اتر پردیش اور گجرات کی سیاست کا فرق

(Dr Salim Khan, India)

خدا خدا کرکے اترپردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل آخری کابینی توسیع ہوگئی۔ اس میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے سات نئے وزراء کونامزد کیا لیکن ساتھ ہی دہلی دربار کو یہ پیغام دیا کہ وہ اعلیٰ کمان یعنی امیت شاہ کے اشاروں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں ۔ یوگی کو جب بار بار دہلی بلایا جاتا تھا تو اس کے فوراً بعد امیت شاہ کبھی انوپریا پٹیل سے ملتے تھے تو کبھی ڈاکٹر سنجے نشاد سے ملاقات ہوتی اور یہ بتایا جاتا کہ آج بھی یوپی کی سیاست میں یوگی کے بجائے شاہ کو اہمیت حاصل ہے مگر وزارتی توسیع میں ان کا پتاّ کٹ گیا یعنی شاہ کی ایک نہ چلی ۔ یوگی نے پارٹی کےپرانے براہمنوں کو کنارے کرکے کانگریس سے آنے والے جتن پرساد کو تو وزیر بنایا مگر وزیر اعظم کے منظور نظر انل شرما کو محروم ہی رکھا ۔ یوگی پچھلے تین ماہ سے وزارت کی تشکیل نو ٹال رہے تھے ۔ مودی کے منظور نظرآئی اے ایس افسر انل کمار شرما کو وزیر بنانے کے بجائے 17؍ میں سے ایک نائب صدر بناکر گویا وزیر اعظم کی توہین کی گئی۔

اترپردیش کا مسئلہ یہ ہے کہ یوگی چاہتے ہیں دہلی درباد ان کو وزیر اعلیٰ کا چہرہ بنائے مگر ان کے نائب کیشو پرساد موریہ اعلان کرتے ہیں 52؍ فیصد پسماندہ طبقے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور وزیر اعلیٰ تو ارکان اسمبلی کی رائے سے بنے گا ۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ وہ یوگی نہیں ہوں گے کیونکہ وہ نہ تو پسماندہ ہیں اور نہ ارکان اسمبلی کی حمایت انہیں حاصل ہے۔ ایسے میں یوگی نے ٹائمز ناو پراز خود بلاواسطہ اعلان کردیا کہ وہی دوبارہ وزیر اعلیٰ بنیں گے۔ کورونا کے معاملے میں گجرات سے زیادہ برا حال اترپردیش کا تھا جہاں گنگا میں بہتی لاشوں کو دیکھ انسانیت شرمسار ہوئی لیکن یوگی کا بال بیکا نہیں ہوا جبکہ وجئے روپانی کا سر منڈا دیا گیا کیونکہ وہ کمزور تھے۔ بہو اگر یوگی جیسی دھاکڑ ہو تو اسے ڈرانے کے لیے روپانی جیسی بیٹی کو ڈانٹا جاتا ہے لیکن کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایسا کرنے والی شاہ جیسی ساس خود ڈر کر بیٹھ جاتی ہے۔ فی الحال قومی سیاست میں یہی ساس بہو کی ’توتو میں میں‘ چل رہی ہے۔یہ بات قابلِ غور ہے کہ روپانی کو ہٹانے سے قبل امیت شاہ گجرات جاتے ہیں اور اس کے بعد وزراء کی حلف برداری میں بھی آشیرواد دینے کے لیے پہنچ جاتے ہیں لیکن اتر پردیش انہیں بلایا ہی نہیں جاتا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ یوگی یوپی میں امیت شاہ کو پوری طرح بے وزن کردینا چاہتے ہیں ۔

اتر پردیش اور گجرات کی سیاست میں یہ فرق ہے کہ سابق نائب وزیر اعلیٰ نتن پٹیل کوایک ماہ قبل نہ جانے کیسے بھنک لگ گئی تھی کہ وجئے روپانی کے دن بھر گئے ہیں ۔ ایسے میں ہائی کمان اور سنگھ پریوار کی خوشنودی کے لیے اپنے تیکھے تیور دکھاتے ہوئے انہوں نےگاندھی نگر کے بھارت ماتا مندر میں کہہ دیا تھا کہ :’’ہمارے ملک میں کچھ لوگ آئین اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں، ‘‘۔ اس لہجےسے ظاہر ہے کہ ان لوگوں میں خود نتن پٹیل شامل نہیں ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے بلا کی خود اعتمادی کے ساتھ تمہید باندھی : ’’لیکن میں آپ کو بتاتا ہوں اور اگر آپ ویڈیو ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں تو اسے کریں۔ میرے الفاظ کو لکھ کر رکھ لیں‘‘۔ اور پھر یہ انوکھا انکشاف کیا کہ :’’ آئین، سیکولرزم اور قانون وغیرہ کی بات کرنے والے ایسا تب تک کریں گے جب تک کہ اس ملک میں ہندو اکثریت میں ہیں،جس دن ہندوؤں کی تعداد گھٹتی ہے، دوسروں کی بڑھتی ہے، تب نہ سیکولرزم، نہ لوک سبھا اور نہ آئین بچے گا۔ سب کچھ ہوا میں اڑا دیا جائے گا۔ کچھ نہیں رہے گا۔‘‘ سچ تو یہ ہے کہ ملک میں سیکولرزم ، قانون اور آئین کو ان کی اپنی پارٹی نے پہلے ہی ہوا میں اڑا دیا اوراب وہ خود ہوا میں اڑا دئیے گئے ہیں اور اترپردیش سے ان گرو امیت شاہ کا نام بھی مٹا دیا گیا ہے۔

