سعودی عرب ۔ پاکستان اختلافات اور تنظیم تعاون اسلامی

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

عالمِ اسلام ان دنوں جن حالات سے دوچار ہے اس پر ساری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ سعودی عرب کی شاہی حکومت سے دنیا بھر کے مسلمانوں نے اچھی امید لگارکھی تھی لیکن گذشتہ چند برسوں کے دوران حالات جس تیزی سے تبدیل ہوتے رہے ہیں اس سے دنیا بھر کے مسلمان سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن2030سے ناخوش ہیں۔ ویژن 2030کے تحت ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت میں یوروپی و مغربی تہذیب کو سعودی تہذیب کے ساتھ جوڑا ہے اور ملک بھر میں سینما گھروں کی اجازت کے علاوہ کئی ایک غیر اسلامی و غیر مہذب طرز زندگی اپنانے کی راہیں فراہم کیں ہے اس سے عالمی سطح پر مسلمان خوش نہیں ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جو مضبوط تعلقات تھے اس میں بھی آہستہ آہستہ کمی ہوتی جارہی ہے۔ ترکی ان دنوں عالمی سطح پر مسلمانوں کے لئے اہم رول ادا کرنے کے موقف میں دکھائی دینے لگا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے جس دلیری کے ساتھ اسلام کے تشخص کو بحال کرنے کی سعی کرتے ہوئے 86سال بعد ’’آیا صوفیہ جامع مسجد کبیرہ ‘‘ میں 24؍ جولائی سے نماز و دیگر عبادات کے لئے کھول دیا گیا ۔ صدر رجب طیب اردغان نے آیا صوفیہ جامع مسجدکبیرہ کو عبادت کیلئے کھولے جانے پر کہا کہ قوم کے دل میں 86سالہ پرانا زخم 24؍ جولائی سے مندمل ہونا شروع ہوگیا ہے۔ اس پر پوپ فرنسس سمیت کئی ممالک کی اہم شخصیات نے احتجاج بھی کیا لیکن اسلام کا یہ مردِ مجاہدجسے دنیا صدر ترکی رجب طیب اردغان کے نام سے جانتی ہے نے اپنے فیصلہ پرقائم رہتے ہوئے مستقبل میں اسلام کی سربلندی کے لئے مزید خدمات انجام دینے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔صدر ترکی رجب طیب اردغان نے جمعہ 7؍ اگسٹ کو آیا سوفیا جامعہ کبیر پہنچ کر نماز جمعہ ادا کی ۔

