جا رہی ہیں۔لیکن اس کے باوجود سوال تو بنتا ہے کہ اب تک کشمیر میں حالات سازگار کیوں نہیں ہو سکے؟ اور بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز کیوں نہیں آ رہا؟5 اگست 2019کو بھارتی دستور کی دفعہ 370 جس نے ریاست ہائے کشمیر کو خصوصی حیثیت دی تھی ، اسے مختلف آئینی شقوں کے اطلاق سے خارج کر کے منسوخ کر دیا گیا ، دفعہ 35 اے جس نے مقامی آبادی کیلئے رہائش کے کچھ مخصوص حقوق محفوظ کر رکھے تھے، اس تحفظ اور بقا کے سارے انتظامات کو بھی ملیا میٹ کر دیا گیا ہے۔ان دونوں دفعات نے اس بات کی ضمانت دی تھی کہ زمین خریدنے اور اس کے مالکانہ حقوق لینے یا سرکاری ملازمتوں کی درخواست دینے کا حق صرف ان لوگوں کا ہے ، جو مستقل طور پر نسل در نسل کشمیر میں مستقل رہائش پذیر ہیں۔ان قوانین کا مطلب یہ بھی تھا کہ جموں و کشمیر سے باہر لوگوں پر کاروباری سرمایہ کاری کیلئے پابندی لگائی جائے یا جموں و کشمیر کی اراضی اور معیشت پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے بڑی اجارہ دار کمپنیوں کی کوششوں پر پابندی لگائی جائے۔ اکتوبر 2019 میں جموں و کشمیر کی ریاست کو عملی طور پر تحلیل کر دیا گیا ، جس کا مطلب یہ تھا کہ اب اس ریاستی اسمبلی سے قانون سازی کا اختیار ختم کردیا گیا تھا، اسے نئی دہلی حکومت کے تحت براہ راست جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا ہے ۔ اس فیصلے کے نفاذ سے پہلے تک جموں و کشمیر ، بھارت سے وابستہ واحد مسلم اکثریتی ریاست تھی۔ 370 اور 35 اے دفعات کو منسوخ کرنے اور ریاست کے طور پر اس کی حیثیت کے خاتمے سے قبل ، مقبوضہ کشمیر ایک ہی خطہ تھا، مگر اب یہاں بسنے والوں کی حقیقی بے اختیاری جلد ہی محسوس ہونا شروع ہو گئی ہے۔ جو خصوصی مقامی شناخت کے ضائع ہونے سے کہیں زیادہ بڑا اور گہرا صدمہ ہے۔ریاستی مقننہ میں شمولیت کے آئینی تقاضے پورے کئے بغیر ، چوری اور دھوکہ دہی کے ذریعے دفعہ ۰۷۳ کو منسوخ کرنا اور سابقہ ریاست کا خاتمہ ماہرین قانون کی نظر میں جائز عمل ہے۔بھارتی عدالت عظمیٰ میں پانچ اگست 2019 کے اس اقدام کو چیلنج کرنے والی درخواستیں زیر سماعت ہیں، اور سپریم کورٹ ان کی سماعت متعدد بار ملتوی کرتا چلا آ رہا ہے۔31 مارچ2020 کو رات گئے بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کیلئے باضابطہ طور پر ایک نئے ڈومیسائل کی حکمرانی کا اعلان کیا۔ جموں و کشمیر کی تنظیم نو کے نام پر ریاستی قوانین اور احکامات نامی نوٹیفکیشن کے مطابق کوئی بھی فرد جو 15 سال تک جموں و کشمیر میں کسی بھی حوالے سے مقیم رہا ہو یا اس علاقے میں سات سال تک تعلیم حاصل کر چکا ہے ، اور دسویں کلاس یا بارہویں کلاس کے امتحان میں حاضر ہوا ہے اسے یہاں پر رہائشی حقوق حاصل ہوں گے، اور وہ مختلف سرکاری ملازمتوں کیلئے اہل ہو گا۔اس نوٹیفیکشن کو اس وقت پیش کیا گیا جب کورونا کا لاک ڈاؤن جاری تھا۔نئے رہائشی اور مالکانہ قوانین کے نفاذ نے خاص طور پر جموں و کشمیر کے نوجوانوں میں ان کی نسلی اور مذہبی شناخت کو بے وزن اور بے وقعت بنانے کا جو پیغام دیا ہے اس کے نتیجے میں وہاں ہر مذہب اور قوم میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے ، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں وہ سرکاری ملازمتوں سے محروم ہو جائیں گے ۔ اس دوران کشمیر میں متعدد بھرتیوں کا عمل روک دیا گیا ہے، جس نے بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ گویا کہ یہ کام نئے قواعد کے تحت ڈومیسائل پر جموں و کشمیر سے باہر کے افراد کو بھی درخواست دینے کی اجازت دینے کیلئے جان بوجھ کر کیا گیا تھا۔ ستائیس فروری کو بھارتی حکام نے جموں اینڈ کشمیر بنک کی ڈیڑھ ہزار سے زائد ملازمتوں کیلئے بھرتی کے اس عمل کو ختم کردیا ، کو 2018 سے جاری تھا۔ اس طرح ان ہزاروں مقامی نوجوانوں کے معاشی مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا گیا، جو اپنے ابتدائی امتحانات میں کامیابی کے بعد ملازمت ملنے کا انتظار کر رہے تھے۔ دو جون کو بنک نے ایک ہزار آٹھ سو پچاس ،ملازمتوں کیلئے اشتہارات دیئے جس میں نئے ڈومیسائلوں کی بنیاد پر بھی درخواستیں طلب کی گئیں۔