جاپان کے اغوا ہونے والے شہری

جاپان کے ساحلوں سے نوجوانوں کو اغوا کر کے شمالی کوریا کیوں لے جایا گیا 15 نومبر 1977نیگاتا جاپان ؟

15 نومبر 1977، نیگاتا جاپان

نومبر کی ایک سرد شام میں سورج غروب ہو رہا تھا جب میگومی یوکوتا نے اپنی بیڈمنٹن پریکٹس ختم کی۔ اس شام نیگاتا کی بندرگاہ پر سخت سرد ہوائیں چل رہی تھیں۔

یہاں سے میگومی کا گھر صرف سات منٹ کے فاصلے پر تھا۔

13 سالہ میگومی نے اپنا بستہ اور بیڈمنٹن کا ریکٹ اٹھایا اور اپنے گھر سے محض آٹھ سو فٹ کی دوری پر اپنی دو سہیلیوں کو الوداع کہا۔ لیکن پھر وہ کبھی گھر واپس نہیں پہنچ سکیں۔

جب شام کے سات بجے تو ان کی والدہ ساکئی یوکوتا اپنی بیٹی کے گھر نہ آنے پر پریشان ہونے لگیں۔ وہ ان کے سکول میں واقع جِم کی طرف دوڑیں، یہ سوچتے ہوئے کہ راستے میں انھیں اُن کی بیٹی مل جائے گی۔

لیکن سکول کے چوکیدار نے انھیں بتایا کہ وہ تو بہت دیر پہلے سکول سے روانہ ہو چکی ہے۔

Short presentational grey line
واقعے کی رپورٹ پولیس کو کی گئی۔ پولیس کھوجی کتوں اور تیز روشنیوں کی مدد سے انھیں قرب و جوار کے علاقوں میں اندھیرے میں تلاش کرتی رہی۔ وہ قریبی جنگل میں بھی تلاش کرتے ہوئے میگومی کا نام اونچی آواز سے پکارتے رہے۔ میگومی کی والدہ انھیں ساحل پر جانے والی سڑک پر تلاش کرنے لگیں اور جھنجھلاہٹ کے زیر اثر وہ وہاں پارک کی گئی ہر گاڑی کو متلاشی نظروں سے دیکھتی رہیں۔

ساحل کی پٹی پر تلاش کرنا قابلِ فہم بات تھی لیکن اس رات ایک ماں کو کسی طاقتور اور ناقابل بیان چیز نے پانی کے دہانے کی جانب کھینچا۔

بحر جاپان میں ساکئی کی نظروں سے کوسوں دور شمالی کوریا کے ایجنٹوں کی ایک کشتی کوریا کے خطے کی جانب تیزی سے رواں دواں تھی جس میں ایک خوفزدہ سکول کی طالبہ کو قید کیا گیا تھا۔

انھوں نے کوئی ثبوت نہیں چھوڑا تھا اور نہ ہی کوئی گواہ۔

یہ جرم اتنا بے باک اور عجیب تھا کہ اس کی گتھی سلجھانا تو دور کئی لوگ اس کا تصور بھی نہ کر پاتے۔ لیکن برسوں بعد پتا چلا کہ میگومی اس جرم کا شکار ہونے والی تنہا لڑکی نہیں تھیں۔

جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ سنہ 1977 سے 1983 تک شمالی کوریا کے ایجنٹوں نے کم از کم 17 جاپانی شہریوں کو اسی انداز میں اغوا کیا تھا۔ چند تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد شاید 100 سے زیادہ ہے۔
میگومی کی گمشدگی کے ایک سال بعد تک پولیس کی تین ہزار کے قریب نفری نے اُن کی تلاش جاری رکھی۔ اغوا کی وارداتوں سے متعلق ایک یونٹ نے یوکوتا کے گھر پر ڈیرہ ڈالے رکھا۔ گشت کرنے والی کشتیاں انھیں سمندر میں تلاش کرتی رہیں۔

یہ تحقیقات تکلیف دہ انداز میں بے سود رہی۔

میگومی کے والد ہر روز اسے تلاش کرتے اور رات کو غسل خانے میں جا کر روتے۔ ساکئی بھی تنہائی میں روتیں اور کوشش کرتیں کہ میگومی کے چھوٹے بھائی انھیں روتے ہوئے نہ دیکھیں۔

یہ یوکوتا فیملی کے لیے ایک تاریک دور تھا۔ برسوں تک وہ اس خلا کو پُر نہ کر سکے۔

لیکن لاپتہ میگومی زندہ تھیں۔

شمالی کوریا کے ایک جاسوس آن میونگ جو منحرف ہو کر سنہ 1993 میں جنوبی افریقہ آئے تھے، انھوں نے جاپان کی ایک مغوی خاتون کے بارے میں بتایا جو میگومی سے ملتی جلتی تھی۔

آن میونگ جو نے کہا ’مجھے وہ واضح طور پر یاد ہے، وہ نوجوان اور خوبصورت تھی۔‘

انھیں ایک اغوا کار نے، جو ایک سینیئر جاسوس تھا، سنہ 1988 میں اس سے متعلق ایک کہانی سنائی تھی۔

ان کا کہنا تھا ’یہ اغوا ایک ایسی غلطی تھی جو بلا ارادہ ہوئی۔ کوئی بھی ایک بچی کو اٹھانا نہیں چاہتا تھا۔ اس وقت دو ایجنٹس نیگیتا میں ایک خفیہ مشن کے خاتمے کے بعد ساحل پر کشتی کا انتظار کر رہے تھے۔ جب انھیں احساس ہوا کے انھیں کسی نے سڑک سے دیکھا ہے تو انھوں نے خوف کے عالم میں دیکھنے والے کو شک کی بنیاد پر پکڑ لیا۔ میگومی اپنی عمر کے لحاظ سے دراز قد تھیں۔ اندھیرے میں انھیں پتا نہیں چلا کہ وہ ایک بچی ہے۔‘

انھیں 40 گھنٹے تک تاریک کمرے میں رکھنے کے بعد شمالی کوریا پہنچایا گیا۔ آن کہتے ہیں کہ باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش میں اس کے ہاتھوں کے ناخن اکھڑے ہوئے اور خون آلود تھے۔ اسے اغوا کرنے والے ایجنٹوں کی سرزنش بھی کی گئی کیونکہ وہ بہت کم عمر تھی اور ’اس چھوٹی لڑکی کا شمالی کوریا نے کیا کرنا تھا؟‘

قید کے دوران میگومی اپنی والدہ کو یاد کر کے روتی رہیں اور کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔ انھیں پُرسکون رکھنے کے لیے اغوا کاروں نے وعدہ کیا کہ اگر وہ کوریئن زبان بولنا سیکھیں گی تو انھیں گھر جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

