اسرائیل اور ہم

(محمد جواد احمد, دیپالپور)
اسرائیل اور ہمارا تقابلی جائزہ

آج اسرائیل کے متعلق آپ کو بتاتے چلیں۔اور یہ بھی کہ ہم اسرائیل کو کیوں تسلیم نہیں کرتے ۔اور ہم اس کے مقابل ہیں یا نہیں۔ اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جو یہود نے (انیس سو اڑتالیس)1948 میں فلسطین پر قبضہ کرکے بنایا ۔تب سے اب تک ان کی مسلم دشمنی عالم اسلام اپنی بے شرمی، بے پرواہی اور بے حسی سے دیکھ رہا ہے ۔اسرائیل فلسطین، شام، مصر،اردن وغیرہ کی زمینوں پر قبضہ کر کے بنایا گیا۔اس لیے اذل سے لے کر آج تک اورآج سے ابد تک یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا کیونکہ وہ ان اپنے ہمسایہ ممالک کی زمینوں پر قبضہ کر کےاپنا گریٹر اسرائیل کا منصوبہ مکمل کرنا چاہتے ہیں۔یہودیوں کا مقصد گریٹر اسرائیل کا قیام ہے ۔جس پر وہ بڑی کامیابی سے عمل پیرا ہے۔ گریٹر اسرائیل کا نقشہ سعودی عرب کے شمالی علاقے ترکی کے جنوبی علاقے،اردن اور شام کے علاقے اور مصر کے صحرائے سینا اور کچھ اور علاقوں پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو ال یہود کے عروج کے وقت ان کے کنٹرول میں تھا۔اسرائیل اس کے قیام کی نہ صرف تیاری کر چکا ہے۔ بلکہ عرب کا اس کو آہستہ آہستہ اور خفیہ طور پر تسلیم کرنا اس کی کھولی دلیل ہےکہ گریٹر اسرائیل کا قیام ہو کر رہے گا ۔احادیث (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) میں بھی اس کے قیام کے متعلق اشارے موجود ہیں اور عربوں کی تباہی کے بھی۔آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایاجس کا مفہوم یہ ہے کہ عربوں کے لیے ہلاکت ہے۔ عربوں کے لیے ہلاکت ہے۔ عربوں کے لیے ہلاکت ہے۔یہ الفاظ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار ارشاد فرمائے۔اس گریٹر اسرائیل کا خاتمہ دجال کے خاتمے کے ساتھ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے اسرائیل کے متعلق کتنی تیاری کی ہے۔آپ کواسرائیل کے ماحول کے بارے میں بتائیں کہ آپ اگر اسرائیل چلے جائیں تووہاں آپ کونا شراب ملے گی نہ آپ کو کوئی کلب ملے گا نہ نشئی اور نہ ہی غریب ملے گے کیوں؟کیونکہ اسرائیل میں ان سب چیزوں پر پابندی ہے ۔اسرائیل میں ہر بچے کو ہیکنگ(Hacking) کی تعلیم دی جاتی ہے، ان کو تیر اندازی سکھائی جاتی ہے، ان کو کاروباری بنانے کے لیے قرضے دیے جاتے ہیں۔آپ اگر اسرائیل کے نقشے کو دیکھیں تو یہ ایک خنجرنما شکل کی طرح ہے اور یہ خنجر عالم اسلام کے درمیان گڑھا ہواہے۔اسرائیل کی آبادی اتنی کم ہے کہ مصر کی پولیس اس کی آبادی سے تعداد میں زیادہ ہے ۔اس لئے تو کہا جاتا ہے کہ اگر صرف اس کے ہمسایہ ممالک اس کی طرف کھڑے ہو کر پیشاب کر دیں تواسرائیل اس پیشاب میں بہہ کر ختم ہو جائے گا۔لیکن ہماری ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم سے اللہ نے یہ بھی توفیق چھین لی ہے۔کہ ہم اسرائیل کے خلاف کوئی جارحانہ عمل بھی کر سکیں۔اگر ہماری اور انکی طاقت کا ملاحظہ کیا جائے تو اسرائیل ٹیکنالوجی ،تعلیم ،معیشت ،زراعت نیزہرشعبے میں دنیا کو لیڈ کر رہا ہے۔یہودیوں نے پوری دنیا کی معیشت پر قبضہ جما رکھا ہے ۔ان کا کنٹرول بے حیائی پھیلانے میڈیا ،زراعت ،تعلیم نیز ہر شعبے میں ہے۔ان کی طاقت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ انہوں نے اپنے ازلی دشمن عیسائیوں کو بھی اپنا ما تحت بنا رکھا ہے۔(سی آئی اے) امریکہ اور یورپ سب ان کے کنٹرول میں ہے۔حکم ان کا اور عمل ان کی طرف سے ہوتا ہے ۔دنیا کے بڑے بڑے کاروباری اور امیر یہودی ہیں ۔اقوام متحدہ میں ان کی ہر طرح سے مانی جاتی ہے ان سب چیزوں کی وجہ ہے ۔طاقت۔اور وہ طاقت کے ذریعے پوری دنیا کو کنٹرول کیے ہوئے ہیں۔پوری دنیا کو مزید کنٹرول کرنے اور ان کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیےآئی ایم ایف(IMF)اور ورلڈ بینک جیسے ادارے موجود ہیں۔یہاں تک کہ امریکہ کی اپنی معیشت کو چلانے اور کنٹرول کرنے اپنا نیشنل بینک نہیں ہے۔بلکہ امریکہ کو اپنی معیشت چلانے کیلئیے نجی بینک فیڈرل ریزرو(Federal Reserve)سے قرضہ لینا پڑتا ہے۔جو یہودیوں کا ہے۔اس لیے وہ امریکہ سے کچھ بھی فیصلے کرواتے ہیں۔ اور امریکہ بھی ان سے قرض لینے کا پابند ہے کیونکہ انہوں نے امریکن کانگرس سے یہ اجازت لے رکھی ہے ۔جن لوگوں نےان کے خلاف آواز بلند کی انہیں قتل کر دیا گیا۔ ان میں سے ایک شخصیت جو ہم آپ کو بتائیں وہ ہے ابراہیم جان لنکن ۔ اس سے پہلے کہ ہم کسی اور موضوع کی طرف بڑھ جائیں ہم اپنے موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔معیشت کے علاوہ پوری دنیا کو اور تباہ کرنے کے لیے بے حیائی، شراب نوشی، گانے اور ہر طرح سےدماغی صلاحیتوں کو تباہ کرنے کے لیے مختلف قسم کی موسیقی کو پھلایا جا رہا ہے۔موسیقی کے بارے میں ہم انشاء اللہ آپ کو ضرور آگاہ کریں گے کہ یہ کس طرح دماغ کی صلاحیتوں کو تباہ کرتی ہے۔ان سب باتوں کے بر خلاف وہ خود صحت مند رہتے ہیں۔ وہ اپنی نوجوان نسل کو بہترین صحت افزاماحول، دماغ کا بہترین استعمال اوران کی زندگی کااصل مقصد اپنی نسل کو مہیا کرتے ہیں۔ان کی ہر طرح کی تربیت کی جاتی ہے۔وہ ایسی تربیت اپنے بچوں کی کر رہے ہیں ۔جیسی تربیت مسلمانوں کو اپنے بچوں کی رینی چاہیے۔ ۔تاکہ لیا جائے ان سے کام دنیاکی امامت کا۔لیکن ہم امامت کرنا نہیں چاہتے ۔اور نہ ہم اس کے اہل ہیں ۔کیونکہ امامت کے لیےتین عناصر کا ہونا ضروری ہے ۔وہ تین عناصر ہیں۔ صداقت ،عدالت اور شجاعت ۔ بابا اقبال (رحمۃ اللہ علیہ)کے مطابق:
"سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا"