مغربی و یوروپی سازشوں کے نتیجہ میں عالمِ اسلام جن حالات و مصائب سے دوچار ہے اسے ساری دنیا جانتی ہے۔ مسلم ممالک کے آپسی اختلافات نے مال و دولت، وسائل اور کثیر تعداد ہونے کے باوجود دشمنانِ اسلام کے سامنے کمزور بناکر رکھ دیا ہے۔ عالمِ اسلام کے کئی ممالک کسی نہ کسی سوپرپاور ممالک کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ تنظیم تعاون اسلامی (Ooganisation of Islamic Cooperation)جو مشرقِ وسطیٰ ، شمالی، مغربی اور جنوبی آفریقہ ، وسط ایشیاء یورپ ، جنوب مشرقی ایشیاء اور برصغیر اور جنوبی امریکہ کے 57مسلم اکثریتی ممالک پر مشتل ہے ۔ اس تنظیم کا مقصد 1.2ارب سے زائد مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے لیکن اس تنظیم سے دنیا بھر کے مسلمانوں نے جو امیدیں وابستہ کررکھیں تھیں شاید وہ اس میں کبھی کامیاب نہیں دکھائی دیں۔اور آج ایسا محسوس ہورہاہے کہ تنظیم تعاون اسلامی تقسیم کے دوراہے پر کھڑی ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات اور فاصلوں کی وجہ سے او آئی سی کی اہمیت میں کمی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اور ایسا محسوس ہوتا ہیکہ پاکستان ، ترکی ، ملیشیا اورقطر کے اتحاد سے ایک نیا اسلامی بلاک وجود میں آئے گا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے اور قریبی تعلقات میں کشیدگی دیکھی جارہی ہے ۔ سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان اوروزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ایک دوسرے کے دورے کے موقع پر جس طرح اپنے اپنے ملک میں مہمانِ خصوصی کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں خود ڈرائیونگ کرتے ہوئے مہمانِ خانے تک پہنچایا تھایہ قابلِ تحسین اقدام تھا اور اسے عالمی سطح پر سراہا گیا ۔ محمد بن سلمان نے پاکستان کی کمزور معیشت کو سہارا دینے کے لئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا اور دو ارب ڈالرس کا قرض 3.4فیصد شرح سود پر دیا۔ تیل اور گیس بھی ادھار دینے کا معاہدہ کیا مگر جب عمران خان کی ترکی اور ملیشیا سے قربت ہوئی تو سعودی عرب نے اس پر دباؤ ڈالنا شروع کیا جس کی وجہ سے عمران خان نے ملیشیا میں منعقد کی گئی اسلامی کانفرنس میں شرکت سے معذرت کرلی ۔ سعودی عرب چاہتاہیکہ پاکستان ایران، قطر اور ملیشیا سے اپنے ہر قسم کے تعلقات ختم کردے۔ سی ای سی پراجکٹس سے دستبردار ہوجائے اور یہ بھی خبریں گردش کررہی ہے کہ ترکی ٹیلی سیریل ارطغرل کا پاکستان میں ٹیکی کاسٹ بند کردیا جائے کیونکہ اس سے ترکی سے متعلق عوامی رائے بہتر ہوتی جارہی ہے ۔ یہ سیریل خلافت عثمانیہ سے متعلق ہے جس کے زوال کے لئے عربوں کو ذمہ دار بتایا گیا ہے۔ ارطغرل سیریل کے ٹیلی کاسٹ پر کئی عرب ممالک میں امتناع ہے اس کے باوجود کئی عرب ممالک میں یوٹیوب پر عوام خصوصاً نوجوان اسے دیکھ رہے ہیں۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان چاہتا ہیکہ مسئلہ کشمیر پر تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی) اجلاس طلب کرے ، جس میں سعودی عرب پاکستان کے موقف کی تائیدکرے۔ لیکن سعودی عرب نے اس سے انکار کیا، یہی نہیں بلکہ پاکستان کو یہ بھی اعتراض ہیکہ اسلامی ممالک کی تنظیم کے اجلاس میں ہندوستانی نمائندہ کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ پاکستانی میڈیا نے سعودی عرب کے شاہی حکمرانوں پر تنقیدکرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ امریکہ کے اشارے پر کام کررہے ہیں۔ تاہم پاکستانی میڈیا نے عمران خان حکومت کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ ایک ملک کی غلامی یا تسلط سے نکلنے کے لئے دوسرے ملک کی غلامی اختیار نہ کرے۔ان کا اشارہ چین کی طرف تھا کیونکہ چین پاکستان سے قریبی اور دوستانہ تعلقات بنائے رکھنا چاہتا ہے اس کے پیچھے چین کے کیا مقاصد اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا البتہ اتنا ضرور ہیکہ چین اسلام اور مسلمانوں کو پسند نہیں کرتا جس کی مثال چین میں مسلمانوں کے ساتھ برتاؤ ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی عوام سعودی عرب کے بعض احسانات کے بدلے میں اپنی عزت نفس اور قومی وقار سے سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کے اٹل موقف سے ناراض ہوکر اسے فوری سود پر دیا گیا ایک ارب ڈالر واپس طلب کیا۔ پاکستان نے یہ رقم چین سے لے کر سعودی عرب کو واپس کردی اور چین نے پاکستان کو اس بات کا یقین دلایا کہ اگر مزید دو ارب ڈالرس بھی سعودی عرب واپس طلب کرتا ہے تووہ پاکستان کی طرف سے ادا کردے گا۔سعودی عرب پاکستانی تارکین وطن کو جو سعودی عرب میں روزگار کے سلسلہ میں موجود ہیں انہیں واپس بھیج سکتا ہے اور اگر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہوئے تو اندیشہ ہیکہ پاکستانی عازمین حج و عمرہ پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان حالات تو کشیدہ ہے ، اس کشیدگی کو دور یا کم کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان میں مقیم سعودی سفیر نواب المالکی نے پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے راولپنڈی میں ملاقات کی اور کافی دیر تک ان دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد سمجھا جارہا ہے کہ حالات بہتر بنانے کی کوششیں کامیاب ہونگی۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم کم و بیش85لاکھ پاکستانیوں کو روزگار سے محروم کیا جائے گا۔پاکستان کے ممتاز صحافی صابر شاکر نے اپنے یوٹیوب چینل پر سعودی عرب کو یاد دلایا کہ پاکستانی فوجیوں بالخصوص پائلٹس نے کس طرح ایران کے ساتھ جنگ کے موقع پر قربانیاں دی ہیں۔ سعودی عرب انتہائی ہلکے پن سے اپنا قرض تو واپس مانگ رہے ہیں ، کیا وہ پاکستانی شہیدوں کا خون واپس کرسکیں گے؟ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ چین جو پاکستان کی سعودی عرب سے اختلافات کے موقع پر مدد کررہا ہے وہ آگے چل کر پاکستان کوبلاک میل بھی کرسکتا ہے ، اسی لئے پاکستان کو بہت ہی احتیاط کے ساتھ اپنے اور دشمن میں تمیز کرنے کی ضرورت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ پاکستان دشمنانِ اسلام کی سازشوں کا شکار ہوجائے۔

