فرقہ واریت اور این جی اوز کی کارستانیاں۔

(Umer Farooq, )

 ملک میں دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے بعد استحکام آیاتھا مگرحالیہ محرم الحرام میں چندشرانگیزاقدامات وتقاریر نے ملک کوہلاکررکھ دیااورتوہین وتکفیرنے عوام کوبھی بے چین کر دیا ،قومی اتفاق رائے پارہ پارہ ہوگیامگرحکومت کی طرف سے فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی البتہ مقتدراداروں کی طرف سے اس حوالے سے ایک بیٹھک کی گئی( جس کاتذکرہ پچھلے کالم میں کیاگیاتھا )،یہ دیکھاگیاہے کہ ایک وقفے کے بعد اچانک ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ فرقہ وارانہ کشیدگی عروج پرپہنچ جاتی ہے ،سرکاری اورغیرسرکاری طورپربین المسالک ہم آہنگی ،اتحادویکجہتی اوریگانگت کی فضاء بنانے کے لیے ایک عرصے سے جو کوششیں ہورہی ہوتی ہیں وہ سب یکدم بھسم ہوجاتی ہیں ،

حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی ایماء پرمذہبی جہادی تنظیموں کاقلع قمع کردیاہے ان کے اکاؤنٹس منجمداوررہنماؤں کوگرفتارکیاہے مگرملکی سلامتی کے خلاف سرگرم این جی اوزبدستورسرگرم ہیں ،فرقہ واریت پھیلانے میں جہاں اوربہت سے کردارہیں وہاں ان این جی اوزکابھی بڑاکردارہے ان این جی اوزنے گزشتہ سالوں میں متعدد نوجوانوں کے ذہنوں کی ایسی آبیاری کی ہے جواب سوشل میڈیاکے ذریعے ہماری ملکی سلامتی کے خلاف سرگرم ہیں سوشل میڈیاپرمذہبی بحثیں اورمناظرے کرکے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلارہے ہیں ،کچے ذہنوں میں مذہب کے حوالے سے ایسے سوالات پیداکررہے ہیں جوفرقہ وارانہ کشیدگی کاباعث بن رہے ہیں ۔

اس کے ساتھ ساتھ ایسی مصدقہ رپورٹس بھی موجود ہیں کہ غیرملکی این جی اوزملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے میں باقاعدہ انوسٹمنٹ کی ہے مبینہ طورپر پیس اینڈایجوکیشن کے سربراہ نے فیصل آبادکے ایک مولوی کواپنے مخالف جماعت کے خلاف مہم چلانے کے لیے پانچ لاکھ روپے دیے،اس سے قبل امریکہ اوردیگرعالمی طاقتیں مختلف شخصیات اورتنظیموں کوفنڈنگ کرتی رہیں جس کے ذریعے مسالک کے درمیان نفرتیں پیداکی گئیں سوال یہ ہے کہ اس طرح کے بھیانک کرداروں کے خلاف حکومت نے اب تک کیاکاروئی کی ہے ؟

جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے نجی مجلسوں اورجلسہ عام میں متعددباریہ بات دہرائی ہے کہ 2013ء کے الیکشن سے قبل این جی اوزکے نمائندوں نے مجھ سے ملاقات کرکے کہاکہ غیرملکی این جی اوزکے ذریعے اربوں روپے صوبے میں لارہے ہیں آپ خیبرپختونخواہ حکومت میں شامل ہوجائیں آپ کواپناحصہ ملے گا مگرمیں نے انکارکردیا مولانافضل الرحمن نے چنددن قبل اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیزکانفرنس میں ایک مرتبہ پھرکہاکہ میرے ردعمل کوکنٹرول کرنے کے لیے ایک بڑاوفدمیرے پاس آیااورکہاکہ آپ حکومت کے خلاف سخت مؤقف نہ اپنائیں نرمی اختیارکریں ہم نے یہ صوبہ اس لیے ان کے حوالے کیاہے کہ پشتون بیلٹ میں مذہب کی جڑیں گہری ہیں اورمذہب کی یہ جڑیں اکھاڑنے کے لیے ہمارے پاس اس سے بہترآدمی نہیں تھا ہم نے این جی اوزکے ذریعے سے یہ فضاء بنانے کے لیے پندرہ سال محنت کی ہے ۔

مولانافضل الرحمن کی سیاست سے اختلاف کیاجاسکتاہے مگران کی حب الوطنی پرہمیں کوئی شک نہیں وہ درست فرمارہے ہیں کہ بظاہر ہماری فکر میں مبتلا یہ ادارے ہماری سیکورٹی اور ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرتی رسم ورواج میں دراڑیں ڈالنے کے بھی مجرم ہیں۔فرقہ واریت کے طوفان کے پیچھے ایسے ہی خفیہ ہاتھ کار فرما ہیں اور یہ ایجنڈا اس رازداری سے پورا کیا جاتا ہے اور اس کے لیے ایسے ایسے طریقے آزمائے جاتے ہیں کہ بے روزگاری کے مارے ہوئے اِن تنظیموں میں دن رات کام کرنے والے اپنے لوگ بھی اس سے بے خبر رہتے ہیں ۔انہیں اپنے روزگار اور تنخواہ سے سروکار ہوتا ہے جس کے لیے وہ ایسے ایسے سروے کرتے ہیں جو ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور نتائج اپنے من پسند طریقے کے مطابق شائع کر دیے جاتے ہیں اس کے لیے بھی انتہائی مجبور بستیوں کا رخ کیا جاتا ہے اور ان کی مجبوریوں کو کیش کیا جاتا ہے ۔