لیکن افسوس کے ساتھ یہ امامتوں کے کام ہمارے بس میں کہاں کیونکہ وہ یہ کام کر رہے ہیں جو ہمیں حکم ہے لیکن ہم وہ کام نہیں نہیں کر رہے جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔آپ ان کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنا مقصد گریٹر اسرائیل کا نقشہ اور سب کچھ پوری دنیا کے سامنے رکھ دیا۔اور سب سے بڑھ کر ان کا دہشت گردانہ قومی ترانہ ہے جو ان کی دہشتگردی کی کھلی دلیل پیش کرتا ہے۔آپ ان کے قومی ترانے کا ترجمہ پڑھ لیں تو آپ کو اس کا خود اندازہ ہوجائے گا کہ یہ کس طرح تعصبات کا شکار ہیں۔اسی طرح ان کا جھنڈا بھی ان کے گریٹر اسرائیل منصوبے کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ان کے جھنڈے میں دو نیلی لائینیں ہیں جو ایک نیل اور دوسرے فرا ت کو ظاہر کرتی ہیں ان کا مقصد دریائےنیل سے دریائےفرات تک اپنی سلطنت بنانا ہے۔ان سب چیزوں کے ظاہر ہونے کے باوجود اقوام متحدہ ان کا بال بھی بیگا نہیں کر سکتی اور نہ وہ اتنا کر سکتے ہیں اور نہ ہی وہ اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ ان کو روک سکیں۔ان سب باتوں کا آپ کو بتانے کا مقصد آپ کو ڈرا نہیں بلکہ آگاہ کرنا تھا۔جو میں نے مختصرطورپر کر دیا۔ تو بات ظاہر ہے کہ ان کو روکا اور ان کو لگام کیسے ڈالی جائے۔اس کے لئے ہمیں اپنی تیاری کرنا ہوگی۔اقبال کے شاہین کے ہی بس میں یہ سب کچھ ہے آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ کفر کی راہ میں اگر اللہ نے آخری چٹان کائم کی ہے تو الحمدللہ وہ پاکستان ہے۔اب ہمیں اس بات کو اچھی طرح سے سمجھنا ہوگا