بیروت: خوفناک دھماکے کے بعد۰۰۰
لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر ہوئے خوفناک دھماکے کے بعد ملک کے حالات انتہائی کشیدہ ہوتے جارہے ہیں ایک طرف عوام احتجاج پر ہے تو دوسری جانب لبنان کی کابینہ نے استعفیٰ دے دیا۔ لبنان کے وزیر اعظم حسن دیاب نے اپنے عہدے سے مستعفی ہوتے ہوئے کہا کہ بندرگاہ دھماکے کرپشن کا نتیجہ ہیں، انہوں نے کہاکہ کرپشن کی جڑیں ریاستی نظام سے زیادہ مضبوط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی طبقوں نے ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دیادیا ہے، حسن دیاب نے دھماکے کے ذمہ داروں کو انجام تک پہنچانے کے مطالبہ پر عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات بھی کہی۔ بیروت دھماکے میں کم و بیش دیڑھ سو افراد ہلاک اور پانچ ہزار سے زائد زخمی بتائے جاتے ہیں۔ بیروتی عوام کے مظاہرہ کے بعد اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گیترس نے مطالبہ کیا ہے کہ بیروت کی بندرگاہ پر دھماکے کی وجوہ کی ’’معتبر اور شفاف‘‘ تحقیقات کی جائے ۔انہوں نے اقوام متحدہ کی آن لائن بریفننگ میں پچاس سے زائد ممالک کی شرکت کے موقع پر یہ بات کہی۔اقوام متحدہ میں لبنان کی سفیر امل مدالعلی نے بیروت دھماکے کو پندرہ سکنڈ میں پندرہ سال کی جنگ سے تشبیہ دی ہے ، جسے انہوں نے اب تک کے تاریک ترین 15سیکنڈ کہا ہے۔ سکریٹری جنرل نے بین الاقوامی عطیہ دہندگان پر زور دیا کہ وہ تباہ حال ملک لبنان کی مدد کیلئے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فراخدلی سے امداد فراہم کریں۔ انہوں نے لبنانی عوام کی ضروریات کے مطابق طویل مدتی سیاسی اور معاشی اصلاحات کے نفاذ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔دھماکے کے بعد لبنان کا دورہ کرنے والے پہلے قائد فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون ہیں جنہوں نے لبنان کے لئے آن لائن انٹرنیشنل ڈونرز کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا ، کانفرنس کے دوران عالمی رہنماؤں اور بین الاقوامی تنظیموں نے 300ملین ڈالرز کے عطیات کا اعلان کیا۔عطیہ دہندگان نے امداد کو اقوام متحدہ سے مربوط کرنے کیلئے کہا تاکہ یہ امداد براہ راست لبنانی عوام تک پہنچائی جائے ۔ اس موقع پراقوام متحدہ میں لبنان کی سفیر امل مدلعلی نے کہا کہ بیروت میں طب، خوراک، تعمیراتی سامان اور شہر کی بندرگاہ کی تعمیر نو جیسے ترجیحی کاموں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ سے وعدہ ہے کہ ہم دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں گے‘‘۔ ترکی کے نائب صدر فواد اوکتائے نے بھی بیروت کا دورہ کیا اور انہوں نے لبنانی صدر میشال نعیم عون سے ملاقات کے بعد کہا کہ ہم مزید خوراک، طبی سازو سامان کی امداد کے لئے تیار ہیں اور اس عمل کو آئندہ جاری رکھیں گے۔ترک نائب صدر نے کہا کہ ’’ہم نے اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ لبنان میں ترکی، ترک عوام اور قوم کو ایک منفرد مقام حاصل ہے، ہمارے روابط قلبی اور دوستانہ ہیں، ہم لبنانی بھائیوں کو بطور ترکی ہر طرح کے امکانات کے ساتھ ان کے شابہ بشانہ ہونے کاواضح پیغام دیا۔ اس ملک کو اب کے بعد خوردنی اشیاء ، طبی سازو سامان ، ادویات ، گندم اور آٹے کی امداد جاری رہے گی‘‘۔بیروت کو عطیات کا سلسلہ تو شروع ہوچکا ہے لیکن کیا وہ لوگ جن کی جانیں گئیں انکے افراد خاندان کو اور ہزاروں کی تعداد میں جو زخمی ہوئے ہیں اور جو بے گھر ہوگئے ہیں انکے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ اس دھماکے کے ذمہ داروں کو کیسے اور کب پکڑا جائے گا اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا ، کیونکہ اب حکومت بھی مستعفی ہوگئی ہے اور نئی حکومت بننے تک اس دھماکے کی یادیں بھی ماند پڑجائیں گی ، جیسا کہ ماضی میں بھی ایسے کئی خوفناک واقعات ہوتے رہے ہیں جو آہستہ آہستہ لوگوں کے ذہنوں سے نکل گئے۰۰۰

