میئر کراچی وسیم اخترکے 4سالہ دورکا اختتام (30اگست2016 ۔ 20اگست2020)

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

میئر کراچی وسیم اخترکے 4سالہ دورکا اختتام
(30اگست2016 ۔ 20اگست2020)
ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی
میری یاد داشت میں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے دورہ اقتدار میں بلدیاتی نمائندے جوبی ڈی ممبر کہلائے کا وہ صدارتی انتخاب 2جنوری 1965 میں ہو اچھی طرح محفوظ ہے ۔ مجھے ان بنیادی جمہو ریت کے نمائندوں کا انتخاب بھی اچھی طرح یاد ہے جس میں ہمارے والد صاحب کے ایک دوست جعفری صاحب بنیادی جمہوریت یعنی بی ڈی ممبر منتخب ہوئے تھے ۔ صدارتی انتخاب ایوب خان اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے درمیان ہواتھا، میں اس وقت نوی کلاس میں تھا ۔ مجھے ان انتخابات کی گہما گہمی، محترمہ فاطمہ جناح کے لیے اہل کراچی کی محبت کو میں آج بھی محسوس کرسکتا ہوں لیکن جب رات گئے نتیجہ سامنے آیا تو فیلڈ مارشل صاحب بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ کو شکت دینے میں کامیاب ہوچکے تھے اور کامیابی کا جشن پورے ملک میں شایان شان طریقے سے منایا جارہا تھا ۔ پاکستان میں انتخابات میں شفافیت کی تاریخ کا نقطہ آغاز یہی سے شروع ہوتا ہے ۔ اس کے بعد فیلڈ مارشل صاحب کس طرح اقتدار سے رخصت ہوئے وہ بھی سب کے علم میں ہے ۔ ایوب خان اور فاطمہ جناح کے مابین صدارتی انتخاب میں 80,000ہزار بنیادی جمہوریت کے نمائندوں نے صدارت کے لیے ووٹ ڈالے ۔ اس وقت بنیادی جمہوریت کے منتخب نمائندے ڈویژنل، ڈسٹرک و تحصیل یا یونین کونسل کی سطح پر شہر کی بلدیاتی امور سر انجام دیا کرتے تھے ۔ قیام پاکستان کے وقت کراچی شہر کی آبادی ساڑے چار لاکھ تھی ،’’اقبال اے رحمن مانڈویا نے اپنی کتاب ’’اِس دشت میں اِک شہر تھا: کراچی کے سنہرے دنوں کی داستان ‘‘ میں کراچی کی آبادی پندرہ بیس لاکھ تحریر کی ہے ۔ 1951 ء کی مردم شماری کے مطابق اس شہر کی آبادی ایک ملین ہوگئی تھی ۔ اس کے بعد اس میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ، وہ ہوش ربا ہے،اب 16ملین (16,09400)
سے تجاوز کرچکی ہے ۔
بلدیاتی نظام قیام پاکستان سے پہلے سے راءج ہے ۔ کراچی کا پہلا میئر جمشید نصر وانجی مہتا تھا ۔ اس کے بعد کراچی کے جو میئر منتخب ہوئے ان میں تیکم داس ودھومل، قاضی خدا بخش، ارڈیشز ایچ حمزہ، درگا راس ایڈوانی، حاتم علی علوی، آر کے سڈوا، لال جی ملاھترا، محمد ہاشم گزدر، سہراب کے ایچ کٹہراک، شمبو ناتھ ملراح، یوسف عبد اللہ ہارون ، مینول مسقیطہ، وشرم داس دیوان داس قیام پاکستان کے وقت بلدیہ کراچی کے میئر تھے ۔ قیام پاکستان کے بعد9 مئی 1947ء کو حکیم محمد احسن بلدیہ کراچی کے اولین میئر ہوئے ۔ ان کے بعد غلام علی الانہ، اللہ بخش گبول، ایچ ایم حبیب اللہ پراچہ، محمود ہارون، الحاج ملک حاتم علی،صدیق وہاب، ایس ایم توفیق، اللہ بخش گبول،عبدا لستار افغانی( دوبار)، نعمت اللہ خان، سید مصطفی کمال اور وسیم اخترشامل ہیں ۔ درمیان میں جب منتخب ایوان موجود نہ ہوائے توایڈمنسٹریٹر بھی بلدیہ کراچی کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرتے رہے ۔

