ہری ونش سنگھ کی رسوائی اور سشانت سنگھ کی خودکشی ؟

(Dr Salim Khan, India)

زرعی بل کے اثرات اپنے آپ میں ایک تفصیل طلب موضوع ہے لیکن حکومت کا ایوان بالا میں اسے دھاندلی کے ذریعہ منظور کرانا بھی کوئی معمولی تنازع نہیں ہے۔ اس بابت بہار کے بڑبولے رکن پارلیمان گری راج سنگھ نے کہا کہ ایون بالا کے نائب صدر ہرونش سنگھ کی جو توہین ہوئی ہے اس کا انتقام بہار کے لوگ انتخاب میں لیں گے۔ یہ بڑی دلچسپ منطق ہے کہ بہار میں صوبائی انتخاب ہونے والے ہیں جن کا پارلیمان کے ایوانِ بالا سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ہری ونش سنگھ بہار سے رکن پارلیمان ضرور ہیں لیکن ان کی پیدائش اترپردیش اور رہائش رانچی یعنی جھارکھنڈ میں ہے اس طرح ان کا بہار سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے ۔ ویسے بھی ایوان بالا کے ارکان کو عوام منتخب نہیں کرتے تو ایسے میں بہار کے عوام بھلا ہری ونش سنگھ کی بے عزتی کا بدلہ کیوں لیں؟ کیا گری راج سنگھ نے بہار کے رائے دہندگان کو اپنی مانند بیوقوف سمجھ رکھا ہے جو کبھی سوشانت سنگھ کے قتل کا انتقام لینے کے لیے اکساتے ہیں تو کبھی ہری ونش سنگھ کا بدلہ لینے کی تلقین فرماتے ہیں ۔ کیا یہ انتخاب کوئی بدلہ لینے والی ہندی فلم ہے جس میں ہیرو چن چن کر اپنے باپ کے قاتلوں سے بدلہ لیتا ہے نیز کیا سشانت سنگھ راجپوت یا ہری ونش سنگھ بہاری عوام کے باپ لگتے ہیں؟ جو ان کی توہین کا بدلہ لیا جائے؟

گری راج سنگھ کے بیان سے یہ بات ضرور ثابت ہوتی ہے کہ ہری ونش سنگھ کی ایوان ِ پارلیمان میں توہین ہوئی ہے اور یہ سشانت سنگھ کی موت کی مانند ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہری ونش رائے کی توہین کس نے کی؟ جیسے یہ پتہ چلانے کے لیے سی بی آئی کی خدمات حاصل کی گئی کہ سشانت سنگھ کو کسی نے قتل کیا یا اس نے خودکشی کی؟ اسی طرح یہ معلوم کرنے کے لیے بھی ایک کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے کہ آیا ہری ونش سنگھ کی کسی نے توہین کی یا وہ خود اس کے لیے ذمہ دار ہیں؟ اس لیے کہ جس طرح خودکشی سے بھی موت ہوتی ہے اسی طرح انسان اپنی بے عزتی خود بھی کرواتا ہے؟ سی بی آئی تو سشانت کے قاتل کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی اور اس سے یہی ثابت ہوگیا کہ اس نے خودکشی کی تھی اسی طرح اگر ہری ونش رائے کی رسوائی کا پتہ لگانے کے لیے بھی تفتیش کی جائے گی تو یہی نتیجہ نکلے گا کہ یہ ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے ۔

ایوان پارلیمان میں قانون سازی کے دو طریقے ہیں ایک اتفاق رائے یعنی آواز کا ووٹ اوردوسراکثرت رائے یعنی اکثریت کی رائے جس کا فیصلہ ووٹوں کی گنتی سے ہوتا ہے ۔ایوان زیریں میں چونکہ بی جے پی کو اپنے بل بوتے پر اکثریت حاصل ہے اور کسی رکن پارلیمان کو ضمیر کی آزادی نہیں ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے سکے اس لیے بی جے پی ہر فیصلہ آواز کے ووٹ سے کرنے کی مجاز ہے لیکن ایوان بالا میں وہ ہنوز واضح اکثریت سے محروم ہے اس لیے اسے دوسروں کی حمایت سے قانون سازی کرنی پڑتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علاقائی جماعتیں کسی معاملے میں حکومت کی حمایت کرتی ہیں کسی میں نہیں کرتیں ۔ کسان بل پر تو این ڈی اے کی سب سے قدیم حلیف اکالی دل نے وزارت سے استعفیٰ دے کر اپنی نااتفاقی کا اظہار کردیا۔ ایسے میں اگر کسی معاملے میں سارے لوگ متفق نہ ہوں اور رائے شماری کا مطالبہ جائز ہے اور اس کا احترام لازم ہونا چاہیے۔

زرعی بل کے معاملے میں حزب اختلاف رائے شماری کا مطالبہ کررہا تھا ۔ اس کے باوجود بی جے پی علاقائی جماعتوں کے تعاون سے یہ بل منظور کرواسکتی تھی لیکن اس کی ناکامی کا بھی امکان تھا ۔ ایسے میں ہری ونش سنگھ رائے شماری کا انکار کرکے پارلیمانی ضابطے کو پامال کیا ہے۔ اس طرح انہوں نے خود اپنی رسوائی کو دعوت دی ۔ ان کے خلاف احتجاج ہوا تو مظاہرین کو معطل کرکے اپنی ذلت میں مزید چار چاند لگا دیئے۔ وہ اس خیال خام میں مبتلا تھے کہ یہ دھاندلی چل جائے گی لیکن معطل شدہ ارکان دھرنے پر بیٹھ کر وہیں پر رات گزاردی۔ہندوستان کے پارلیمان کی تاریخ میں یہ دھاندلی اور ایسا احتجاج دونوں پہلی بار ہوا۔ اس کے لیے پوری طرح نائب صد ر ہری ونش سنگھ ذمہ دار ہیں ۔ اس کا غالباً ا نہیں رات میں احساس ہوا اور اسی لیے دوسرے دن علی الصبح وہ اپنی غلطی کی پردہ پوشی کے لیے احتجاج کرنے والوں کا ناشتہ چائے لے کر پہنچ گئے۔

