آمریت سے ٹکرانے والی مادر جمہوریت کلثوم نواز کو بچھڑے 2 سال بیت گئے

(Mian Khalid Jamil {Official}, Lahore)

سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کو دنیا سے رخصت ہوئے دو سال بیت گئے۔ کینسر کے مرض میں مبتلا سابق خاتون اول ہارلے سٹریٹ کلینک لندن میں 68 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں تھیں۔ آہنی اعصاب اور نرم گو بیگم کلثوم نواز جلاوطنی میں مسلم لیگ ن کی صدر اور جنرل مشرف آمریت کے دور میں خاتون جمہوریت کے نام سے جانی جاتی تھی۔۔

تین بار ملک کی خاتون اول کا اعزاز رکھنے والی بیگم کلثوم نواز نے انتیس مارچ 1950 کو اندورن لاہور کے معروف کشمیری گھرانے میں ڈاکٹر حفیظ بٹ کے ہاں آنکھ کھولی وہ معروف گاما پہلوان کی نواسی تھیں۔ شادی سے قبل ان کا نام کلثوم بٹ تھا۔

کلثوم نواز نے میٹرک لیڈی گریفن اسکول،گرایجویشںن اسلامیہ کالج کوپر روڈ سے حاصل کی۔ ادب سے گہرا لگاؤ ہونے کے باعث انہوں نے 1972 میں ایف سی کالج سے اردو لٹریچر میں بی اے اور جامعہ پنجاب سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔

اپریل 1971 میں بیگم کلثوم بزنس مین نواز شریف کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔ بیگم کلثوم نواز کے دو بیٹے حسین نواز اور حسن نواز جبکہ دو بیٹیاں مریم نواز اور اسما نواز ہیں۔

6 نومبر 1990ء کو نواز شریف وزیراعظم منتخب ہوئے تو بیگم کلثوم نواز کو پہلی بار خاتون اول بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ وہ 17 فروری 1997 کو دوسری بار خاتون اول بنیں۔

12اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹایا تو امور خانہ داری نمٹانے والی گھریلوخاتون بیگم کلثوم نواز کو تن تنہا اپنے شوہر کے حق میں آواز اٹھانا پڑی۔ انہوں نے نہ صرف اپنے شوہر کی رہائی کیلئے عدالت سے رجوع کیا بلکہ مسلم لیگ (ن) کی ڈوبتی کشتی کو بھی سہارا دیا اور 1999ء میں مسلم لیگ ن کی قیادت کا بوجھ بھی تین سال تک اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائے رکھا

شوہر کے ساتھ تقریبا سات سال جلاوطنی کاٹنے والی بیگم کلثوم نواز کو جون 2013 میں تیسری بار خاتون اول بننے کا منفرد اعزاز بھی حاصل رہا۔

2017 میں نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی کردہ نشست پر لاہور کے حلقہ این اے ایک سو بیس پر پارٹی نے انہیں امیدوار نامزد کیا لیکن اسی دوران انہیں کینسر کے مرض کی تشخیص ہوئی جس پر انہیں شدید علالت کے باعث علاج معالجے کے لئے لندن منتقل کیا گیا جس کی وجہ سے وہ اپنی انتخابی مہم نہ چلا سکیں انکی جگہ انکی صاحبزادی مریم نواز نے انتخابی مہم چلائی اور واضح اکثریت سے میدان مار لیا اور پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور موجودہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو شکست دی منتخب ہونے کے بعد بھی علالت کے باعث وہ قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہ اٹھا سکیں۔

بیگم کلثوم نواز لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں زیر علاج تھیں لیکن جولائی 2017 میں ان کے شوہر محمد نواز شریف اور بڑی بیٹی مریم نواز انہیں تشویش ناک حالت میں اسپتال چھوڑ کر احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کاٹنے پاکستان واپس پہنچے۔

اسی دوران ان کی طبیعت زیادہ بگڑی اور وہ 11 ستمبر 2018 کو دوران علاج اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ لندن میں ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کی میت کو پاکستان منتقل کیا گیا جہاں 14 ستمبر کو شریف میڈیکل سٹی کمپلیکس میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی مرحومہ کو جاتی امرا میں اپنے سسر محمد شریف اور دیور عباس شریف کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا

نرم گفتار کلثوم نواز مشرف کی آمریت کے دوران جمہوریت کی بحالی کا کردار ادا کرنے، منتشر پارٹی کو متحد رکھنے کی کوشش اور اپوزیشن جماعتوں کو آمریت کیخلاف ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے پر انہیں "مادر جمہوریت" کا خطاب بھی دیا گیا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mian Khalid Jamil {Official}

Read More Articles by Mian Khalid Jamil {Official}: 323 Articles with 164651 views »
Professional columnist/ Political & Defence analyst / Researcher/ Script writer/ Economy expert/ Pak Army & ISI defender/ Electronic, Print, Social me.. View More
10 Sep, 2020 Views: 158

Comments

آپ کی رائے