ملکہ کوہسار ، مافیا اور سیاحت!

(Malik Shafqat Ullah, Jhang)

مری پنجاب کے ضلع را ولپنڈی کا ایک صحت افزا مقام ہے جو راولپنڈی سے 39 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی سطح سمندر سے بلندی 7500 فٹ اور اس کا رقبہ 1821 مربع کلو میٹر ہے۔ 1849 میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے پنجاب پر قبضہ کر لیا تو انہیں مری تفریح کیلئے ایک واحد ٹھنڈا علاقہ ملا جہاں 1851 میں پہلی بیرک تعمیر کی گئی۔ یہاں ہسپتال، متعدد سکول اور جدید طرز کے ہوٹلز وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تعمیر ہوتے رہے اور بہت سے خاندانوں نے جڑواں شہروں سے کاروبار کیلئے مری کا رخ کیا۔ اب کئی خاندان یہاں بسنے لگے ہیں ۔ مری کی آبادی 25 ہزار نفوس تک پہنچ چکی ہے اور ایک نسل گزرنے کے بعد اب دوسری نسل خود کو مری کا سکونتی کہلواتی ہے۔مری کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان اور کاروباری مواقعوں کی وجہ سے آئندہ دس سالوں میں مری کی آبادی میں دو گناہ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔مری در اصل پہاڑیوں کا سلسلہ ہے جو انتہائی سر سبز ، خوبرو اور دلکش ہے ۔جغرافیائی اعتبار سے ان پہاڑیوں کو سوالک(Sivalik)کا نام دیا گیا ہے۔ اس کو چیر اور دیار کے پیڑوں نے اس خوبصورتی کے ساتھ ڈھانپا ہوا ہے جو ملکہ کے سر پر تاج کے مانند دکھائی پڑتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس کو ملکہ کوہسار کہا جاتا ہے۔اس مختصر لیکن بلند خطے کو مقبولیت دو وجہ سے ملی ہے، سب سے بڑی وجہ تو اس کا سیاحتی علاقہ ہونا ہے اور دوسری بڑی وجہ انگریزوں کی تعمیر کردہ عمارتیں ہیں جن کی وجہ سے مری کو سیاحتی طور پر اہمیت حاصل ہوئی۔ سیاسی سطح پر یہ علاقہ شاہد خاقان عباسی کے حلقے میں شامل ہے جو یہاں کے بہت مضبوط سیاسی راہ نما ہیں۔ ان کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مری کے ہر گھر کے ساتھ ان کا انتہائی قریبی تعلق ہے اور وہ ان کے ہر اچھے برے کام میں شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر مقامی لوگ خود کو عباسی کہلواتے اور عباسی مانتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی ایک زیرک سیاستدان اور اس خاندان سے ہیں جن کا شمار پاکستان کے محاسن میں ہوتا ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد جب پاکستان معاشی طور پر انتہائی نازک صورتحال میں گھرا ہوا تھا تو اس وقت خاقان عباسی نے اربوں کی رقم ریاست کو دی تھی جو معیشت رواں رکھنے میں مفید ثابت ہوئی۔ ریاست کے ساتھ احسان کرنے والوں کو نہ تو ریاست اور نہ ہی ریاستی عوام کو فراموش کرنا چاہئے۔ مری کی پہاڑی وادیوں میں بنتی گلیات اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں ۔انہی گلیات نے سیاحوں کو مسحور کیا ہوا ہے ۔ مقامی ثقافتیں ، روایات کی عکاسی کرتے ہینڈی کرافٹس و دیگر دیدہ زیب اشیاء اور پھر مری کے خوبصورت لوگوں نے اس کے سحر کو دوبالا کر رکھا ہے۔ حالیہ حکومت نے سیاحت پر غیر معمولی توجہ دے رکھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مری کے غیر ہموار اور کٹھن راستوں کے علاوہ ایک نئی موٹر وے تعمیر کی گئی ہے جو مری کے اہم سیاحتی مقام بھوربن اور پتراٹہ سے اسلام آباد کو ملاتی ہے۔ اس کے سالانہ بجٹ اور آمدن سے متعلق بہت تحقیق کی لیکن کوئی ریکارڈ میسر نہیں آ سکا۔قانون برائے شفافیت اور معلومات تک رسائی کے تحت مری حکام کو پابند کیا جانا چاہئے کہ وہ اس حوالے سے مقامی انتظامیہ کی ویب سائٹس پر معلومات واضح کریں۔ چند معتبر اور معمر لوگوں کے مطابق مری میں کوئی لاء اینڈ آرڈر موجود نہیں اور نہ ہی حکومت کسی قسم کی دخل اندازی کر سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہاں کا مافیا ہے جو نہ تو ٹیکس بھرتا ہے اور نہ ہی کسی قانون کی پاسداری کرتا ہے۔ بدمعاشیہ نے ہر ایک چیز پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اشیائے خورد و نوش اتنی زیادہ مہنگی ہیں کہ خوشی خوشی آنے والا سیاح منہ لٹکائے واپسی کا رخ کرتا ہے۔ رہائش کے حالات بھی بہت برے ہیں۔ جن سہولیات کے بارے میں ہوٹل میں فلیٹ بک کرنے سے پہلے بتایا جاتا ہے وہ سرے سے ہوتی ہی نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کو کبھی بھی لکھت میں بل نہیں دیا جائے گا، اگر آپ بل یا رہائش میں آسائشوں کیلئے اصرار کرتے ہیں تو بدمعاشیہ آپ کی چھترول بھی کرتا ہے اور آپ سے پیسے و دیگر قیمتی اشیاء بھی چھین لیتا ہے۔ اس بدمعاشیہ سے تنگ مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ یہ لوگ دراصل راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ہیں اور انہیں شاہد خاقان عباسی کی مکمل مدد حاصل ہے۔ کئی دفعہ ان کی ہٹ دھرمیوں کے بارے میں سیاحوں کی شکایت پر پولیس نے کاروائی کی تو شاہد خاقان عباسی خود اپنی ضمانت پر انہیں رہا کروا کر لے آئے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہاں پر مہنگائی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ شاہد خاقان عباسی کا یہ مافیا تمام تاجروں سے بھتہ وصول کرتے ہیں ، اور ان کی زیادہ تر کوشش ہوتی ہے کہ راولپنڈی سے باہر کوئی بھی تاجر یہاں کاروبار نہ کر سکے۔ اولاََ ہونا تو یہ چاہئے کہ اس سیاحتی مرکز کا سارا ریوینیو حکومتی خزانے میں جمع ہوتا تاکہ اس کی ترقی و بہبود کیلئے حکومت اقدامات کرتی ، لیکن منافع بخش سیاحتی مقام بھی نقصان کا باعث بنا ہوا ہے۔ پارکنگ مافیا سے لے کر سیاسی مافیا تک سارے گروہ لسانیت اور علاقائی تعصب سے بھرے ہوئے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ پنجاب سے دیگر زبانیں بولنے والوں اور مختلف صوبوں سے آنے والے پاکستانیوں کو رسوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ خاص طور پر جب سے حالیہ حکومت نے پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام شروع کیا ہے تب سے یہ مافیا زیادہ متحرک نظر آتا ہے۔ زیادہ تر سیاح سخت سردی کے موسم میں مری کا رخ کرتے ہیں ، کیونکہ وہ برف باری کا مزہ لینا چاہتے ہیں۔ ان دو ماہ میں ملکہ کوہسار میں رونقیں اور بر ف باری اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتی ہے۔دو سال پہلے بائیکاٹ مری کی ایک کیمپین چلائی گئی تھی، وہ بھی انہی رویوں کا رد عمل تھا، اگر اس طرح سے سیاحتی مقامات بارے لوگوں کو متنفر کیا جاتا رہا ہے تو سیاحت کی بہو د و ترقی کے حکومتی دعوے دھرے رہ جائیں گے۔ کیونکہ چاہے جتنے مرضی نئے مقامات کو کھول لیا جائے مگر ہر سیاحتی مقام اپنی الگ حییثت رکھتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ حکومت کو چاہئے کہ پاکستان میں سیاحتی قلمدان باقاعدہ متحرک اور باوقارنمائندے کو سونپا جائے جو سیاحت کے فروغ اور ترقی و بہبود کیلئے ہر ممکن انتہائی اقدامات کرے۔ اگر ہم جائزہ لیں تو ایک چھوٹے سے دربار سے لے کر بڑے سے بڑے سیاحتی مقام ہر جگہ پر ایسا مافیا پوری دھاک کے ساتھ براجمان ہے جس کے خلاف کاروائی کرنا مقامی انتظامیہ کے بس میں کبھی نہیں ہے۔ ا س طرح سے سالانہ اربوں روپوں کا نقصان ریاستی خزانے کو ہو رہا ہے۔ حالانکہ یہ ریونیو بجٹ میں بہت حد تک سود مند ثابت ہو سکتاہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 218 Articles with 105201 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
18 Apr, 2021 Views: 470

Comments

آپ کی رائے