یونیورسٹی پر بیوروکریسی کا قبضہ؟ اندھیر نگری کی انتہا!!!

(Anwar Graywal, Bahwalpur)

 برساتی کھمبیوں کی طرح راتوں رات یہ گروپ نمودار ہو ا تھا،لیکشن اٹھارہ میں کچھ ہی روز باقی تھے، معلوم ہوا کہ یہ لوگ اپنے خطے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے پرزور حامی ہیں، اِن کا تعلق مختلف پارٹیوں سے تھا، مگر الیکشن کے موقع ہر حیران کن حد تک یہ لوگ اکٹھے پائے گئے۔ الیکشن کے قریب آکر یہ لوگ عوامی توقعات کے عین مطابق پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے، ان میں سے اکثریت کامیاب ٹھہری ، ایک ہی ماہ قبل پارٹی میں شامل ہونے والے تونسہ سے پہلی مرتبہ ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے عثمان بزدار کے نام پنجاب کی وزارتِ علیا کا قرعہ نکل آیا، یوں صوبہ جنوبی پنجاب کے ہاتھ میں پنجاب کی حکومت آگئی۔ ’’خوئے بد را بہانہ بسیار‘‘ کے مصداق ،کام نہ کرنا ہو تو بہانے بہت۔ تاہم علاقے کے لوگوں کو خاموش کروانے کے لئے جنوبی پنجاب کو صوبہ تو نہ بنایا گیا البتہ ’سول سیکریٹریٹ ‘ کا لولی پاپ ضرور دے دیا گیا، کہ ’ایڈیشنل‘ اور ’ڈپٹی‘ قسم کے اعلیٰ افسران ملتان اور بہاول پور بیٹھا کریں گے، عوام کالانعام کے مسائل اُن کی دہلیز پر حل ہوں گے۔ اب انہیں لاہور جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس سے اور کچھ بہتر ہوا یا نہیں، تاہم عوام آپس میں ضرور بٹ گئے، بحث مباحثے شروع ہو گئے، حکومت کا مدعا پورا ہوا۔

اب اِن نامکمل اور نادیدہ اختیارات کے حامل افسران کے لئے عالیشان (یا شایانِ شان) رہائش گاہوں اور دفاتر کی ضرورت تھی۔ تلاش شروع ہوئی تو بہاول پور میں متلاشیوں کی نگاہِ دُور بین نے ایک عمارت ڈھونڈ نکالی، جو شہر کے عین وسط میں بھی تھی، عوام کی رسائی بھی آسان تھی، عمارت خوبصورت بھی تھی،اور تاریخی بھی، بس مسئلہ اتنا سا آن پڑا کہ مذکورہ عمارت میں اسلامیہ یونیورسٹی کا عباسیہ کیمپس کام کر رہا ہے، نواب صادق محمد خان عباسی نے اس مدرسہ کی بنیاد رکھی تھی، وہ اس کو علی گڑھ کی طرز پر چلانا چاہتے تھے، آگے جا کر یہی اسلامیہ یونیورسٹی کہلائی ، اب یہاں چھیالیس ہزار طلبا وطالبات مختلف شعبوں میں علم کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہیں۔ اس کیمپس میں صرف انتظامی دفاتر کام کر رہے ہیں، وائس چانسلر کے دفتر سے لے کر امتحانات تک، نئے داخلوں سے لے کر تمام تر عوامی رابطہ تک اِسی عمارت میں عمل پذیر ہوتا ہے۔ عباسیہ کیمپس میں تقریباً دو ہزار کے قریب ملازمین کام کر رہے ہیں۔ شہر کے اندر ہونے کے ناطے یونیورسٹی کی بسوں کا مرکز بھی یہی ہے۔ تاہم شعبہ قانون کے پانچ سو سٹوڈنٹس اور ہاسٹلز میں پندرہ سو سٹوڈنٹس بھی اسی کیمپس کے اندر ہیں۔ تعلیمی معاملات بغداد الجدید کیمپس میں نمٹائے جاتے ہیں، جوکہ شہر سے باہر واقع ہے۔ ریاست جب کسی بات کا ارادہ کرتی ہے، تو عمل درآمد میں اول تو کوئی رکاوٹ آتی نہیں، اگر ایساہو جائے تو ریاست اپنی طاقت اور اختیار کے ذریعے راستہ صاف کروالیتی ہے۔ جب انتظامیہ کو سٹوڈنٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں بتایا گیا تو سنہری حروف میں لکھے جانے والے الفاظ میں جواب ملا کہ’’۔۔ یونیورسٹی کرایہ کی عمارات حاصل کر کے اپنا کام چلا لے۔۔‘‘

