صدیق اکبرؓ:رزم ِ حق وباطل ہو تو فولاد ہے مومن

(Muhammad Jehan Yaqoob, Karachi)

حضرت صدیق اکبررضی اﷲ عنہ اپنی نرم دلی،رقت قلبی اور تحمل مزاجی کے حوالے سے عالم گیر شہرت رکھتے ہیں،لیکن یہ نرم دلی،رقت قلبی اور تحمل بھی شریعت کے تابع تھا،کوئی خلاف شریعت کام دیکھتے ،توان سے زیادہ جلال وغیرت والا بھی کوئی نظر نہ آتا تھا۔اقبال کے لفظوں میں
ہوحلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم ِ حق وباطل ہو تو فولاد ہے مومن

چناں چہ کفار کے ایک مذہبی پیشوا فنحاص بن عازورا نے اﷲ تعالی کی شان میں گستاخی کی ،تو صدیق نے اس زور سے تھپڑ رسید کیا،کہ وہ گرگیا،حالاں کہ اس وقت آپ اس کے ادارے بیت المدارس میں تشریف فرما تھے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق کے والد ابوقحافہ نے (قبول اسلام سے پہلے)ایک بار آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات کہہ دیے، تو حضرت سیدنا ابوبکر نے انہیں اتنے زور سے دھکا دیا کہ وہ دور جاگرے۔ بعد میں آپ نے حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو سارا ماجرا سنایا ،تو آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے ابوبکر!کیا واقعی تم نے ایسا کیا؟ عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: آیندہ ایسا نہ کرنا۔ عرض کیا: یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم! اگر اس وقت میرے پاس تلوار ہوتی تو میں ان کا سرقلم کردیتا۔ اسی وقت آپ کے حق میں سورۃ المجادلہ کی آیت نمبر22 نازل ہوئی۔(تفسیر روح المعانی)

اسی طرح آپکے بیٹے عبدالرحمن بن ابوبکر،جب وہ اسلام لے آئے تو ایک روز حضرت سیدنا صدیق اکبر سے کہنے لگے: ابا جان! میدانِ بدر میں ایک موقع پر آپ میری تلوار کی زد میں آئے لیکن میں نے آپ کو باپ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ یہ سن کر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق نے غیرت ایمانی سے بھرپور جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:لیکن اگر تو میرا ہدف بنتا تو میں تجھ سے اعراض نہ کرتا۔یعنی میں کبھی یہ نہ دیکھتا کہ تم میرے بیٹے ہو، بلکہ اس وقت تمھیں دشمن ِرسول سمجھ کر تمھاری گردن اڑادیتا۔(نوادرالاصول، امام ترمذی)

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا دنیا سے نشریف لے جانا تھا کہ پورے عرب میں یکایک بغاوت کا طوفان اس زور سے اٹھا کہ اسلام کی عمارت کے درو دیوار ہل کررہ گئے۔ تاریخ طبری میں ہے: مسلمانوں کی حالت اس وقت اس بکری کی سی تھی ،جو موسم سرما کی بار ش والی رات میں کھڑی ہو۔ جو لوگ مرتد، باغی یا مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہوئے، یہ زیادہ تر وہ نو مسلم تھے، جنہوں نے کسی لالچ یا دباؤ میں آ کر اسلام قبول کیا تھا ،لیکن ابھی اسلام ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوا تھا۔جب اسلام کا جھنڈا بلند ہوا اور پے در پے فتوحات کے باعث اس کا قدم حجاز میں جب مضبوطی سے جم گئے اور مدینہ میں ایک بااقتدار اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آ گیا تو ایران و روم کو اپنی فکر ہوئی۔ اس لئے انہوں نے ان عرب قبائل کو جو ان کے دست نگر اور احسان مند تھے، اسلام کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا اور آخر کار انہیں بغاوت پر آمادہ کر لیا۔ غزوہ موتہ کا اہتمام حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہی لوگوں کی سرکوبی کے لئے کیا تھا۔ ابھی اس مہم کا اصل مقصد حاصل نہیں ہوا تھا کہ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں کا جو مواد اندر ہی اندر پک رہا تھا، بغاوت کے آتش فشاں کی شکل میں اچانک پھوٹ پڑا۔ اس فتنے کی آگ کو بجھانے کے لئے عزم کی ضرورت تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق لشکر اسامہ کے منتظر تھے۔ جونہی لشکر فاتحانہ واپس آیا ،آپ نے سرکش قبائل کی سرکوبی کے لئے گیارہ دستے بنائے جو درج ذیل ہیں:
1 ……امیر لشکر حضرت خالد بن ولید کو طلیحہ کی سرکوبی کے بعد مالک بن نویرہ کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔
……2 حضرت عکرمہ بن ابی جہل کومسلیمہ کذاب کے خلاف بھیجا۔
3 ……حضرت شرحبیل بن حسنہ کو حضرت عکرمہ کی امداد اور اس کے بعد حضرموت کے مر تدین کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔
4 ……حضرت عمرو بن العاص کو مرتدین کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔
5……حضرت خالد بن العاص کو سرحد شام کے مرتدین کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔
6 ……حضرت حذیفہ بن محصن کو مرتدین ربا کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔
7 ……حضرت طریفہ بن حاطر کو بنو مسلم اور بنو ہوازن کے مرتدین کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔
8 ……حضرت مرید بن مقون کو اہلِ تہامہ یمن کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔
9……حضرت علا حضرمی کو بحرین کے مرتدین کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔
……10حضرت عرفجہ بن ہرتمہ کو مہرہ کے مرتدین کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔
11 ……حضرت مہاجر بن امیہ کو اسود عنسی کے پیردوں کی سرکوبی پر مامور کیا گیا۔ان لشکروں کی روانگی سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق نے قاصدوں کے ذریعے ایک عام اعلان تمام مرتد قبائل کی طرف بھیج دیا، جس میں ان سے وعدہ کیا گیا تھا : اگر وہ سرکشی سے باز آ جائیں اور احکامِ اسلام کی پابندی اختیار کریں، تو ان سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح ہر سپہ سالار کو جاتے وقت اس کے متعلق مختلف ہدایات دیں۔ مدینہ منوہ میں تین دن اور تین راتین ایسی گزریں کہ عورتوں اور بچوں کے سوا کوئی مرد شہر میں موجود نہ تھا۔

ﷲ پاک نے حضرات صحابہ کرام کی اس قربانی کو قبول فرما کر تمام مخالف فضا کو اسلام کے حق میں ہموار کر دیا اور لوگوں کے لئے ہدایت کے عمومی فیصلے فرما دئیے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Jehan Yaqoob

Read More Articles by M Jehan Yaqoob: 248 Articles with 172627 views »
Researrch scholar
Author Of Logic Books
Column Writer Of Daily,Weekly News Papers and Karachiupdates,Pakistanupdates Etc
.. View More
28 Jan, 2021 Views: 183

Comments

آپ کی رائے