وہ صرف ایک پریشان بچے کو بیوقوف بنانے کے لیے بولا گیا جھوٹ تھا۔ اس کے اغوا کاروں کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس کے بجائے وہ میگومی سے جاسوسوں کو تربیت دلوانے کا کام لینا چاہتے تھے تاکہ وہ جاسوسی کے ایک سکول میں جاپانی زبان اور رویوں کے بارے میں جاسوسوں کو سکھائیں۔

ملک کے مستقبل کے رہنما کم جونگ اِل اس وقت انٹیلیجنس سروس کے سربراہ تھے، وہ اپنے جاسوسی کے پروگرام کو وسعت دینا چاہتے تھے۔ اغوا کیے جانے والے صرف غیر ملکی استاد ہی نہیں تھے۔ وہ خود بھی جاسوس بن سکتے تھے یا پیانگ یانگ ان کی شناخت کو جعلی پاسپورٹ کے لیے استمعال کر سکتا تھا۔ وہ دوسرے غیر ملکیوں سے شادی کر سکتے تھے (جو شمالی کوریئن نہیں کر سکتے) اور ان کے بچے بھی حکومت کے کام آ سکتے ہیں۔

’ڈیٹ پر آئے جوڑے کے منھ پر کپڑا ڈال کر انھیں ہتھکڑیاں لگا دی گئیں‘

جاپان کے ساحل عام لوگوں سے بھرے ہوتے ہیں اور یہ عام طور پر اغوا کی آماجگاہیں ہیں جہاں آلہ تربیت یافتہ ایجینٹس سے بچنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

'لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ مجھے اپنی بہن کے بارے میں کچھ یاد نہیں ہے، لیکن مجھے وہ اچھی طرح یاد ہے، حالانکہ میں اس وقت سکول میں تیسری یا چوتھی جماعت میں تھا۔‘

جب میگومی کے چھوٹے بھائی تاکویو یوکوتا اور ان کے جڑواں بھائی تیتسویا نو برس کے تھے تو پولیس والے انھیں مارشل آرٹس کی ویڈیوز دکھاتے تھے اور کہتے تھے کہ ’ہارنا نہیں ہے۔ مضبوط رہنا ہے۔‘

گذشتہ 43 برس کے دوران ہر روز انھوں نے اس مشورے پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب وہ 52 برس کے ہیں اور وہ اپنے کاروباری لباس میں بیٹھے اپنی بہن کی جانب سے اغوا سے قبل دیے گئے پوسٹ کارڈ کو تھامے بیٹھے ہیں۔ اس کے آخر میں میگومی نے لکھ رکھا تھا، ’میں جلد گھر لوٹ آؤں گی۔ میرا انتظار کریں۔‘

وہ اپنی بہن کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ’وہ بہت باتونی تھیں، بہت پھرتیلی اور ذہین۔ وہ ہمارے گھر والوں کے لیے سورج مکھی کے ایک پھول جیسی تھیں۔‘

’ان کے بغیر ڈائننگ ٹیبل پر بات چیت بہت محدود ہو گئی تھی۔ ماحول بہت تاریک ہو جایا کرتا تھا۔ میں بہت پریشان رہتا تھا لیکن پتہ نہیں کیسے میں ہر روز رات کو بستر پر لیٹ جاتا اور صبح اٹھ جاتا یہ جانتے ہوئے کہ وہ ابھی تک لاپتہ ہیں۔ میں اٹھتا اور میں انھیں اپنے آس پاس نہ پاتا۔‘

میگومی کی گمشدگی کے بعد اگلی دو دہائیوں تک یوکوتا فیملی کا کیس خاصا منجمد رہا اور وہ خود بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ آخر اُس دن ہوا کیا تھا؟

انھوں نے یہ سوچنے کی کوشش کی وہ عمر بیتنے کے ساتھ کیسی لگ رہی ہوں گی۔ وہ 13 برس کی عمر میں ہی اتنی لمبی تھیں، کیا اب بھی اتنی ہی لمبی ہوں گی؟ کیا ان کے گالوں پر پڑنے والے گڑھے اب بھی ویسے ہی ہوں گے؟ لیکن ہر سوال پر ایک سایہ منڈلا رہا ہوتا تھا۔ اور وہ یہ کہ کیا وہ اس نومبر کی رات زندہ بچ بھی پائی تھیں؟

70 کی دہائی کے آخر میں ساحلی شہروں میں افواہوں کا بازار خاصا گرم تھا۔ مقامی افراد اجنبی کشتیوں پر سے آنے والے سگنلز اور روشنیوں کے بارے میں بات کرتے تھے اور ان کوریائی سگریٹ پیکٹس کے بارے میں بھی جو ساحل پر پڑے ہوتے ہیں۔ اگست 1978 میں ایک جوڑا تویاما کے ساحل پر ڈیٹ کے لیے نکلا تھا لیکن کچھ افراد نے انھیں دبوچا اور ان کے منھ پر کپڑا ڈال کر انھیں ہتھکڑیاں لگائیں۔

وہ افراد ایک ایسے جاپانی لہجے میں بات کر رہے تھے جو خاصا غیر روایتی تھا۔ ان کی یہ کوشش اس وقت ناکام ہو گئی جب اپنے کتے کو سیر کروانے کے لیے آنے والا شخص وہاں سے گزرا اور اس کے کتے نے زور سے بھونکتے ہوئے انھیں ڈرا کر وہاں سے بھگا دیا۔

تاہم ان کے علاوہ دیگر افراد خاصے بدقسمت رہے۔

سات جنوری 1980 کو جاپان کے سانکی شمبن اخبار نے اپنے سرورق پر یہ کہانی چھاپی: ’فوکوئی، نیگاتا اور کاگوشیما کے ساحلوں سے ڈیٹ کے دوران تین جوڑے غائب، کیا کوئی غیر ملکی خفیہ ادارہ ملوث ہے؟‘

تاہم اس سب کے درمیان ایک سزایافتہ دہشتگرد کے ذریعے ہی شمالی کوریا سے تانے بانے جوڑے گئے۔

کم ہیون ہوئی 115 افراد کے قتل کے ذمہ دار تھے کیونکہ انھوں نے 1987 میں جنوبی کوریا کے ایک طیارے میں بم سمگل کرنے میں مدد کی تھی۔ اب سیول میں جب انھیں موت کی سزا ملنے والی تھی تو انھوں نے گواہی دی کہ وہ شمالی کوریا کی ایجنٹ ہیں اور انھوں نے یہ سب ریاستی حکم پر کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے جاپانی زبان اور رویوں کے بارے میں شمالی کوریا میں ہی سیکھا تھا تاکہ وہ خفیہ طور پر کام کر سکیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی استاد دراصل ایک اغوا شدہ جاپانی خاتون تھی جن کے ساتھ انھوں نے تقریباً دو برس تک کا وقت گزارا تھا۔

