پاکستان کی پہلی سالگرہ کے موقع پر قائد اعظم کا الوداعی پیغام

(Muhammad Riaz Aleemi, Karachi)

قیام پاکستان کو سات دہائیاں گزرچکی ہیں۔ اگست کا مہینہ ہر سال ہمیں پاکستان جیسی عظیم نعمت کے حصول میں دی جانے والی قربانیاں یاد دلاتا ہے اور ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ قیام پاکستان کا مقصدابھی تک خواب ہی ہے۔ پاکستان بنانے کا مقصد صرف زمین کا خطہ حاصل کرنا نہیں تھا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے کئی مرتبہ اپنے خطبات و تقریروں میں قیامِ پاکستان کا مقصد واضح کیا ہے۔ ایک تقریر میں آپ نے فرمایا: ’’ہم پاکستان کا مطالبہ صرف ایک خطہ زمین حاصل کرنے کے لئے نہیں کررہے بلکہ ہم اسے اسلامی نظام حیات کی ایک لیبارٹری کے طور پر استعمال کرکے دنیا والوں کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ دور جدید میں بھی اسلام ہی ہمارے تمام مسائل کا واحد حل اور ہماری ترقی کا ضامن ہے‘‘۔یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ یہی نظریہ آج بھی قائم و دائم ہے اگرچہ کوئی اس حقیقت پر دھول جھونکنے کی لاکھ کوشش کرتا رہے۔

