او آئی سی کا نیامی اعلامیہ

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

اسلامی ممالک کے تعاون کی تنظیم او آئی سی کے وزرا ئے خارجہ کے نائیجر کے دارالحکومت نیامی میں47ویں اجلاس کے ایجنڈے میں مسلہ کشمیر کو شامل نہ کرنے سے رائے عامہ میں اشتعال ،کشیدگی اور بدمزگی کا جو تاثرپیدا ہوا، وہ اب ختم ہو رہا ہے۔ دو روزہ اجلاس کے بعد منظور کی گئی متفقہ قراردادوں نے پاکستان کے سعودی عرب ،نائیجراور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تناؤ کی کیفیت کو بھی بالآخر ختم کر دیا ہے۔ اس میں پاکستان کی موثر سفارتکاری اور لابنگ، برادر ممالک کی حمایت کا عمل دخل بھی شامل ہے کیوں کہ منظور ہونے والی قرارداد میں مسلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف دہرایا گیا ہے ۔اسلامو فوبیاپر بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی مسلم ممالک کی جانب سے حمایت کا عندیہ ملا ہے۔ قرارداد میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے درخواست بھی بر وقتہے کہ وہ اسلامو فوبیاکے زیر عنوان عالمی ڈائیلاگ شروع کریں۔اسی تناظر میں او آئی سی کا ہر سال 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کے خلاف دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں تنازعہ کشمیر اور اسلاموفوبیا کے خلاف قراردادیں متفقہ طور پر منظورکرنے سے پاکستان کے مسلم دنیا میں مقام اور حیثیت کااندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ متفقہ طور پر منظور کی گئی پہلی قرارداد میں تنازع کشمیر کی مضبوط حمایت کے عزم کا اعادہ کیا گیا ۔ بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو یکسر مسترد کیا گیا اور قرارداد کے ذریعے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اجرا ء کے ساتھ دیگر یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات منسوخ کرے۔ان اقدامات میں جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر 2020، جموں و کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفکیٹ رولز 2020، جموں و کشمیر لینگویج بل 2020 اور زمین کی ملکیت سے متعلق قوانین میں ترامیم شامل ہیں۔ 57 ممالک نے آر ایس ایس۔بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے حوالے سے کوئی بھی قدم اٹھانے سے باز رہے۔ قرارداد میں بھارتی فورسز کے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی پامالیوں، جعلی جھڑپوں اورکشمیریوں کے خلاف نام نہاد آپریشنز میں ماورائے عدالت قتل سمیت ریاستی دہشت گردی کے دیگر واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔ معصوم شہریوں کے خلاف پیلٹ گنز کے استعمال، کشمیری خواتین کو ہراساں کرنے کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کو مسلسل فوجی کریک ڈاؤن بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین گروپ (یو این ایم او جی آئی پی) کواپنے زیر قبضہ سیز فائر لائن کے اطرف نگرانی سے نہ روکے، جموں و کشمیر، سرکریک اور دریاؤں کے پانی سمیت تمام تنازعات عالمی قانون اور ماضی کے معاہدات کے مطابق طے کرے۔قرارداد میں مطالبہ کیاگیا کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں صورتحال کی نگرانی کرے، اقوام متحدہ اور عالمی برادری پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی جلد بحالی کے لیے کردار ادا کرے اور سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کشمیر پر اپناخصوصی ایلچی مقرر کریں،جو مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مسلسل نگرانی کریں اور سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کو آگاہ کریں جبکہ سیکریٹری جنرل او آئی سی، انسانی حقوق کمیشن اور جموں و کشمیر پر رابطہ گروپ معاملے پر بھارت سے بات کرے اور رپورٹ پیش کرے۔

او آئی سی کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں دنیا کے مختلف حصوں میں اسلاموفوبیا کے واقعات کے خلاف پاکستان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد منظورہونا ایک پیش رفت ضرور ہے تا ہم اسلام آباد کی سفارتکاری کو مزید تیز کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔قرارداد میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا، ساتھ ہی قرآن پاک کی بے حرمتی اور گستاخانہ خاکوں کے حالیہ واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے دنیا کے ایک ارب 80 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔قرارداد میں او آئی سی کے رکن ممالک سے کہا گیا کہ وہ بڑے پیمانے پر اس نوعیت کی تقریبات منعقد کریں جن سے ہر سطح پر اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ختم کرنے کے حوالے سے آگاہی بڑھائی جاسکے۔یہ بھی پیش رفت ہے کہ پاکستان کی خواہش پر او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا 48واں اجلاس 2021 میں اسلام آباد میں منعقد کرنے بھی فیصلہ کیا گیا۔57 رکنی مسلم بلاک کی خطے میں انسانی حقوق کی پامالیوں ،جعلی مقابلوں،بے گناہ شہریوں کے غیر قانونی عدالتی قتل، نجی املاک کو چوری کرنے کے واقعات کی مذمت بھارت کے نام واضح پیغام ہے۔ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ قابض فورسز کی طرف سے پیلٹ گنوں کے استعمال سے ہزاروں افراد بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انتخابات غیر قانونی ہیں کیونکہ وہ غیر ملکی قبضے میں ہو رہے ہیں۔
 
