تبدیلی کے دو سال۔۔۔۔۔۔!!!

(Prof Khursheed Akhtar, Islamabad)

یہ یاد رکھیں عمران خان غیر روایتی وزیراعظم ہیں اور یہی غیر روایتی پن اسے دوسروں سے ممتاز رکھتا ہے، وہ نہ دوستوں کو سیریس لیتا ہے اور نہ ھی دشمنوں کو، البتہ جب بات آتی ہے پاکستان کے مفاد کی تو وہ۔ بچے، جوان، بزرگ اور عالم یا کسی عام آدمی کی بات بھی غور سے سن لیتا ہے، میں حیرت زدہ ھوتا ھوں جب وزیر نکالنے پہ آیا تو اپنے قریبی ساتھی اسد عمر کو کنارے کر دیا، چینی سکینڈل میں جہانگیر ترین جیسے سب سے قریبی دوست، بادشاہ گر اور پی ٹی آئی کے لئے سب کچھ کرنے والے سے ناراض ہو گیا، اور اعتبار کرنے پہ آیا تو عثمان بزدار جیسے بندے کے لیے میدان میں اتر گیا، کہتے ہیں دو دکھ ایسے تھے جوعمران خان پر ابھی تک بھاری گزرے ، ایک میاں نواز شریف کا بیماری کا بہانہ بنا کر باہر جانا اور دوسرا اپنے ھاتھوں بنائے گئے کمیشن کے ذریعے جہانگیر ترین کا نام آنا، عمران خان نے دھرنے سے لیکر ایوان اقتدار تک پاکستانی قوم میں ایسے شعور کی بیداری کر دی ہے کہ اب کسی بھی حکمران کے لیے عوام کو جواب دئیے بغیر حکمرانی کرنا مشکل ہو جائے گا! کمزور سیاسی وکٹ پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی عمران خان کے خلاف کوئی قابل ذکر ایجنڈا اور تحریک نہیں لا سکے اگرچہ وہ نیب میں عیب تلاش کرتے کرتے دو سال نکال گئے ہیں حالانکہ سیاستدان نیب کے ڈر سے کیسے سیاست کے داؤ پیچ کیسےبھول سکتا ہے؟معیشت کہانی بھی دیکھ لیں جب عمران خان آیا تھا تو ملک میں کساد بازاری عام تھی اگست میں اقتدار سنبھالنے والی حکومت کو دسمبر میں بھاری بھرکم قرض سود سمیت واپس کرنا تھا وہ اپنے وعدے اور مزاج کے لیے لڑتا رہا آئی ایم ایف کی طرف نہیں گیا مگر مجبوراً آئی ایم ایف کو قدرے آسان قرض پر آمادہ بھی کیا، بھارت کے سخت مالیاتی شکنجے کو توڑنے کے لیے ایف اے ٹی ایف سے بھی چومکھی لڑائی لڑی اور بالآخر مکمل قانونی سازی کرنے میں کامیاب ہو گیا، کورونا کے اتنے بڑے بحران میں سٹاک ایکسچینج، عالمی مالیاتی ادارے، ملکی برآمدات اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ایک انقلابی تبدیلی لائی گئی ہے، کورونا، ٹڈی دل، چینی، آٹا، اور پٹرولیم مصنوعات کے بڑے بڑے بحرانوں کا مقابلہ کیا مافیاز سے ٹکر لی ، سابقہ حکمرانوں کے بجلی کے مہنگے منصوبوں اور مہنگی بجلی کی پیداوار کی روک تھام کے لیے آئی پی پیز سے معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوا، ذرا یہ بھی دیکھیں کہ چینی اور آٹا سکینڈل میں اپنے ھی دوستوں کے خلاف کاروائی چل رہی ہے جس کا فیصلہ آئیندہ تیس دنوں میں ھونے والا ھے، اس کے لیے ھائی کورٹ، اور سپریم کورٹ تک قانونی جنگ لڑی اب یہ لوگ عوام کے سامنے ھیں پہلے کسی کو کچھ نہیں پتہ تھا کیا ھو رھا؟عمران خان نے آزاد پتن، بھاشا ڈیم اور داسو ڈیم کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے، سی پیک اب بھارت کے لئے سخت پریشانی اور دباؤ کا باعث بنا دیا جس میں بنگلہ دیش، نیپال، ایران چین اور افغانستان ایک پیج پر آگئے اور بھارت کف افسوس ملتا رہے گیا، عمران خان حکومت نے کئی غلطیاں کی ھوں گی مگر جمہوری نظام کے اندر رہ کر اصلاحات کا آغاز ایف بی آر، پی آئی اے، اور دیگر اداروں میں شروع کر دیا ہے البتہ ادارجاتی اصلاحات میں نہایت باریک بینی سے کام کرنا ھوگا تاکہ کسی کام کرنے والے اور اچھے لوگوں کو نقصان نہ پہنچ جائے، کورونا وائرس کا پھیلاؤ سب سے بڑا چیلنج تھا جس کو کافی حد تک سمارٹ لاک ڈاؤن سے کنٹرول کیا، اس دوران ھر ضرورت مند تک امداد پہنچائی جس میں عمران خان کی ٹیم کا بڑا کردار ہے، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، اسد عمر، ڈاکٹر یاسمین راشد، این ڈی ایم اے، ڈاکٹر ظفر مرزا ، حماد اظہر اور دیگر ممبران نے دن رات کام کیا، ھسپتالوں کی حالت بہتر کی، شعوری طور پر قوم کو بر وقت قائل کیا، البتہ اب پوری قوم نے اس کو آسان لینا شروع کر دیا ہے جس سے کورونا وائرس کا دباؤ پھر آ سکتا ھے، لیکن حکومت نے دنیا سے داد سمیٹی، بل گیٹس سمیت، یو این جنرل اسمبلی کے صدر تک سب معترف ہیں، کورونا کے دوران کسی بھی علاقے میں خوراک کی قلت نہیں ھونے دی جو قابلِ قدر کام ھے، تبدیلی کے دو سال میں تعلیمی نصاب پر بہت کام ھوا اور اب مارچ 2021ء میں کلاس ون سے پانچویں تک اور سال 2022ء میں میٹرک تک نیا جاندار اور جامع نصاب تعلیم نافذ ھو جائے گا، سی پیک کے ذریعے نیا ریلوے ٹریک خیبر سے کراچی تک، بچھایا جا رہا ہے،

