کمانڈر یا جمہوریت ۔۔۔(آپکے تاثرات کیا ہیں ؟)

(Arif Jameel, Lahore)

دُنیا عالم میں موجودہ مسلمانوں کے حالات اور گزشتہ73 سالہ پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ مختصر سا مضمون اُس سوچ کا آغاز ہے جس پر نوجوان نسل کے بہت سے سوالات ہیں۔۔۔۔۔مضمون کو پڑھنے والے ہر قسم کے تاثرات دینے کا حق رکھتے ہیں ۔بس کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ کسی کے حق میں بھی دلائل مُثبت تاثرات۔۔۔۔۔غیر مسلم طاقتوں نے کم و بیش گزشتہ تین صدیوں کے دوران سیاسی نظام کو جمہوریت کے نام پر اپنانے کیلئے کمانڈرز کے کرداروں کو ہی اہم سمجھا ۔ ۔۔۔۔۔

کمانڈر یا جمہوریت

کمانڈر یا جمہوریت ۔۔۔(آپکے تاثرات کیا ہیں ؟)
تحریر :عارف جمیل

دُنیا عالم میں موجودہ مسلمانوں کے حالات اور گزشتہ73 سالہ پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ مختصر سا مضمون اُس سوچ کا آغاز ہے جس پر نوجوان نسل کے بہت سے سوالات ہیں۔لہذا اس مضمون کو پڑھنے والے ہر قسم کے تاثرات دینے کا حق رکھتے ہیں ۔بس کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ کسی کے حق میں بھی دلائل مُثبت تاثرات کے ساتھ د یں ۔ یہی فن مُثبت پہلوﺅں کی نشاندہی کرے گا اور مستقبل میں نوجوان نسل کو کونسی راہ اپنانی چاہیئے، شاید کسی حد تک اُن کیلئے تعین بھی۔
دُنیا عالم کی تاریخ میں سلطنتوں کے قیام اور نظام میںجیتنے بھی بڑے بادشاہوںیا اعلیٰ رُتبہ شخصیات کا ذکر آتا ہے جنہو ں نے چاہے حق کیلئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہو یا اپنے علاقوں کی وُسعت کیلئے وہ بذات ِخود کمانڈر تھے۔بلکہ شطرنج کے کھیل کی اصل ہی بادشاہ یا ملکہ کو مات ہے۔یعنی چال میں فرق طاقت و کمزور کا نہیں بلکہ بہترین حکمتِ عملی کا ہوتا جو لیڈر سیاسی بصیرت کے ساتھ میدان ِجنگ میں بحیثیت کمانڈر اختیار کرتاہے۔اگر تاریخ کے طالب علم اِن چند الفاظ پر ہی غور کر لیں تو نہ صرف صدیوں کے کمانڈرز کے نام و مثال دینے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کون جیتا کون ہارا۔بس اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے کہ کیا جب سے جمہوریت کے نام پر دُنیا عالم میں کمانڈر زکی حکمرانی کو صرف سرحدوں کی حفاظت تک محدود کر نے کی کوشش کی گئی ہے تو اُسکی وجہ سے سب زیادہ دباﺅ کن پر آیا ہے؟
قبل ِمسیح میں یونانی مفکر اور اُنکے فلسفہ میں جمہوریت کی اہمیت و افادیت کا مواد ملتا ہے اور ایک فلاحی ریاست کے قیام میں اسکی کتنی ضرورت ہے وہ بھی قابل ِتعریف انداز میں واضح کیا گیا ہے لیکن اُنکے اپنے چند صدیوں کے علمی عروج کے دور میں وہاں کی حکومتیں خود چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں اپنے کمانڈر بادشاہوں کی طاقت سے بہر مند نظر آتی ہیں۔سپاٹا ریاست اور پھر مقدونیہ کے بادشاہ فلپس اور اُسکا بیٹا اسکندر ِاعظم جسکا اُستاد اُس وقت کا ہی نہیں آج کا بھی آئی کون ارسطو تھا جسکی علمی قابلیت اور تحقیقی کام آج جدید دور میں بھی کسی اہم تحقیق کے دوران ایک دفعہ ضرور پرکھا جا تا ہے اسکندر اعظم کے کمانڈر ذہن کو نہ بدل سکا۔بلکہ یہ بھی گمان کیا جاتا ہے کہ ارسطو نے ہی اسکندر اعظم کے اند ر ایک بہترین کمانڈر کی صلاحیت دیکھ کراُسکو دُنیا فتح کرنے کی طرف راغب کیا تھا۔
کمانڈر کی تاریخی اہمیت میں جمہوریت کا غُنچہ کیسے پھل پھول گیا کہ گزشتہ چند صدیوں میں بندوقوں کے زور پر قبضے کیئے گئے علاقوں کی بندر بانٹ کر کے وہاں جمہوریت کا راگ الاپنا شروع کر دیا گیا۔لیکن جہاں ضرورت پڑی وہاں اُنہی طاقتوں اور چال بازوں نے جمہوریت کے نام پر کمزور سیاسی حکومتوں پر اپنے ہی کمانڈر بیٹھا دیئے یا اُن سیاسی و جمہوری حکومتوں کو اپنے زیر ِسایہ کرنے کیلئے دفاعی معاہدے کر کے تحفظ فراہم کرنے کی ذمہداری لے لی۔ اگر غور کیا جائے تو یہ ذمہداری اسلام کے حکمرانوں کی تھی جن کو فی الوقت جمہوریت کے زیر ِسایہ خاموش کروا دیا گیا اور دوسری طرف غیر مسلم طاقتوں نے کم و بیش گزشتہ تین صدیوں کے دوران سیاسی نظام کو جمہوریت کے نام پر اپنانے کیلئے کمانڈرز کے کرداروں کو ہی اہم سمجھا ۔
تاثرات آنے کے بعد مضمون کو مزید آگے بڑھائیں گے۔تاثرات سوال کی صورت میں بھی پیش کیئے جا سکتے ہیں اور کوئی بھی اُنکا جواب مُثبت انداز میں دینے کا حق رکھتا ہے۔


Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 175204 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
06 Oct, 2020 Views: 529

Comments

آپ کی رائے