نواز شريف کی حوالگی، ايک مشکل اور پيچيدہ عمل

(Mian Khalid Jamil {Official}, Lahore)

سياسی تجزیہ کار حکومتی خوش امیدی کو حکومت کی 'خوش فہمی‘ قرار دے رہے ہیں۔

برطانوی قوانين اور نظام سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ يہ آسان کام نہیں۔

لندن سے تعلق رکھنے والے بیرسٹر گل نواز خان کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے کسی کو ملک بدر کرنے کا عمل تحویل مجرمان کے معاہدے کی عدم موجودگی میں بہت مشکل، طویل اور پیچدہ ہے۔ انہوں نے بتایا، ''آسان قانونی راستہ شايد یہی ہوتا کہ دونوں ممالک کے درمیان تحویل مجرمان کا معاہدہ ہو، جو نہیں ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ بہت مشکل ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی قانون اعانت کے معاہدے کے حوالے سے بات چیت ہوئی تھی لیکن اس کی بھی کوئی باضابطہ شکل نہیں نکل سکی۔ اب اگر حکومت نواز شریف کی حوالگی چاہتی ہے، تو اسے پاکستانی عدالت کے فیصلے کے ساتھ سیکرٹری آف اسٹیٹ کو درخواست دینی پڑے گی، جہاں سے معاملہ مجسٹریٹ کورٹ جائے گا اور وہاں نواز شریف کو پورے دفاع کا موقع دیا جائے گا۔ یہاں اگر نواز شریف کے خلاف فیصلہ ہو بھی جائے، تو ان کو اپیل کا حق ہوگا اور وہاں بھی وہ اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔ تو یہ ایک لمبا اور پیچیدہ عمل ہوگا اور اتنا آسان نہیں ہوگا، جتنا لوگ سمجھ رہے ہیں۔

{پاکستان کی ساکھ متاثر}

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے معروف ماہر قانون و انسانی حقوق کے ليے کام کرنے والے کارکن انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے پاس بہت سارے دلائل ہیں، جو برطانوی عدالتیں سنیں گی اور ان کا اثر ان کے فیصلوں پر بھی ہوگا۔ ''سب سے پہلا نکتہ میاں صاحب یہ اٹھا سکتے ہیں کہ ان کے خلاف جس جج نے فیصلہ دیا، اس پر دباؤ تھا۔ جج کی ويڈیو منظر عام پر آ چکی ہے۔ نواز شريف يہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تقریریں کیں اور نتيجتاً ان کے خلاف مقدمات 'بد نيتی‘ و سياسی انتقام پر مبنی ہیں۔ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ان پر کرپشن کا کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔ پانامہ فیصلہ اگر حکومت دکھاتی ہے تو دنیا میں لوگ اس پر ہنسیں گے اور پاکستان کی ساکھ مزید خراب ہوگی۔

انعام الرحیم کا مزید کہنا تھا کہ آئی جی سندھ کا اغواء بھی نواز شریف کے دفاع میں جائے گا۔ ''میاں صاحب کہیں گے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے اور جب سب سے بڑا پولیس آفیسر محفوظ نہیں تو وہ پاکستان میں کیسے محفوظ ہو سکتے ہیں۔ آئی جی والا کیس پوری بین الاقوامی پریس نے اٹھایا ہے اور برطانیہ کی عدالتیں بھی اس سے واقف ہوں گی۔ اس کے علاوہ حکومت کے اپنے گمشدہ افراد کی بازیابی کے ليے کام کرنے والے کمیشن کا کہنا ہے کہ چار ہزار سے زائد افراد جبری طور پر گمشدہ ہیں۔ ان سارے نکات کی وجہ سے پاکستان کی انسانی حقوق کے حوالے سے ساکھ بہت خراب ہوئی ہے اور مغربی ممالک میں انسانی حقوق کے مسئلے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ تو یہ ساری باتیں میاں صاحب کے حق میں جائیں گی۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ جب برطانیہ کو کوئی شخص مطلوب ہوتا ہے تو 'ہم انہیں فوراً دے دیتے ہیں لیکن جب پاکستان یہ مطالبہ کرتا ہے تو وہ معذرت کر لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ''اس میں قصور صرف برطانیہ کا نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت برطانیہ کے ساتھ تحویل مجرمین کا معاہدہ کیوں نہیں کرتی۔ اگر حکومت واقعی قومی دولت لوٹنے والوں کو واپس لانا چاہتی ہے تو نہ صرف برطانیہ بلکہ سوئٹزرلینڈ اور امریکا کے ساتھ بھی معاہدہ کرنا چاہیے۔ موجودہ صورت حال میں مجھے نہیں لگتا کہ برطانیہ نواز شریف کو پاکستان کے حوالے کرے گا۔

برطانیہ میں مقیم پاک سرزمین پارٹی کے رہنما رضا ہارون کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے حالات اور پاکستان میں موجودہ سیاسی ماحول کے پیش نظر یہ ممکن نہیں کہ نواز شریف کو برطانیہ پاکستان کے حوالے کرے۔ پاکستان میں شفاف نظام انصاف کی کمی ہے، جو نواز شریف کا مضبوط دفاع ہوگا۔

سیاسی انتقام کی روایت بھی پرانی ہے اور حکومتی وزراء کے بیان سے سیاسی انتقام کا تاثر مل رہا ہے۔ یہ بھی سابق وزیر اعظم کے دفاع میں جائے گا اور سب سے بڑھ کر کوئی قانونی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان نہیں ہے۔ تو حکومت کی شعلہ بیانی صرف اپنے ووٹرز کو خوش کرنے کے ليے ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mian Khalid Jamil {Official}

Read More Articles by Mian Khalid Jamil {Official}: 324 Articles with 166973 views »
Professional columnist/ Political & Defence analyst / Researcher/ Script writer/ Economy expert/ Pak Army & ISI defender/ Electronic, Print, Social me.. View More
22 Oct, 2020 Views: 252

Comments

آپ کی رائے