عام آدمی کی حقیقت اور حیثیت ․․!

(Irfan Mustafa Sehrai, Lahore)

پاکستان آج جن سنگین حالات سے گزر رہا ہے،ان عوامل کو خاص کی بجائے عام شہری کو سمجھنا زیادہ ضروری ہے ۔یوں تو ملک و قوم کی تنذلی کے بے شمار عوامل ہیں،لیکن ان عوامل میں بڑا حصہ دار عام آدمی کابھی ہے۔جب تک عام آدمی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گا،ملک ترقی و خوش حالی کی جانب گامزن نہیں ہو سکتا۔بڑے سے بڑا نیک،صادق وامین اور غریب کا خیر خواہ لیڈر آ جائے ،ملک و قوم کی حالت بدلنے والی نہیں ہے۔اس لئے سب سے پہلے سمت کی نشاندہی کرنے کے لئے عام آدمی کو سنبھلنا ہو گا،کیوں کہ 72 برسوں میں اس کی حقیقت اور حیثیت کو ختم کر کے رکھ دیا گیا ہے۔سب سے پہلے ہمیں سمجھنا ہو گا کہ یہ ہمارا ملک ہے اور اس کا آئین تمام شہریوں کو برابری کے حقوق دیتا ہے،لیکن کیا ایک عام آدمی کو اندازہ ہے کہ اس کاملک تعمیر و ترقی سے دوراوراس کے مشکل ترین حالات کے اصل محرکات کیا ہیں؟ ان عوامل میں عام آدمی کا کیا مثبت کردار ہونا ضروری تھا ؟حالاں کہ یہ نہ صرف اس کی بلکہ آنے والی نسلوں کی تقدیر کا معاملہ تھا،لیکن ہر شہری نے اپنی ذاتی مفادات اور خواہشات کو مقدم رکھا۔یہی اصل محرکات ہیں ہماری تباہی کے۔

سب سے پہلے ایک عام شہری کو سمجھ لینا چاہیے کہ کوئی لیڈر یا سیاسی جماعت ہمارے ملک کو تعمیر و ترقی کی جانب نہیں لے کر جائے گی،اس لئے ہمیں کسی سیاسی پارٹی کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے۔ہم ایک آزاد ملک کے باشندے ہیں ،کسی کے غلام نہیں ، ہمیں اپنی زندگی ایسے گزارنی ہو گی،جہاں کوئی ہمیں گمراہ نہ کر سکے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں مصائب اور مشکلات ہیں ،لیکن ہمیں اس سے گھبرانا نہیں چاہیے،بہت سی اقوام کی تاریخ کے متعدد ابواب ایسی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں کہ جہاں قوموں نے محض قوت ارادی ،توانائی ،عمل اور عظمت کردار سے کام لے کر خود کو بلند کیا۔ہم شخصیت پرستی اور غلامانہ سوچ کے اسیر ہنگاموں کی جانب جاتے ہیں،اس روش کو ختم کر کے علم کے حصول اور کام کی طرف راغب ہونا چاہیے ۔انصاف اور مساوات کامیابی اور ترقی کے دو اصول ہیں،لیکن آج اقتدار پر براجمان دونوں اصولوں کے خلاف ہیں،کیوں کہ اگرحکمران ان دونوں اصولوں پر کاربند ہو جائیں،تو ان کے مفادات ختم ہو جاتے ہیں،اس طرح انہیں اقتدار کی کرسی کا کوئی فائدہ نہیں ہو تا۔اس لئے ہم سب کو پاکستانی بننا ہو گا،اﷲ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے،ہمیں صرف سچائی کے ساتھ نیک نیتی سے ہمت اور محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