یہ گواہی خاصی حیران کن تھی۔ تاہم جاپانی حکومت سرکاری طور پر یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھی کہ شمالی کوریا ان کے لوگوں کو اغوا کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کا ماضی خاصا کشیدہ تھا اور ان کے سفارتی تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ثبوتوں کو نظرانداز کرنا آسان تھا۔

جب جاپانی مذاکراتی ٹیم نے اس حوالے سے شمالی کوریا سے نجی حیثیت میں بات کی تو انھوں نے غصے میں آ کر ایسے کسی بھی اغوا کی تردید کی اور مذاکرات ختم کر دیے۔

یہ 1997 کی بات ہے، میگومی کے لاپتہ ہونے کے 20 برس بعد پیانگ یانگ نے آخر کار اسے حوالے سے تفتیش کرنے کی حامی بھری۔

21 جنوری 1997
’ہمارے پاس یہ مصدقہ معلومات موجود ہیں کہ آپ کی بیٹی شمالی کوریا میں زندہ ہے۔‘

شیگیرو سکتے میں آ گئے۔ تیتسوکیچی ہیوموٹو نامی ایک جاپانی افسر نے، جو ایک رکن پارلیمان کے ذاتی سیکریٹری بھی تھے، یوکوتا خاندان کو اچانک کال کی تھی۔ وہ ایک دہائی سے پیانگ یانگ کی جانب سے اغوا کیے جانے والوں کی تحقیقات کر رہے تھے اور ان سے جلد از جلد ملاقات کرنا چاہتے تھے۔

حیرت کے اس گہرے احساس کے ساتھ ساتھ یوکوتا گھرانے کے دلوں میں امید کی ایک کرن بھی پھوٹ پڑی تھی۔ حکومت کو اس بارے میں یقین تھا کہ میگومی زندہ ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ اسے واپس کیسے لایا جائے؟

یوکوتا خاندان نے اغوا کی اس کہانی کے بارے میں میڈیا کو بتایا۔ انھیں ڈر تھا کہ شمالی کوریا اس واقعے کو چھپانے کے لیے میگومی کو قتل نہ کر دے، تاہم ان کے والد کا ماننا تھا کہ اگر ان کا نام نہ لیا گیا تو اس کیس کو سنی سنائی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے گا۔ انھیں اس خبر کو جاپان کے ہر کونے تک پہنچانے کی کوشش کرنی تھی اور سب سے مدد کی اپیل بھی۔

وہ فیملی پرائم ٹائم ٹی وی پر آئی۔ جاپانی پارلیمان میں سوالات اٹھائے گئے۔ مئی میں حکومت نے اس بار باضابطہ طور پر اقرار کیا کہ میگومی کا کیس واحد نہیں تھا، یوکوتا خاندان جیسے اور بھی خاندان تھے جو اپنی بیٹیوں، بیٹوں، بہنوں، بھائیوں اور ماؤں کی گمشدگی کے باعث افسردہ تھے۔

ان سات خاندانوں نے مل کر ایک سپورٹ گروپ قائم کیا اور اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے تفصیل سے ایک دوسرے سے بات کی اور جو کچھ وہ جانتے تھے اسے اکٹھا کیا۔ یہ اغوا ویسے تو بظاہر موقع کا فائدہ اٹھا کر کیے گئے تھے لیکن جلد ہی ان سب میں مماثلت نظر آنے لگی۔ زیادہ تر لاپتہ افراد 20 سال کی عمر کے نوجوان تھے۔ جاپان میں تمام ہی ساحل اب جائے وقوعہ کا نقشہ پیش کر رہے تھے۔

12 اگست 1978 کو میگومی کے اغوا کے نو ماہ بعد 24 سالہ آفس کلرک رومیکو میسوموٹو اپنے 23 سالہ بوائے فرینڈ کے ساتھ غروبِ آفتاب کا منظر دیکھنے کیگوشیما پریفیکچر کے ایک ساحل پر گئیں۔ ایک روز پہلے ہی انھوں نے کھانے کی میز پر شرماتے ہوئے اپنے اس رشتے کے بارے میں اپنے گھر والوں کو بتایا تھا۔

جائے وقوعہ پر ان کی کار ملی جس کی پیسنجر سیٹ پر رومیکو کا بٹوا اور دھوپ کی عینک پڑی تھی۔ ان کا کیمرہ بھی وہاں ملا جس میں اس دن جوڑے نے جو تصاویر بنائیں موجود تھیں۔ پولیس کو ذرا دور ساحل کے قریب ہی شوچی کا ایک سینڈل بھی ملا۔

ہر اغوا ایک نجی المیہ ہوتا ہے۔ ایک پیارا جو بغیر کسی وجہ کے دنیا سے غائب ہو جائے۔ اور پیچھے رہ جانے والوں میں سے کچھ تو دکھ کی وجہ سے اپنا ذہنی توازن کھونے کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔

پریس اور عوام ہمیشہ ہمدرد ثابت نہیں ہوئے۔ خبروں میں اغوا کو اکثر ’مبینہ‘ کہا گیا۔ متعدد جاپانی سیاست دانوں کا خیال تھا کہ یہ دعوے شمالی کوریا کو بدنام کرنے کے لیے جنوبی کوریا کی غلط خبریں ہیں۔

لیکن جب اہل خانہ نے درخواستیں دیں، ٹی وی اور ریڈیو پر آئے اور حکومت سے لابنگ کی، تو سچائی سامنے آتی گئی۔

پانچ سال بعد، شمالی کوریا میں یہ سچائی خود کم جونگ ال تک پہنچ گئی۔

Short presentational grey line
17 ستمبر 2002

شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ بحیثیت ایک میزبان، مجھے افسوس ہے کہ ہماری وجہ سے جاپان کے وزیر اعظم کو اتنی صبح پیانگ یانگ آنا پڑا۔

لیکن ان کے ساتھیوں کے غصے کا وقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

وزیر اعظم جونیچیرو کوزومی شمالی کوریا کے ساتھ جاپان کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے وہاں پہنچے اور تبادلہ خیال کیا، انھیں امید تھی کہ اس اقدام سے ان کے متعق رائے عامہ بہتر ہو گی۔ لیکن اس کے برعکس وہ سفارتکاری کی جال میں آ گئے۔

