شہر دیہات جیسا

(SAYAM AKRAM, )

تحریر:مہک سہیل،کراچی

ہم انسانی دنیا میں رہتے دکھتے ضرور ہیں پر ہم ہیں آج اسی پرانے پتھر کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں۔نہیں مانتے آپ؟ تو اپنے علاقے کے پاس کی کسی کچی آبادی میں جاکر انکا حال دیکھ لیں۔لوگ غربت سے پریشان کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں تو آپ خود پر شکر بجالائینگے۔انکا کوئی سننے والا نہیں کسی ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک خبر چل جاتی ہے فلاں شخص اس بیماری میں مبتلا ہے تو حکومت آگے بڑھتی ہے اور اُسی رات بارہ کی ہیڈ لائن تک اس شخص کے علاج معالجے کا انتظام ہوجاتا ہے۔ مگر ایسے ہزاروں لوگ ہیں جن کو مدد کی ضرورت ہے اور جن تک کوئی پہنچ نہیں پاتا اور بے یارو مددگار اس دنیا کے رخصت ہوجاتے ہیں۔کیا حکمرانوں کو جگانے اور احساس دلانے کے لیے عوام کو میڈیا تک رسائی حاصل کرنا ضروری ہے؟ کسی بھی معاملے میں جب تک مظاہرے نہ کیے جائے یا جب تک سوشل میڈیا پر شور نہ مچایا جائے حکمران حرکت میں نہیں آتے۔عورت بچے جوان کوئی یہاں محفوظ نہیں۔ دن کی روشنی سے لیکر رات کے اندھیرے تک چوریوں کا بازار گرم ہے۔عورتوں اور بچیوں کی عزت داغدار کرنے والے درندے کھلے عام گھومتے ہیں۔انصاف کے دروازے پر رَش لگا ہے ہر کوئی فائل ہاتھ میں تھامے اپنے نمبر کا انتظار کرتا نظر آتا ہے۔
شور کی آواز جو چھبتی ہے کانوں کو
تو لازم ہے کہ اب کان ہی بند کرلیے جائیں

بظاہر تو دنیا گلوبل ویلیج ہے پر اس دنیا میں ترقی کرتے کئی ممالک ایسے ہیں جنکی اولین ترجیح اپنے ملک کی امپورٹ اور ایکسپورٹ اور ملک کی ظاہری امیج ہے۔پاکستان کے سابق وزیراعظم کی بات کروں تو صاحب نے ملک کی انفرااسٹرکچر پر بہت زور دیا۔ موٹرویز، شاہراہ، بس سروسِس ان سب پر جتنی توجہ دی گئی اور جتنا بے حساب پیسہ خرچ کیا گیا اگر ان سب کا آدھا بھی ملک میں باترتیب اور آبادی کے صحیح تناظر میں تقسیم ہوتا تو آج پاکستان اور خاص کر کراچی میں بسنے والی عوام اس اذیت کا سامنا نہیں کررہے ہوتے۔انصاف کو روتی بِلکتی عوام آنسوؤں کی سسکیاں لیے اپنی فریاد کس کے دَر کو لیکر جائے۔کراچی میں جہاں نظر ڈالو وہاں لمبی اونچی عمارتیں بنتی نظر آتی ہیں انکا بس نہ چلے تمام بلڈرز عمارتیں بنا بنا کر آسمان ہی ڈھک دیں۔کبھی چائنا کٹنگ تو کبھی نالوں پر بنی عمارت۔ سالوں بعد ہی کیوں خیال آتا ہے جب شہر کے ذمہداروں کے سر پر آتی ہے پہلے ہی کیوں اقدامات نہیں اٹھائے جاتے ان مافیہ کے خلاف؟ ان لوگوں کا کیا قصور ہے جو سالوں سے ان عمارتوں کو اپنا گھر بنائے رہتے آئے ہیں۔انسان جنگل کے بجائے شہر میں رہنا کیوں پسند کرتا ہے کیونکہ وہاں اسے تحفظ، تہذیب، تربیت، تعلیم، جدید ٹیکنولوجی تفریح کی سہولتیں ریاست کی طرف سے میسر ہوتی ہیں پر اگر یہی ریاست اس کے خلاف کام کریں تو کیا کہیے شہر میں رہتے دیہات کے مزے لیجیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: SAYAM AKRAM

Read More Articles by SAYAM AKRAM: 51 Articles with 15515 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Sep, 2020 Views: 324

Comments

آپ کی رائے