یہ عجب تماشہ تھا اگر ان لوگوں کا احتجاج غلط تھا تو پولس کے ذریعہ انہیں ہٹوایا جاتا اور اگر درست تھا تو معطلی رد کرتے ہوئے معذرت چاہی جاتی لیکن انہوں نے تیسرا یعنی ہمدردی جتانے کا راستہ اختیار کیا ۔ اس کام کو ذاتی حیثیت سے کرنے کے بجائے میڈیا کے بینڈ باجا اور باراتی کے ساتھ نوٹنکی کرنے کے لیے پہنچ گئے۔ احتجاج کرنے والے لوگ دودھ پیتے بچے تو نہیں تھے جو اس پاکھنڈ کے جھانسے میں آجاتے ۔ ان لوگوں نے ہری ونش سنگھ کو دھتکار کر بھگادیا ۔ یہ مزید بے عزتی تھی لیکن اس کے لیے بھی وہی خود ذمہ دار ہیں اس لیے کسی نے ان سے یہ پاکھنڈ (منافقت) کرنے کے لیے نہیں کہا تھا ۔ ممکن وزیر اعظم نے یہ مشورہ دیا ہو کیوں کہ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں ہری ونش رائے کی فراخدلی کی تعریف کردی تھی لیکن شایدانہیں معلوم نہیں تھا کہ اس منافقانہ فراخدلی کودھتکار دیا گیا ہے۔ پہلے سے طے شدہ ٹویٹ انجام کی پروا کیے بغیر چھوڑ کروزیر اعظم نے خود کو اس بے عزتی میں حصہ دار بنالیا ۔

ہر ونش سنگھ کو اس دوسری رسوائی پر بھی اطمینان نہیں ہوا تو انہوں نے اپنے پیروں پر ایک اور کلہاڑی چلائی۔ نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو کو ایک خط لکھ کر اپنے درد کا اظہار اس طرح کیا کہمیرے ساتھ راجیہ سبھا میں جو توہین آمیز سلوک ہوا ہے اس سے میں بہت غمزدہ ہوں اور رات بھر سو نہیں پایا ۔ اگر ایسا تھا صبح صبح ناشتہ لے کر کیوں پہنچ گئے ؟ دراصل احتجاج کرنے والے لوگ اگر ان کی چائے پی لیتے تو سنگھ صاحب گھر واپس آنے کے بعد گھوڑے بیچ کر سوجاتے اور ان کی ساری تکلیف دور ہوجاتی لیکن سارا منصوبہ دھرا کا دھرا رہ گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ راجیہ سبھا کے اندر ہونے والی توہین کا نہیں بلکہ چائے پینے سے انکار کا ہے اور 24 گھنٹے والے اپواس کی بنیادی وجہ یہی ہے۔

ہری ونش سنگھ نے نائب صدر کو یقین دلایا کہ وہ اپواس کے دوران پارلیمنٹ کا اپنا کام کاج جاری رکھیں گے۔ انہیں یہ واضح کرنا چاہیے کہ اگر اس اپواس کا مقصد اپنے پاپ کا پرایشچت (غلطی کا کفارہ ادا کرنا) ہے تو اس کا الزام دوسروں کے سر منڈھنے کے بجائے کھلے دل سے اس کو تسلیم کریں۔ ویسے ہری ونش سنگھ کی منطق الٹی ہے کیونکہغلطی اگر دوسروں نے کی ہے تو کفارہ وہ کیوں ادا کررہے ہیں؟ ارے بھائی اگر آپ کا کوئی قصور نہیں تو آپ کو افسوس کیوں ہے؟ اور اگربھول آپ سے ہوئی ہے تو اس کی اصلاح کرنے کے بجائے اپواس کے ڈرامہ کی کیا ضرورت ؟ ہری ونش سنگھ نے اپنے خط میں یہ توقع ظاہر کی ہے کہ شاید میرے اپواس سے اس طرح کا سلوک کرنے والے ارکان کے اندر اپنے دلوں کو صاف کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ اس موقع پر جبکہ انہوں نے اپنی احمقانہ ہٹ دھرمی سے پوری قوم کو شرمسار کردیا ہے دوسروں کے دل کی فکر کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں ۔ ہری ونش سنگھ کی بے عزتی کے لیے انہیں اوٹ پٹانگ مشورے دینے والے ؛وگ حصے دار ضرور ہیں لیکن چونکہ وہ انہیں مان کر اس پر عمل کرررہے ہیں اس لیے خود صد فیصد ذمہ دار ہیں ۔ انہوں نے ایک صحافی کی حیثیت سے برسوں تک اپنی جو ساکھ بنائی تھی اس پر ازخود خاک ڈال دی ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ بلا وجہ کی ناٹک بازی چھوڑ کر علامہ اقبال کے اس شعر پر عمل کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اس لیے کہ پارلیمانی اقدار کو پامال کرکے اس پر بنے رہنے کا حق وہ کھو چکے ہیں ؎
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1091 Articles with 380499 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2020 Views: 175

Comments

آپ کی رائے