1990 کی دہائی کے وحشیانہ قحط میں ایک اندازے کے مطابق 20 لاکھ سے زیادہ شمالی کوریائی باشندے ہلاک ہوئے تھے اور کم جونگ ال چاہتے تھے کہ جاپان شمالی کوریا میں خوراک پہنچانے میں مدد اور سرمایہ کاری کرے، اور ساتھ ہی جاپان کوریا کو 35 سال تک نو آبادی بنانے پر بھی معافی مانگے۔ جاپان چاہتا تھا کہ پیانگ یانگ ان سب جاپانی شہریوں کی تفصیلات بتائے جو اس کے جاسوسوں نے اغوا کیے تھے۔ اس نے ان تفصیلات کے بغیر بات کرنے سے انکار کر دیا۔

اس تاریخی میٹنگ سے آدھا گھنٹہ پہلے ان ناموں کی ایک فہرست سامنے آئی۔ شمالی کوریا نے 13 جاپانی شہریوں کو اغوا کرنے کا اعتراف کیا گیا۔ لیکن صرف پانچ افراد کے زندہ ہونے کی تصدیق کی گئی۔

انھوں نے دوسرے آٹھ افراد کی موت کی وجوہات میں ڈوبنا، کوئلے کے خراب ہیٹر کے دھوئیں سے دم گھٹنا، ایک 27 سالہ عورت کو دل کا دورہ پڑنا اور دو افراد کی موت کار کے حادثات کی وجہ سے بتائی اور وہ بھی ایسے ملک میں جہاں نجی شہری شاذ و نادر ہی اپنی ذاتی گاڑی رکھتے ہیں۔ پیانگ یانگ نے دعوی کیا کہ وہ ان کی باقیات فراہم نہیں کر سکتا ہے کیونکہ سیلاب ان کی تقریباً تمام قبریں بہا کر لے گیا ہے۔

کوزومی حیرت میں رہ گئے۔

انھوں نے کم جونگ ال کو بتایا کہ ’جو معلومات فراہم کی گئیں اس سے میں سخت پریشان ہوں، اور بطور ایک وزیر اعظم جو جاپانی عوام کے مفادات اور سلامتی کا ذمہ دار ہے، میں سخت احتجاج کرتا ہوں۔ میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ خاندانوں کے باقی افراد اس خبر کے متعلق کیا سوچا گے۔‘

کم نے خاموشی سے میمو پیڈ پر نوٹ لیے اور پھر پوچھا کیا: ’کیا اب ہم وقفہ لے لیں؟‘

کمرے سے باہر اس پریشان کن صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کابینہ کے نائب ترجمان شنزو آبے نے، جو بعد میں جاپان کے سب سے طویل عرصے تک رہنے والے وزیر اعظم بنے، کوئزومی پر زور دیا کہ وہ تعلقات معمول پر لانے کی بات چیت پر اس وقت تک دستخط نہ کریں جب تک کہ پیانگ یانگ باضابطہ طور پر اغوا کے لیے معذرت نہیں کرتا۔

جب مندوبین نے مذاکرات دوبارہ شروع کیے تو کم نے ایک میمو اٹھا کے پڑھتے ہوئے کہا: ’ہم نے اس معاملے کی اچھی طرح چھان بین کی ہے، بشمول اپنی حکومت کے اس میں کردار کے۔ ہمارے دونوں ممالک کے مابین دہائیوں کے معاندانہ تعلقات نے اس واقعے کا پس منظر فراہم کیا۔ اس کے باوجود یہ ایک خوفناک واقعہ تھا۔‘

’جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے یہ واقعہ خصوصی مشن بنانے والی تنظیموں نے 1970 اور 1980 کی دہائی میں شروع کیا تھا، جو اندھی حب الوطنی اور گمراہ کن بہادری سے سرشار تھیں۔

’جیسے ہی میرے علم میں ان کی سکیمیں اور کرتوت لائے گئے تو میں نے ذمہ دار افراد کو سزائیں دلوائیں۔ اس طرح کی چیز دوبارہ کبھی نہیں دہرائی جائے گی۔‘

پیانگ یانگ کے آمر نے کہا کہ یہ اغوا کی کارروائیاں اس لیے تیار کی گئی تھیں تاکہ ان کے جاسوسوں کو جاپانی زبان بولنے والے اساتذہ اور جنوبی کوریا میں مشنز کو غلط شناخت فراہم کی جائے۔ ہاں کچھ متاثرین کو ساحلوں سے اٹھایا گیا اور دیگر کو تعلیمی اداروں یا یورپ میں دورانِ سفر لالچ دے کر اغوا کیا گیا۔

انھوں نے میگومی کے بارے میں بات کی، جن کا نام کئی سالوں سے سب سے کمسن اغوا ہونے والی شخصیت کے حوالے سے لیا جا رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ 1998 میں ان کے اغوا کاروں پر مقدمہ چلایا گیا تھا اور انھیں قصوروار پایا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایک کو پھانسی دے دی گئی اور دوسرا 15 سال کی قید کی سزا کے دوران ہی مر گیا تھا۔

’میں اس موقع پر ان لوگوں کے افسوسناک طرز عمل پر براہ راست معافی مانگتا ہوں۔ میں پھر کبھی ایسا نہیں ہونے دوں گا۔‘

کوئزومی نے پیانگ یانگ اعلامیہ پر دستخط کر دیے۔

اس وقت پانچ کو زندہ جبکہ آٹھ مغویوں کو مردہ قرار دیا گیا۔

جاپان میں وزارتِ خارجہ کے ایک گیسٹ ہاؤس میں اغوا کنندگان کے خاندان بڑی بے چینی سے ان کے متعلق کسی خبر کا انتظار کر رہے تھے۔

میگومی کے والدین نائب وزیر خارجہ شیگو اوٹیکے کے ساتھ بیٹھے تھے۔ شیگو اوٹیکے نے ایک لمبی سانس بھری اور انھیں کہا کہ ’۔۔۔ مجھے افسوس کے بعد آپ کو یہ بتانا پڑا ہے۔۔۔‘

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ میگومی یوکوٹا نے پیانگ یانگ کے ایک ذہنی مریضوں کے ہسپتال سے ملحق ایک جنگل میں 13 اپریل 1994 کو صنوبر کے ایک درخت کے ساتھ لٹک کر خود کشی کر لی تھی۔ ان کا اس ہسپتال میں ڈپریشن کا علاج ہو رہا تھا۔

یہ ان کی موت کی دوسری تاریخ تھی جو جاپان کو دی گئی۔ ابتدائی طور پر شمالی کوریا نے دعویٰ کیا تھا کہ 13 مارچ 1993 کو ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔ لیکن بعد میں انھوں نے کہا کہ پہلی تاریخ غلط تھی۔

