بھارت کی جارحیت پسندی

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)
لداخ میں چین اور بھارت کے درمیان کشیدہ حالات اور نام نہاد بات چیت کے دوران بھارت نے لداخ کے ساتھ مواصلاتی روابط مضبوط کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ مقبوضہ لداخ ے دو اضلاع ہیں۔ لہہ اور کرگل۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ ہفتہ 3اکتوبر کو ریاست ہماچل پردیش اور لداخ کے درمیان اٹل بہاری واجپائی کے نام سے منسوب طویل ترین 9.2کلو میٹر دوطرفہ ہائی وے ٹنل ’’اٹل ٹنل‘‘کا افتتاح کیا جو ریاست ہماچل پردیش کو براستہ منالیلہہ سے جوڑ رہی ہے۔اس دفاعی اہمیت کی حامل زیر زمین سرنگ سے منالی کا کیلانگلہہ تک 46کلومیٹر اور چارگھنٹے کی مسافت کم ہو گی ۔اب 15اکتوبر جمعرات کو بھارت کے ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے ادی کشمیر کو کرگل سے ملانے کیلئے ہر موسم میں کام آنے والی شاہراہ کو ممکن بنانے کیلئے زوجیلا ٹنل کی تعمیر کے کام کے آغاز کے لئے پہلا دھماکہ کیا۔ساڑھے گیارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع سلسلہ ہمالیہ کا حصہ ہے جو سرینگر سے ایک سو کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ برفباری کی وجہ سے سال کے چھ ماہ بند رہتا ہے۔موسم گرما میں اسے عبور کرنے کے لئے چار گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ اب اس طویل ٹنل کی تعمیر مکمل ہونے پرچار گھنٹے کا سفر صرف پندرہ منٹ میں طے ہو سکے گا۔

بھارت کو ایسے وقت میں 930ملین امریکی ڈالرز کی لاگت سے زوجیلا ٹنل کی تعمیر کا خیال آیا جب چین کی فوج اس خطے میں داخل ہو چکی ہے۔ بھارت نے چین کی توجہ مذاکرات پر موڑ کر دفاعی نوعیت کی تعمیرات تیز کر دی ہیں۔ زوجیلا ٹنل وادی کشمیر کو لداخ خطے سے ملانے کیلئے ہر موسم میں کام آنے والی ٹنل ہو گی۔جو وادی کشمیر کوکرگل کی وادی سورو اوردراس سے ملائے گی۔ دراس یہاں کا سرد ترین علاقہ ہے جس کا درجہ حرارت منفی 40ڈگری سے گر جاتا ہے۔ یہاں بھارتی فوج نے کرگل جنگ کے بعد فوج کا کیمپ قائم کیا جس نے یہاں ظلم و تشدد کو فروغ دیا۔ کرگل جنگ کے بعد بھارتی فوج کی ایک مکمل ’’کور‘‘فوج لداخ میں داخل ہو چکی ہے۔ جسے 14کور کہا جاتا ہے۔