او آئی سی کے وزرائے خارجہ نے کشمیر پر اقوام متحدہ کے مبصرین کی رپورٹوں پر عمل کرنے اور او آئی سی کے نامزد مبصرین کو اپنی رپورٹ مکمل کرنے کا کہا۔ نئی دہلی حکومتیں اقوام متحدہ کی رپورٹوں سمیت آزادانہ تحقیقات سے راہ فرار اختیارکرتی رہی ہیں ، جس کی وجہ بین الاقوامی برادری میں اتحاد نہ ہونا ہے۔ بدقسمتی سے، بھارتی حکومتوں نے بین الاقوامی تنقید کا بہت کم احترام کیا ہے۔ پاکستان کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے میں عالمی رہنماؤں کو اپنی طاقت اور اثرورسوخ کوبھارت پر دباؤ بڑھانے کے لئے استعمال کرنے کی کوششوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔ او آئی سی وزرائے خارجہ کی قراردادوں کی صورت میں پیش رفت پاکستان کے موقف کی کامیابی ہیں۔نیامی اجلاس کے ایجنڈا میں مسئلہِ کشمیر کا ذکر نہ ہو ا تو انڈین میڈیا میں اسے پاکستان کی ناکامی سے تعبیر کیا گیا۔مگر پاکستانی میڈیا میں اس کی بازگشت اور اسلام آباد کی سفارتکاری نے نیامی اجلاس کے شرکاء کو جنجوڑ کر رکھ دیا۔گذشتہ برس جب متحدہ عرب امارات میں او آئی سی وزرا ئے خارجہ کا اجلاس ہوا، تو اُس میں میزبان ملک نے انڈیا کی اس وقت کی وزیرِ خارجہ سشماسوراج کو اس اجلاس سے خطاب کی دعوت دی۔اس وجہ سے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ نیامی اجلاس میں وزیرِ خارجہ نے مثبت اشارے نہ ملنے کے باوجود بھی شرکت کی اور اس کے افتتاحی اجلاس میں دھواں دھار تقریر کی جس میں کشمیر کے تنازعے پر پاکستان کا موقف پیش کیا اور اس کے ساتھ ساتھ روایتی سفارت کاری اور لابنگ کا سلسلہ جاری رکھا ۔ نائیجر سمیت ترکی نے بھی پاکستان کی کوششوں کا ساتھ دیا۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس بار رکاوٹ نہ بنے۔اس میں او آئی سی کے سبکدوش سیکریٹری جنرل یوسف بن احمد العثیمین کا بھی اہم کردار ہے۔نیامی اعلامیہ کے بعد مسلہ کشمیر پھر سے سفارتی سطح پر عالم اسلام کا ایک مسئلہ بن کر ابھرا ہے۔

نیامی اعلامیے میں واشگاف طور پر مطالبہ کیا گیا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسلہ کشمیرکا ایک پرامن حل ہونا چاہیے۔بابری مسجد کی شہادت اور بھارت میں مقدس مقامات کی حفاظت کے بارے میں بھی ایک قرارداد منظور ہوئی ۔ غیر اسلامی ممالک میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک، اور جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کا بھی ان قراردادوں میں ذکر موجود ہے۔ اعلامیے میں کشمیر کی حمایت میں پاکستان کی کوششوں کا ذکر اسلام آباد کی ایک اور کامیابی ہے۔بھارت نے روایتی طور پر اپنی ہٹ دھرمی اور مسلم دنیا کے مطالبے کو نظر انداز کرتے ہوئے او آئی سی کی مسئلہِ کشمیر کی قرارداد کو مسترد کیا جب کہ اس قراردادمیں درست حقائق ، با معنی اور قابل جوازطریقے سے بیان کیے گئے ہیں۔ او آئی سی پرپاکستان کے ہاتھ مسلسل استعمال ہونے کا بھارتی الزام بھارتی ریاستی دہشتگردی اور قتل عام پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ ایک منقسم او آئی سی اور انڈیا کی جارحانہ سفارت کاری کے باوجود کشمیر پر سخت موقف کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کروا لینا پاکستان کی ایک بڑی کامیابی ہے۔اس سے عالمِ اسلام میں بھارت کی رسوائی اورکشمیری عوام کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں۔بھارت میں او آئی سی کی قرارداد کو روایتی بیان بازی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کا او آئی ممالک کو سخت نوٹس لینا چاہیئے کہ 57ممالک کی قرارداد صرف روایتی بیان بازی قرار دینے کا دھبہ صاف ہو جائے۔ او آئی سی کے ارکان انڈیاپر واضح کردیں کہ اس قرارداد کے کوئی معنی ہیں اور انڈیا سے تعلقات پر اس کا اثر بھہ ہو سکتا ہے۔تا کہ یہ قرارداد لفاظی کے علاوہ بھی کسی عملی حیثیت کی حامل بن سکے۔بھارت اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی نے بھی نئی دہلی کو مسلمانوں پر مظالم ڈھانے پر آمادہ کیا ہے۔بھارت کے ساتھ مسلم ممالک کے تعلقات میں تزویراتی تبدیلی ، اقتصادی اور سلامتی سطح پر تعاون نے بھارتی مسلمانوں کی مسلم امہ سے نا امید کر دیا تھا مگراب ان کے حوصلے بلند ہو سکتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 220673 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
09 Dec, 2020 Views: 160

Comments

آپ کی رائے