ثبوت کے طور پر پیانگ یانگ نے بظاہر ایک ہسپتال کا موت کا ریکارڈ پیش کیا۔ یہ ایک فارم تھا جس کے پیچھے لکھا تھا ان ’مریضوں کی رجسٹری جو ہسپتال میں داخل ہوئے اور اسے چھوڑا۔‘ لیکن ’ہسپتال میں داخل ہونے اور چھوڑنے‘ کو کئی مرتبہ کاٹا گیا تھا اور اس کے بجائے لفظ ’موت‘ لکھا گیا تھا۔ جاپان نے شمالی کوریا کو بتایا کہ اسے یہ دستاویز انتہائی مشکوک لگتی ہیں۔

ایک اور مغوی جاپانی خاتون فوکی چمورا نے بعد میں بتایا کہ میگومی جون 1994 میں شمالی کوریا میں ان کے ساتھ والے گھر میں منتقل ہو گئی تھیں، جو کہ میگومی کی موت کی بتائی گئی تاریخ کے دو ماہ بعد بنتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کئی ماہ تک وہاں مقیم رہیں۔

یکوتا خاندان نہیں سمجھتا کہ میگومی نے خود کشی کی ہے۔ اس کے باوجود ساکیی کو پیانگ یانگ کی بتائی ہوئی تفصیلات بہت خوفناک لگتی ہیں۔

انھوں نے 1992 میں واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ نیگاتا میں صنوبر کے درخت ہوتے تھے۔ ’مجھے یقین ہے کہ وہ انھیں مس کرتی ہوں گی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ بہت اکیلی ہوں گی۔ ایک منٹ کے لیے سوچتی ہوں کہ وہ ہمیں ملنے کے لیے اتنی ترس گئی ہوں گی، اور کیونکہ وہ نہیں آ سکی تھیں، اس انھوں نے ایک لمحے میں اپنی جان لے لی۔

’میں رو پڑی۔ لیکن اگلے منٹ میں نے کہا نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ میں ایسا ہونے دینا نہیں چاہتی۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ اس سے گزرے۔‘

میگومی کو مردہ قرار دینے کے دو سال بعد پیانگ یانگ نے اس کی استھیاں یا راکھ جاپان کے حوالے کی۔ وہ اس کے اغوا کی 27 ویں سالگرہ کے موقع پر دی گئی۔ میگومی کے والدین نے اس کی پیدائش کے وقت اپنی بیٹی کی نال کاٹنے کے بعد اپنے پاس رکھی ہوئی تھی۔ اور جاپانی روایت کے مطابق وہ اس وقت بھی ان کے پاس موجود تھی۔ جب دونوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے تو ان میں کوئی مماثلت نہیں تھی۔

جن سائنسدانوں نے راکھ کا تجزیہ کیا انھوں نے بعد میں کہا کہ راکھ آلودہ ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے نتیجہ غیر یقینی آیا۔ لیکن شمالی کوریا مشکوک باقیات فراہم کرتا جا رہا تھا۔ اس نے پہلے ہی کچھ ہڈیاں بھیجی تھیں اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک مغوی کارو مٹسوکی کی ہیں، جنھوں نے بقول ان کے 42 سال کی عمر میں وفات پائی تھی۔ دراصل وہ جبڑے کا کچھ حصہ تھا جس کے متعلق ایک دندان ساز کا کہنا تھا کہ وہ کسی 60 کے پیٹے کی عورت کا تھا۔

Short presentational grey line
یکم اکتوبر 2002 کو شمال کوریا سے رہا ہونے والے اغوا کنندگان ٹوکیو کے ہنیڈا ہوائی اڈے پر اترے۔

جہاز سے نکلنے کے بعد ان کا استقبال خوش آمدید کے بینرز سے کیا۔ وہ رن وے پر اپنے خاندان کے افراد سے مل کر زار زار روتے رہے۔

پیانگ یانگ نے کہا تھا کہ یہ پانچ افراد ہفتے سے لے کر 10 دن تک جاپان کا دورہ کر سکتے ہیں۔ لیکن انھوں نے پھر کبھی شمالی کوریا کی سرزمین پر قدم نہیں رکھا۔


آپ کسی ایسے شخص کو کس طرح بچا سکتے ہیں جس کے اغوا کار اصرار کرتے ہیں کہ وہ مر چکا ہے؟ یقیناً، یوکوتا خاندان وہ واحد خاندان نہیں تھا جس کو اس ڈراؤنے خواب کا سامنا تھا۔

نوجوان آفس کلرک رومیکو معسوموٹو بھی، جو اپنے نئے بوائے فرینڈ کے ساتھ غائب ہو گئی تھیں، مرنے والوں کی فہرست میں تھیں۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ رومیکو کا انتقال بیس کی دہائی میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوا تھا۔ ان کا خاندان یہ نہیں مانتا۔ ان کے بھائی کہتے ہیں کہ ’میرے خاندان میں کسی کا کبھی ہارٹ فیل نہیں ہوا۔‘

تیروآکی معسوموٹو 22 سال کے ایک طالب علم تھے جب ان کی بہن کو 1978 میں اغوا کیا گیا۔ وہ اب 65 سال کے ہیں، اور ٹوکیو کی اہم مچھلی منڈی میں ٹونا گریڈنگ کی ملازمت کر کے اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔

ان کی اور میگومی کی سالگرہ کی تاریخ ایک ہی ہے یعنی پانچ اکتوبر، حالانکہ دونوں کی عمروں میں نو سال کا فرق ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ رومیکو ان کا بہت احساس کرتی تھیں۔ ’کیونکہ ہمارا خاندان بہت آسودہ نہیں تھا، اس لیے ہم چھ افراد پر مشتمل خاندان ایک ہی کمرے میں رہتا تھا۔ 12 سال کی عمر تک میں اور رومیکو ایک ہی گدے پر سوتے تھے۔ وہ مجھے بہت پیار کرتی تھیں۔ جب بھی مجھ پر والد خفا ہوتے تو وہ رونے لگتیں اور میرا دفاع کرتیں۔‘


تیروآکی معسوموٹو نے گذشتہ چار دہائیوں سے وہ گھڑی پہن رکھی ہے جو یونیورسٹی میں داخلے کے وقت ان کی بہن نے انھیں بطور تحفہ دی تھی۔

رومیکو کے والد شوئچی 2002 میں پھیپھڑوں کے کینسر کی وجہ سے وفات پا گئے تھے۔ ان کی والدہ نوبوکو کا 2017 میں 90 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ انھوں نے چار دہائیاں اپنی بیٹی کے گھر واپس آنے کا انتظار کیا۔