جتنے بھی لیڈر یا اقتدار کے پجاری لوگ ملکی تقدیر اور عوامی جذبات سے کھیلتے رہے ہیں،کیا عام آدمی کو یہ چھوٹی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ ان مفاد پرست لیڈران کے ترجمانی اور اپنی عمر بھی انہیں لگ جانے کی دھائی دینے والے لوگ کیسے ان کی غلطیوں کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں ،ہر لمحے باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہم سے بڑھ کر عوام کا خیر خواہ کوئی نہیں ،عوامی فلاح وبہبود اور ملکی بہتری کے لئے ہم سے زیادہ کوئی نہیں سوچتا ،لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔یہ تمام سیاسی ’’فن پاروں‘‘نے ترقی کے نام پر ریاستی وسائل کا بے دریگ استعمال کبھی بھی عام آدمی کی بہتری کے لئے نہیں کیا، بلکہ ان منصوبوں سے اپنی تجوریاں بھری ہیں۔یہ سب کچھ ماضی میں ہوتا رہا اور آج بھی تیزی سے ہو رہا ہے،لیکن جب کسی عام آدمی سے پوچھا جائے کہ عوام اس ظلم پر بغاوت اور احتجاج کیوں نہیں کرتے یا کیا انہیں ذلت آمیز سلوک محسوس نہیں ہوتا․․․؟حالاں کہ ملک اور اس کے وسائل پران کا بھی اتنا حق ہے جتنا کسی وزیریا مشیر کا، کسی اعلا فوجی یا جج کا ۔یہ سب عام آدمی سے ٹیکس لے کر اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں،انہیں کے ووٹوں سے اقتدار پر براجمان ہوتے ہیں،لیکن ان کو اپنا غلام سمجھتے ہیں۔حکمرانوں نے عوام کو ہمیشہ فقیر بنانے کی طرف توجہ دی،انہیں خود داری اور مواقع فراہم نہیں کیے ،جس کی وجہ سے وہ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں ۔یہاں پہلے بینظیر انکم سپورٹ اور اب احساس پروگرام کی صورت میں گداگر بنایا گیا،مگر انڈسٹری کو فروغ دے کر ہنر مند نہیں بناسکے،کاروباری مواقع،جدید ٹیکنالوجی ،زراعت میں جدّت،تحقیق،سائنس اور جدید علوم پر توجہ نہیں دی گئی۔

ترقی کا سفر علم ،معیشت ، سیاست اور سماجی اقدار کے باہم دھاروں پر ہوتا ہے،لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں ان میں سے کسی ایک پر کام نہیں کیا گیا۔تعلیم کو تعمیری نہیں کاروبار بنا دیاگیا،معیشت ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دی گئی،سیاست کو تکبر،ذاتی اَنا،اقتدار کی ہوس اور مفاد پرستی نے برباد کر دیا،سماجی اقدار کو اخلاقیات کی پستی نے درگور کر کے رکھ دیا ۔