ایسی این جی اوز ہمارے ملک میں تھوک کے حساب سے پائی جاتی ہیں جو مختلف اوقات میں ہمارے ملک میں در آئی ہیں ۔گزشتہ کئی سالوں میں اِن این جی اوز نے فلاحی کاموں کی آڑ لے کر پاکستان کا رخ کیا اور کوئی مناسب قانون سازی نہ ہونے کے باعث بِلا کسی روک ٹوک کے آتی رہیں،گزشتہ حکومت نے 2015میں این اوپالیسی بنائی جس کے بعد متعددغیرملکی اہلکاریہاں سے دم دباکربھاگے مگرموجودہ حکومت کے دورمیں یہ ایک مرتبہ پھرسے سرگرم ہیں حیرت انگیزبات ہے واٹرایڈنامی تنظیم جواپنے نام سے ظاہرہے کہ پانی کے حوالے سے کام کرسکتی ہے مگروہ ملک میں یکساں نصاب کی تیاری میں حکومت کے ساتھ شریک کارہے ۔

یہ ان این جی اوزکاہی کارنامہ ہے کہ 2013 میں خاص طور سے تعلیمی نصاب میں جنسی تعلیم کو متعارف کروانے کے لیے حکومت کے تحت منصوبہ بنایا گیا، اس کام میں اقوام متحدہ کے اداروں نے بڑی مستعدی دکھائی۔ کچھ خاص این جی اوز کو سرگرم کیا، اپنے اس کام میں حکومت سے پالیسی جاری کروائی، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے منظور شدہ نصاب میں چھٹی سے دسویں تک بچوں اور بچیوں کو یہ پڑھانے کی تلقین کی گئی کہ ان کا کسی بھی (جاننے والا یا اجنبی)سے جنسی تعلق کس نوعیت کا ہونا چاہیے۔حکومت پنجاب کے 2013-2017 کے تعلیمی منصوبے میںSexual and reproductive health and rights (SRHR) کا واضح ذِکر موجود ہے جس میں اقوام متحدہ نے جنسی حقوق کی تعریف کرتے ہوئے جن حقوق کا ذکر کیا ہے ان میں جوڑے چننے کی آزادی کا حق، جنسی طور پر متحرک ہونے یا نہ ہونے کا حق، اس سے متعلق معلومات کو پڑھانے، حاصل کرنے اور جاننے کا حق وغیرہ شامل ہے۔ اس منصوبے میں این جی اوز کے لازمی کردار کا ذکر بھی ہے۔

چندسال قبل لاہور ہائی کورٹ نے ایک این جی او کو عدالت میں طلب کیا کیوں کہ اس کی طرف سے گجرانوالا کے سرکاری اسکولوں میں تقسیم کی گئی کتابوں میں تعلیم دی جارہی تھی کہ لڑکیوں کو لڑکوں کے ساتھ اور لڑکوں کو لڑکیوں کے ساتھ کیسے دوستی کرنی چاہیے۔ پاکستان میں بہت سی این جی اوز اس ایجنڈے پر کام کررہی ہیں جس کے تحت مسلسل مختلف نجی اور سرکاری اسکولوں میں اس سے متعلق کتب پڑھانے کی کوشش جاری ہے۔ یہ ادارے مختلف خطوں کے ممالک میں تعلیم اور صحت کا نعرہ لگا کر نام نہاد ترقی کے منصوبہ متعارف کرواتے ہیں وہاں ساتھ ساتھ ان ملکوں کی جڑو ں کو کھوکھلا کرنے کے لئے بھی زہر گھولتے رہتے ہیں اور درست وقت پر اس زہر کو کار آمد بنانے کے لئے اس سے کام لیا جاتا ہے۔

جدید دنیا میں غیر سرکاری تنظیموں اور اداروں کا کردار کافی حد تک بڑھتا چلا جا رہاہے اور خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں این جی اوز کے قیام نے عوام کے مسائل اور ان کی پریشانیوں کو دور کرنے جیسے سنہرے خوابوں سمیت خواتین کی آزادی جیسے کھوکھلے نعروں کی بنیاد پر نہ صرف بے راہ روی کو پروان چڑھایا ہے بلکہ ان ممالک میں عوام کے اندر ایسے گروہوں کو بھی جنم دیا ہے جو وقت آنے پر ان غیر سرکاری تنظیموں کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے اپنے ہی وطن کے خلاف کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوتے ہیں۔۔یہاں تک کہ ان کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے ہیں کہ بعض تنظیمیں سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد پھیلانے کے لیے بھی فنڈنگ میں ملوث ہیں،مگرحکومت ان کے خلاف کاروائی سے گریزاں نظرآتی ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 90 Articles with 19717 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Oct, 2020 Views: 112

Comments

آپ کی رائے