کوئی قلب و جگر ہیں پارہ پارہ

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

دنیا کی بلند ترین چودہ پہاڑی چوٹیوں میں سے آٹھ کو سر کر لینے والے محمد علی سد پارہ کے مالی حالات یہ تھے کہ بیوی کو ایک سلائی مشین لے کر دینا بھی اس کا خواب تھا ۔ ایک عام گھریلو عورت کی بنیادی ضروریات میں واقعتاً ایک اشد ضروری مددگار و کارآمد چیز یعنی سلائی مشین نا تو کوئی نایاب شئے ہے اور نا ہی کوئی بہت گراں قیمت لوازمہ ۔ مگر متعدد ملکی و عالمی اعزازات رکھنے والے قومی ہیرو کے مطلوبہ اہداف میں ایک سلائی مشین کا بھی حصول اور اس کا معیار کسی خواب کو شرمندہء تعبیر کرنے کے مترادف ہونا بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے اور کچھ لکھنے لگیں تو الفاظ ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں ۔ اتنا تو طے ہے کہ اعزازات کبھی پیٹ نہیں بھرتے ۔ بھوک مٹانے اور گھر کا چولہا جلانے کے لیے ریکارڈز اسناد تمغے کافی نہیں ہوتے رقم کی ضرورت ہوتی ہے ۔

مگر بلند و بالا برفانی پہاڑی چوٹیوں کو سر کرنے کا جنون بھی کوئی سستا شوق نہیں ہوتا ۔ اس کی تسکین کے لیے مالی و مادی وسائل کے ساتھ ساتھ اتنا ہی بلند حوصلہ اور چٹان جیسا مضبوط دل بھی درکار ہوتا ہے اور یہ ہر کسی کے بس کی بات بھی نہیں ۔ ایسی نابغہ فتوحات کے لیے پہلے خود اپنے آپ سے لڑنا پڑتا ہے پہلی جنگ اپنے نفس سے لڑنی پڑتی ہے ۔ علی سد پارہ نے اپنے شوق و جنون اور دستیاب وسائل کے مابین کس طرح توازن رکھا ہوگا اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ اس میں کہیں بھی ایک سلائی مشین کی گنجائش پیدا نہیں ہو پا رہی تھی اور وہ اس کے لیے کسی خواب کی مانند تھی جو کہ بدقسمتی سے ادہورا ہی رہ گیا ۔ کے ٹو کی بلند ترین چوٹی کو منفی پچاس ڈگری کی ٹھنڈ میں بنا آکسیجن کے سر کرنے کے خواب کی طرح ۔

وہی ہؤا جس کا اندیشہ تھا آج اٹھارہ فروری کے روز برفانی چوٹیوں کے پرستار کی موت کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے ۔ پہاڑوں سے عشق کرنے والا انہیں زیر کرنے کے جنون میں مبتلا عاشق صادق بالآخر ایک پہاڑ ہی کی یخ بستہ آغوش میں ابدی نیند سو گیا ہے اور کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر گیا ہے ۔ برف زاروں کا مسافر جانے کب اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گیا کسی سے بھی کچھ کہے سنے بِنا ۔ نہ کہیں جنازہ اٹھا نہ کہیں مزار بنا ۔ مگر کہیں اس کی قبر بن گئی ہے اس کی بیوہ کے دل میں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 175 Articles with 1046930 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Feb, 2021 Views: 1619

Comments

آپ کی رائے