ایک اغوا شدہ، مردہ یا چھپائے ہوئے بچے کو ایک ایسی ریاست میں تلاش کرنا جس کا رابطہ دنیا سے کٹا ہوا ہے ایک سفاکانہ میراث ہے۔ لیکن یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے بہت سے اغوا کنندگان کے خاندان والوں کو مجبوراً حل کرنا ہے۔ اب جب والدین کی نسل ختم ہو گئی ہے یا وہ اب بہت بوڑھے ہو چکے ہیں، کیا انھیں اپنے موجودہ، زندہ بچوں کو یہ بتانا چاہیے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے وہ اپنی ہر چیز کے ساتھ لڑیں؟ کیا یہ کوئی چوائس بھی ہے؟

کوئی باقاعدہ ہینڈ اوور نہیں تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’سنہ دو ہزار کے دوران میرے والد ابھی تک زندہ تھے لیکن وہ ٹوکیو نہیں آ سکے۔ انھوں نے اس وقت مجھ سے کہا۔ آئی ایم سوری۔ اور میں نے ایک طرح سے حیرانی اور پریشانی محسوس کی، کیوں کہ میں یہ اپنے والد کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی گمشدہ بہن کی وجہ سے کر رہا تھا۔‘

’میری ماں مجھے کبھی کبھی کہتی تھیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ کیا رومیکو کبھی جاپان واپس بھی آئے گی۔ لہذا میرے خیال میں میری ماں کو کچھ شک تھا کہ شاید وہ انھیں کبھی زندہ دیکھ پائیں گی۔ لیکن انھوں نے ایسی باتیں بھی نہیں کیں کہ ’یہ آپ کا وقت ہے‘ یا ’میں چاہتی ہوں کہ آپ یہ ریسکیو مشن جاری رکھیں۔‘ نہیں، انھوں نے مجھ سے یہ نہیں کہا۔‘

انھیں ایسا کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔

’ہاں۔‘


میگومی کے بھائی تاکویا یوکوٹا تیس کی دہائی میں تھے جب انھیں لگا کہ اب ذمہ داری ان کے کاندھوں پر آن پڑی ہے۔

’جب میں 2006 میں صدر بش کو ملنے امریکہ گیا تو میں نے محسوس کیا کہ میرے بوڑھے ہوتے ہوئے والدین کو طیارے پر لمبی پرواز لیتے ہوئے تکلیف ہو رہی تھی۔ جاپان میں بھی اگر ہم ٹوکیو سے دور کہیں جاتے تو انھیں ادھر بھی سفر کے دوران تکلیف ہوتی۔ اس وقت مجھے سمجھ آ گئی کہ میرے والدین دور علاقوں کا سفر نہیں کر سکتے۔‘

صرف دو اغوا کنندگان کے والدین زندہ ہیں۔ سیکائی جو سب سے کم عمر ہیں وہ بھی فروری میں 85 سال کے ہو جائیں گی۔

میگومی کے والد شیگیرو کا پانچ جون 2020 میں انتقال ہو گیا تھا۔ انھیں اپریل 2018 میں ہسپتال لے جایا گیا اور اس کے بعد انھوں نے ہر دن زندہ رہنے کے لیے موت سے لڑائی کی، ان کی پیاری بیٹی کی تصویر ان کے بستر کے پاس موجود رہتی تھی۔

جاپان میں، جہاں ہر کوئی ’اغوا کے مسئلے‘ کے بارے میں جانتا ہے، وہاں اپنے ذاتی تعلقات سے بچے کی زیادہ دیر تک حفاظت ممکن نہیں ہے۔ تیروآکی معسوموٹو اور تاکویا یوکوٹا دونوں ہی باپ ہیں: تیروآکی ایک بیٹی کے اور تاکویا ایک بیٹے کے، اور دونوں بچے ہی بیس کے پیٹے میں ہیں۔

تاکویا کا خیال ہے کہ ان کا بیٹا اس وقت چھوٹے بچوں کے ایک سکول میں تھا جب اسے بتایا کہ آنٹی میگومی کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ ’شاید اس وقت وہ چھ یا سات سال کا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ میں نے نو سال کی عمر میں اس سے بات کی تھی، جب میری بہن اغوا ہوئی اس وقت میری بھی یہی عمر تھی۔‘

تیروآکی کی بیٹی ابھی چھوٹی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میری بیٹی رومیکو کے بارے میں جانتی ہے۔ میری بیوی نے اس کے کنڈرگارٹن میں داخلے سے پہلے ہی اسے یہ بتا دیا تھا۔ جاپان میں موسم گرما کا یہ تہوار ہے، جولائی میں، جب ہم سمجھتے ہیں کہ کہکشاں کے قریب زمین پر جدا ہوا ایک جوڑا ہر سال آسمان پر ایک بار ملتا ہے۔ ہم اپنی خواہش کاغذ کے ایک چھوٹے ٹکڑے پر لکھتے ہیں اور اسے ایک درخت پر رکھ دیتے ہیں۔ میری چار سالہ بیٹی نے کاغذ پر لکھا کہ ’میں اپنی خالہ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔‘

سنہ 2004 سے وہ کوئیچیرو آئزوکا کے ساتھ مہم چلا رہے ہیں۔ کوئیچیرو کا کوئی اور رشتہ دار نہیں بلکہ ان کی ماں کو ہی اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس وقت کوئیچیرو کی عمر 16 ماہ کی تھی۔

22 سال کی یائیکو تاگوچی نائٹ کلب میں کام کرتی تھیں۔ وہ ایک سنگل مدر تھیں اور ان کا ایک چھوٹا بیٹا اور تین سال کی بیٹی تھی۔ جب جون 1978 کو وہ بغیر کسی وجہ کے اچانک غائب ہو گئیں تو اس وقت ان کے بچے ٹوکیو کی ایک نرسری میں تھے۔

یائیکو کے بیٹے کو ان کے بھائی، شیگیو آئزوکا نے گود لیا تھا اور اس کی پرورش بطور اپنے چوتھے بچے کے کی۔ جبکہ ان کی بیٹی کو ایک خالہ نے پالا۔

اب 43 سالہ کوئیچیرو آئزوکا کو اپنی پیدا کرنے والی ماں کے بارے میں کچھ یاد نہیں ہے۔ وہ انھیں بڑے پیار سے یائکو سان یا مس یائیکو کہتے ہیں۔

ان کے لیے ماں اور باپ شیگو اور ان کی اہلیہ ایکو ہیں۔ 22 سال کی عمر تک نہ پہنچے تک تو انھیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کی زندگی اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

’جب مجھے نوکری ملی تو مجھے تربیت کے لیے بیرون ملک جانے کا موقع ملا، اس کے لیے مجھے پاسپورٹ کے لیے درخواست دینا پڑی۔ ایسا کرنے کے لیے مجھے خاندانی رجسٹریشن کے کاغذ کی ضرورت تھی۔ میں نے اسے لیا اور اسے دیکھا، تب مجھے پتہ چلا کہ مجھے مسٹر آئزوکا نے گود لیا تھا۔