وزیراعظم عمران خان سے اگر عام لوگوں کو کچھ توقعات وابستہ تھیں، تو اُن میں تعلیم، صحت، سیاحت اور سادگی وغیرہ کے فروغ کے امکانات تھے۔ دعوے بھی ایسے ہی کئے گئے، قوم کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم ہاؤس غیر ضروری ہے، یہاں یونیورسٹی قائم کی جائے گی، گورنر ہاؤس کے وسیع وعریض رقبوں پر بھی جامعات قائم کی جائیں گی ، تین برس گزر گئے، ایسا کوئی وعدہ تو ایفا نہ ہوا، البتہ قدم قدم پر’ یوٹرن‘لیا گیا، بات بڑھتے بڑھتے اب نوبت یونیورسٹی پر قبضہ تک آگئی ہے۔ اگر حکمران ہی قبضہ گروپ کا روپ دھار لیں، تو ان سے قبضہ کون چھڑوا سکتا ہے؟ حکومت سنبھالتے ہی ناجائز تجاوزات کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جانے والی (بعد میں جلد ہی یوٹرن لے لینے والی)حکومتی مشینری اب خود قبضہ گروپ کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ وی سی ہاؤس بھی عارضی طور پر چھ ماہ کے لئے کسی اعلیٰ افسر کے لئے مستعار لیا گیا تھا، مگر ڈیڑھ سال گزرجانے کے باوجود خالی کرنے کی کوئی منصوبہ بندی سامنے نہیں آئی۔ یونیورسٹی گیسٹ ہاؤس کے دس کمرہ جات بھی آنے والے آقاؤں کے لئے مختص ہو چکے ہیں، جن سے یونیورسٹی کو کچھ آمدنی حاصل ہو جاتی تھی، اب نہ آمدنی اور نہ ہی کسی صاحب کی آمد۔ کہا جارہا ہے کہ یونیورسٹی کا عباسیہ کیمپس عارضی طور پر حاصل کیا جائے گا، مگر خیمے میں گردن داخل کرنے کی اجازت لینے والی اِس طاقت ور بیوروکریسی کو باہر نکالنے کی جرات کس میں ہوگی؟
افسوس کس کس پر کیا جائے، حکومت پر ؟ کہ جس نے خود اپنے گھروں کو یونیورسٹیاں بنانے کا (جھوٹا) وعدہ کیا تھا، یا پھر منتخب نمائندوں پر؟ کہ وہ ووٹ بٹورنے کے بعد حکمرانوں کی غلامی اور بیوروکریسی کی خوشامد پر اُتر آتے ہیں، عوام کو بھول کر اوپر والوں (طاقتوروں) کے ساتھ ہو لیتے ہیں ، یا پھر بیوروکریسی پر ؟کہ جس کو صرف آقا بن کر رہنا ہوتا ہے، عوامی مفاد کا کیا تصور؟ کہ اُن کی نگاہ ذاتی مفادات سے آگے نہیں جاتی، چھوٹے گھروں میں وہ رہ نہیں سکتے، کمشنر، ڈی سی اور ڈی پی او وغیرہ کے زیر استعمال ایکڑوں کے حساب سے زمین چھڑواتے نہیں کہ پیٹی بھائی ہیں۔ایک تعلیمی ادارے کے انتظامی بلاک کو خالی کرانے کا تصور بھی کسی کو نہیں کرنا چاہیے تھا، کیا ہمارے مقتدر طبقوں میں سے کسی کو بچوں کے مستقبل کا کوئی خیال نہیں؟ کیا عیاشیوں اور طاقت کے نشے نے اِن لوگوں کی آنکھوں پر پردے ڈال رکھے ہیں؟ یونیورسٹی پر قبضہ کے عمل کو بہت ہلکے الفاظ میں بھی جہالت ہی کہا جاسکتا ہے۔ ستم تو یہ بھی ہے کہ اپنے ہاں اپنا حق لینے کے لئے بھی احتجاج، دھرنا، بائکاٹ یا اسی قسم کا کوئی اور اقدام کرنا پڑتا ہے، اب اگر شہر کے لوگ بیدار نہ ہوئے تو علم کے چراغ ’’سَر کٹے افسروں‘‘ کے جوتوں کی ٹھوکر پر ہوں گے، آنے والی نسلیں غلامی کا درس پائیں گی اورزمانہ موجود کے باسیوں کی نااہلی کا ماتم کیا کریں گی۔ اگر بہاول پور کے عوام میں زندگی کی رمق باقی ہے تو جامعہ اسلامیہ کے عباسیہ کیمپس کو بچانا ہوگا، ورنہ ذلت اور ناکامی ونامرادی اِن کا ٹھکانا ہوگی۔ میڈیا اپنا فرض ادا کرے، چیمبر آف کامرس ، ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ بارز، یونیورسٹی کے اساتذہ، سماجی تنظیمیں، سٹوڈنٹس ، اُن کے والدین،اور شہری بھی احتجاج کر کے بزدار حکومت کے اس ظلم اور علم دشمن اقدام کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار بن جائیں، ورنہ ’ہماری‘ داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 607 Articles with 287082 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jul, 2021 Views: 299

Comments

آپ کی رائے