بہرحال جب قیام پاکستان کو ایک سال کا عرصہ گزراتو قائداعظم محمد علی جناح سمیت تحریکِ پاکستان کا حصہ بننے والے عوام و خواص ، مردو خواتین ، بزرگ اور بچے غموں کے سائے میں خوشیاں منانے کی کوشش کررہے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے بذات خود یا پھر ان کے رشتہ داروں نے طویل عرصہ تک عظیم مملکت کے لیے جدوجہد کی اور اپنا تن من دھن بھی قربان کرنے سے گریز نہیں کیا۔ اس عظیم مملکت پاکستان کو ایک سال گزرنے کے بعد ان کی قلبی کیفیت کا عالم کیا ہوگا، ان کے جذبات اور احساسات کو لفظوں میں بیان نہیں کیاجاسکتا ۔ ان کے عزیزوں کی شہادت، ماؤں کی اجڑی گودیں، بچوں کی حالتِ یتیمی، معاشی پسماندگی ، بے سرو سامانی سمیت کئی ایسے گھائل تھے جو ایک سال گزرنے کے بعد بھی تازہ تھے۔ لیکن ان کی اولوالعزمی اور بلند ہمتی تھی کہ سب کچھ سہنے کے باوجود پاکستان کی سلامتی اور ترقی کے لیے کوشاں تھے۔جب قیام پاکستان کو ایک سال گزرا تو مفلسی، غربت ، مفلوک الحالی اور وسائل کی کمی کے باوجود 14اگست 1948ء کو سرکاری سطح پر پہلی سالگرہ منائی گئی ۔اس موقع پر قائد اعظم محمد علی جناح نے قوم سے ایک خطاب کیا جو کہ الوداعی خطاب ثابت ہوا۔ آپ نے فرمایا:پاکستان کے شہریو! آج ہم اپنی آزادی کی پہلی سالگرہ منارہے ہیں۔ ایک قبل پاکستان کے عوام کو مکمل اختیارات منتقل ہوئے تھے اور حکومت پاکستان نے موجودہ ترمیم شدہ دستور کے تحت ملک کے انتظامی معاملات اپنے ہاتھ میں لیے تھے۔ ہم نے اس پہلے سال جرأت و ہمت ، ارادے اور سو چ بچار کے ساتھ حالات کا سامنا کیا اور ہماری کامیابیوں کا ریکارڈ، دشمن کی مسلسل ضربوں کی مقاومت کرنے کے سلسلے میں حیران کُن رہا ۔ خصوصاً بیرونی طور پر طے شدہ منصوبے کے تحت نسل کُشی کا تدارک اور داخلی طور پر حقیقی تعمیری کاموں میں پیشرفت۔ ہمارے تعمیری اور مفید کاموں کا نتیجہ ہمارے بہترین دوستوں کی توقعات سے بھی بڑھ کر رہا۔ وزیرِ اعظم (لیاقت علی خان) کی قیادت میرے وزراء، دستور ساز اسمبلی اور قانون ساز اداروں کے اراکین ، مختلف انتظامی شعبوں میں کام کرنے والے افسران اور دفاعی فورسز کے ارکان نے اس مختصر عرصے میں قابلِ قدر فرائض انجام دیے اور میں پاکستان کے عوام کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے بڑے حوصلے سے ہماری ہر کوشش میں حقیقی تائید و حمایت کرکے پہلے سال کے پروگرام کو آگے بڑھایا۔ ’’مگر یہ سب کچھ کافی نہیں ہے۔ یادرکھیے کہ پاکستان کا قیام ایسی حقیقت ہے جس کی دنیا کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی مسلم مملکت ہے اور اسے سال بہ سال جیسے ہم آگے بڑھیں گے‘ اپنا مہتم بالشان کردار ادا کرنا ہے۔ بشرطیکہ ہم پاکستان کی خدمت نیک نیتی ، سنجیدگی اور بے غرضی سے کریں۔ مجھے اپنے عوام پر مکمل بھروسہ ہے کہ وہ آزمائش کے ہر موقع پر اپنے ماضی کی اسلامی تاریخ اور شاندار روایات کے شایانِ شان پورا اتریں گے۔ آپ سب کو لاکھوں پناہ گزینوں کی داستانِ الم اچھی طرح معلوم ہے جنہیں سرحد پار اپنے گھروں سے نکلنا پڑا اور پاکستان میں پناہ لینی پڑی ۔ یہ المیہ اس وقت پیش آیا جب ہماری مملکت کو ابھی سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملاتھا۔ درحقیقت ان پناہ گزینوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے کو حکومت کے ملازم تھے اور جنہیں مملکت کے انتظامی ڈھانچے کو قائم کرنا تھا ۔ میں جانتا ہوں کہ ہمارے اُن بے گھر اور تباہ حال بھائیوں کو خاطر خواہ طور پر بحال کرنا ممکن نہ ہوسکا۔ ان میں بہت سے ابھی تک مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو ان کے نئے گھروں میں بسا دیا گیا ہے اور ایک نئی اور خوشگوار زندگی کے امکانات ان کے سامنے ہیں۔ اور یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے۔ لیکن پاکستان کے لوگوں اور حکومت نے اُخوت اور جرأت و ہمت کے جذبے کے ساتھ ان بے پناہ مشکلات کا سامنا کیاجو اس آفت کی پیدا کردہ تھیں کس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی اور جس میں مملکت کا سارا ڈھانچہ ریزہ ریزہ ہوکر تباہ ہوسکتا تھا۔نئی مملکت کا ابتدا ہی میں گلا گھونٹنے کے دیگر ذرائع سے مایوس ہوکر ہمارے دشمنوں کو پھر بھی امید تھی کہ اقتصادی داؤ پیچ سے وہ مقصد حاصل ہوجائے گا جو اُن کے دل میں تھا۔ اپنی تمام تر استدلالی قوت و دولت سے جو بغض و کینہ سے پیدا ہوسکتی ہے یا جسے بد طینتی ایجاد کرسکتی ہے‘ انہوں نے یہ پیش گوئی کی کہ پاکستان کا دیوالیہ ہوجائے گا اور جو کام دشمن کے آتش و آہن سے نہ ہوسکا وہ مملکت کے تباہ حال مالیات سے پورا ہوجائے گا۔ مگر بدی کے پیامبر مکمل طور پر ناامید ہوگئے۔ ہمارا پہلا بجٹ منفعت بخش تھا۔ اس میں تجارتی میزان ہمارے حق میں تھا اور مستحکم اقتصادی میدان میں ہر طرف ترقی تھی۔ مملکت کی تاریخ میں ایک سال کا عرصہ محصولات کی حتمی تشخیص و ترقی یا اس کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کرنے کے لیے بہت ہی مختصر ہوتا ہے۔ مگر جس طریق سے بے پناہ مشکلات پر قابوپالیا گیا اور گذشتہ بارہ مار کے دوران ٹھوس ترقی کا جو ریکارڈ قائم کیا گیا‘ یہ رجائیت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ نظم و نسق کے میدان میں مرکز میں ہمیں بالکل کُھر چن سے کام شروع کرنا پڑا اور مغربی پنجاب میں ہماری مملکت کے معرض وجودمیں آتے ہی ہماری انتظامی مشینری تقریباً تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی تھی۔ مگر میں یہ مسرت کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ ہم نے اپنے اتحاد و یک جہتی کے خلاف ہر خطرے کا ڈٹ کر اور کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا اور وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والے بعض عصری مسائل پر حکومت نے نہ صرف ثابت قدمی اور قوت ارادی دکھائی بلکہ مؤثر طور پر ان سے عہدہ برآ ہوئی۔قدرت نے آپ کو ہر شے سے نوازا ہے ۔ آپ کے وسائل لامحدود ہیں۔ا ٓپ کی مملکت کی بنیادیں رکھ د ی گئی ہیں۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس کی تعمیر کریں اور جتنی جلدی ممکن ہو تیزی اور خوبی کے ساتھ تعمیر کریں۔ پس آگے بڑھیے۔ اﷲ آپ کو حامی و ناصر ہو۔ پاکستان زندہ باد۔ (دی سول اینڈ ملٹری گزٹ ، 15 اگست 1948ء بحوالہ پاکستان تصور سے حقیقت تک)

قائد اعظم کی یہ تقریر آج بھی زند ہ و جاوید ہے اور ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ملک کی سلامتی اور ترقی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اجتماعی مفادات کو پیشِ نظر رکھیں تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Riaz Aleemi

Read More Articles by Muhammad Riaz Aleemi: 75 Articles with 33753 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Aug, 2020 Views: 203

Comments

آپ کی رائے