پریشانی کی بات یہ ہے کہ عام آدمی زمینی حقائق سے آشنائی رکھنے کے باوجود خاموش بیٹھا ہے،وہ آج بھی شخصیت پرستی میں جکڑا ہوا ہے۔اس کے سامنے حالات و واقعات اس کے اپنے ملک و قوم کو اس نہج پر لے جا رہے ہیں، جہاں نا امیدی کے سائے چھائے ہوئے ہیں ۔جب ملک کے اندرونی حالات کو دیکھیں تو ہر جانب بربادی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا،کرپشن انتہا کو پہنچ چکی ہے،ملاوٹ،رشوت،جرم اس انداز میں ہو رہا ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے،جنگل کا قانون رائج ہے،حکمرانوں کی مجرمانہ غلطیوں اور پالیسیوں پر پردہ ایسے ڈال دیا جاتا ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔خارجہ پالیسیوں کی طرف دیکھیں تو صاحبِ اقتدارکشمیر تو بھارت کو دیے چکے،اب پاکستان کو بھی فروخت کرنے کے در پر ہیں۔بھارت کو یو این سیکیورٹی کونسل میں ووٹ دینا اورتجارت کھولنے کی سازش کے بعد بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے حقیقت چھپ نہیں سکتی،اسی طرح ایک دن کسی آرڈینس سے اسرائیل کو بھی قبول کر لیا جائے گا،یہی وجہ ہے کہ حزب اختلاف سے ہاتھ ملانا گوارا نہیں،کیوں کہ پارلیمنٹ نظام میں حزب اختلاف کی رائے ضروری ہے،لیکن حکمرانوں کا کسی کو خاطر میں نہ لانا اس بات کی غماز ہے کہ عام آدمی کوگمراہ کیا جا رہا ہے ،عوام سے اتنا جھوٹ بولا گیا کہ سچ کا گمان ہو،حالاں کہ بھارت سے تجارت ہو ہی نہیں سکتی،کیوں کہ اس طرح کے فیصلوں کو عوام قبول کر تی ہے نہ سیاست دان تسلیم کر سکتے ہیں ۔بھارت سے تعلقات کی بحالی کی پیچیدہ گرہ کو سہروردی،ذوالفقار علی بھٹو ،محترمہ بے نظیر شہید ،میاں نواز شریف ،پرویز مشرف اور آصف علی زرداری تجارت سمیت دوسرے معاملات میں خواہش اور مفادات کے باوجود بہتری نہ لا سکے۔کیوں کہ عوام کشمیرکا مسئلہ حل کیے بغیر بھارت سے کسی قسم کے تعلقات کا سوچنا گناہ سمجھتے ہے،مگر ہمارے حکمران ہیں کہ چینی اور کپاس کی تجارت کے بدلے عوام سے ان کے کشمیری بھائی، بہنوں کے خون کا سودا کروانا چاہتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نے بھارت سے تجارت کا فیصلہ کر لیا تھا ،وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر نے پریس کانفرنس کر کے پوری دنیا اور خاص طور پر بھارت کو خوش خبری میڈیا کے ذریعے دے دی تھی ،بھارتی میڈیا بھی شامیانے بجا چکا تھا،لیکن حکومت نے فیصلے کے ردِ عمل پر وقتاً یو ٹرن لے لیا ہے۔ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی کیسے بنتی ہے،اس سے سب آشنا ہیں،اگر بھارت کے ساتھ تعلقات کی سوچ سب جانب اسی انداز سے ہے تو پاکستان کا خدا ہی حافظ ہے۔ادھر معیشت کے حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ سے وابستہ ماہر اقتصادیات ڈاکٹر رضا باقر جو نائیجیر اور مصر کی معیشت کا بیڑا غرق کرنے کے بعد پاکستان کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کے عہدے پر فائز ہی نہیں بلکہ تمام ملکی اکانومی پر حاکمبنکر بیٹھے ہیں ،یہ ملکی سالمیت پر ایک سازش کی بدبو ہے،(اﷲ سبحان تعالیٰ میری اس سوچ کے الٹ فیصلہ فرمائیں )،آمین۔

عام آدمی کو اپنی سوچ کے محور کو درست سمت پر لے جانا ہو گا،اپنی خاموشی ختم اور وقت ضائع کیے بغیر متحد ہو کر ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے مصروف عمل ہونا ہو گا۔یاد رہے کہ ظلم سہنے کے دستور کو ختم کرنا ہو گا،عقل سے آزادانہ فیصلے کرنے ہوں گے ۔آج اگر عمران خان اقتدار میں ہے،تو ملک اس حال میں پہنچ چکا ہے غور کرنے کی بات ہے اگر مریم نواز یا بلاول بھٹو ملک کے وزیر اعظم بن گئے تو حالات کس قدر گھمبیر ہو سکتے ہیں ․․․!!


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Irfan Mustafa Sehrai

Read More Articles by Irfan Mustafa Sehrai: 152 Articles with 52441 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Apr, 2021 Views: 296

Comments

آپ کی رائے