20اگست 2020ء کو سبک دوش ہونے والے میئر کراچی وسیم اختر چار سال قبل 20اگست2016ء کو متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار کی حیثیت سے کراچی کے میئر منتخب ہوئے تھے ۔ اس وقت سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور اسلام آباد یعنی مرکز میں پاکستان مسلم لیگ (ن) یعنی میاں نواز شریف حکمراں تھے ۔ دوسال وسیم اختر صاحب نے سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مرکز میں میاں نواز شریف کی حکمرانی میں کام کیا ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وسیم اختر نے جیل میں رہتے ہوئے میئر کا انتخاب لڑا اور میئر کراچی کے منصب پر فائز ہوئے ۔ وہ12مئی2007کے مقدمے میں شامل ہیں ۔ 2018 ء کے عام انتخابات میں سندھ میں تو پاکستان پیپلز پارٹی کی ہی حکومت رہی البتہ مرکز میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی، اس دوران متحدہ بھی کئی دھڑوں میں تقسیم ہوئی، کراچی میں متحدہ کو بہت کم سیٹیں ملیں اور تحریک انصاف کو اہل کراچی نے اکثریت فراہم کی اسے کراچی سے پچاس فیصد سے زیادہ قومی اسمبلی کی سیٹیں حاصل ہوئیں ، لیکن متحدہ کم سیٹو کے باوجود مرکزی حکومت کی ضرورت بن گئی اور مرکزی حکومت میں بھی متحدہ حصہ دار بن گئی ۔ اس اعتبار سے میئر کراچی کو جو کہ متحدہ کا نمائندہ تھا، کراچی کے لیے دن رات کام کرنا چاہیے تھا، سندھ میں کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اس وجہ سے اس نے رکاوٹ ڈالی ہوگی، جیسا کہ کہا جارہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد اختیارات جو صوبے کو دئے گئے تھے وہ صوبے کے وزیرا علیٰ کی حد تک محدود رہے وہ بلدیاتی اداروں تک نہیں پہنچے ۔ وسیم اختر بحیثیت میئر اپنی ناکامی کی وجہ اسی بات کو کہتے رہے ۔ حالانکہ مرکز میں میئرکراچی بلاواسطہ حکومت کا حصہ تھے ۔ لیکن سچ بات یہ تھی کہ تحریک انصاف کے کراچی کے منتخب نمائندوں نے اور سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندوں نے وسیم اختر کو دل سے میئر قبول ہی نہیں کیا ۔ ظاہر کچھ اور باطن کچھ نظر آرہا تھا، اگر ایسا تھا تو مرکز میں شامل متحدہ کے اراکین کیا کر رہے تھے ۔ کیا انہیں صرف وزارت کے گھوڑے پر ہی سوار رہنا تھا ۔ انہیں اپنے شہر کی فکر نہیں تھی ۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو کراچی شہر کی حالت کی جانب توجہ کیوں نہ کرائی ۔ کراچی کے گھمبیر حالات صرف موجودہ بارش کی وجہ سے نہیں ہوئے ، اس کی بربادی، تباہ کاری، بے توجہی عرصہ دراز سے جاری ہے ۔ اس شہر کی بدقسمتی یہی رہی کہ اس شہر سے فائدہ ہر ایک نے اٹھایا لیکن اسے کسی سیاسی جماعت نے اپنا یا نہیں (اون نہیں کیا) ۔ اس شہر کو صرف اور صرف مال بنانے کی مشین سمجھا اور مال بھی بنایا، کچھ ملک میں کچھ بیرون ملک عیش کی زندگی گزار رہے ہیں ۔