’پہلے تو میں یہ سمجھ ہی نہیں سکا کہ انھوں نے اتنے لمبے عرصے تک یہ راز کیوں رکھا، میں یہ تصور ہی نہیں کر سکا، اس کے لیے مجھے کچھ وقت درکار تھا۔ میں نے اپنے والدین کے پاس جانے سے پہلے ایک ہفتہ لیا۔

’جب میں گھر آیا تو میری والدہ گھر سے باہر تھیں لیکن میرے والد موجود تھے۔ لہذا میں نے ان سے کہا کہ میں نے فیملی رجسٹریشن کا کاغذ دیکھا ہے اور مجھے پتہ چلا ہے کہ مجھے گود لیا گیا تھا۔ اور میں نے ان سے پوچھا کہ میرے ساتھ کیا ہوا تھا؟‘

شیگیو انھیں اپنے ساتھ لنچ پر لے گئے اور سب سچ بتا دیا۔ ’انھوں نے مجھے بتایا کہ جیسا کہ پیپرز کہہ رہے ہیں تم میرے بائیولاجیکل بیٹے نہیں ہو۔ اور میری ایک چھوٹی بہن ہے جس کا نام یائیکو ہے اور تم اس کے بچے ہو۔‘

انھوں نے سب سے تاریک حصہ اس وقت تک نہیں بتایا جب تک وہ گھر نہیں پہنچے۔

’انھوں نے مجھے بتایا کہ کم ہیون ہیوئی نامی ایک خاتون ہیں، جو کہ شمالی کوریا کی ایجنٹ ہیں اور جنھوں نے 1987 میں کے اے ایل کا جہاز بم سے اڑایا تھا، اور وہ کہتی ہیں کہ انھیں ایک جاپانی استاد نے پڑھایا تھا۔ جاپانی پولیس نے کم کو کئی تصاویر دکھائی تھیں اور انھوں نے یائیکو سان کی تصویر اٹھا کر کہا تھا کہ یہی میری استاد ہیں۔ وہاں سے پتہ چلا کہ وہ شمالی کوریا میں اغوا کنندگان میں سے ایک تھیں۔‘

فوکی چیمورا نے اس دعوے کی تائید کی ہے، جو کہ ان مغویوں میں سے ایک تھیں جو جاپان واپس لوٹی تھیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ انھوں نے یائیکو کے ساتھ رہائش شیئر کی تھی۔

پانچ جاپانیوں کے شمالی کوریا سے وطن واپس آنے کے دو سال بعد 2004 میں کوئیچیرو نے سب کے سامنے یہ انکشاف کرنے کا فیصلہ کیا کہ وہ یائیکو تاگوچی کے بیٹے ہیں۔ وہ اس سفارتی تعطل سے مایوس تھے جو دوسروں کو بچانے میں مشکلات پیش کر رہا تھا، اور وہ اس معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کے لیے تیار تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یائیکو سان میری یاد میں حقیقی نہیں تھیں۔ وہ کہانی میں کسی کردار کی طرح تھیں۔ لیکن اس کہانی میں اس عورت نے مجھے جنم دیا تھا، لہذا میرے لیے یہ چونکا دینے والی بات تھی کہ میں انھیں دیکھ نہیں سکتا۔

’لہذا ہم نے سوچا۔ میں نے سوچا کہ میں انھیں ریسکیو کرنا چاہتا ہوں، ان کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔‘

طیارے کو بم سے اڑانے والی کم ہیون ہیوئی کو اپنے جرائم کی وجہ سے موت کی سزا تو ضرور ہوئی تھی، لیکن بعد میں اس وقت جنوبی کوریا کے صدر نے انھیں معاف کر دیا تھا۔ سنہ 2009 کوئیچیرو اور شیگیو آئزوکا جنوبی کوریا کے شہر بوسان ان سے ملنے گئے تاکہ ان سے یائیکو کے متعلق کچھ معلومات حاصل کر سکیں۔

کوئیچیرو کہتے ہیں ’انھوں نے کہا کہ میں محسوس کرتی ہوں کہ یائیکو سان میری بہن ہیں اور آج میں اپنی بہن کے بیٹے کو دیکھ کر بہت خوش ہوں۔ اور میں امید کرتی ہوں کہ کسی دن ہم چاروں ساتھ مل سکیں گے۔‘

سرکاری طور پر شمالی کوریا کہتا ہے کہ یائیکو تاگوچی 1986 میں ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔ لیکن کم یہ نہیں مانتیں، وہ کہتی ہیں کہ انھیں ایک ڈرائیور نے بتایا تھا کہ اس نے انھیں اگلے سال زندہ دیکھا تھا۔ اگر وہ زندہ ہوئیں تو وہ اب 65 سال کی ہوں گی۔

کوئیچیرو جانتے ہیں کہ شاید انھیں آخرکار اپنی والدہ کو کسی کی مدد کے بغیر اکیلے ہی ڈھونڈنا پڑے۔

’یقینا میں محسوس کرتا ہوں کہ وقت بہت اہم ہے۔ خصوصاً اس لیے بھی کہ یائیکو سان کے دو بہن بھائی پہلے ہی مر چکے ہیں۔ میرے والد بوڑھے ہو رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ انھیں دوبارہ دیکھیں۔ نہ صرف میرا خاندان، بلکہ دوسرے مغویوں کے خاندان بھی۔۔۔ میں آسانی سے دیکھ سکتا ہوں کہ ان کی عمر بڑھتی جا رہی ہے۔ جو لوگ پہلے بہت ایکٹیو ہوا کرتے تھے ان میں سے کچھ پہلے ہی جا چکے ہیں اور کچھ بہت کمزور ہیں۔‘

شمالی کوریا نے یہ کبھی تسلیم نہیں کیا تھا کہ کوریئن ایئر فلائیٹ 858 کو بم سے تباہ کرنے میں اس کا کوئی ہاتھ تھا، اور وہ کم ہیون ہیوئی کے وجود سے ہی انکار کرتے ہیں۔

تائیکو تاگوچی کے خاندان کو خدشہ ہے کم کو پڑھانے اور جاسوسوں کے درمیان وقت گذارنے کے بعد یائیکو کو کبھی بھی رہا نہیں کیا جائے گا، کیونکہ وہ ان کے متعلق بہت کچھ جانتی ہیں۔

اس جدوجہد میں پھنسے تمام لوگوں کا ایک مشترکہ خوف ہے اور وہ ہے گذرتا ہوا وقت۔ مغوی تیزی سے بوڑھے ہو رہے ہیں اور ان کا بچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