گجرات کے اندر جب وجئے روپانی پر کورونا سے نمٹنے میں ناکامی کا ٹھیکرا پھوڑکربلی کا بکرا بنایا گیا حالانکہ وزیر اعظم نے اس کے بالکل برعکس بیان دے ڈالا۔ وجئے روپانی کے بارے میں مودی جی نے ٹویٹ میں لکھا کہ پانچ سال میں انہوں نے عوام کی بہت خدمت کی۔ انہوں نے سماج کے سارے لوگوں کے لیے انتھک محنت کی ۔ کوئی وزیر اعلیٰ اگر واقعی بئ انتہا محنت و خدمت کرے تو اسی کی رہنمائی میں ریاستی انتخاب لڑ کر کامیابی حاصل کرلینی چاہیے ۔ انتخاب سے ایک سال قبل اس کو ہٹائے جانے کا آخرکیا جواز ہے؟ بی جے پی کیا عوام کی خدمت بجالانے والے سونو سود جیسے اداکار اور ہرش مندر سماجی جہت کار مخالفین کے ساتھ اب اپنے وزیر اعلیٰ کو بھی پریشان لگی ہے؟ کیاعو ام کے غمخوار وں سزا دینا عوام دشمنی نہیں ہے؟ یا پھر وزیر اعظم لوگوں کو اپنے اس گمراہ کن بیان سے بیوقوف بنارہےہیں۔ اس طرح کی باتوں سے کوئی اور تو دور خود وجئے روپانی نہیں بہلے اور پھسلیں گے۔ اس لیے اب وزیر اعظم کواب جھانسا دینے کے لیے کوئی اور حربہ استعمال کرنا ہوگا کیونکہ کھیل پرانا ہوچکا ہے۔

وجئے روپانی کو ہٹائے جانے کا تعلق اتر پردیش کی سیاست سے ہے لیکن اس پر گفتگو سے پہلے خود گجرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ماضی کی جانب لوٹیں تو پتہ چلتا ہے مودی جی نے کیشو بھائی پٹیل کے ہاتھوں سے اقتدار کو چھینا تھا کیونکہ اس وقت وہ گجرات کے رکن اسمبلی بھی نہیں تھے ۔ کیشو بھائی پٹیل بھج کے زلزلے کی وجہ سے رونما ہونے والے حالات کو سنبھال نہیں پائے تھے۔ بی جے پی ہائی کمان نے محسوس کیا تھا کہ اب دوبارہ انتخاب میں کامیابی ناممکن ہے اس لیے دہلی سے نریندر مودی کو وزیر اعلیٰ بنا کر بھیجا گیا۔ اتفاق سے اس وقت مرکز میں بی جے پی کی حکومت تھی ۔ مودی نے گجرات سے دہلی واپس جاتے ہوئے آنندی بین پٹیل کو وزیر اعلیٰ بنا دیا اور پاٹیدار سماج کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کی مگر امیت شاہ نے وجئے روپانی کو وزیر اعلیٰ بناکر سارا کھیل خراب کردیا ۔ خیر بنایا تو بنایا مگر اس بھونڈے طریقہ سے ہٹایا کہ اب کوئی بیوقوف ہی انہیں چانکیہ کہہ کر پکارے گا۔
اس سال یوم آزادی کے موقع پر بی جے پی کے صوبائی صدر اور مودی جی کے نہایت قریبی ساتھی سی آر پاٹل نے احمد آباد دفتر کے اندر پرچم کشائی کی تقریب میں اعلان کیا تھا کہ آئندہ انتخاب وزیر اعلیٰ وجئے روپانی اور ان کے نائب نتن پٹیل کی قیادت میں ہی لڑا جائے گا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ وونوں گجرات کی ترقی کے لیے پوری قوت کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک مہینے کے اندر ایسا کیا ہوگیا کہ ان دونوں کو سیاسی کوڑے دان کی نذر کرنا پڑ گیا ؟ وجئے روپانی کو اگر کورونا کی ب ناکامی کے سبب ہٹانا ضروری بھی تھا تو اس کا آسان سا حل موجودتھا ۔ ابھی حال میں مرکز کے اندر وزارتوں کی توسیع ہوئی ۔ اس و قت سربانند سونوال کی طرح وجئے روپانی کو بھی دہلی بلا کر کوئی معمولی سا قلمدان تھما دیا جاتا اور ان کے نائب نتن پٹیل کو وزیر اعلیٰ بنا دیا جاتا۔ اس طرح بغیر کسی بدنامی کے روپانی منظر نامہ سے ہٹ جاتے اور پاٹیدار سماج بھی خوش ہوجاتا لیکن اس کے بجائے وجئے روپانی کو رسوا کرکے ہٹانا اور جین سماج سمیت امیت شاہ کو ذلیل کرنا ایک بڑی حماقت تھی ۔ اس پر کلیم عاجز کا یہ شعر ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
کام چاہے بے سلیقہ ہو کلیمؔ
کام کرنے کا سلیقہ چاہئے