وسیم اختر اپنے دور میئر شپ میں ناکامی کی وجوہات خواہ جو بھی بتائیں لیکن تاریخ انہیں ایک ناکام میئر ہی لکھے گی ۔ اس لیے کہ وسیم اختر کے دور میں کراچی کی شکل صورت بد سے بد تر ہوگئے، کراچی جو ایک خوبصورت صاف شفاف شہر تھا کھنڈر میں تبدیل ہوگیا، جگہ جگہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر، گندگی ہی گندگی ۔ انہوں نے اگر کوئی کام اپنے دور میں کیا تو وہ یہ تھا کہ وہ صرف اور صرف اختیارات کے نہ ہونے اور فنڈ کے حصول کا مطالبہ کرتے رہے ۔ وہ شہر کے گھبیر مسائل کا کوئی حل سامنے نہ لاسکے ۔ پاکستان کا سب سے بڑا شہر ،آبادی کے اعتبار سے دنیا کا ساتواں بڑ ا اور اسلامی دنیا کا دوسرا بڑا شہر ہے اس کا میئر اس قدر بے بس ، بے یار و مدد گار اس سے پہلے کبھی نہ تھا ۔ کراچی کا میئر کوئی معمولی چیز نہیں ہوا کرتا تھا ۔ خود متحدہ کے میئر مصطفی کمال کی مثال ہی لے لیں ، مانا کے اس کے اس وقت اس کے ساتھ متحدہ کی قوت تھی، پرویز مشرف کی خواہش اور عملی تعاون تھا کہ کراچی کو ترقی ملے ۔ اس سے قبل عبد الستار افغانی دو بار میئر رہے، نعمت اللہ خان صاحب میئر رہے ان کا ایک مقام تھا، عزت تھی، بازاروں میں گلیوں میں ، سڑکوں پر دکھائی دیتے تھے، اور پیچھے چلیں جائیں یوسف عبدا للہ ہارون، محمود ہارون، اللہ بخش گبول حبیب اللہ پراچہ جیسے دیگر میئر کراچی کے شان تصور ہوا کرتے تھے ۔ رہی سہی کثر وسیم اختر نے اپنی آخری پریس کانفرنس میں اپنے خطوط صحافیوں کے سامنے اچھال دیئے ا ور مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے ، خطوط لکھنے کو اپنی کارکردگی ظاہر کی ۔ اگر وہ اپنی پریس کانفرنس میں اپنی ناکامی کا بر ملا اظہار کردیتے تو زیادہ بہتر اور باعث عزت ہوتا ۔ ان کے اس عمل کو کسی نے بھی اچھا نہ سمجھا ۔ کسی شاعر کا شعر ۔
ابھی سے کیوں چھلک آئے تمہاری آنکھ میں آنسو
ابھی چھیڑی کہا ں ہے داستان ِ زندگی میں نے
کراچی کی بربادی ، شکستہ حالی کی کہانی تو اب وسیم اختر کے جانے کے بعد سامنے آئے گی، وہ آنسوبہائیں ، اپنے اختیارات کی بے بسی کا ماتم کریں ، معزرت کریں ، معافی مانگے یا اپنی کامیابی کا اعلان، تاریخ بے رحم ہوتی ہے وہ تو اب لکھی جائے گی ۔ سابقہ حکمرانوں نے اٹھارویں ترمیم منظور کر کے اختیارات مرکز سے صوبوں کو منتقل کردیے ۔ صوبے کا سربراہ وزیر اعلیٰ ان تمام اختیارات کا مختار کل ہوگیا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اختیارات وزیر اعلیٰ سے اس کے صوبے کے شہروں میں قائم سٹی حکومت یا میونسپل کارپوریشن ، یوسی چیرَ مین ، کونسلرز کو منتقل کیے جاتے، میئر کو منتقل کیے جاتے ایسا نہیں ہوا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک تو متحدہ کی سیاسی قوت سکڑ گئی،وہ اکڑ پھوں اور بھرم جاتا رہا، صوبے میں حکومت ایک پارٹی کی تو مرکز میں حکومت دوسری پارٹی کی ، صوبے کے بجائے مرکز میں قائم سیاسی جماعت کے اتحادی بن گئے ۔ کراچی شہر لاوارث ہوگیا، مرکز میں قائم حکومت کو کیا پڑی کے کہ کراچی کے لیے کام کرے اسے جو حاصل ہونا تھا وہ ہوگیا ۔ صوبے کی حکومت شہری علاقوں کی مدد سے قائم نہیں ہوئی اسے بھی کیا پڑی تھی کہ وہ کراچی کے کچرے ، کراچی کی تباہ حالی پر توجہ دیتی ۔ میئر سوائے اختیارات کے نہ ہونے کے کوئی راگ ان کے پاس نہیں رہا ۔ اختیارات نہیں ۔ اگر مان بھی لیاجائے کہ اختیارات نہیں تھے تو ہزاروں سوئیپر (جھاڑو لگانے والے) ہر ماہ تنخواہ لیتے ہیں ، گاڑیاں سٹرکوں پر دوڑتی نظر آتی ہیں ، ڈارائیور اپنی تنخواہیں وصول کر رہے ہیں ، تنخوائیں باقاعدگی سے کے ایم سی کے کچرا اٹھانے اور اٹھوانے والوں کو مستقل ملتی رہیں ، پھر کچرا کیوں نہیں اٹھایا گیا، نالے کیوں صاف نہ ہوئے ۔ مئیر صاحب اختیارات کے ساتھ ساتھ فنڈ کا مطالبہ بھی کرتے رہے ۔ جو اختیارات تھے، جو وسائل مہیا تھے ان میں رہتے ہوئے ہی اگر ایمانداری اور محنت سے کام کیا جاتا تو گندگی اور شہر کھنڈر نہ بنتا اور یہ حالت نہ ہوتی جو ہوچکی ہے ۔ بارش پر کسی کا اختیار نہیں ، لیکن نکاسی آب کا انتظام تو بلدیات کا ہے، صفائی ستھرائی تو بلدیاتی نمائندوں کا کام ہوتا ہے ۔ کراچی کی خراب حالت کو بہتر کرنے کے لیے عمران خان نے کراچی کے لیے خصوصی پیکیج 162ارب روپے کا اعلان کیا، وسیم اختر کو وہ ملا یا نہیں ، اس کا علم نہ ہوسکا ۔ موجودہ بارشوں کی تباہ حالی پر وزیر اعظم بیان سامنے آیا کہ وہ کراچی کے تین بڑے مسائل حل کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے ۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ سندھ حکومت کوورلڈ بنک ایک ارب روپے کراچی کے نالوں کی صفائی کے لیے دے چکا ہے ۔ وہ رقم ایمانداری سے نالوں کی صفائی پر لگائی گئی یا نہیں کسی کوکوئی علم نہیں ۔ سندھ حکومت بھی وسائل کی کمی کا کہتی نظر آئی ۔ کراچی میں بلدیاتی نمائندوں کی تعداد 10ہزار بتائی گئی ہے ۔ گویا ان دس ہزارو نمائندوں کو سرکاری فنڈ سے تنخواہیں بھی ملا کرتی رہیں چار سال تک ، ان کی کارکردگی کیا رہی;238;، پھر جو معاوضہ یہ لیتے رہے وہ جائز تھا;238; کیا انہیں از خود اسے قومی خزانے میں جمع نہیں کرادینا چاہیے ۔ کراچی میں میونسپل کارپوریشن3 ، ڈسٹرکٹ کارپوریشن6، ضلع کونسلیں 24، ضلع کونسلیں ، مینونسپل کمیٹیا36، ٹاوَن کمیٹیاں 48اور1400سے زائد یونین کونسلیں اور یونین کمیٹیاں ہیں ۔ ان منتخب نمائندوں کی کل تعداد 10ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے ۔ واضح رہے کہ اس میں مینونسپل کارپوریشن کا عملہ شامل نہیں ۔ یہ وہ منتخب عوامی نمائندے ہیں جو چار سال سرکار سے ماہانہ تنخواہ لیتے رہے اور ان کی کارکردگی موجودہ بارش کے کے نتیجے میں کھل کر سامنے آچکی ہے ۔ سابق میئر وسیم اختران دس ہزار منتخب نمائندوں کے سربراہ تھے ۔ ان سب کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے ۔ اب کراچی مینونسپل کارپوریشن میں وقتی طور پر ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا جائے گا جو کراچی کے بلدیاتی نظام کا سربراہ ہوگا ۔ اہل کراچی وسیم اختر کو الوداع کہتے ہیں ۔ الوداعی قطعہ وسیم اختر کے لیے ۔
میئر کراچی وسیم اختر بخیر خوبی رخصت ہوئے
کر کے کراچی کی شکستہ حالی وہ رخصت ہوئے
تصرف نہیں پیسہ نہیں کی تکرار وہ کرتے رہے
کام کچھ نہ کیا آنسوبہاتے وہ رخصت ہوئے
(20اگست2002)
��
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 715 Articles with 588682 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
30 Aug, 2020 Views: 89

Comments

آپ کی رائے