حکومت کو مہنگائی اور فیک نیوز کے بڑے خطرات کا بھی سامنا ھے اس کو سنبھال لیا تو یہ دو سال خوشخبری لائیں گے۔ایک اور محاذ جس پر سب سے زیادہ کامیابی ملی وہ خارجہ محاذ ھے، بھارت کو دنیا بھر میں فاشسٹ ریاست ثابت کرنے اور پڑوسیوں سے محروم کرنے میں اھم کردار ادا کیا، جس میں عمران خان کی ذاتی کاوشیں زیادہ ھیں آج بنگلہ دیش، ایران، افغانستان، نیپال، چین اور روس بھی بھارتی مناپلی سے باھر نکل آئے، امریکہ کو طالبان کے ساتھ معاہدہ کروانے اور بالآخر افغان حکومت سے طالبان کی بیٹھک جیسے مشکل کام پاکستان نے کر دکھائے، جو پاکستان 2017 ء میں تنہا کھڑا تھا آج سعودیہ، ترکی، ایران اور امریکہ بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے قانون سازی میں بچوں کی حفاظت، خواتین کی وارثت، ایف اے ٹی ایف اور نیب کے حوالے سے بے مثال قانون سازی کی گئی، دیکھنے، پرکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے اپوزیشن جماعتوں کا کوئی حربہ غیر روایتی وزیراعظم کے آڑے نہیں آسکا ، وہ کسی سے مل کر کر رہا ہے یا خود عمران خان پاکستان کی خاطر سب کچھ بھول چکا ہے، آزادی رائے کا راگ الاپنے والے کیا کچھ نہیں کہتے پھر بھی کہتے ہیں بولنے پر پابندی ھے، ملک کی اصلاح کے لیے تو سوچیں، کب تک مافیاز اور سوداگروں سے سمجھوتے کریں گے، انصاف کے ساتھ کچھ تو انصاف کیجیے!

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Khursheed Akhtar

Read More Articles by Prof Khursheed Akhtar: 88 Articles with 28016 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Aug, 2020 Views: 239

Comments

آپ کی رائے