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تاریخی معاہدہ
آخر کار متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تاریخی سمجھوتہ طے پاگیا ہے ، اس سمجھوتہ کے تحت دونوں ملکوں کے تعلقات نارمل ہوجائیں گے ، ذرائع ابلاغ کے مطابق اس معاہدے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جمعرات13؍ اگسٹ کو طے پائے اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس کے مغربی کنارے پر ان علاقوں سے دستبردار ہوجائے گا جن پر وہ قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ متحدہ عرب امارات اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے والا پہلا خلیجی ملک بن گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق یہ ڈیل متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے نتیجے میں ہوئی ہے۔متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کی جانب سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تاریخی سفارتی سمجھوتہ کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن ممکن ہوسکتا ہے، یہ تینوں ممالک کے قائدین کے ویژن ، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی اس حوصلہ مندی کا نتیجہ ہوسکتا ہے کہ اب خطے میں نئی راہیں کھلیں گی۔سمجھا جارہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مزید اسلامی یا عرب ممالک کے سفارتی تعلقات قائم ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ڈونلڈ ٹرمپ صدر امریکہ نے اس ڈیل کو پہلا قدم قرار دیا ہے، انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ اب برف بگھل چکی ہے، اب امید ہے کہ مزید عرب اور مسلم ممالک بھی متحدہ عرب امارات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنائیں گے۔

ترکی اور یونان کے درمیان تنازعہ۰۰۰ ترکی کے خلاف فرانس کا فیصلہ
ترکی عالمی سطح پر ایک اسلامی ملک کی حیثیت سے نمایاں ہوتا جارہا ہے اور دشمنانِ اسلام صدر ترکی رجب طیب اردغان کی جانب سے کئے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کو ناکام بنانے کی کوشش میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ان حالات میں اسلامی و عرب ممالک کے چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے اسلام دشمن طاقتوں کا مقابلہ کریں۔ ترکی اور یونان کے درمیان تنازعہ کی صورت میں فرانس ترکی کے خلاف یونان کی مدد کررہا ہے ۔ فرانس نے ترکی خلاف مشرقی بحیرہ روم میں مزید فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مشرقی بحیرہ روم میں ترکی اور یونان کے درمیان متنازعہ پانیوں میں قدرتی گیس اور تیل کی تلاش پر تنازعہ جاری ہے۔ ترکی بحریہ کی سیکیوریٹی میں ترکی کا بحری جہاز مشرقی بحیرہ روم کے جن علاقوں میں گیس اور تیل دریافت کررہا ہے، ان پر یونان اور قبرص کو اعتراض ہے کہ وہ ان کے علاقے ہیں۔ اس معاملے پر فرانس یونان اور قبرص کا حامی اور ترکی کی مخالفت کررہا ہے، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ تیل و گیس کی اس مہم کو فی الفور روک دے ورنہ اس کا نتیجہ فوجی جھڑپ کی صورت میں برآمد ہوسکتا ہے۔ ایمانوئل میکرون نے مشرقی بحریہ روم میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یونان سے تعاون کے لئے اس علاقے میں تعینات اپنی فوج میں مزید اضافہ کررہا ہے۔ جس کے جواب میں ترکی کا کہنا ہیکہ یہ سمندری علاقہ اس کی ملکیت ہے اور وہ پانیوں میں اپنے حقوق ، مفادات اور تعلقات کا دفاع کرنا جانتا ہے۔ مشرقی بحیرہ روم میں گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں جن پر ترکی، قبرص اور اسرائیل کے درمیان اکثر تنازعہ رہتا ہے۔اب دیکھنا ہے کہ فرانس کیا واقعی ترکی کے خلاف فوجی کارروائی کرتا ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو حالات انتہائی کشیدہ ہوجائیں گے اور دشمن اسلام چاہتے بھی ہے کہ ترکی کی طاقت و قوت کو کسی نہ کسی طرح کم کیا جائے ۔ لیکن صدر ترکی رجب طیب اردغان کے منصوبہ اور ارادے اتنے مضبوط دکھائی دیتے ہیں وہ کسی بھی طاقت کا مقابلہ کرنے تیار ہے ۔اور عالمی سطح پر بھی مسلمان ترکی کا ساتھ دے سکتے ہیں۔
***
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 255 Articles with 96231 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Aug, 2020 Views: 509

Comments

آپ کی رائے