گجرات کی ہنگامہ آرائی نے ثابت کردیا ہے کہ ان لوگوں کو نہ تو بات کہنے سلیقہ آتا ہے اور نہ کام کرنے کا۔ نتن پٹیل جیسے تجربہ کار اور مقبول سیاستداں کو وزارت سے محروم کردینا اور صوبے کو ایک بالکل نئے کھلاڑی کے ساتھ نئے ٹیم کے حوالے کردینا سراسر سیاسی خودکشی ہے۔ گجرات کے اندر اب بھوپندر پٹیل کے سامنے بی جے پی کے ہی نتن پٹیل اور کانگریس کے ہاردک پٹیل ہیں ۔ ایسے میں ان تین پٹیلوں کی باہمی کشمکش کیا گل کھلاتی ہے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا لیکن یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ جس جوڑی سے اس کا اپنا صوبہ نہیں سنبھلتا ان بیچاروں سے پورے ملک کو سنبھالنے کی توقع کرنا نا دانی ہے۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے ۔ بھوپیندر پٹیل نے دو دن بعد کابینہ کی تشکیل کا فیصلہ کیا اور حلف برداری کی ساری تیاریاں بھی مکمل ہوگئیں لیکن اسے ملتوی کرنا پڑا کیونکہ وزارتی عہدہ سے ہٹائے جانے کے اندیشہ سے کئی بی جے پی اراکین اسمبلی نے احتجاج کا پرچم بلند کر دیا تھا۔

بی جے پی کے نزدیک سب سے بڑی تیاری تشہیر ہے یعنی پوسٹر، بینر اور ہورڈنگ وغیرہ ۔ویکسین سرٹیفکیٹ پر بھی اور جولوگ مودی جی کی تصویر شائع کرنے میں پس و پیش نہیں کرتے ان سے یہ توقع ناممکن ہے کہ حلف برداری کے پوسٹر پر ’ہنستا ہوا نورانی چہرا‘ موجود نہ ہو لیکن جب غصے میں آگ بگولا لوگوں نے اس پوسٹر کو پھاڑ کر’روتا ہوا ویرانی چہرا‘ بنادیا۔ مجبوراً وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل کو کابینہ کی حلف برداری ایک دن کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ پھر اس کے بعد ان وزراء کے گھر ای ڈی وغیرہ کے فون گئے ہوں گے تاکہ انہیں جیل کی دھمکی دے کر خاموش کیا جائے۔’ نہ کھاوں گا اور نہ کھانے دوں گا‘ دراصل ایک ’جملہ ‘ ہے۔

شاہ جی کوسب پتہ ہے کہ کون کتنا کھاتا ہے ۔ اسی معلومات کی مدد سے وہ اپنے مخالفین و موافقین کو راہِ راست پر لاتے ہیں۔ غیروں کواپنانے کے لیے کھلاتے ہیں اور اپنوں کو ڈرا دھمکا کر سمجھاتے ہیں۔ وجئے روپانی کے ساتھ سارے وزراء کو ٹھکانے لگا کر بی جے پی ہائی کمان نے اعتراف کرلیا کہ فوج نکمی تھی، لیکن سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کو کس نے نامزد کیا تھا؟ اور چار سالوں تک کیوں پالا گیا؟ بی جے پی کے ترجمان کے مطابق وزراء کو بدلنا ان کی روایت ہے۔ ایسا ہی ہے تو 2001 سے 2014تک مودی جی کیوں نہیں بدلے گئے اور شیوراج چوہان کو کیوں بدلا نہیں جاتا ؟ کیا اس روایت کا اطلاق صرف روپانی جیسے کمزور لوگوں پر ہوتا ہے اور وہی جرم ضعیفی کی سزا پاتے ہیں یوگی جیسے لوگ اس سے محفوظ و مامون رہتے ہیں ۔ اترپردیش اور گجرات کی سیاست نے اس فرق کو کھول کر بیان کردیا ہے۔
(۰۰۰۰جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1427 Articles with 594744 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Oct, 2021 Views: 413

Comments

آپ کی رائے