عمران خان کا نعرہ حق

(Ilyas Mohammad Hussain, India)

لوگ کہتے ہیں عمران خان نے ایک بارپھرکمال کردیا عالمی برادری کے احساس کو جنجھوڑ کررکھ دیا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے ورچوئل خطاب پر بھارتی حکمران تلملارہے ہیں انہوں نے مودی سرکار کے ساتھ ساتھ اسلام دشمنی پر آمادہ کئی چہروں کو بے نقاب کردیاہے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا دنیا کو کووڈ 19 کے ساتھ ساتھ معاشی بحران اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرے کی وجہ سے درپیش خطرات جیسے تین طرفہ چیلنج کا سامنا ہے کووڈ کی عالمی وبا،اس کے سبب معاشی بدحالی اور موسمیاتی ایمرجنسی کے تین طرفہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ جس میں پہلے نمبر پرویکسین کی یکساں دستیابی یعنی ہر جگہ، ہر شخص کوکووڈ کے خلاف ویکسین لگنی چاہیے اور جتنا جلدی ممکن ہو لگنی چاہیے۔دوسرا، ترقی پذیر ملکوں کو مناسب فنانسنگ کی سہولت لازماً ملنی چاہیے۔ ہمیں سرمایہ کاری کی واضح منصوبہ بندیوں کو اختیار کرنا چاہیے جو غربت کے خاتمے، روزگار پیدا کرنے، پائیدارانفراسٹرکچر کی تعمیر، ڈجیٹل تقسیم کاخلا کم کرنیمیں مدد گار ہوں میں تجویز دوں گا کہ سیکرٹری جنرل دو ہزار پچیس میں پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کیلئے سربراہ اجلاس بلائیں جس میں پائیدار ترقی کے اہداف کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور ان پر عملدرآمدکیلئے کام کی رفتار تیز کی جائے۔ ترقی پذیر ممالک کی بدعنوان حاکم اشرافیہ کی لوٹ مار کی وجہ سے امیر اور غریب ملکوں کے درمیان فرق خطرناک رفتارسے بڑھ رہا ہے۔ سیکرٹری جنرل کے اعلیٰ سطحی پینل برائے مالیاتی احتساب،شفافیت اورمکمل دیانتداری جسے فیکٹ آئی کہا جاتا ہے۔ حساب لگایا ہے کہ سات ہزار ارب ڈالر کے خطیر چوری شدہ اثاثے محفوظ مالیاتی پناہ گاہوں میں چھپائے گئے ہیں اس منظم چوری اور اثاثوں کی غیر قانونی منتقلی کے ترقی پذیر ملکوں پر دور رس منفی اثرات پڑے ہیں اس عمل سے ان کو دستیاب معمولی وسائل کی حالت مزید پتلی ہوتی جاتی ہے غربت کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے بطورِ خاص جب منی لانڈرنگ کے ذریعے مال ملک سے باہر لے جایا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان ملکوں کی کرنسی پر دباؤ پڑتا ہے اوراس کی قدر میں کمی ہوتی ہے۔ ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر ترقی پذیر ملکوں سے نکال لئے جاتے ہیں نتیجتاً تلاش معاش کیلئے امیر ملکوں کی جانب ہجرت کرنے والوں کا ایک بہت بڑاسیلاب آئیگا جو کچھ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھارت کے ساتھ کیا وہی کچھ ترقی پذیر ملکوں کے ساتھ ان کی بدعنوان اشرافیہ کر رہی ہے وہ دولت لوٹ رہے ہیں اور اسے امیرملکوں کے دارلحکومتوں اور ٹیکس جنتوں میں منتقل کر رہے ہیں۔ میں دیکھ سکتا ہوں کہ مستقبل قریب میں ایک وقت آئے گا جب امیر ملکوں کو ان غریب ملکوں سے معاش کیلئے بڑی تعداد میں ہجرت کرنے والوں کو روکنے کیلئے دیواریں تعمیر کرنا پڑ جائیں گی مجھے خوف ہے کہ غربت کے سمندر میں چند امیر جزیرے ویسے ہی ایک عالمی آفت کی شکل اختیار کر لیں گے جیسا کہ موسمیاتی تبدیلی نے کی ہے جنرل اسمبلی کو ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ اور ایک جامع قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے جس سے دولت کی غیر قانونی اڑان کو روکا اور اس دولت کو واپس لوٹایا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلامو فوبیا ایک اور ایسا خوفناک رجحان ہے جس کا ہم سب کو ملکر مقابلہ کرنا ہے نائن الیون کے دہشت گردی کے حملے کے بعد سے کچھ حلقوں کی جانب سے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ اس سے دائیں بازو کے خوفناک اور پرتشدد قومیت پرستی کے رجحانات میں اضافہ ہوا جس کے سبب انتہا پسند اور دہشت گرد گروہ مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں امید ہے کہ سیکرٹری جنرل کی رپورٹ ان اسلام مخالف رجحانات اور دائیں بازو کے انتہاپسندوں کی جانب سے لاحق کردہ دہشت گردی کے نئے خطرات کا احاطہ کرے گی۔ میں سیکرٹری جنرل سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اسلامو فوبیا کا تدارک کرنے کیلئے بین الاقوامی مکالمہ شروع کروائیں۔ اس وقت اسلامو فوبیا کی سب سے خوفناک اور بھیانک شکل بھارت میں پنجے گاڑھے ہوئے ہے فاشسٹ آر ایس ایس،بی جے پی حکومت کی جانب سے پھیلائے گئے نفرت سے بھرے ہندوتوا نظریات نے بھارت میں بسنے والے بیس کروڑ مسلمانوں کیخلاف خوف اور تشدد کی ایک لہرجاری کر رکھی ہے گاؤ ماتا کے جیالوں نے جتھوں کی صورت میں مسلمانوں کو قتل کرنا جاری رکھا ہوا ہے وقفے وقفے سے منظم قتلِ عام کا سلسلہ جاری ہے جیسا کہ نئی دہلی میں گزشتہ برس ہوا شہریت کے امتیازی قوانین جن کا مقصد بھارت کو مسلمانوں سے پاک کرنا ہے اور بھارت بھر میں مساجد کو شہید کرنے کی مہم اور اس کی اسلامی تاریخ اور ورثے کو مٹانے کی کوششیں جاری ہیں نئی دہلی کی جانب سے ایک ایسے راستے پر چڑھنا جسے وہ بد قسمتی سے جموں کشمیر کے قضیے کا حتمی حل قرار دیتا ہے۔ بھارت نے پانچ اگست دو ہزار انیس سے مسلسل یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔ تیرہ ہزارہ کشمیریوں کو اغوا کررکھا ہے جن میں سے سینکڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہوا ہے اس نے جعلی پولیس مقابلوں میں سینکڑوں کشمیریوں کو قتل کر رکھا ہے اس نے اجتماعی سزائیں دینے کی روش اپنائی ہوئی ہے جس میں پورے پورے گاؤں اور مضافاتی علاقے تباہ کر دئیے جاتے ہیں۔اس جبر کے ساتھ ساتھ مقبوضہ وادی کی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں بھی جاری ہیں کوشش کی جارہی ہے کہ اسے مسلم اکثریتی علاقے سے مسلم اقلیتی علاقے میں بدل دیا جائے۔ بشمول چوتھے جنیوا کنونشن کے اور جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم ہیں یہ بدقسمتی ہے کہ دنیا کا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے رویہ مساویانہ نہیں ہے اور اکثر بڑی طاقتوں کو علاقائی سیاسی معاملات اورکاروباری مفادات مجبور کردیتے ہیں کہ وہ اپنے دوست ممالک کی خلاف ورزیوں سے صرفِ نظر کرجاتے ہیں ایسے دوہرے معیارات اور بھارت کی صورت میں سب سے نمایاں یہ کہ جہاں آر ایس ایس، بی جے پی کی حکومت کو انسانی حقوق کی پامالی کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے بھارتی بربریت کی تازہ ترین مثال عظیم کشمیر رہنما سید علی شاہ گیلانی کی میت کو ان کے خاندان سیزبردستی چھین لینا ہے انہیں ان کی خواہش کے مطابق ،اسلامی طریقہ کار کے مطابق تدفین کے حق سے محروم رکھا گیا بھارت ظلم و جبر کی حالیہ مثال عظیم کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی کی لاش کو ان کے خاندان سے زبردستی چھیننا ہے۔ میں اس جنرل اسمبلی سے کہتا ہوں کہ وہ سید علی شاہ گیلانی کی باقیات کی باقاعدہ اسلامی روایات کے مطابق شہداء کے قبرستان میں تدفین کا مطالبہ کرے۔ پاکستان اپنے دیگر ہمسائیوں کی طرح بھارت کے ساتھ بھی امن کا خواہش مند ہے لیکن جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا دارومدار جموں و کشمیر کے مسئلے کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردوں اور جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونے میں ہے۔ امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا قراردادوں کے مطابق حل ضروری ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بی جے پی کی حکومت نے کشمیر میں مظالم کی انتہا کر دی ہے وہ اس بربریت سے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش میں ہے۔ اب یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے سازگار ماحول بنائے اور اس کے لیے بھارت کو لازماً یہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ نمبر ایک، 5 اگست 2019 سے کیے گئے یک طرفہ اور غیرقانونی اقدامات کو منسوخ کرے، نمبر دو،کشمیر کے عوام کے خلاف ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکے نمبر تین، مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں کی جانے والی تبدیلیوں کو روکے اور منسوخ کرے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکا جائے۔ بھارت کی فوجی تیاری، جدید جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور عدم استحکام پیدا کرنے والی روایتی صلاحیتوں کا حصول دونوں ملکوں کے درمیان موجود ڈیٹیرنسس کو بے معنی کر سکتا ہے۔ اس پلیٹ فارم سے میں چاہتا ہوں کہ سب جان لیں کہ جس ملک نے افغانستان کے علاوہ سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ نائن الیون کے بعد 80 ہزار پاکستانی مارے گئے اور ہماری معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ ایک بار پھر امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑ گئی کیونکہ اب امریکہ کی زیر قیادت اتحاد افغانستان پر حملہ کرنے جا رہا ہے پاکستان کی طرف سے لوجسٹیکل سپورٹ کے بغیر ایسا ممکن نہیں تھا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ وہی مجاہدین جن کو ہم نے غیر ملکی قبضے کے خلاف جنگ کے لیے تیار کیا تھا کہ غیر ملکی قبضے کے خلاف جنگ ایک مقدس فریضہ ہے، ایک مقدس جنگ اور جہاد وہ ہمارے مخالف ہوگئے۔ ہمیں شریک کار گردانا گیا انہوں نے ہمارے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔ ڈرون حملوں میں جن لوگوں کے پیارے مارے گئے انہوں نے پاکستان سے بدلہ لیا۔ 2004 اور 2014 کے درمیان 50 مختلف عسکری گروپ پاکستان کی ریاست پر حملہ آور تھے۔ اگر ہماری فوج نہ ہوتی جو کہ دنیا کہ انتہائی منظم افواج میں سے ایک ہے اور ہماری انٹیلی جنس ایجنسی بھی دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسیوں میں سے ایک ہے۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان نیچے چلا جاتا۔ ہمارے لیے کم از کم تعریف کا ایک لفظ ہی کہا جاتا لیکن سراہنے کی بجائے تصور کریں ہمیں کیسا محسوس ہوتا ہے جب ہم پر افغانستان کے واقعات کے حوالے سے الزام تراشی کی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے افغانستان کا فوجی حل تلاش کرنے میں امریکہ نے غلطی کی اگرآج دنیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیوں طالبان واپس اقتدار میں آ گئے ہیں تو اسے ایک تفصیلی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہوگی کہ کیوں تین لاکھ نفوس پر مشتمل سازو سامان سے لیس افغان فوج بھاگ کھڑی ہوئی اور یاد رکھیں کہ افغان قوم دنیا کی بہادر ترین قوموں میں سے ایک ہے اور اس نے مقابلہ نہیں کیا۔ اس وقت ساری عالمی برادری کو یہ سوچنا چاہیے کہ آگے بڑھنے کا راستہ کیا ہے۔ ہمارے پاس دوراستے ہیں اگر اس وقت ہم افغانستان کو پس پشت ڈال دیں گے تو افغانستان کے آدھے عوام جن کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق اگلے سال تک افغانستان کے نوے فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔ اس لئے آگے جانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ہم افغان عوام کی خاطر لازمی طور پر موجودہ حکومت کو مستحکم کریں۔ اگر اب عالمی برادری طالبان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور ان کے ساتھ بات چیت کرے تو یہ سب کے لیے کامیابی ہو گی یہ افغانستان کے لئے نازک وقت ہے وہاں امداد کی ضرورت ہے، عالمی برادری کو اس مقصد کیلئے متحرک کریں۔ افغانستان بحران کا شکار ہے جس کی بحالی کیلئے فوری کام کرنا ہوگا۔ کابل میں دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے حکام کے ساتھ مل کرکام کرنا ہوگا۔ ہم پڑوسی ملکوں کیساتھ ہی نئی افغان حکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ کریں گے پاکستان کو افغانستان سے خصوصی طور پر کالعدم ٹی ٹی پی سے دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان میں چینی شہریوں پر حملے میں بھی ملوث رہی ہے۔ چین نے افغانستان کو مالی مددکی پیشکش کی جوعین ممکن ہے وہ قبول کر لے گا۔ امریکا افغانستان کی بحالی اور تعمیرنو میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے امریکا افغانستان میں دہشتگردی کو پنپنے سے روکنے میں مدد کرسکتا ہے۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ عالمی براداری افغان عوام کی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی ۔ نیلسن منڈیلا نے اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ عوام کیلئے جدوجہد کی تھی۔ اسلامی ریاست کسی کے سامنے نہیں جھکتی کیونکہ اس میں انسانیت ہوتی ہے جہاں عوام کا سوچا جاتا ہے، ماضی میں حکمران ملک کو بڑی طاقتوں کے سامنے جھکنے پر مجبور کرتے تھے، ہم پاکستانی قوم کو با وقار اور خود دار بنانے کی منزل کی جانب گامزن ہیں عمران خان نے اقوام ِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو نعرہ ٔ حق بلندکیاہے اس کی گونج ہر بے ضمیرکو مدتوں بے چین کئے رکھے گی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ilyas Mohammad Hussain

Read More Articles by Ilyas Mohammad Hussain: 390 Articles with 167666 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Oct, 2021 Views: 488

Comments

آپ کی رائے