یوم آزادی۔۔۔یہ سحر وہی ہے!!!

(Sardar Khursheed Akhtar, Islamabad)

 آنگن پڑھا ، یوں لگا تقسیم ہند کے ساتھ تقسیم خاندان بھی ھوئی، اداس نسلیں نظر سے گزرا تو مہاجرین کا ھجوم، انسانی المیے کی جھلک دکھائی دی، پاکستان کی منزل لاکھوں کے لیے جنت سے کم نہیں تھی، ایک قافلہ رواں تھا جو ان دیکھی منزل کی طرف اس خوشی سے چل رہا تھا کہ اسے کاروبار، زمین، رشتے اور کسی کے بچھڑنے کا غم نہ تھا بلکہ منزل کی خوشی نے سب بلا دیا تھا، پھر لاشوں کے انبار بھی لگے، ریلوے اسٹیشن تعفن زدہ بھی ھوئے، کیمپوں کی کسمپرسی بھی دیکھنے کو ملی مگر کیا وہ دو قومی نظریے اور مسلم قومی ریاست کی تڑپ نہ تھی؟لاکھوں جانیں گئیں مگر نسلیں آباد ھوئیں اور ھندو ازم اور تعصب کی نگاہ سے کچھ تو بچے! ترقی کی، تعلیم، سیاست، تجارت اور سائنس میں مقام پیدا کیا، کیا آج بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کو یہ سب حاصل ھے؟"جس دیس میں گنگا بیتی ھے" کو پڑھا تو ایک سیکولر ھندو میں مسلم کے خلاف وہ نفرت دیکھی کہ الامان الحفیظ، کیا پاکستان کا بننا کوئی حادثہ تھا ،جسے چند دانشور یا عالم غیر منطقی انداز سے پرکھتے ہیں، آپ علامہ اقبال کو کچھ دیر کے لیے بھول جائیں، کیا سر سید احمد خان سے زیادہ ھندو، مسلم اتحاد کا کوئی حامی تھا، ھرگز نہیں، اگر سر سید احمد خان تعلیمی تحریک اور مسلمانوں کو سیاسی، سماجی شعور بیدار نہ کرتے تو پاکستان بنتا وہ علی گڑھ یونیورسٹی قائم کرکے تحریک پاکستان کی بنیاد تو ڈال چکے تھے مگر ھندو، مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے، جب اردو، ھندی تنازعہ شروع ھوا تو سر سید احمد خان بھی کہہ اٹھے کہ اب یہ دو قومیں اکٹھی نہیں رہ سکتیں، بابائے اردو مولوی عبد الحق کی تحریک پر انجمن ترقی اردو میں تو گاندھی جی بول اٹھے تھے کہ ھندی ھی ، ھندوستان کی قومی زبان ھو گی اور وہ بھی دلیل یہ پیش کی کہ اردو چونکہ عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی مسلمانوں کی زبان ھے اس لئے اردو قومی زبان نہیں ھو سکتی، حالانکہ اردو کا اپنا رسم الخط اور ھندوستان میں پروان چڑھنے والی زبان تھی، خیر ایک نفرت سماجی بنیاد پر ھوتی ھے مگر ھندو ازم آج تک مسلمانوں سے مذھبی، تجارتی، سماجی اور ثقافتی طور پر نفرت کرتا ہے، یہاں تک کہ حال میں پاکستان سے کئی سال پہلے ھندوستان شفٹ ھونے والے ھندو خاندان کے گیارہ افراد کو قتل کر دیا، بھارت میں انتہائی سیکولر سوچ رکھنے والے مسلمان بھی کہہ اٹھے ھیں کہ دو قومی نظریہ اب بھی جیت رہا ہے، جناح اب بھی جیت رہا ہے! نصیر الدین شاہ ھوں، جاوید اختر ھوں یا سیاسی زعماء، ھندوستان کے ساتھ رہنے والے کشمیری لیڈر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، اور فریدہ بہن جی ھوں سب کہہ اٹھے اور کف افسوس مل رہے ہیں، مودی حکومت نے رہی سہی کسر نیا متنازع شہریت کا قانون لا کر پوری کر دی، پاکستان میں کئی لوگ اس دعوے کے ساتھ بھی زندہ ھیں کہ یہاں بولنے کی پابندی ھے، میرے خیال میں جتنا پاکستان میں، ریاست، حکومت اور اداروں کے خلاف بولا جاتا ہے شاید ھی دنیا میں کسی ملک میں ایسا ھوتا ھو، امریکہ کے ساتھ موازنہ کر لیں، بھارت اور روس کو دیکھ لیں، چین اور ایران کو پرکھ لیں، ھاں کچھ لوگوں کی آزادی کی اپنی تعریف ھے انہیں مکالمہ ضرور کرنا چاہیے، مگر پاکستان ایک قومی ریاست ھے، تمام قومیتوں کو بنیادی حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی آزادی ھے مگر ریاست کا اپنا بھی ایک قانون، ضابطہ اور کوئی اخلاقی منصب ھوتا ھے اس کو تو نہیں زدوکوب کیا جا سکتا، بہرحال ان کی بات مان لی جائے تب بھی آن کا مؤقف اور وجوہات پتہ ھیں، کیا بنگلہ دیش کا بننا سب غلطیوں کے باجود بھٹو صاحب کے لئے بچانا ممکن نہیں تھا؟ کیا یہ جمہوریت تھی کہ دو تہائی اکثریت لینے والا جیل میں اور بھٹو صاحب منصب اقتدار پر براجمان ہوئے، غلطیوں سے سیکھنے کا عمل کسی نے نہیں کیا تو پاکستان نے تو آپ کو عزت، مقام، مرتبہ اور قلم و زبان بھی تو دی ھے اس کا حق ادا کریں اور فیض صاحب کو پکار کر۔ کہیں کہ آج آزادی کو دیکھیں کہ یہ سحر وہی سحر ھے، جو قومی ریاست کی امید سے پھوٹتی ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sardar Khursheed Akhtar

Read More Articles by Sardar Khursheed Akhtar: 88 Articles with 29111 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Aug, 2020 Views: 120

Comments

آپ کی رائے