کیا اب تک وہ شمالی کوریا میں بڑھاپے کی وجہ سے وفات پا چکے ہوں گے؟ اس مضمون کو لکھنے تک تو شاید ایسا نہ ہو۔ لیکن اب یہ موجودہ نسل پر ہے کہ وہ مسئلے کا حل ڈھونڈے۔

تاکویا یوکوٹا کہتے ہیں کہ ’وقت دونوں طرف برابر گزر رہا ہے۔ ہاں، ان کی عمر بھی بڑھ رہی ہے۔ اور میرے خیال میں ایک سال یا 20 سال جاپان یا انگلینڈ یا امریکہ میں گزارنا شمالی کوریا میں اتنا ہی وقت گزارنے سے مختلف معنی رکھتا ہے۔ شمالی کوریا میں، کل تک زندہ رہنا ہی بہت مشکل نہیں، بلکہ آج زندہ رہنا بھی ہے۔‘

تیروآکی معسوموٹو کے لیے، ان کے پیاروں کی موت بھی انھیں اپنا مشن ترک کرنے پر مجبور کر نہیں سکتی۔

’اگر ان کی موت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ہم کہیں گے کہ ہمیں ہڈیاں واپس کریں۔ یہ جاپانی فطرت ہے۔ ہم جاپان حکومت کو بھی ذمہ دار ٹھہراتے رہیں گے کہ وہ مغویوں کو ریسکیو نہ کرا سکی۔ اگرچہ حکومت کے ’منظور شدہ‘ صرف 17 مغوی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ شمالی کوریا کے پاس اس سے کئی زیادہ لوگ ہیں، سو سے بھی زیادہ۔ اگر وہاں اور اغوا کنندگان ہیں، تو ہمیں یہ ثابت کرنا چاہیے کہ ان کا کیا ہوا۔ لہذا ہم جلدی اس پر کام ختم نہیں کرنے والے۔‘

سنہ 2014 میں شمالی کوریا نے آٹھ تسلیم شدہ مغویوں پر تحقیقات شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جو اس نے واپس نہیں کیے، اور جن کو اس نے مردہ قرار دیا تھا۔ یہ معاملہ 2016 تک چلتا رہا اور پھر جوہری دھماکوں کے بعد لگنے والی پابندیوں کی نظر ہو گیا۔

میگومی کے والد نے خواب دیکھا تھا کہ وہ انھیں ٹوکیو کے چکا چوند تفریحی ڈسٹرکٹ روپونگی میں لے کر جائیں گے۔ لیکن ان کی والدہ کی دعاؤں میں وہ ایک ایسے کھیت میں ساتھ جاتی ہیں جہاں وہ آس پاس کسی کی موجودگی کے بغیر لیٹ کر آسمان کی طرف دیکھ سکیں، اور صرف خاموش اور پر سکون طریقے سے وقت گزاریں۔

1px transparent line
ساکئی اپنی بیٹی کو اس امید سے کھلے خط لکھتی ہیں کہ شاید یہ الفاظ کسی طرح ان تک پہنچ سکیں۔

اس کا ایک حصہ جو گذشتہ سال جاپان فارورڈ نے ان کے شوہر کی وفات سے پہلے شائع کیا تھا مندرجہ ذیل ہے:

’پیاری میگومی،

’میں جانتی ہوں کہ یہ قدرے عجیب ہے کہ میں یوں ہی اتفاقیہ آپ تک پہنچ رہی ہوں۔ کیا آپ ٹھیک ہو؟

’۔۔۔ میں بھرپور زندگی گزارنے کی پوری کوشش کرتی ہوں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ میرا جسم کمزور ہوتا جا رہا ہوں، اور ہر روز پہلے سے تھوڑا زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہوں۔ جب میں آپ کے والد کو ہسپتال میں شدت سے بحالی کی مشقیں کرتا دیکھتی ہوں تو مجھے اس بات کا بہت زیادہ احساس ہوتا کہ کوئی راستہ ڈھونڈوں جس سے وہ آپ سے مل لیں۔‘

’یہ بڑھتی ہوئی عمر کی حقیقت ہے۔ یہ صرف آپ کے والد اور میں نہیں۔ ہم شاید بڑھتی عمر، بیماری اور تھکاوٹ کا مقابلہ کر رہے ہوں لیکن شمالی کوریا میں تمام متاثرین کے خاندان اب بھی یہی دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنی زمین پر اپنے پیاروں کو دیکھیں اور ان سے بغلگیر ہوں۔‘

’۔۔۔ میں اپنی اگلی سالگرہ آپ کے ساتھ منانا چاہتی ہوں۔ صرف جاپان کی قوم اور حکومت ہی ایسا کر سکتی ہے۔ لیکن جب میں یہ دیکھتی ہوں کہ ہماری حکومت میں کیا ہو رہا ہے تو بعض اوقات مجھ پر پریشانی کے احساس کا غلبہ ہو جاتا ہے اور مجھے تشویش لاحق ہوتی ہے کہ ہماری کوششیں رائیگاں جا رہی ہیں۔ مجھے اس بات پر شک ہونے لگتا ہے کہ کیا وہ اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں اور ایسا راستہ نکالنا چاہتے ہیں جس سے متاثرین کو گھر لایا جائے۔‘

’۔۔۔ کسی نہ کسی طرح میں اس شدید طوفان سے بچنے میں کامیاب ہوئی ہوں۔ میں شکر گزار ہوں کہ آپ بھی سب بڑی طاقت کی حمایت سے اس سے گزر گئی ہو۔ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ اور اس لیے میں آج ایک بار پھر آپ سب کے متعلق سوچتے ہوئے دعا مانگتی ہوں۔

’۔۔۔ تمام متاثرین کو واپس جاپان لانے کے لیے اب پہلے سے کہیں زیادہ کوشش کرنا ہو گی۔ یقیناً جاپان کو اپنے لیے خود ہی کھڑا ہونا چاہیے، لیکن ہمیں دنیا بھر سے بھی ہمت، پیار اور انصاف کی ضرورت ہے۔ (آپ لوگوں میں سے جو بھی میرا خط پڑھیں، براہ کرم ایک لمحے کے لیے اپنے دل میں یاد رکھیں کہ اغوا کنددگان ابھی بھی شمالی کوریا میں پھنسے ہیں۔ براہ کرم ان کے لیے آواز اٹھائیں۔)

’بہت پیاری میگومی، میں آپ کو واپس اپنے، آپ کے والد کے اور آپ کے بھائیوں تاکویا اور تاتسویا کے پاس گھر لانے کی جنگ جاری رکھوں گی۔ میرا عزم لازوال ہے، 84 سال کی عمر میں بھی۔ سو برائے مہربانی اپنا خیال رکھیں اور امید کا دامن کبھی نہ چھوڑیں۔‘
 

Imran Gillani
About the Author: Imran Gillani Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.