رواں سال 29 اپریل کو جموں و کشمیر نے اپنا ریاستی وجود کھو دیا ہے، انجامِ کار انتظامی ٹربیونل کے جموں و کشمیر اور لداخ پر لاگو کر دیا گیا ہے۔ جون میں سنٹرل ایڈمنسٹریٹر ٹربیونل کے جموں بنچ کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا جس میں جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکزی علاقوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ انتظامی بیوروکریسی میں مقامی لوگوں کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے یا انہیں ڈیپوٹیشن پر بھیجا گیا ہے۔دفعہ ۰۷۳ کی منسوخی کے بعد آج صورتِ حال یہ ہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ میں اعلیٰ بیورکریٹک عہدو کی اکثریت مقبوضہ جموں و کشمیر سے باہر کے لوگوں کے پاس ہے ۔اکتوبر 2019میں نافذ ہونے والے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ کے تحت نجی جائداد کی ملکیت کو مستقل رہائشیوں تک محدود رکھنے والی قانونی دفعات کو ختم کر دیا گیا ، یوں ماضی میں زمینی اصلاحات کی مقامی قانون سازی نے یہاں کے کسانوں کو معاشرتی طور پر مظلوم طبقوں سمیت با اختیار بنایاتھا ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر ایشیا کی ان ریاستوں میں سے ایک تھا جہاں انڈین فوج کی گولیوں سے شہادتیں تو ہوتی تھیں مگر کوئی بھوک سے نہیں مرتا تھا۔مگر زمین سے متعلق ان قانونی ترامیم سے مقامی آبادی نہ صرف اپنی مراعات سے محروم ہوگئی ہے بلکہ بیرونی لوگوں کی ممکنہ معاشی و سیاسی اجارہ داری کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔1950 سے مقبوضہ کشمیر میں سرکاری اداروں میں سکول اور کالج کی سطح پر تعلیم مفت تھی، لیکن اب کشمیر ریزو لیوشن ایکٹ سمیت ان سب کو الٹ دیا گیا ہے۔ انتخابی حلقوں کی حد بندی از سرِ نو شروع کرنے کے بھارتی اقدام سے ہندو اکثریتی جموں کو زیادہ نشستیں ملنے کا امکان ہے ۔ اس سلسلے میں بی جے پی کے متعدد را ہ نماؤں نے اظہار کیا ہے کہ نشستوں کا تعین ملک کے دوسرے حصوں کی طرح آبادی کے لحاظ سے نہیں ہو گا ۔ اس کیلئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور چین کے زیر انتظام اکسائی چین کی مناسبت سے ایسی نشستوں کو وضح کیا جائے گا جن سے 1947 کے ہندو اور سکھ استفادہ کریں گے۔جموں کشمیر کا سیاسی ڈھانچہ مکمل طور پر ختم کیا جا چکا ہے، جب کہ متعدد اعلیٰ قائدین حراست میں ہیں۔ ان میں سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ، حریت راہ نما سید علی گیلانی بھی شامل ہیں۔خاموش رہنے کی شرائط پر کئی افراد کو چھوڑ بھی دیا گیا ہے۔نئے انتظامات کے تحت لداخ کے دور دراز علاقوں کو قانون ساز اسمبلی کے نام پر لوٹ لیا جائے گا اور جموں کشمیر کو محدود اختیارات ملیں گے، جس سے ان اداروں کو عملی طور پر دو ریموٹ کنٹرول میونسپلٹی میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ نومبر 2019 کے آخر میں امریکا میں تعینات بھارتی سفارت کار نے کشمیری ہندوؤں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کھل کر اس بات کا اظہار کیا تھا کہ کشمیری ثقافت اور بھارتی ثقافت اصل میں ایک ہندو ثقافت ہے اور ساتھ نو آبادیاتی عمل کی تعریف کرتے ہوئے دریائے اردن کے مغربی کنارے بستیوں کے اسرائیلی ماڈل کی حمایت کی تھی۔ پانچ اگست کو پاکستان مقبوضہ کشمیر کیلئے یوم استحصال کے طور پر منا رہا ہے، لیکن کیا پاکستان بھارت کو کشمیریوں کا مزید استحصال سے روک پائے گا؟ کیا کشمیر کبھی آزادہو پائے گا؟ یا اگر بھارت مذکورہ بالا سازشوں میں کامیاب ہو گیا تو پاکستان کی بقا کس حد تک ممکن رہ پائے گی؟کشمیر کمیٹی اور پاکستانی حکومت کو اپنوں کو بند کرنے کی بجائے مقبوضہ کشمیر کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم مستقبل قریب میں قحط سالی یا سیلابوں جیسے عذاب سے بچ سکیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 209 Articles with 88441 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
08 Aug, 2020 Views: 811

Comments

آپ کی رائے