زوجیلا پہاڑ کے دونوں طرف بلاسٹنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ زوجیلا سرنگ کی تعمیر کے کام کے آغاز کیلئے پہلا دھماکہ کیا کشمیر میں مغربی حصے نیلا گڑھ اور لداخ کے مشرقی حصے سپنگلا مینا مارگ پر کیا گیا ہے۔اِس سرنگ سے شاہراہ نمبر ایک پر سری نگر اور لیہہ کے درمیان ہر طرح کے موسم میں رابطے کی سہولت حاصل ہوگی۔ منصوبے کے تحت14.15 کلو میٹر طویل سرنگ بنائی جائے گی۔بظاہر یہ سرنگ خطے کی ترقی اور سیاحت کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کرے گی، مگر اصل میں یہ کسی بڑی جنگ کی تیاری کے لئے تعمیر کی جا رہی ہے۔ مشرقی لداخ میں ہند،چین سرحد پر کشیدگی اور تناؤکی صورت ِ حال برقرار ہے۔اگر چہ دونوں ممالک کی افواج کے کمانڈروں کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار بھی ہوئے،تاہم ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں دیکھنے کو مل رہی ہے، تعطل ہنوز برقرار ہے۔یہی نہی بلکہ امریکہ نے تبت میں انسانی حقوق کے معاملوں سے متعلق امور کے لئے خصوصی کو آرڈینیٹر مقررکر دیاہے۔امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومیو نیواشنگٹن میں کہا ’’مجھے بیورو آف ڈیموکریسی، حقوق انسانی اور محنت کے اسسٹنٹ سکریٹری رابرٹ اے ڈسٹرو کو تبتی امور کا کوآرڈینیٹر بنائے جانے کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے‘‘۔پومپیو نے کہا کہ خصوصی کوآرڈینیٹر چین اور تبتی روحانی پیشوا دلائی لامہ یا ان کے نمائندوں کے مابین بات چیت کو فروغ دینے کیلئے امریکہ کی کوششوں کی قیادت کرے گا اور ساتھ ہی تبت کی مذہبی اور لسانی شناخت کے تحفظ کے لئے بھی کام کرے گا۔’’وہ تبتی مہاجرین کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور پہاڑوں میں بسنے والی تبتی برادریوں میں پائیدار معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینے کیلئے امریکی کوششوں کی بھی حمایت کریں گے ‘‘۔ اس تقرری کے بعد چین اور امریکہ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ تبت ، چین کا علاقہ ہے۔ جس کے بارے میں امریکی رابطہ کار کی تقرری چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ چین نے لداخ کو بھارتی یونین علاقہ قرار دینے پر بھی سخت بیان تھا۔ جس کے ردعمل میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جموں وکشمیر اور لداخ یونین ٹریٹریز بھارت کے اٹوٹ انگ ہیں اور کسی کو یہ حق نہیں بنتا کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرے، کنٹرول لائن پر بھارتی افواج کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح سے تیار ہے۔ نئی دہلی میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان ’’انو راگ شریواستو‘‘نے کہاکہ جموں وکشمیر اور لداخ کے متعلق بیانات ناقابلِ برداشت ہے۔ چین کی جانب سے ارونا چل پردیش کو بیجنگ کا حصہ قرار دینے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ بھارت نے سفارستی سطح پر چین کو آگاہ کیا ہے کہ ارونا چل پردیش بھارت کا حصہ ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ عالمی طور پر متنازعہ ہیں۔ بھارت نے یہاں غیر قانونی اور جبری فوجی قبضہ کیا ہے۔ اس قبضے کے خلاف کشمیری جدوجہد کر رہے ہیں۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا تھا کہ بیجنگ لداخ کو بھارت کی یونین ٹریٹری تسلیم نہیں کرتا اور یہ کہ بھارت نے غیر قانونی طورپر یک طرفہ فیصلہ لیتے ہوئے متنازعہ خط کو یونین ٹریٹری میں تبدیل کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے لداخ کو یونین ٹریٹری میں تبدیل کرنے سے لداخ کی متنازعہ حیثیت ختم نہیں ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ چین بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات کو پُر امن ذرائع سے حل کرنے کا خواہاں ہے لیکن بھارت نے لداخ کے سرحدی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام شروع کئے ہیں جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔بھارتی ترجمان نے کہا کہ اس نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کا دعوی گھریلو محاذ پر وہاں کی حکومت کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کیلئے کیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے کہا کہ میں اس دعوے(جو وزیراعظم عمران خان کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے کیا) کے بارے میں موقف واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان نے ایسا کوئی پیغام نہیں بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اعلی عہدیدار نے ہندوستان کے داخلی امور پر تبصرہ کیا ہے اور ان کا بیان ’’گمراہ کن اور فرضی، زمینی صورتحال کے برعکس ہے‘‘۔پاکستان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ہندوستان کی پالیسیوں پر بیان بازی کی بجائے اپنی گھریلو پالیسیوں پر توجہ دے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے الزام لگایا کہ پاکستان لگاتار ہندوستان کے خلاف سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی حوصلہ افزائی اور حمایت کرنے میں مصروف ہے۔ وہ دراندازی کی مدد کیلئے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ بھی کرتا ہے۔دراصل بھارت ہمیشہ دباؤ پر ایسے ہی پروپگنڈہ سے کام لیتا ہے، جس کا مقصد دنیا کو دھوکہ دینا ہے۔ بھارت سرحد پر سے جس دہشتگردی کی بات کرتا ہے وہ کشمیریوں کی بھارت کے جبری اور غیر قانونی فوجی قبضے کے خلاف جاری اپنی جدوجہد ہے۔ جس کا حق کشمیریوں کو اقوام متحدہ کا چارٹر بھی دیتا ہے۔ بھارت آزادی کی اس تحریک کو سرحد پار دہشتگردی ثابت کر کے دنیا کو گمراہ کرتا ہے اور دنیا کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تا ہم خطے کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اپنے مغربی آقاؤں سے مل کر جارحیت پسندی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ خطے میں وہ اپنا دفاع مضبوط کر رہا ہے۔ دنیا نے اگر بھارت کی جنگی تیاریوں اور جارحیت پسندی، اشتعال انگیزی، گمراہ کن پروپگنڈہ مہم کی طرف توجہ نہ دی تو یہ نہ صرف علاقائی اور عالمی امن کے لئے خطرناک ہو گا بلکہ یہ خطے کے لئے بھی تباہ کن ہو گا۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 578 Articles with 222516 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
19 Oct, 2020 Views: 300

Comments

آپ کی رائے