ہمارا دشمن اس کو اچھی طرح سے جانتا ہے ہم نہیں۔وہ یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان ہمیں تسلیم کرلے اگر پاکستان ان کو تسلیم کرلے تو ان کی راہ کی رکاوٹ دور ہوجائے گی۔اگر ہم ایسا کریں تو ہمارے آگے دولت کے انبار لگا دئیے جائیں ہمارے قرضے ختم کر دیئے جائیں مگر یہ ہو گا نہیں۔کیوں کے اللہ نے اس پاک سر زمین سے بڑے بڑے کام لینے ہیں۔اور یہ کام ہمارے جیسے نکموں سے نہیں لے گا۔اگر ہمیں اب واقعی ہی کچھ کرنا ہے تو ہمیں اپنے ملک پاکستان کے ہر نظام کو بدلنا ہوگا خواہ وہ سیاسی ہو تعلیمی ہو یا معاشی وغیرہ۔لیکن اس بات کے لئے ہمیں کسی کا محتاج نہیں بلکہ خود اقبال کا شاہین مرد حق اور مرد قلندر بننا ہوگا خود کو اتنا بنانا ہوگا نکھارنا ہوگا۔اپنی خودی کو بیدار کرنا ہوگا خود کو ہر طرح سے طاقتور بنانا ہوگا خواہ وہ تعلیمی ہو یا معاشی ہو کوئی بھی ہو پھر ہم اصل مسلمان بنے گے۔کیونکہ امیر مومن غریب مومن سے بہتر ہوتا ہے۔اس سے ہمارےاصل مسلمان بننے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا۔پھر ہم کھوکھلے داعوئےسے نہیں بلکہ اصل میں اسلام کے نفاذ کا پوری دنیا میں خواب دیکھ سکتے ہیں۔آج کے دور میں آپ ہر طرح سے طاقتور ہوکر ہی ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں اور اقبال کے شاہین ہی یہ کام کر سکتے ہیں ۔کیوں کہ اقبال کا شاہین کوئی عام چیز نہیں ہوتا ہے۔ اس کا جہاں اور ہوتا ہے۔ وہ ستاروں پر کماند ڈالتا ہے۔ پھر ہر ناممکن کو ممکن بناتا ہے،پھر جا کر اپنے مقصد کو پاتا ہے، اس میں فیصلے کی ہمت اور جرات ہوتی ہے، وہ اس اسباب کا قائل نہیں بلکہ مدد خدا وندی کا قائل ہوتا ہے۔وہ خود آگاہ ہوتا ہے، اس کی خودی بیدار ہوتی، ہے وہی سچا مسلمان ہوتا ہے ،جیسے ہمیں بننے کی ضرورت ہے۔
اسی لئے توبابا اقبال(رحمۃ اللہ علیہ) نے کہا تھا :
یوں تو تم سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ کہ مسلمان بھی ہو
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد جواد احمد

Read More Articles by محمد جواد احمد: 4 Articles with 801 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Sep, 2020 Views: 129

Comments

آپ کی رائے